جناب بش! ایک نظر ادھر بھی

   
یکم مارچ ۲۰۰۶ء غالباً

ریاست ہائے متحدہ امریکا کے صدر جارج بش تین مارچ کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دورہ پر آ رہے ہیں اور پاکستانی قوم ملک گیر ہڑتال کے ساتھ ان کا خیر مقدم کر رہی ہے۔ تین مارچ کی یہ ہڑتال اگرچہ ڈنمارک اور دوسرے مغربی ملکوں سے بعض اخبارات میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے اہانت آمیز خاکوں کی اشاعت اور ان کے حوالے سے مسلمانانِ عالم کے احساسات و جذبات کا احترام نہ کیے جانے کے افسوسناک طرز عمل کے خلاف ہے، مگر اسے محض اتفاق قرار نہیں دیا جا سکتا کہ یہ ہڑتال اس دن ہو رہی ہے جس دن صدرِ امریکا پاکستان کی سرزمین پر اتر رہے ہیں۔ اس لیے پاکستانی عوام کی طرف سے یہ امریکا کی ان پالیسیوں اور اقدامات کے خلاف غم و غصہ کا اظہار بھی ہے جو گزشتہ تقریباً پون صدی سے پورے عالمِ اسلام کی ناراضگی کا باعث بن رہے ہیں۔

صدر بش اسلام آباد میں پاکستانی حکمرانوں کے ساتھ جن امور پر بات چیت کریں گے، ان کی ایک جھلک امریکی کانگریس کی ریسرچ سروس کی اس حالیہ رپورٹ میں دیکھی جا سکتی ہے، جس کا خلاصہ ”آن لائن“ کے حوالے سے بعض پاکستانی اخبارات میں شائع ہوا ہے اور جس میں کہا گیا ہے کہ امریکا کے اہم مفادات کے بارے میں اسلام آباد کی کمٹمنٹ شکوک و شبہات کی زد میں ہے اور امریکی دانشوروں کو اس سلسلے میں تشویش لاحق ہے۔ اس رپورٹ میں جن امور کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ، ہتھیاروں کے پھیلاؤ، مسئلہ کشمیر، پاک افغان تعلقات، پاک بھارت کشیدگی، انسانی حقوق کے تحفظ اور اقتصادی ترقی جیسے مسائل شامل ہیں۔ ظاہر ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اسلام آباد اب تک جو تعاون کر رہا ہے، ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسلام آباد نے اپنے ہی ملک کے چوٹی کے سائنس دانوں کے ساتھ جو معاملہ کیا ہے، ملک میں دینی حلقوں کی کردار کشی اور حوصلہ شکنی کی جو مسلسل مہم جاری ہے، مسئلہ کشمیر کے بارے میں قومی پالیسی پر جو یوٹرن لیا گیا ہے، افغانستان میں بیرونی افواج کی موجودگی کے خلاف عوامی مزاحمت کو کچلنے کے لیے امریکا کو پاکستان کی سرحدوں کے اندر کارروائیوں سمیت جو سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں ، انسانی حقوق کے مغربی فکر و فلسفہ کے فروغ کے لیے اسلامی اقدار و روایات اور کلچر و ثقافت کو کمزور کرنے کی اور معیشت و تجارت کو ڈبلیو ٹی او کے نام سے مغرب کے کنٹرول میں دینے کی طرف جو پیش رفت ہو رہی ہے امریکی کانگریس کی ریسرچ سروس ان تمام باتوں سے مطمئن نہیں ہے اور مذکورہ رپورٹ سے اس کی یہ خواہش عیاں ہے کہ اسلام آباد امریکی مفادات کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ کو اور زیادہ مضبوط کرے اور اس سلسلے میں امریکی حکمرانوں کے شکوک و شبہات کا ازالہ کرے۔ صدر بش یقیناً انہی امور کے بارے میں اسلام آباد کے حکمرانوں سے بات چیت کریں گے، جس میں چین اور ایران کے بارے میں امریکی پالیسیوں کی حمایت، جو یقیناً افغانستان اور کشمیر کی طرح یوٹرن بلکہ اباؤٹ ٹرن کی نوعیت کی حامل ہو گی، ان مذاکرات کا ایک اہم حصہ بن سکتی ہے۔

اسلام آباد ان حوالوں سے واشنگٹن کے شکوک کو کس طرح دور کرتا ہے اور اپنی کمٹمنٹ کے مخلصانہ ہونے کا کیسے یقین دلاتا ہے اس کا اندازہ مذاکرات کے بعد ہونے والے اعلانات سے ہی کیا جا سکے گا، مگر ہم اس بات سے قطع نظر جناب بش کی توجہ ان چند شکووں اور شکایات کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں، جو پاکستان کے عوام کو امریکا سے درپیش ہیں اور جن کے تسلسل اور وسعت نے یہ صورت پیدا کر دی ہے کہ پاکستان کے عوام صدر امریکا کی آمد پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کر کے ان کا استقبال کر رہے ہیں۔

ہم ماضی میں زیادہ پیچھے کی طرف نہیں جائیں گے، ۱۹۶۵ء میں پاکستان پر بھارت کی کھلی جارحیت کے موقع کا پاکستان کا اتحادی ہونے کے باوجود امریکا نے کیا کردار ادا کیا تھا اور ۱۹۷۱ء میں پاکستان کے دولخت ہونے کے المناک سانحے کے پس منظر میں امریکی سرگرمیوں کی کیا صورتحال تھی، کیونکہ اس سے بات بہت لمبی ہو جائے گی۔ مگر ماضی قریب کے دو تین اہم امور کا ذکر بہرحال ضروری معلوم ہوتا ہے جو اس وقت امریکی حکومت اور پاکستانی عوام کے درمیان نزاع کا باعث بنے ہوئے ہیں۔

  • پاکستان کے عوام کو امریکا سے سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ وہ ان کے نظریاتی اور تہذیبی تشخص کا احترام نہیں کرتا اور ان کے عقیدہ و ایمان اور تہذیب و ثقافت کی نفی کرتے ہوئے انہیں اپنے رنگ میں زبردستی رنگنا چاہتا ہے۔ پاکستان کے عوام کی غالب اکثریت مسلمان ہے جو اسلامی تعلیمات پر یقین رکھتی ہے، قرآن و سنت کو اپنے لیے رہنمائی کا سب سے بڑا سرچشمہ یقین کرتی ہے اور اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات و ہدایات پر کاربند رہنا چاہتی ہے۔ اس خطہ کے مسلمانوں نے اسی بنیاد پر الگ ملک حاصل کیا تھا۔ اس ملک کے دستور کی بنیاد آج بھی اسی نظریاتی اور تہذیبی تشخص پر ہے اور عوام کے منتخب نمائندوں نے کئی بار جمہوری اصولوں کے مطابق اسلامی تعلیمات اور قرآن و سنت کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ کا اظہار کیا ہے۔

    لیکن امریکا یہ چاہتا ہے اور اس کی ایک عرصہ سے مسلسل یہ کوشش ہے کہ پاکستان کے عوام اپنی اجتماعی اور معاشرتی زندگی میں اسلامی تعلیمات پر عملدرآمد کے حق سے دست بردار ہو جائیں اور جس طرح مغرب نے وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات کو اپنی قومی اور معاشرتی زندگی سے بے دخل کر دیا ہے، پاکستان کے مسلمان بھی اسی طرح اسلام کے اجتماعی اور معاشرتی کردار سے دست کش ہو جائیں۔ امریکا کو عام طور پر یہ شکایت رہتی ہے کہ مسلمان اپنے نظریات دوسروں پر زبردستی ٹھونستے ہیں، حالانکہ عملی صورتحال یہ ہے کہ خود امریکا مسلمانوں سے ان کے اپنے ملک میں اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق چھین رہا ہے اور طاقت اور اثر و رسوخ کے زور سے ان پر اپنی ثقافت اور نظریات زبردستی مسلط کر رہا ہے، جو بلاشبہ آج کے دور میں ثقافتی جبر اور نظریاتی دھونس کی بدترین مثال ہے۔

  • پاکستان کے عوام کو امریکا سے ایک شکایت یہ بھی ہے کہ وہ خود جس جمہوریت کا علمبردار ہے اور عوام کی رائے کے احترام کا جو معیار اس نے اپنے ملک میں قائم کر رکھا ہے، وہ معیار دنیا کے مسلم ممالک بالخصوص پاکستان کے لیے اس کے ہاں قابلِ قبول نہیں ہے۔ امریکا نے ہر دور میں پاکستان میں ایسی حکومتوں کی پشت پناہی کی ہے اور آج بھی کر رہا ہے جو جمہوریت کے خود اس کے ہاں مسلمہ اصول اور معیار پر پوری نہیں اترتیں۔ لیکن چونکہ ایسی حکومتیں امریکا کے مفادات کے لیے زیادہ مفید ثابت ہوتی ہیں، اس لیے پاکستان اور دوسرے اسلامی ممالک میں انہی کو امریکا کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے اور امریکا ایسی صورت میں اس ملک کے عوام کی رائے عامہ، عقائد و نظریات، احساسات و رجحانات اور تہذیب و ثقافت کی سرے سے کوئی پرواہ نہیں کرتا۔
  • پاکستان کے عوام کو امریکا سے ایک شکوہ یہ بھی ہے کہ ماضی قریب میں اپنے سب سے بڑے اور عالمی حریف سوویت یونین کے خلاف جنگ میں اس نے مسلم ممالک اور خاص طور پر عالم اسلام کے دینی حلقوں کی حمایت حاصل کی اور انہی کی مدد سے سوویت یونین کے خلاف یہ جنگ جیت کر ”واحد عالمی قوت“ کا مقام حاصل کیا، لیکن جن جانبازوں اور ۔۔۔۔ کی قربانیوں کے باعث اسے یہ کامیابی ملی، ۔۔۔۔ ان کے جذبات اور پروگرام کا احترام کرنے کی بجائے وہ انہی کی جانوں کے درپے ہو گیا ہے اور سوویت یونین کے جبر اور مظالم کے بعد امریکا خود ان کے لیے سوویت یونین بن گیا ہے۔
  • پاکستان کے عوام کو امریکا سے ایک گلہ یہ بھی ہے کہ اس نے عالم اسلام کے معاشی وسائل اور مشرق وسطیٰ کے تیل پر قبضہ جما رکھا ہے اور عرب عوام اور فلسطینی عوام کے خلاف نسل پرست اسرائیل کی ناجائز پشت پناہی کر کے نہ صرف اسے عرب ملکوں پر طاقت کے زور سے مسلط رکھنا چاہتا ہے، بلکہ بیت المقدس پر اسرائیل کے ناجائز تسلط کو قانونی حیثیت دلوانے کی بھی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ حتیٰ کہ فلسطینی عوام کے جمہوری فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے فلسطین میں حماس کی مجوزہ حکومت کو ناکام بنانے کے لیے بھی سرگرم عمل ہے۔
  • پاکستانی عوام کی امریکا سے شکایات میں ایک بات یہ بھی ہے کہ وہ افغانستان اور عراق پر وحشیانہ فوج کشی کے بعد وہاں کے عوام کا بے دردی کے ساتھ قتل عام کر رہا ہے اور اس نے ان دونوں ملکوں کی آزادی اور خود مختاری کو فوجی قوت کے بل پر یرغمال بنا رکھا ہے۔
  • پاکستانی عوام کو امریکا پر اس بات کا بھی غصہ ہے کہ وہ کشمیری عوام کی بے پناہ قربانیوں اور نصف صدی کی جدوجہد کو سبوتاژ کر رہا ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق انہیں خود ارادیت کا مسلمہ حق دلوانے کی بجائے اپنے مفادات کی خاطر ان کی جدوجہد اور حقوق کو کند چھری سے ذبح کر رہا ہے۔

امریکا سے پاکستانی عوام کی شکایات کی فہرست طویل ہے، لیکن ان میں سے چند اہم شکایات کے ذکر پر اکتفا کرتے ہوئے ہم امریکا کے صدر جارج بش سے ان کی اسلام آباد آمد کے موقع پر یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اسلام آباد سے اپنی شکایات کے حوالے سے ضرور بات کریں، لیکن ایک نظر پاکستان کے عوام کی ان شکایات پر بھی ڈال لیں، جن شکایات کی بنیاد پر پاکستان کے عوام میں امریکا کے خلاف نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter