ترکی میں اسلامی بیداری اور سیکولر فوج کا الٹی میٹم

   
فروری ۱۹۹۹ء

ترکی میں بلند ایجویت نے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا ہے اور وہ اب فوجی جنتا کی رضامندی باقی رہنے تک ملک پر حکومت کریں گے۔

اس سے قبل نجم الدین اربکان کی رفاہ پارٹی کی حکومت ختم کر کے اسے خلافِ قانون قرار دے دیا گیا تھا، اور اس پر الزام تھا کہ وہ ملک میں اسلامی روایت کو زندہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے بعد مسعود یلماز کی حکومت کو اس جرم میں رخصت ہونا پڑا کہ وہ اسلامی روایات کے احیا کو روکنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ اور اب بلند ایجویت کو اس وعدہ کے ساتھ اقتدار کی کرسی پر بٹھا دیا گیا ہے کہ وہ ترکی میں اسلامی قدروں کو پھیلنے سے روکیں گے، اور سیکولر نظام کے تحفظ کی کوشش کریں گے۔

جبکہ نجم الدین اربکان کی رفاہ پارٹی پر پابندی کے بعد اس کی جگہ لینے والی نئی ورچو پارٹی ملک کے سیکولر نظام کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے، اور عوام میں اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے سیکولر قوتیں خوفزدہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ روزنامہ اوصاف اسلام آباد ۱۲ جنوری ۱۹۹۹ء کی خبر کے مطابق ترک فوج نے اعلان کیا ہے کہ وہ ورچو پارٹی کا راستہ ہر قیمت پر روکے گی اور اسے کسی قیمت پر برسراقتدار نہیں آنے دیا جائے گا۔

ترکی اور الجزائر میں سیکولر قیادت رکھنے والی فوج جس طرح اسلامی قوتوں کے راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے اور انہیں کچلنے کی کوشش کر رہی ہے، اس کے پیش نظر شاید پاکستان آرمی کے بارے میں عالمی حلقے یہ سوچ رہے ہیں کہ چونکہ اسے مذہب کے خلاف استعمال کرنا اس قدر آسان نہیں اس لیے اسے بتدریج ختم ہی کر دینا چاہیے۔

   
2016ء سے
Flag Counter