تحریکِ آزادی اور تحریکِ پاکستان

   
مجلس صوت الاسلام پاکستان
۲۰۱۷ء، ۲۰۱۸ء

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرات علماء کرام! اگست کا وسطی عشرہ چل رہا ہے، ملک بھر میں چودہ اگست کو یومِ آزادی منانے کی تیاریاں جاری ہیں اور ان دنوں تحریکِ آزادی اور تحریکِ پاکستان وغیرہ کا تذکرہ ہوتا ہے، آج کی گفتگو انہی دو تین حوالوں سے ہو گی۔

۱۴ اگست ۱۹۴۷ء سے پہلے دنیا کے نقشے پر پاکستان کے نام سے کوئی ملک موجود نہیں تھا۔ اس سے پہلے یہ سارا خطہ جو جنوبی ایشیا کہلاتا ہے یعنی پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش، برما، نیپال، یہ برطانوی حکومت کے کنٹرول میں تھا اور اس کی نوآبادی تھی۔ برطانیہ یہاں نوے سال سے حکمران تھا، یہاں ملکہ برطانیہ کا حکم چلتا تھا اور وہ وائسرائے کے ذریعے حکمرانی کرتی تھی۔ اس سے پہلے سو سال یہ خطہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے زیر تسلط رہا ہے۔ برطانوی حکومت کی راجداری ۱۸۵۷ء میں قائم ہوئی تھی، جب ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف یہاں بغاوت ہوئی تو برطانوی حکومت نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو درمیان سے نکال کر براہ راست اقتدار سنبھال لیا۔ اس طرح ایک سو نوے سال اس خطے کے لوگوں نے برطانوی غلامی میں گزاری ہے۔

برطانیہ کو جب یہ خطہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تو یہاں کے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے مطالبہ کیا کہ ہم ہندوستان میں ہندوؤں کے ساتھ ایک ہی ملک میں اکٹھے نہیں رہ سکتے لہٰذا ہمیں الگ ملک دیا جائے۔ پاکستان کے نام سے ایک الگ ریاست بنانے کا فیصلہ ہوا تاکہ مسلمان جس خطے میں اکثریت میں ہیں وہ وہاں اپنی مرضی کے ساتھ رہ سکیں اور اپنی تہذیب کو باقی رکھ سکیں۔ یوں ایک سو نوے سال کی غلامی کے بعد ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان الگ ریاست کے طور پر برطانوی اقتدار سے آزاد ہوا اور اس سے اگلے دن ۱۵ اگست کو باقی ہندوستان بھی برطانوی راجداری سے آزاد ہو گیا۔

ایسٹ انڈیا کمپنی یہاں کیسے آئی اور ہماری غلامی کی ابتدا کیسے ہوئی، اس کا پس منظر بھی جاننا چاہیے۔ یہاں اس وقت مغلوں کی حکمرانی تھی۔ سولہویں صدی کے آغاز میں دہلی میں ظہیر الدین بابر کی حکومت تھی۔ پھر اس کا بیٹا ہمایوں آیا جس کے مقابلے میں شیر شاہ سوری کی قوت تھی۔ ہمارے ہاں حملہ آور اور قابض یا حکمران دو راستوں سے آئے: ایک کابل اور دوسرا قندھار۔ کابل کے راستے سے آنے والے زیادہ تر ترک تھے اور قندھار کے راستے سے آنے والے زیادہ تر پٹھان تھے۔ یہ طالبان اور شمالی اتحاد طرز کی پرانی کشمکش چلی آ رہی ہے۔ اس وقت مغل وغیرہ شمالی اتحاد تھا، اور شیر شاہ سوری اور محمود غزنوی پٹھان تھے۔ ترکمانستان اور سنکیانگ سے لے کر ترکی تک کے لوگ ترکمان اور فارسی بان کہلاتے ہیں۔

شیر شاہ سوری اور ہمایوں کی ٹکر ہوئی جسے پانی پت کی پہلی لڑائی کہتے ہیں، اس میں شیر شاہ سوری نے ہمایوں کو شکست دی اور دہلی کے اقتدار پر قبضہ کر لیا، جو چھ سات سال سے زیادہ نہیں رہا، اس کی وفات کے بعد اس کے بیٹے آئے اور چودہ پندرہ سال اس کے خاندان نے یہاں اقتدار کیا، یہ سوریوں کا دور تھا۔ ہمایوں نے یہاں سے بھاگ کر سندھ امر کوٹ میں پناہ لے لی تھی، وہیں اکبر بادشاہ پیدا ہوا۔ شیر شاہ سوری نے مغلوں سے حکومت چھینی، پھر مغل صفویوں کی مدد سے واپس آئے۔ صفوی خاندان ایران کے حکمران کے طور پر بڑی طاقتور حکومت گزری ہے، اور ایران کو سنی اکثریت سے شیعہ اکثریت میں تبدیل کرنے والے صفوی حکمران ہی ہیں، ان کا عروج کا زمانہ تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب شیر شاہ سوری نے مغلوں کو شکست دی تھی تو ہمایوں نے صفویوں سے مدد مانگی کہ ہماری مدد کرو تاکہ ہماری حکومت بحال ہو۔ اس کی درخواست پر صفوی مدد کے لیے آئے اور انہوں نے شیر شاہ سوری کے بیٹے کو شکست دے کر دوبارہ دہلی کے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ یہ پندرہ سولہ سال کا درمیان میں خلا ہے ورنہ مغل حکومت ظہیر الدین بابر سے چلی آ رہی تھی۔

ہمایوں کے بعد اکبر بادشاہ، پھر جہانگیر، پھر شاہجہان، پھر اورنگزیب عالمگیر، یہ مغلوں کا تسلسل چلا آتا تھا۔ اکبر بہت طاقتور حکمران تھا اور برصغیر کے بڑے حصے پر اس کی حکومت تھی۔ اکبر کا ’’دینِ الٰہی‘‘ ایک مستقل نیا مذہب تھا جو مختلف مذاہب کا ملغوبہ تھا ۔ اکبر اور اورنگزیب مغلوں کے دو بڑے حکمران شمار ہوتے ہیں۔ اورنگزیب خالصتاً حنفی سنی اور بڑا غیرت مند مسلمان تھا اور یہی مغلوں کا آخری طاقتور حکمران تھا جس نے پچاس سال برصغیر کے اس پورے خطے پر حکومت کی ہے۔

اورنگزیب کی داراشکوہ کے ساتھ جنگ میں حضرت شاہ ولی اللہؒ کے دادا شیخ شجاع مرحوم اورنگزیب کے ساتھ تھے۔ اورنگزیب نے پانچ سو علماء کی جو کونسل بنائی تھی جس نے فتاویٰ عالمگیری مرتب کیا، حضرت شاہ ولی اللہؒ کے والد حضرت شاہ عبد الرحیمؒ اس کونسل کے رکن تھے ۔

اورنگزیب کے بعد مغلوں کا ستیاناس ہو گیا، اس کا بیٹا معظم شاہ جب بہادر شاہ اول کے نام سے اورنگزیب کے تخت پر بیٹھا تو ہر چیز ختم ہو گئی۔ ایک تو یہ کہ نااہل آدمی تھا، اپنے مقبوضہ علاقوں کو سنبھال نہیں سکا، چاروں طرف بغاوت پھیل گئی۔ اور دوسرا طوفان اس نے یہ مچایا کہ تخت پر بیٹھتے ہی شیعہ ہونے کا اعلان کر دیا، اس نے اذان میں ’’علی ولی اللہ، وصی رسول اللہ‘‘ پڑھنے کا حکم دیا اور خطبہ جمعہ و عیدین میں خلفاء ثلاثہ حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ کا نام لینا جرم قرار دیا۔ اس پر ہر طرف افراتفری پھیلی، لاہور کئی دن تک ہنگاموں کی زد میں رہا، بہت سے افراد شہید ہوئے۔ بہرحال اس کی نااہلی اور مذہب کی تبدیلی وغیرہ مغل حکومت کی تباہی کا سبب بنی۔

اس دوران پنجاب میں سکھ منظم ہو گئے اور جنوبی ہند سے انتہا پسند ہندو مرہٹے منظم ہو کر دہلی کی طرف بڑھنا شروع ہو گئے۔ اس دور میں انگریز آچکا تھا کہ حضرت شاہ ولی اللہؒ کی زندگی میں ہی ۱۷۵۷ء میں انہوں نے یہاں رخ کر لیا تھا۔ انگریز کے آنے کی ترتیب بھی مختصراً عرض کر دیتا ہوں۔ اٹلی، ہالینڈ، فرانس، برطانیہ اور پرتگال کے تاجر تجارت کے لیے یہاں آتے تھے۔ اکبر کے دور سے یہ سلسلہ جاری تھا۔ ان کی طریقہ کار یہ تھا کہ پہلے انہوں نے بادشاہوں سے تجارت کے اجازت نامے حاصل کیے، پھر ٹیکسوں میں سہولتیں مانگیں اور تحفظ کا مطالبہ کیا۔ ظاہر بات ہے کہ جب بین الاقوامی تاجر آئے گا تو سامان کے تحفظ کے لیے گودام وغیرہ کی ضرورت ہو گی، چنانچہ بڑے شہروں میں مراکز قائم ہوئے جن کو فرنگی کوٹھیاں اور فرنگی محل کہا جاتا تھا۔

ہمارے فرنگی محلی علماء کا پس منظر بھی ایسا ہی فرنگی محل تھا۔ لکھنؤ میں ایک بڑے فرانسیسی تاجر کا محل تھا، وہ فوت ہوا تو لاوارث ہونے کی وجہ سے وہ کوٹھی حکومت کے قبضے میں چلی گئی۔ ملا نظام الدین سہالویؒ ملا قطب الدین شہیدؒ کے بیٹے تھے اور علاقے میں ان کا سادات کے ساتھ جھگڑا تھا۔ بعض اسے شیعہ سنی جھگڑا کہتے ہیں اور بعض سادات اور انصاریوں کا جھگڑا کہتے ہیں۔ اس میں سادات سہالہ میں غالب آ گئے، ملا قطب الدین کو شہید کر دیا، ان کے مکانات جلا دیے اور جائیداد پر قبضہ کر لیا۔ یہ جلا وطن ہو کر لکھنؤ آ گئے۔ یہ اورنگزیب کا زمانہ تھا۔ اورنگزیب نے فرانسیسی تاجر کی لاوارث کوٹھی ان کے حوالے کر دی کہ یہاں مدرسہ بنائیں۔ اس درس گاہ سے فرنگی محلی علماء شروع ہوئے، مثلاً مولانا عبد الحی لکھنویؒ، مولانا عبد الحلیم لکھنویؒ، امام اہلسنت مولانا عبد الشکور لکھنویؒ یہ سب فرنگی محلی علماء کہلاتے ہیں۔ اب تک یہ سلسلہ جاری ہے اور اب بھی وہ مدرسہ بھارت کے بڑے دینی مراکز میں سے ہے۔

بہرحال ایسٹ انڈیا کمپنی نے مختلف شہروں میں مراکز بنائے تو ان کو ضرورت پیش آئی کہ مراکز کی حفاظت کے لیے فورس بھی ہونی چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہمیں تحفظ کے لیے اپنی چھوٹی چھوٹی فوجیں بنانے کی اجازت دی جائے۔ انڈیا میں اس قسم کی بہت سی کوٹھیاں تھیں اور ہر کوٹھی کے لیے اگر دو سو آدمی بھی ہوں تو مجموعی طور پر ہزاروں بن جاتے ہیں۔ یوں آہستہ آہستہ انہوں نے منظم ہونا شروع کیا۔ جس کے پاس چار پیسے ہوں وہ علاقے میں بااثر ہوتا ہے، اس لیے کافی عرصے سے علاقے میں تجارت کرتے ہوئے ان کا اثر و رسوخ قائم ہو چکا تھا۔ ادھر سے ان کے رابطے اور طاقت مضبوط ہوتی گئی اور ادھر سے بہادر شاہ اول نے لُٹیا ڈبو دی اور ملک میں افراتفری پھیل گئی، تقریباً بغاوت کی کیفیت پیدا ہو گئی۔

انگریزوں کی حکومت کا نقطہ آغاز یہ تھا کہ ۱۷۵۷ء میں بنگال میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے مراکز تھے۔ بنگال کے حکمران نواب سراج الدولہؒ ان کو پسند نہیں کرتے تھے اور انہوں نے آہستہ آہستہ ان پر پابندیاں لگانا شروع کر دی تھیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی منظم ہو چکی تھی اور برطانیہ سے بھی ان کا رابطہ تھا بلکہ یہ اس کی نمائندہ تھی۔ نواب سراج الدولہ کی پابندیوں کے خلاف ایسٹ انڈیا کمپنی نے بغاوت کی اور لڑائی ہوئی، ان کے وزیر اعظم میر جعفر نے انگریزوں سے ساز باز کر کے نواب سراج الدولہ کو شہید کروایا اور انگریزوں کا بنگال پر قبضہ ہو گیا۔ یہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا پہلا قبضہ تھا۔

انگریزوں نے آگے بڑھنا شروع کیا، ملک بھر میں ان کی کمپنیاں موجود تھیں، چھوٹی چھوٹی فوجیں موجود تھیں اور ان کے تعلقات بھی تھے۔ پھر ۱۷۶۴ء میں بکسر کی جنگ ہوئی۔ شجاع الدولہ لکھنؤ کے نواب تھے اور شاہ عالم ثانی مغل حکمران تھا۔ یہ آپس میں ملے کہ انگریزوں کو نکالنے کی ایک کوشش اور کرتے ہیں، چنانچہ انہوں نے بغاوت کی اور بکسر کے مقام پر جنگ ہوئی لیکن ان کو بھی شکست ہو گئی۔ انگریزوں نے شاہ عالم ثانی کو تھوڑا سا علاقہ دے کر تخت پر بٹھا دیا تھا، مہر اس کی ہوتی تھی اور اس کے نام پر انگریز حکومت کرتے تھے۔ اس زمانے میں محاورہ مشہور تھا ’’سلطنتِ شاہ عالم از دہلی تا پالم‘‘ ۔ دہلی سے آٹھ دس میل دور پالم کا قصبہ ہو گا، جو کہ اب دہلی کا انٹرنیشنل ایئر پورٹ ہے۔ ۱۷۶۵ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے شاہ عالم ثانی سے معاہدہ کیا تھا جس کا اعلان ان جملوں میں تھا: ’’زمین خدا کی، مملکت بادشاہ کی، حکم کمپنی بہادر کا‘‘ یعنی ایسٹ انڈیا کمپنی کا حکم اور انتظام چلے گا۔

انگریزوں کی تیسری بڑی جنگ ۱۸۰۱ء میں سلطان ٹیپو سے ہوئی۔ جنوبی ہند میں ’’سلطنتِ خداداد میسور‘‘ ایک بڑی سلطنت تھی جو سلطان ٹیپو کے والد سلطان حیدر علی نے قائم کی تھی، پھر فتح علی ٹیپو نے حکومت سنبھالی جو کہ بڑے دیندار اور مجاہد آدمی تھے، انہوں نے کوشش کر کے سلطنت منظم کی اور لوگوں کو ساتھ ملایا۔ ان کا ہدف بھی یہ تھا کہ انگریزوں کو واپس نہیں دھکیل سکتے تو کم از کم میسور سے آگے بڑھنے سے روکیں۔ نتیجتاً یہاں بھی جنگ ہوئی اور سلطان ٹیپو شہید ہو گئے۔ اس موقع پر انگریز کمانڈر نے ان کی لاش پر کھڑے ہو کر کہا تھا کہ آج سے ہندوستان ہمارا ہے، اس لیے کہ اب ان کے لیے کوئی بڑی رکاوٹ نہیں رہی تھی۔

اس طرح ایسٹ انڈیا کمپنی نے بنگال، دہلی اور پھر میسور پر قبضہ کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہمارے علمی دنیا کے فرمانروا شاہ عبد العزیزؒ تھے، دہلی میں مدرسہ رحیمیہ کے استاد اور حضرت شاہ ولی اللہؒ کے جانشین تھے۔ انہوں نے ان حالات میں کہ دہلی پر بھی انگریزوں کی حکمرانی قائم ہو گئی ہے، قانون ان کا چلتا ہے، نصاریٰ کا تغلب ہو گیا ہے اور اسلامی قوانین و احکام جو پہلے تھے اب ختم ہو گئے ہیں، اس لیے ۱۸۲۲ء میں انڈیا کے دارالحرب ہونے کا فتویٰ دیا کہ اب اس ملک کی آزادی کے لیے اور انگریزوں کو نکالنے کے لیے جہاد فرض ہو گیا ہے۔ فتاویٰ عزیزی میں یہ فتویٰ موجود ہے جو کہ اصل میں فارسی میں ہے، اردو ترجمہ بھی ہو چکا ہے، چنانچہ اس فتویٰ پر آزادی کی مسلح اور غیر مسلح تحریکیں منظم ہوئیں۔

ایک دور مسلح تحریکات کا ہے جس میں شہداء بالاکوٹ کی تحریک، بنگال میں حاجی شریعت اللہ، سندھ میں پیر آف پگارا، پنجاب میں سردار احمد خان کھرل اور سرحد میں حاجی صاحب فقیر ایپی، حاجی صاحب ترنگزئی کی تحریکات تھیں۔ ان مسلح تحریکات کا آخری اسٹیج تحریک ریشمی رومال تھا جو کہ ایک متحدہ محاذ تھا۔ شیخ الہندؒ نے اس کی قیادت کی۔ اس میں ہندو بھی تھے، مسلمان بھی اور مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر تھے۔ بین الاقوامی محاذ تھا جس میں جرمنی، جاپان، خلافت عثمانیہ اور افغانستان بھی شریک تھے۔ شیخ الہندؒ نے ایک پورا جال تنا تھا اور بغاوت کا پروگرام بنایا تھا لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکا، اس کے بہت سے اسباب ہیں۔ شیخ الہندؒ کو مکہ مکرمہ سے گرفتار کر کے مقدمہ چلایا گیا اور مالٹا جزیرے میں قید رکھا گیا۔ اس وقت پنجاب کا گورنر تھا جنرل ایڈوائر، اس کی یادداشتیں چھپ گئی ہیں، وہ کہتا ہے کہ یہ تحریک میں نے سبوتاژ کی تھی، اس کا کہنا یہ ہے کہ یہ اتنی منظم تحریک تھی کہ اس میں کہیں کوئی خلا ہمیں محسوس نہیں ہوتا تھا، لیکن اللہ کو منظور نہیں تھا تو ناکام ہو گئی۔ بیسیوں مسلح تحریکات ہیں جن میں لوگوں نے ہتھیار اٹھائے، جنگیں لڑیں، علاقے آزاد کروائے، حکومتیں قائم کیں، ان میں سے ہر ایک کی مستقل تاریخ ہے۔

شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ جب مالٹا سے واپس آئے تو انہوں نے جدوجہد کا رخ مسلح تحریک سے پرامن تحریک کی طرف موڑ دیا اور فرمایا اب ہتھیار اٹھا کر ہم نہیں جیت سکتے، اب ہمیں پرامن سیاسی جدوجہد کرنا ہو گی۔ وہاں سے پرامن سیاسی تحریکات کا دور شروع ہوا۔ غیر مسلح تحریک کا مطلب ہوتا ہے عوامی قوت کے ساتھ حکومت کو مجبور کرنا۔ لیکن ان دونوں قسم کی تحریکات کی بنیاد شاہ عبد العزیزؒ کا فتویٰ تھا کہ آزادی حاصل کرنا فرض ہے۔ اس زمانے میں حضرت مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ نے بھی ایک فتویٰ صادر کیا تھا۔ یہ بھی شاہ ولی اللہؒ کے شاگرد ہیں اور شاہ عبد العزیزؒ کے ہم جماعت اور معاصر تھے، بڑی علمی شخصیت تھے جس کا اندازہ ان کی تفسیرِ مظہری سے کیا جا سکتا ہے۔ اب ان دونوں فتووں پر بحث ہے کہ پہلے کون سا تھا؟ تین سال قبل مجھے انڈیا جانے کا اتفاق ہوا۔ کاندھلہ گیا تو مولانا نور الحسن راشد جو وہاں کے محقق فاضل ہیں ان کے پاس میں نے قاضی صاحبؒ کا فتویٰ دیکھا۔ شاہ عبد العزیزؒ کا فتوٰی تو فتاویٰ عزیزی میں چھپا ہوا ہے، جبکہ قاضی صاحبؒ کا فتویٰ اس سے زیادہ مفصل، واضح اور دو ٹوک بھی ہے لیکن وہ مطبوعہ نہیں ہے بلکہ قلمی ہے۔

یہ غیر مسلح پرامن تحریکات کا دوسرا دور جو شیخ الہندؒ کے بعد شروع ہوا، اس میں ’’تحریکِ خلافت‘‘ سب سے بڑی تحریک تھی جو ترکی کی خلافتِ عثمانیہ کو بچانے کے لیے تھی۔ تقریباً‌ ایک سو سال پہلے کی بات ہے، جنگِ عظیم اول میں ترکی نے جرمنی کا ساتھ دیا تھا جس میں جرمنی کو شکست ہوئی تو ترکی کو بھی شکست ہو گئی اور متحدہ یورپی فوجوں نے جرمنی کے ساتھ خلافتِ عثمانیہ کے علاقوں پر بھی قبضہ کر لیا۔ مصر، عراق، فلسطین، شام پر قبضہ ہو گیا، کسی پر فرانس، کسی پر اٹلی اور کسی پر برطانیہ نے قبضہ کر لیا۔ اس کے نتیجے میں خلافتِ عثمانیہ ختم ہو گئی اور معاہدہ لوزان ہوا۔ مولانا محمد علی جوہرؒ، مولانا شوکت علیؒ، مولانا ظفر علی خانؒ، یہ سب حضرت شیخ الہندؒ کے معتقدین تھے۔ حضرت شیخ الہندؒ جب جیل سے رہا ہو کر واپس آئے تو دیوبند اور علی گڑھ گئے، دونوں کو ملانے کی کوشش کی اور کہا کہ نئے تعلیم یافتہ طبقے کو آزادی کی جنگ کے لیے تیار کرو۔ یہ شیخ الہندؒ کی اس فکر اور محنت کا نتیجہ تھا کہ مولانا محمد علی جوہرؒ، مولانا شوکت علیؒ، مولانا ظفر علی خانؒ جو خالصتاً گریجویٹ اور علی گڑھی تھے لیکن مولانا کہلاتے ہیں حالانکہ انہوں نے کسی مدرسے سے نہیں پڑھا۔ یہ تینوں ہمارے قومی لیڈر ہیں جو علی گڑھ سے نکلے اور تحریکِ خلافت شروع ہوئی۔

ترکی کی خلافت پر متحدہ یورپی فوجوں نے جو قبضہ کیا تھا تو وہ ترکی کو بھی تقسیم کرنا چاہتے تھے چنانچہ ہندوستان میں اس کی حمایت میں یہ تحریک چلی تھی۔ مولانا محمد علی جوہر گرفتار ہوئے تو ان کی والدہ میدان میں آ گئیں اور تقریریں کرتی تھیں، ’’ بولی اماں محمد علی کی جان بیٹا خلافت پہ دے دو‘‘ ان کا بڑا مشہور ترانہ ہے۔ اس تحریک نے پورے جنوبی ایشیا میں سیاسی فکر کو منظم اور بیدار کیا۔ یہ ام التحاریک ہے جس نے سیاسی ذوق پیدا کیا۔ جلسہ، جلوس، احتجاج، قید، جیل یہ پورا کلچر ہے۔ ایک سو سال اس کلچر نے ہم پر حکمرانی کی ہے کہ ہتھیار نہ سہی، احتجاج سہی، قتل نہ سہی، جیل سہی۔ تحریکِ خلافت کی کوکھ سے ہی مسلم لیگ، مجلس احرار اسلام، جمعیت علماء ہند اور کانگرس نے جنم لیا۔ جو جذبہ تحریکِ خلافت نے پیدا کیا تھا اس جذبے کو انہوں نے کیش کروایا۔

مولانا جوہرؒ عجیب مردِ حر تھا۔ برطانوی حکومت نے مذاکرات کے لیے لندن بلایا، وہاں تشریف لے گئے اور پھر کہا کہ میں غلام ملک میں واپس نہیں جانا چاہتا، مجھے آزادی کا پروانہ دو یا مجھے قبر کی جگہ دو۔ اللہ کی قدرت کہ ان کی بات ایسے قبول ہوئی کہ واپسی کے راستے میں عدن میں فوت ہو گئے اور ان کی قبر بیت المقدس قبرستان ابراہیمی میں حضرت ابراہیمؑ کے قدموں میں ہے، اللہ پاک نے ان کو یہ اعزاز بخشا۔

اس تحریک میں ہندو، سکھ، مسلمان سبھی شریک تھے اور سارے ملک میں ایک ہلچل مچ گئی تھی۔ اس تحریک سے سب سیاسی جماعتوں نے جنم لیا۔ مجلس احرار اسلام کا میں تھوڑا سا پس منظر عرض کر دوں۔ ادھر ترکوں نے خلافتِ عثمانیہ ختم کر دی تو یہاں تحریکِ خلافت بھی ختم ہو گئی کہ یہ تو بنی ہی اس کے تحفظ کے لیے تھی۔ لیکن پنجاب کی خلافت کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ہم ختم نہیں ہوں گے بلکہ نئے نام سے کام کریں گے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانویؒ، چوہدری افضل حق مرحوم نے ’’مجلس احرار اسلام‘‘ کے نام سے کام شروع کیا، ان جماعتوں نے آزادی کے لیے جدوجہد کی۔ جلسے، جلوس، گرفتاریاں سب کچھ ہوا۔ ہم تصور نہیں کر سکتے کہ ہمارے ان قائدین نے آزادی کی جنگ کے لیے کتنے کتنے سال جیلیں کاٹی ہیں اور عوام کا جذبہ بیدار کیا ہے۔

اس وقت کے جوش و خروش کا ایک پہلو دیکھیں کہ ۱۹۳۱ء کی بات ہے مقبوضہ کشمیر میں ڈوگرہ حکومت تھی۔ انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ زیادتی کی تو مسلمان اٹھ کھڑے ہوئے، سری نگر کے مسلمانوں کی اپنے ڈوگرہ نواب کے خلاف مقامی تحریک تھی، مجلس احرار نے اس کی حمایت کا اعلان کر دیا اور پورے ملک سے کشمیری حریت پسندوں کی اس تحریک کی حمایت میں تیس ہزار کے لگ بھگ رضاکار گرفتار کروائے۔ عجیب غلغلہ ہوتا تھا، اب تو فضا بدل گئی ہے، پہلے تو جس سیاسی کارکن نے جیل نہیں کاٹی ہوتی تھی اس کو غیر مستند سمجھا جاتا تھا اور ہمارے دور تک یہ بات رہی ہے۔ جس طرح ہمارے ہاں اگر کسی تبلیغی نے چار ماہ نہ لگائے ہوں تو وہ غیر مستند تبلیغی ہوتا ہے۔ مسجد نور کی تحریک تک اور تحریک نظامِ مصطفٰی تک گرفتار ہونا اعزاز سمجھا جاتا تھا۔

ہمارے گوجرانوالہ میں بھی مختلف تحریکیں چلتی رہیں، تحریکِ ختمِ نبوت، تحریکِ نظامِ مصطفیٰ، تحریکِ مسجد نور وغیرہ۔ ہم پانچ سات آدمیوں کا گروپ ہوتا تھا علامہ محمد احمد لدھیانوی، ڈاکٹر غلام محمد، صوفی حسین احمد، مولانا گل محمد توحیدی رحمہم اللہ تعالیٰ، ہم میں سے ہر آدمی باری باری گرفتار ہوا ہے۔ ڈاکٹر غلام محمد مرحوم تحریک میں ہمارے پیش پیش ہوتے تھے، بڑے اچھے مخلص ساتھی تھے، ہماری بہت سی تحریکات میں بنیادی کردار ادا کیا، ان کے خلاف مقدمے بنتے تھے لیکن گرفتار نہیں ہوتے تھے اور ہر دفعہ کسی طریقے سے بچ جاتے تھے۔ ایک دفعہ ہم نے فیصلہ کیا کہ ڈاکٹر صاحب کو گرفتار کروانا چاہیے۔ ایک مقدمہ ہم نے تلاش کیا کہ ان کے خلاف یہ مقدمہ ہے جس میں انہوں نے ضمانت نہیں کروائی۔ چوکی تھانہ گھنٹہ گھر ہوتی تھی تو ہم ساتھی ڈاکٹر صاحب کو وہاں لے کر گئے اور اے ایس آئی کے حوالے کیا کہ فلاں مقدمے میں یہ آپ کا مجرم ہے اس کو پکڑ لو۔ وہ کہنے لگا یہ آپ کیا مذاق کر رہے ہیں، آرام سے گھر جاؤ، اس نے ڈاکٹر صاحب کو گرفتار نہیں کیا۔ ڈاکٹر صاحب کہنے لگے، کرا لو مجھے گرفتار۔ بہرحال اس دور کا کلچر یہ تھا کہ کسی دینی جدوجہد کے لیے گرفتار ہونا اعزاز سمجھا جاتا تھا اور سند ہوتی تھی کہ یہ پکا سیاسی کارکن ہے۔ مجھے بھی یہ سند ۱۹۷۶ء میں مسجد نور کی تحریک میں ملی تھی۔ سیاسی تحریکات میں میرے سب سے بڑے استاد نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم تھے۔

پہلی جنگ عظیم کے بعد برطانیہ اگرچہ فاتح تھا لیکن کمزور ہو گیا تھا۔ پہلوان فتح تو پا لیتا ہے لیکن اس کا اپنا جو حال ہوتا ہے وہ بعد میں پتہ چلتا ہے جب ٹھنڈی دردیں اٹھتی ہیں۔ برطانیہ اب قیادت کا اہل نہیں رہا تھا۔ اس وقت آزادی کی تحریکات میں زیادہ قوت کے ساتھ ہمارے بزرگوں نے جوش و خروش پیدا کیا تو برطانیہ نے یہاں سے جانے کا فیصلہ کر لیا۔ یہ ہے تحریکِ آزادی کا پس منظر۔

تحریکِ پاکستان کا آغاز کہاں سے ہوا، اس کا پس منظر میں نے واقعات کی روشنی میں ذکر کیا ہے۔ ہمارا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم ہر بات جذبات کی روشنی میں کرتے ہیں تبھی ہمیں پوری بات سمجھ نہیں آتی۔ کسی بھی بات کا تجزیہ حقائق و واقعات کی روشنی میں کرنا چاہیے۔ ۱۸۵۷ء کے بعد یہاں براہ راست تاج برطانیہ کی حکومت آ گئی تو اب تحریکات میں ہمارا مطالبہ یہ ہوتا تھا کہ ہمیں کم از کم اندرونی خود مختاری دو، اوپر جو مرضی کرو لیکن یہاں کی مقامی حکومت تو ہمیں دو۔

۱۸۵۷ء سے پہلے ایک ہزار سال تک طریقہ کار یہ تھا کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ ہم نے ہزار سال تک اکثریت کی بنیاد پر یہاں حکومت نہیں کی، اکثریت ہماری کبھی بھی نہیں رہی۔ لودھیوں، غزنویوں اور مغلوں نے طاقت کے زور سے حکومت کی ہے اور طاقت کے ذریعے ہی ان سے چھینی گئی ہے۔ لیکن اب دنیا کا ماحول یہ بن چکا تھا کہ حکومت طاقت کے زور سے نہیں بلکہ ووٹ کے ذریعے بنے گی، اب جس کی اکثریت ہو گی وہ حکومت کرے گا۔ یورپ میں انقلابِ فرانس ۱۷۹۰ء کے بعد یہ رجحان آ گیا تھا اور یہ کلچر مستحکم ہوتا جا رہا تھا۔ ۱۸۵۷ء کے بعد کچھ مفکرین نے ، جن کے سرخیل سرسید احمد خان ہیں، یہ بات کی کہ اگر آئندہ فیصلے اکثریت کی بنیاد پر ہونے ہیں تو اکثریت ہندوؤں کی ہے، انگریز جب بھی برصغیر سے جائے گا تو حکومت ہندوؤں کو دے کر جائے گا، ہم دوسرے درجے کے شہری ہو جائیں گے، ہماری کوئی حیثیت نہیں ہو گی، اس لیے ہمیں الگ اپنی حیثیت منوانی چاہیے اور اپنا الگ وجود تسلیم کروانا چاہیے۔ ہندوؤں کی اب بھی جنوبی ہند میں اکثریت ہے، وہ تقریباً ایک ارب سے زیادہ ہیں اور ہم ملا جلا کر بھی ساٹھ کروڑ نہیں ہیں۔

یہ ہے جداگانہ قومیت اور دو قومی نظریے کی بنیاد کہ مسلمان مستقل قوم ہیں اور انگریزوں سے یہ مطالبہ تھا کہ ہمیں ہندوؤں سے الگ ایک مستقل قوم کے طور پر معاملہ کیا جائے، جداگانہ انتخابات کیے جائیں، ہماری سیٹیں ہمارے تناسب کے لحاظ سے الگ ہوں وغیر ذالک۔ سر سید، نواب بہادر یار جنگ، آغا خان، اقبال، قائد اعظم اور مسلم لیگ کے دیگر راہنما ، پھر اکابر علماء میں حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ اور علامہ شبیر احمد عثمانیؒ و دیگر نے جداگانہ مسلم قومیت کا نظریہ پیش کیا کہ ان کے ساتھ اقلیت میں رہنے سے بہتر ہے کہ ہمیں اپنی الگ حیثیت منوانی چاہیے۔

دوسری طرف ہماری بڑی سیاسی طاقت جمعیت علماء ہند تھی، اس کا موقف قیامِ پاکستان تک یہ رہا کہ الگ ہونے کا فائدہ نہیں ہے کیونکہ اس طرح ہم تقسیم ہو جائیں گے، اکٹھے رہ کر ہی حالات کا مقابلہ کرتے ہیں اور ہماری یہ حیثیت ہے کہ ہندوستان کے مجموعی ماحول میں توازن اپنے ہاتھ میں رکھ سکتے ہیں، اس لیے ہندوستان متحد رہنا چاہیے۔

بہرحال اس کشمکش میں تحریکِ پاکستان کا آغاز ہوا۔ الگ ملک کا تصور سب سے پہلے علامہ اقبالؒ نے پیش کیا کہ جن علاقوں میں مسلم اکثریت ہے ان کو ایک مستقل اسلامی ریاست کے طور پر آزاد قرار دیا جائے۔ انگریز سے مطالبہ تھا کہ جب جاؤ تو ہمیں ان کے ساتھ جوڑ کر نہ جانا بلکہ ہمیں الگ کر کے جانا۔ ہماری اکثریت یہاں شمالی ہند اور مشرقی بنگال میں تھی، درمیان میں ہندو اکثریت کا علاقہ تھا۔ پاکستان کا نام چوہدری رحمت علی مرحوم نے تجویز کیا تھا لیکن اس کو منظم طریقے سے علمی اور فکری طور پر اقبالؒ نے پیش کیا۔ اس کو اپنی تحریک کا ہدف مسلم لیگ اور قائد اعظم نے بنایا تھا۔ مسلم لیگ نے ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ء کو لاہور کے منٹو پارک میں اجتماع کر کے ایک قرارداد کے ذریعے اس کو اپنا مشن بنا لیا کہ ہم نے پاکستان بنانا ہے۔

علماء کی قوت دو حصوں میں بٹ گئی، اس کی جمہور اکثریت تو ادھر ہی رہی کہ پاکستان کے نام سے تقسیم نہیں ہونی چاہیے، لیکن حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ، شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، مولانا ظفر احمد عثمانیؒ، مولانا مفتی محمد شفیعؒ، مولانا احتشام الحق تھانویؒ، مولانا مبین خطیبؒ، مولانا غلام مرشدؒ وغیرہم کا پورا حلقہ پاکستان کی حمایت میں مسلم لیگ کے ساتھ تھا۔ یہ ہماری آپس کی چپقلش رہی ہے کہ بعض پاکستان کے حق میں تھے اور بعض نہیں تھے۔ بہرحال ۱۹۴۷ء میں پاکستان بن گیا۔ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) اور مغربی پاکستان۔

پاکستان بننے کے بعد مسلم آبادی ادھر منتقل ہوئی تو قتل عام بھی بہت زیادہ ہوا، جو تحریک کی وجہ سے نہیں بلکہ آبادی کے انتقال کی وجہ سے ہوا۔ وہاں سے مسلمان اِدھر آئے، یہاں سے ہندو اُدھر گئے۔ لاکھوں مسلمان بے گھر ہوئے اور ہزاروں شہید ہوئے کہ ہم نے پاکستان میں جانا ہے۔

پاکستان بننے کے بعد ہمارے وہ اکابر جنہوں نے پاکستان کے قیام کی مخالفت کی تھی ان میں نمائندہ دو نام تھے حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ اور مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ۔ حضرت مدنیؒ وہیں رہ گئے تھے جبکہ شاہ جیؒ یہاں آ گئے تھے۔ امرتسر سے ملتان آ گئے تھے اور انہوں نے لاہور دہلی دروازے میں احرار کے زیر اہتمام پبلک جلسہ کر کے اعلان کر دیا کہ عوام نے ہماری رائے کے مقابلے میں مسلم لیگ کی رائے قبول کی ہے، ہم اپنی شکست قبول کرتے ہیں ، اب پاکستان ہمارا وطن ہے، اس کا استحکام اور سالمیت وبقا ہماری ذمہ داری ہے۔ سب سے پہلے پاکستان کے استحکام کے تحفظ کی کانفرنس احرار نے لاہور میں کی۔

ایک بڑا حلقہ حضرت مدنیؒ کا شاگرد تھا۔ میرے والد گرامی بھی ان کے شاگرد تھے اور جماعتی طور پر احرار میں تھے۔ میرے چچا محترم صوفی عبد الحمید سواتیؒ جمعیت علماء ہند میں تھے، مفتی عبد الواحد صاحبؒ بھی اسی کیمپ میں تھے۔ اہلحدیث کے بڑے عالم مولانا محمد اسماعیل سلفیؒ بھی کانگریسی تھے۔ یہ سب اکٹھے تھے۔ اب انہوں نے حضرت مدنیؒ سے رہنمائی مانگی تو انہوں نے فرمایا کہ اب تم پاکستانی ہو اور پاکستان آپ کا ہے۔ اب اس ملک کی حفاظت و سالمیت اور اس کی خدمت آپ کی ذمہ داری ہے۔ اس پر حضرت مدنیؒ نے ایک مثال دی۔ مولانا قاضی زاہد الحسینیؒ نے حضرت مدنیؒ کی زندگی پر ’’چراغِ محمد‘‘ کتاب لکھی، اس میں اس خط کا میں نے مطالعہ کیا تھا جس میں تھا کہ مسجد بننے سے پہلے اس میں اختلافِ رائے ہو سکتا ہے کہ مسجد کا نقشہ کیسا ہو یا اس کا رقبہ کتنا ہو، لیکن جب ایک فریق غلبہ پا لے اور اس کی رائے کے مطابق مسجد بن جائے تو اب وہ سب کے لیے مسجد ہے، اختلاف کرنے والے فریق کے لیے بھی مسجد ہے، وہ وہیں نماز پڑھیں گے اور اس کی حفاظت و احترام بھی کریں گے۔

دوسری مثال جو شاہ جیؒ نے دی وہ بڑی عجیب مثال تھی۔ وہ یہ کہ بچے کا رشتہ کرنے میں ماں باپ کا اختلاف ہو گیا، جھگڑا چلتا رہا، بالآخر اس میں ماں غالب آ گئی اور اس نے اپنی مرضی کے مطابق رشتہ کروا لیا۔ باپ اتنا سخت ناراض ہوا کہ شریک بھی نہیں ہوا، لیکن جب وہ لڑکی بہو بن کر گھر آ گئی تو وہ لڑکے کے والد کی بھی بہو ہے۔ اب اس بہو کی عزت کی حفاظت کرنا اس کی بھی ذمہ داری ہے، اس کی عزت کو کوئی خطرہ ہوگا تو یہ ناراض سسر آگے آئے گا کہ یہ میری بہو ہے، میری عزت ہے۔ اسی طرح پاکستان ہماری مرضی کے خلاف بنا ہے لیکن یہ ہماری عزت ہے اور ہمارا وطن ہے، ہم اس کے استحکام و سالمیت کے داعی ہیں۔ اس وقت سے الحمد للہ بحیثیت طبقہ ملک کا کوئی طبقہ بھی ملک کی وفاداری میں، ملک کی سالمیت کے تحفظ میں اور ملک کے نظریاتی استحکام میں اس طبقے سے بڑھ کر وفاداری کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

2016ء سے
Flag Counter