متفرق رپورٹس

   
رپورٹس

عورتوں کی تعلیم کا دائرہ

یکم مارچ ۲۰۲۵ء کو فرید ٹاؤن گوجرانوالہ میں صراطِ مستقیم اکیڈمی للبنات کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے استاذ محترم حضرت مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ مَردوں کی طرح خواتین کا تعلیم یافتہ ہونا بھی دین کا تقاضہ ہے، ام المومنین حضرت عائشہؓ کے بھانجے اور تابعین کے امام حضرت عروہ بن زبیرؓ کا ارشاد ہے کہ میں نے (۱) علمِ تفسیر (۲) حدیث و سنت (۳) عربی ادب و کلام (۴) خطابت و شعر (۵) طب (۶) انسابِ عرب اور (۷) تفقہ فی الدین میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بڑا کوئی عالم نہیں دیکھا۔ جبکہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کا ارشاد ہے کہ ہم اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کوئی علمی مشکل پیش آئی ہے، ہمیں ام المومنین حضرت عائشہؓ سے اس کا علم اور حل ملا ہے۔

مولانا زاہد الراشدی مدظلہ العالی نے کہا کہ خیر القرون میں سینکڑوں خواتین نے قرآن کریم کی تفسیر، حدیث و سنت کی روایت، دینی مسائل کی تشریح اور دیگر علوم میں نمایاں مقام حاصل کیا اور امت کی راہنمائی کی، ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے آج بھی خواتین کو ضروری علوم سے بہرہ ور کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور دین و ملت کی بہت بڑی خدمت ہے۔

(از: حافظ عمر فاروق بلال پوری ۔ ۲ مارچ ۲۰۲۵ء)

مولانا اشتیاق احمد ایازؒ کی وفات

مدرسہ نصرۃ العلوم کے سابقہ مدرس مولانا اشتیاق احمد ایاز صاحب قضائے الٰہی سے وفات پا گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ شبان ختم نبوت کے تمام ذمہ داران و کارکنان اس دکھ کی گھڑی میں لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہ کریم مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے، آمین۔

جامعہ کے صدر مدرس حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب کا پیغام:

’’انا للہ وانا الیہ راجعون، ہمارے بہت اچھے ساتھی تھے، مختصر زندگی دین کی تعلیم و اشاعت اور اساتذہ کی خدمت گزاری میں بسر کی اور شب و روز دینی کاموں میں مصروف رہے، اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائیں اور تمام لواحقین و متعلقین کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔‘‘

(شُبانِ ختمِ نبوت کے اعلان اور مولانا راشدی کے پیغام کی مشترکہ سوشل میڈیا پوسٹ ۔ ۸ مارچ ۲۰۲۵ء)

علماء کی ٹارگٹ کلنگ ’’گریٹ گیم‘‘ کا حصہ

اسلام آباد (12 مارچ 2025ء) پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے کہا ہے کہ علماء کی ٹارگٹ کلنگ خطرے کی گھنٹی اور ’’گریٹ گیم‘‘ کا حصہ لگ رہی ہے، سدباب کے لیے سنجیدہ اور ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے، مولانا حامد الحق حقانی کو شہید کر کے پورے خطے کے علماء کو صدمے سے دوچار کیا گیا ہے، دارالعلوم حقانیہ سے ہماری وابستگی کو کسی طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دارالعلوم حقانیہ میں علماء سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

تفصیلات کے مطابق مولانا زاہد الراشدی کی قیادت میں پاکستان شریعت کونسل کے ایک بھرپور وفد نے دارالعلوم جامعہ حقانیہ آمد کے موقع پر بم دھماکے میں مولانا حامد الحق حقانی سمیت دیگر شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔ جامعہ حقانیہ کے مہتمم مولانا انوار الحق، نائب مہتمم مولانا راشد الحق سمیع، مولانا حامد الحق شہید کے سیاسی جانشین مولانا عبد الحق ثانی اور ان کے خاندان کے دیگر افراد سے تعزیت کا بھی اظہار کیا۔

وفد میں کونسل کے سرپرست اعلیٰ مفتی رویس خان ایوبی، سرپرست مولانا عبد القیوم حقانی، سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف فاروقی، ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ منیر احمد، گلگت بلتستان کے امیر مولانا ثناء اللہ غالب، اسلام آباد کے جنرل سیکرٹری حافظ علی محی الدین، مری کے امیر مولانا قاسم عباسی، قانونی مشیر ذوالفقار گل عباسی ایڈووکیٹ، سیکرٹری مالیات سعید احمد اعوان، ادارة النعمان گوجرانوالہ کے مدیر مفتی نعمان احمد، مفتی محمد اسامہ اور دیگر شامل تھے۔

وفد کے اراکین نے مولانا عبد الحق، مولانا سمیع الحق اور مولانا حامد الحق کی قبور پر حاضری بھی دی، اس موقع پر وفد کے اراکین نے مولانا حقانی کے پسماندگان سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ دارالعلوم حقانیہ کی وجہ سے ہم سب کے دل زخمی اور سینے چھلنی ہیں، جامعہ کے ذمہ داران، اساتذہ و طلباء اپنے آپ کو تنہا نہ سمجھیں، ہمیں وہ ہر موقع پر اپنے ساتھ پائیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ علمائے کرام کا خون بہانے والے خفیہ ہاتھوں کی سازشوں کو بے نقاب کیا جائے اور علماء و مدارس کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے حکومتیں اپنی ذمہ داری پوری کریں۔

(از: پروفیسر حافظ منیر احمد، سیکرٹری اطلاعات پاکستان شریعت کونسل ۔ ۱۳ مارچ ۲۰۲۵ء)

مذہبی شخصیات کی توہین کو بین الاقوامی سطح پر جرم تسلیم کرانے کے لیے او آئی سی کی سطح پر آواز اٹھائی جائے

پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی نے تمام مسلم حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ مذہب اور مذہبی شخصیات کی توہین کو بین الاقوامی سطح پر جرم تسلیم کرانے کے لیے او-آئی-سی (اسلامی تعاون تنظیم) کے فورم سے آواز اٹھائی جائے اور اسے اپنے عالمی ایجنڈے کا حصہ بنایا جائے۔

مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں ۱۴ مارچ کو جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے حکومت پاکستان کی طرف سے 15 مارچ کو ملک بھر میں یوم تحفظ ناموس رسالت منانے کے اعلان کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ بین الاقوامی ادارے مذہب اور مذہبی شخصیات کی توہین کو جرائم کی فہرست سے خارج کرنے اور پاکستان میں ناموس رسالت کے تحفظ کا قانون ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں جو نا انصافی کی انتہا ہے، دنیا کے ہر ملک میں کسی بھی شہری کی توہین کو جرم تسلیم کیا جاتا ہے اور اس کی کوئی نہ کوئی سزا مقرر ہے مگر حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اور دیگر مذہبی شخصیات کی توہین کو آزادئ رائے اور آزادئ مذہب کے نام پر حقوق میں شامل کیا جا رہا ہے حالانکہ مذہب اور مذہبی شخصیات کی گستاخی قرآن کریم اور دیگر الہامی کتابوں حتیٰ کہ بائیبل کی تعلیمات میں بھی سنگین جرم قرار دیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جن گستاخوں کو عدالتی طریقہ کار کے مطابق سزا سنائی جا چکی ہے۔ ان کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور جو مقدمات درج ہیں ان کے فیصلوں میں تاخیر نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ گستاخوں کو جلد از جلد سزا دینے کے ساتھ ساتھ باہمی گروہی رقابتوں کے باعث درج کرائے جانے والے غلط مقدمات کا بھی قومی سطح پر جائزہ لیا جائے کیونکہ جس طرح توہین مذہب کے مجرم کو فوری سزا دنیا ضروری ہے اسی طرح کسی بے گناہ کو ملوث کرنا خود جرم ہے اور بے گناہوں کو سزا سے بچانا بھی قانون و معاشرہ کی ذمہ داری ہے۔

مولانا راشدی نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت، ناموس رسالت اور ناموس صحابہ کرامؓ کا تحفظ ہمارے دین و ایمان کا تقاضہ ہے اور اس کے لیے دستوری و قانونی ذمہ داریوں کو ادا کرنا حکومت اور دیگر اداروں کا قومی فرض ہے جس کی طرف سب کو توجہ دینی چاہیے۔

(از: عبد القادر عثمان، دفتر مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ ۔ ۱۵ مارچ ۲۰۲۵ء)

صوبائی امیر جے یو آئی خیبر پختونخوا سینیٹر مولانا عطاء الرحمان کی گوجرانوالہ آمد

جمعیۃ علماء اسلام صوبہ خیبرپختونخوا کے زیر اہتمام پشاور میں منعقدہ سہ روزہ تربیتی کنونشن (2 تا 4 مئی 2025ء) کی دعوتی مہم کے سلسلہ میں صوبائی امیر جے یو آئی صوبہ خیبرپختونخوا سینیٹر مولانا عطاء الرحمٰن صاحب مورخہ 28 مارچ 2025ء کے روز الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ تشریف لائے، جہاں انہوں نے مفکر اسلام حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب سے خصوصی ملاقات کی اور انہیں جمعیۃ علماء اسلام خبیرپختونخوا کے زیرِ اہتمام پشاور میں منعقدہ تربیتی کنونشن میں شرکت کی دعوت دی۔

سینیٹر مولانا عطاء الرحمٰن صاحب نے بتایا کہ دو روزہ تربیتی کنونشن میں قائدِ جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب، حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب، حضرت مولانا پیر ذوالفقار نقشبندی صاحب، سابق سینیٹر مولانا فیض محمد صاحب، حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب، مفتی عبدالواحد قریشی، پروفیسر سلیم الرحمٰن، ڈاکٹر قبلہ ایاز، ڈاکٹر عبد الحکیم اکبری اور مہمانانِ گرامی مختلف تربیتی موضوعات پر خطابات فرمائیں گے۔ انہوں نے حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب سے ’’اسلامی ریاست کا تصور اور اس کی عملی تطبیق‘‘ کے موضوع پر گفتگو کی درخواست کی۔

حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب نے سینیٹر مولانا عطاء الرحمٰن صاحب کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ آمد پر خوش آمدید کہا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ جمعیۃ علماء اسلام ہماری اپنی جماعت ہے، اس کے پروگرامات اور تربیتی کنونشن میں شرکت کو اپنے لیے سعادت سمجھتا ہوں۔ جمعیۃ علماء اسلام اس وقت دین و ملت کی درست ترجمانی کر رہی ہے اور حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب دینی طبقے کی جس طرح قیادت فرما رہے ہیں اس سے مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ کے دور کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔

اس موقع پر جمعیۃ علماء اسلام ضلع گوجرانوالہ کے رہنما پیر قاری سمیع الحق، مولانا قاضی مراد اللہ خان، سید حفیظ الرحمٰن شاہ، مولانا سجاول علی، صاحبزادہ ڈاکٹر عمار خان ناصر اور حافظ طلحہ نذیر بھی موجود تھے۔

(از: حافظ خرم شہزاد، امیر جمعیۃ علماء اسلام تحصیل کامونکی ضلع گوجرانوالہ۔ ۳۱ مارچ ۲۰۲۵ء)

مولانا قاری محمد سعید عباسیؒ کی وفات پر تعزیت

پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی آج (۶ اپریل ۲۰۲۵ء) مظفرآباد جاتے ہوئے کچھ دیر سنی بینک مری میں رکے اور علاقے کی بزرگ شخصیت مولانا قاری محمد سعید عباسی کی وفات پر ان کے فرزند مولانا مفتی محمد عبداللہ اور ان کے برادران و رفقاء سے تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت اور بلندئ درجات کی دعاء کی۔ مولانا محمد قاسم عباسی، مفتی محمد عثمان جتوئی اور مولانا صلاح الدین ان کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے مولانا قاری محمد سعید عباسی کی دینی و ملی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ مری کے علاقے میں دینی تعلیمات اور ماحول کے فروغ میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

(از : مفتی محمد عثمان جتوئی، ناظم الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ۔ ۷ اپریل ۲۰۲۵ء)

غزہ فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں ہر سطح پر یکجہتی کی آواز کو بلند رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں

مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں جمعیت اہلسنۃ والجماعۃ حنفی دیوبندی حلقہ جات اور تمام ہم مسلک جماعتوں کے قائدین اور نمائندگان کا قضیہ فلسطین کے حوالے سے مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کی آگاہی مہم کو مزید عوامی سطح پر فعال کرنے کے لیے اہم اجلاس جمعیت کے صدر مولانا قاری محمد ریاض کی صدارت میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں جمعیت کے سرپرست اعلیٰ مرکزی جامع مسجد کے خطیب مولانا زاہد الراشدی نے اپنے بیان میں کہا کہ قومی سطح پہ تمام مکاتب فکر کے اکابرین علماء کرام کی طرف سے مظلوم فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے جو بھی فیصلے اسلام آباد کی قومی کانفرنس میں کیئے گئے ان کی بھر پور تائید کرتے ہیں اور تمام اعلانات کا خیر مقدم کرتے ہوئے آج کے کراچی کے مجلس اتحاد امت کے ملین مارچ کے حوالے سے بھی ہم گوجرانوالہ سے پیشگی اپنے اکابرین اور قائدین کے فیصلوں پہ اتفاق کا اعلان کرتے ہوئے غزہ فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں ہر سطح پر یکجہتی کی آواز کو بلند رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں، مسلم امہ فوری طور پہ عالمی سطح پر ایک پیج پہ جمع ہو کر اسرائیلی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے عملی اقدامات کا اعلان کرے۔ ٹرمپ انتظامیہ واضح طور پہ اسرائیلی سفاکیت کی پشتیبان ہے اور فلسطین میں انسانی حقوق کی پامالیوں اسرائیلی مظالم پہ خاموش ہی نہیں بلکہ کھل کر ظالم کے حمایتی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ ایسے سنگین نوعیت کے حالات میں غزہ میں امتِ مسلمہ کی نسل کشی دیکھ کر بھی اسلامی ممالک کے سربراہان کا متفقہ لائحہ عمل اور واضح عملی اقدامات نہ اٹھانا پوری امتِ مسلمہ کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ الحمد للہ پاکستان کے علماء کرام نے تمام مکاتبِ فکر کو جمع کر متفقہ طور پر جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا وہ اہلیانِ پاکستان کی طرف سے قومی آواز ہے۔ اب ہمارے حکمرانوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ دیگر اسلامی ممالک کے سربراہان کو بیدار کرنے میں اور مشترکہ عالمی جدوجہد میں فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں اپنا کردار ادا کریں۔

اجلاس میں عوامی سطح پر آگاہی مہم کے لیے جمعیت کے حلقہ جات میں مساجد کی سطح پر دروس کے ذریعے رابطہ مہم کو فعال کرنے کی ضرورت پہ زور دیا گیا۔ قومی سطح پہ ہونے والے فیصلہ جات کو عوامی سطح پر فروغ دینے کے سلسلہ میں 17 اپریل بروز جمعرات کو مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور نمائندگان کی مشترکہ میٹنگ 2 بجے مشاورت کے لیے طلب کر لی گئی، جس میں یکجہتی فلسطین کے حوالے سے کنونشن اور ریلی کے انعقاد کا فیصلہ کیا جائے گا۔ شرکاء اجلاس نے گزشتہ روز جماعت اسلامی کے کارکنان کی طرف سے کے ایف سی میں جا کر پرامن انداز میں مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کے لیے بائیکاٹ کی ترغیب، جو کہ مکمل پر امن اور منت سماجت کے انداز میں تھی، اس پہ ردعمل کے طور پر ان کی گرفتاری پہ مذمت کا اظہار کرتے ہوئے ان کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ انتظامیہ حالات کو پرامن رہنے دے، اس طرح کی گرفتاریاں شہریوں میں تشویش کا باعث ہیں۔

اجلاس میں مولانا حافظ گلزار احمد آزاد، حاجی بابر رضوان باجوہ، قاضی ضیاء المحسن، مولانا جواد محمود قاسمی، مولانا امجد محمود معاویہ، مولانا ظہور احمد فاروقی، مولانا فضل الہادی، مفتی نعمان، مولانا عارف شامی، مولانا قاری نعمان بابر، مولانا عبد الماجد، مولانا معظم نقشبندی، مولانا عمر شکیل، قاری اکمل، حافظ عبد الجبار، مولانا محمد شعیب، عبد القادر عثمان، فضل اللہ راشدی، حافظ دانیال عمر اور دیگر علماء کرام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

(از: مولانا امجد محمود معاویہ ، سیکرٹری اطلاعات ،جمعیت اہلسنت   والجماعت۔ ۱۳ اپریل ۲۰۲۵ء)

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں نئے تعلیمی سال کا آغاز

۱۳ اپریل اتوار کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں نئے تعلیمی سال آغاز ہو گیا ہے۔

اس موقع پر الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے کوروٹانہ کے تعلیمی کیمپس میں طلبہ کو پہلا سبق پڑھایا اور ہفتہ وار نقشبندی محفل سے بھی خطاب کیا، انہوں نے کہا کہ عصری اور دینی تعلیم دونوں ہماری ضرورت ہیں مگر یہ فرق ہمارے ذہنوں میں ہونا چاہیے کہ عصری علوم و فنون اس دنیا کی ضرورت ہیں کہ ان کے بغیر ہم دنیا کی زندگی صحیح طور پر نہیں گزار سکتے، جبکہ دینی تعلیم ہماری دنیا، قبر اور حشر کی تمام ضروریات پورا کرتی ہے اور ہم اس سے کسی مرحلہ میں بے نیاز نہیں ہو سکتے۔

مولانا زاہد الراشدی اس سال ہر اتوار کوروٹانہ میں عصر کی نماز پڑھیں گے اور ہفتہ وار نقشبندی محفل میں شرکت کے علاوہ درس دیں گے اور طلبہ کو حدیث و سیرت کا سبق پڑھائیں گے ان شاء اللہ تعالیٰ۔

(از: مولانا حافظ اسامہ قاسم، استاذ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ۔ ۱۴ اپریل ۲۰۲۵ء)

جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں تعلیمی سال کا آغاز

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

عظیم دینی درسگاہ جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ میں تعلیمی سال کا آغاز ۱۷ اپریل بروز جمعرات کو ہوا۔ افتتاحی نشست میں مفکرِ اسلام حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب نے فرمایا کہ ترجمہِ قرآن کے سبق سے آغاز جامعہ کے شیخین کا معمول اور ذوق تھا انہی سے یہ روایت چلی آرہی ہے اور انشاء اللّہ آگے بھی چلتی رہے گی۔

فرمایا کسی بھی کتاب کا آغاز کیا جائے تو اس کے تعارف میں تین بنیادی چیزیں ذکر کی جاتی ہیں۔ کتاب کا مصنف، موضوع اور غایت۔ فرمایا قرآن مجید کے مصنف خود اللّہ رب العزت ہیں اور یہ اللّہ کی مخلوق نہیں بلکہ اللّہ کا کلام اور صفت ہے یہی اہلسنت کا عقیدہ ہے جس کے دفاع میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللّہ نے کوڑے بھی کھائے ہیں۔

فرمایا قرآن مجید کا موضوع ھدی (ہدایت) ہے جو خطاب کے اعتبار سے عام (ھدی للناس) ہے اور فائدے کے اعتبار سے خاص (ھدی للمتقین) ہے۔ اور اسی کو اللّہ تعالیٰ نے دنیا میں آنے کا مقصد بتلاتے ہوئے فرمایا کہ دنیا میں رہتے ہوئے اگر میری طرف سے ہدایت آئے تو اس کی اتباع کرنا تب ہی تم اپنے گھر جنت کی طرف آؤ گے ورنہ دوسرے گھر جہنم میں جاؤ گے۔ پھر فرمایا اس ھدی کا بنیادی ایجنڈا "فاحکم بینھم بما انزل اللّہ" ہے تاکہ انسانی سوسائٹی میں ہدایت نافذ رہے اور یہی گزشتہ تمام آسمانی کتابوں کا ایجنڈا رہا ہے۔ اور فرمایا قرآن مجید کی غایت دنیا میں کامیابی اور آخرت میں نجات کا سرٹیفیکیٹ ہے۔ یہ قرآن مجید کا مختصر ترین تعارف ہے۔

نشست کے اختتام پر جامعہ کے استاذ الحدیث مولانا عبد القیوم صاحب نے طلباء کے تعلیمی سال کی کامیابی اور جامعہ کی ترقی کے لیے دعا فرمائی یوں نشست کا اختتام بالخیر ہوا۔

(از: حافظ محمد اکمل فاروق شیخوپوری، شریک دورہ حدیث۔ ۱۸ اپریل ۲۰۲۵ء)

بین الاقوامی سیرت کانفرنس میں مولانا زاہد الراشدی کا کلیدی و فکر انگیز خطاب

اسلام آباد (پریس ریلیز) بین الاقوامی مرکزِ فضیلت برائے مطالعاتِ سیرت، ادارہ تحقیقاتِ اسلامی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، جامعہ محمدی شریف چنیوٹ، اور بین الاقوامی فورم برائے فروغِ رواداری اردن کے باہمی اشتراک سے منعقدہ بین الاقوامی سیرت کانفرنس بعنوان "سیرت نگاری کی معاصر جہات: نقطہ ہائے نظر، چیلنجز اور مستقبل کا لائحۂ عمل" میں پاکستان شریعت کونسل کے امیر، عظیم دانشور، مفکر اسلام مولانا زاہد الراشدی دامت نے کلیدی خطاب کیا۔

مولانا زاہد الراشدی نے سیرت نگاری کے جدید رجحانات اور اس کے اثرات پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ سیرتِ نبوی کا مطالعہ صرف ماضی کی روایات کا احاطہ نہیں بلکہ حال اور مستقبل کے فکری، سماجی اور تہذیبی مسائل کا حل بھی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیرت نگاری کو آج کے دور میں علمی گہرائی، بین المسالک رواداری، اور بین الاقوامی فہم و ادراک کے ساتھ پیش کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ سیرت کے مطالعے کو محض مذہبی جذبات کا اظہار بنانے کے بجائے، اسے فکری رہنمائی اور عملی زندگی کے لیے رہنما اصول بنانے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے مدارس اور جامعات کے مابین مؤثر رابطے اور مشترکہ تحقیقی منصوبوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

مولانا راشدی نے سیرت نگاری کے میدان میں درپیش چیلنجز، جیسے مغربی فکری یلغار، جدیدیت کے غلط فہم تصورات، اور نوجوان نسل کی فکری الجھنوں کا جائزہ لیتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ امت کو ایسی سیرت نگاری درکار ہے جو عصری ذہن کو مطمئن اور دل کو متاثر کر سکے۔

انہوں نے سیرت کے تاریخی مصادر و مراجع کے تنقیدی جائزے، غیر روایتی زاویہ ہائے نگاہ کو علمی انداز میں پرکھنے، اور امت مسلمہ کے مابین سیرت کے مشترک پیغام کو اجاگر کرنے کی اپیل کی۔

کانفرنس کے شرکاء اور منتظمین نے مولانا راشدی کی پرمغز گفتگو کو علمی افق کی وسعت اور فکری رہنمائی کا سرچشمہ قرار دیتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ ان کی شرکت کو اس بین الاقوامی کانفرنس کی کامیابی کا اہم سنگ میل قرار دیا گیا۔

(از: حافظ شاہد الرحمٰن میر، سیکرٹری مالیات پاکستان شریعت کونسل گوجرانوالہ۔ ۲۵ اپریل ۲۰۲۵ء)

ٹرمپ کا چیلنج قبول ہے — مولانا زاہدالراشدی کا اقصٰی کنونشن سے ولولہ انگیز خطاب

جمعیت اہلِ سنت لہتراڑ و پارک روڈ کے زیراہتمام منعقدہ اقصٰی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز دینی و قومی رہنما پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے عالمی منظرنامے اور فلسطین میں جاری جدوجہد آزادی کو برصغیر کی جنگ آزادی سے مربوط کرتے ہوئے ایک فکرانگیز خطاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی قوم گزشتہ پچھتر سال سے مسلسل جدوجہد میں ہے، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ آزادی کی جنگ لڑنے والوں کو دیگر مجاہد اقوام کی طرف سے وہ حمایت نہیں مل رہی جو ان کا حق ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہمیں اپنی تاریخ کا جائزہ لینا ہو گا، ہم نے بھی ایک طویل جنگِ آزادی لڑی تھی، جس کا آغاز ۱۷۵۷ء میں نواب سراج الدولہ نے کیا تھا۔

مولانا نے تین ادوار کی جنگ آزادی پر روشنی ڈالی: سراج الدولہ کی قیادت میں پہلی ریاستی مزاحمت، ٹیپو سلطان کی دوسری مزاحمتی جنگ، اور پھر علماء کی قیادت میں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے فتویٰ جہاد کے تحت تیسری جنگ آزادی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ریاستیں پیچھے ہٹتی ہیں تو علماء آگے آتے ہیں، اور یہی صورتحال آج فلسطین کے مسئلے میں بھی نظر آ رہی ہے۔

انہوں نے امت مسلمہ کے جید علماء جیسے مفتی تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمٰن، مولانا فضل الرحمٰن اور دیگر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب شاہ عبدالعزیز دہلوی کے فکری وارث ہیں اور اپنے کردار سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

حالیہ فلسطینی جنگ پر بات کرتے ہوئے مولانا زاہد الراشدی نے سوال اٹھایا کہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ طے پا چکا تھا، پھر ٹرمپ کہاں سے کود پڑا؟ کس نے اس معاہدے کو سبوتاژ کیا؟ انہوں نے کہا کہ اب یہ صرف فلسطین کی جنگ نہیں، مشرق و مغرب کی عالمی جنگ بن چکی ہے۔ اور ہم اس چیلنج کو قبول کرتے ہیں۔

انہوں نے مسلم حکمرانوں کو دوٹوک فیصلہ کرنے کا مشورہ دیا کہ وہ مظلوم فلسطین یوں کے ساتھ کھڑے ہوں یا ان قوتوں کے ساتھ جو امن کے امکانات کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔

خطاب کے آخر میں مولانا نے کہا کہ اب صرف دعا کافی نہیں، اسباب اختیار کرنا بھی فرض ہے۔ ہمیں سیاسی، معاشی، میڈیا اور عوامی سطح پر جنگ لڑنا ہو گی۔ ہر فرد کو اپنی استطاعت کے مطابق کردار ادا کرنا ہو گا۔

(از: عبد الرؤف محمدی، پاکستان شریعت کونسل ۔ ۲۵ اپریل ۲۰۲۵ء)
2016ء سے
Flag Counter