حضرت مولانا حسن جانؒ

   
مجلہ: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اکتوبر ۲۰۰۷ء

حضرت مولانا حسن جان کی شہادت کی المناک خبر میں نے دار الہدیٰ واشنگٹن ڈی سی میں سنی۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے حافظ محمد عرفان قریشی صاحب واشنگٹن میں کنسٹرکشن کا کام کرتے ہیں اور اس سال دار الہدیٰ میں تراویح میں قرآن کریم سنا رہے ہیں۔ انہوں نے فون کر کے مجھے بتایا کہ ایک انتہائی افسوس ناک خبر سنا رہا ہوں کہ ابھی نصف گھنٹہ قبل پشاور میں حضرت مولانا حسن جان صاحب کو شہید کر دیا گیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ تھوڑی دیر کے بعد انٹرنیٹ پر پاکستانی اخبارات میں بھی یہ خبر آ گئی۔

ابھی چند ہفتے قبل ملتان میں وفاق المدارس کی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں ان سے ملاقات ہوئی تھی اور فیصل آباد میں ختم بخاری شریف کی ایک تقریب میں بھی زیارت و مصافحہ کا موقع مل گیا تھا۔ میں نہیں سمجھ پایا کہ ایسی مرنجاں مرنج اور خالصتاً علمی شخصیت کی جان لینے میں آخر کسی کو کیا دل چسپی ہو سکتی ہے؟ رات کو تراویح کی نماز کے بعد دار الہدیٰ میں اپنے بیان کے آخر میں حضرت مرحوم کا تذکرہ کیا اور عرض کیا کہ وہ تو صرف اور صرف علمی دنیا کے آدمی تھے اور مطالعہ، تدریس، اصلاح اور خیر خواہی ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ وہ علم حدیث کے مسلمہ اساتذہ میں سے تھے۔ میں نے دوستوں کو بتایا کہ میرے جیسے لوگوں کو بھی کچھ دوست شیخ الحدیث کہہ دیتے ہیں، صرف اس لیے کہ ہم طلبہ کے سامنے بخاری شریف کھول کر بیٹھ جاتے ہیں اور قیامت کی نشانیاں پوری کرتے رہتے ہیں، لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان میں جن آٹھ دس بزرگوں کے اسماء گرامی کے ساتھ شیخ الحدیث کا لقب صحیح طور پر فٹ بیٹھتا ہے، ان میں حضرت مولانا حسن جان شہیدؒ بھی تھے۔

حضرت مولانا حسن جان شہیدؒ دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحق صاحبؒ کی معذوی اور وفات کے بعد ان کی مسند تدریس پر رونق افروز ہوئے اور پھر پشاور صدر کی درویش مسجد میں دینی درس گاہ قائم کر کے علوم حدیث کی ترویج و اشاعت کو زندگی بھر مشن بنائے رکھا۔ وہ سیاست میں بھی آئے اور خان عبد الولی خان مرحوم جیسی قدر آور شخصیت کو شکست دے کر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، لیکن سیاست انہیں راس نہیں آئی۔ وہ تو سیاست میں آئے لیکن سیاست ان میں آنے کا راستہ نہ پا سکی، بالآخر انھوں نے اسے طلاق بائنہ دے دی۔ وہ اس میدان کے بزرگ ہی نہیں تھے، ان کی دلچسپیوں اور سرگرمیوں کی واحد جولان گاہ علم اور صرف علم تھا۔ اپنے مزاج کے حوالے سے وہ مرنجاں مرنج قسم کی شخصیت تھے۔ خدا جانے ان کے سفاک قاتلوں کو ان کی جان لینے میں کس پہلو سے دلچسپی تھی۔

اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور ان کے اہل خاندان، تلامذہ اور عقیدت مندوں کو صبر وحوصلہ کے ساتھ یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔