بعد الحمد والصلوٰۃ۔ جناب سرور کائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلیٰ آلہ وصحبہ وسلم کو مکہ مکرمہ کی تیرہ سالہ زندگی میں، نبوت کے بعد، جن معاملات کا سامنا کرنا پڑا، جو حالات پیش آئے، ان میں سے ایک آدھ کا ذکر کیا تھا۔ بیسیوں نوعیت کی باتیں ہیں، ان میں سے ایک بات کا آج ذکر کروں گا۔ مخالفت بھی ہوتی تھی، اذیتیں بھی ہوتی تھیں، آپؐ کے ساتھیوں کو مارا بھی جاتا تھا، توہین بھی ہوتی تھی، استہزاء بھی ہوتا تھا، ہر حربہ استعمال کیا گیا۔ موقع ملا تو ان شاء اللہ ترتیب سے عرض کروں گا کہ کون کون سے حربے استعمال کیے گئے۔ ایک حربہ مصالحت کا تھا کہ کہیں صلح ہو جائے۔ یہ دو تین مواقع ایسے آئے کہ قریش کے سرداروں نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ مصالحت کی کوشش کی کہ درمیان درمیان کا کوئی سمجھوتہ ہو جائے۔
قرآن کریم نے اسے ایک جملے میں تعبیر کیا ہے ’’ودوا لو تدھن فیدھنون‘‘ (القلم ۹)۔ کچھ آپ نرمی کر لیں، کچھ وہ نرمی کر لیں، کوئی درمیان درمیان میں سمجھوتہ ہو جائے۔ یہ بھی کوششیں ہوتی رہیں۔ براہ راست بھی، بالواسطہ بھی۔ بارگیننگ ہو جائے، کمپرومائز ہو جائے، کوئی سمجھوتہ ہو جائے۔ ان سمجھوتوں کی پیشکشوں میں دو بڑی پیشکشوں کا قرآن پاک میں ذکر ہے۔ ان میں سے ایک آج ذکر کروں گا، ایک اگلی نشست میں ان شاء اللہ۔
اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں: اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم، بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، واذا تتلیٰ علیھم ایاتنا بینات قال الذین لا یرجون لقآءنا ائت بقراٰن غیر ھذا او بدلہ، قل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقآء نفسی، ان اتبع الا ما یوحیٰ الی، انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم‘‘ (یونس ۱۵)۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قریشِ مکہ کے سرداروں نے یہ ایک پیشکش کی، جناب! ہم آپ کی بات سننے کو تیار ہیں، شاید مان بھی لیں، لیکن تھوڑا سا آپ بھی ’’ہتھ ہولا رکھو‘‘۔ دو فارمولے:
- ’’ائت بقرآن غیر ھذا‘‘۔ یہ قرآن بڑا مشکل ہے، اور قرآن لے آئیں۔ کوڑے مارتا ہے، ہاتھ کاٹتا ہے، سنگسار کرتا ہے۔ کوئی آسان سا قرآن لے آئیں۔ پہلی فرمائش تو یہ کی۔
- اگر سارا قرآن نہیں بدل سکتے ’’او بدلہ‘‘ جہاں جہاں زیادہ مشکل ہے، ترمیم تو کریں نا اس میں۔
فارمولا سمجھ میں آیا ہے؟ پورا ہی بدل دو تو سب سے بہتر ہے۔ اگر پورا نہیں بدل سکتے تو جہاں جہاں زیادہ مشکل نظر آتی ہے وہاں بدل دو۔ یہ ان کی پیشکش تھی مصالحت کی۔ ’’ودو لو تدھن فیدھنون‘‘ کا ایک فارمولا یہ تھا۔ کچھ آپ لچک پیدا کر لیں، کچھ یہ لچک پیدا کر لیں۔
یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ آج بھی ہمیں یہی پیشکش ہے۔ آج بھی دنیا میں یہی فارمولا ہے کہ ٹھیک ہے قرآن اچھی کتاب ہے لیکن کوئی ترمیمیں تو کرو نا اس میں۔ کوڑے بھی مارتے ہو، ہاتھ بھی کاٹتے ہو، ناک بھی کاٹتے ہو، کان بھی کاٹتے ہو، پھر کہتے ہو امن بھی ہے، سلامتی بھی ہے، یہ کیسی سلامتی ہے؟ آج کی دنیا کا ہم سے یہی تقاضہ ہے کہ قرآن پاک کے کچھ احکام بدل دو، باقی ٹھیک ہے۔
ابھی چند مہینے ہوئے، فرانس کے سابق صدر (نکولس سرکوزی Nicolas Sarkozy) نے دانشوروں سے ایک فارمولے پر دستخط کروائے، ایک سو دانشوروں نے دستخط کیے۔ اس لیول کے سو دانشوروں نے ایک منصوبہ بنایا کہ یہ جو مستقل لڑائی ہے یہودیوں اور مسلمانوں کی، ہم صلح کرواتے ہیں۔ یہ ابھی تازہ بات کر رہا ہوں پچھلے مہینے کی۔ ہم عربوں کی اور یہودیوں کی صلح کرواتے ہیں۔ یہ بیت المقدس کا جھگڑا، اور یہ اور وہ۔ مستقل لڑائی ہے، ان کی صلح کرواتے ہیں۔ اچھا، صلح کے لیے کچھ باتیں اِن کو ماننی پڑیں گی، کچھ اُن کو ماننی پڑیں گی۔ صلح میں یہی ہوتا ہے نا؟ جب صلح ہوتی ہے تو پھر کچھ اِن کو ماننی پڑتی ہیں، کچھ اُن کو ماننی پڑتی ہیں۔ تو پہلی بات ہمیںٖ مسلمانوں سے کرنی چاہیے کہ کم از کم اتنی تو بسم اللہ کرو تم، یعنی کچھ خیر سگالی کے جذبے کے ساتھ، قرآن پاک سے ان آیات کو نکال دو جن میں یہودیوں پہ لعنت کی گئی ہے۔
فارمولا سمجھ میں آیا؟ کم از کم لعنت تو نہ بھیجو نا۔ قرآن پاک کی کچھ آیات میں یہودیوں پہ لعنت ہے یا نہیں ہے؟ دو تین ہیں یا خاصی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ مصالحت کی فضا بنتی نہیں ہے، ایک طرف لعنت اور دوسری طرف صلح، یہ ہوتا نہیں ہے۔ تو انہوں نے فارمولے کی پہلی شرط یہ رکھی، باقاعدہ مسلمانوں سے مطالبہ کیا، جو چھپا ہوا ہے، کہ ہم مسلمان اہلِ علم سے، اہلِ دانش سے یہ تقاضہ کرتے ہیں کہ یہودیوں کے ساتھ صلح ہم کروا دیتے ہیں، آپ پہلے مرحلے میں خیر سگالی کے جذبے کے ساتھ، صلح کا ماحول پیدا کرنے کے لیے، قرآن پاک سے کم از کم وہ پندرہ بیس آیتیں، جن میں یہودیوں پہ لعنت کی گئی ہے، وہ تو نکال دیں، باقی باتوں پہ بیٹھ کے بات کر لیتے ہیں۔ تو یہاں بھی یہی پیشکش ہے۔
ویسے احکام کے حوالے سے بھی کہتے ہیں کہ یہ سخت قانون ہے ہاتھ کاٹنا، کوڑے مارنا اور سنگسار کرنا، ان میں ردوبدل کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں بھی بہت سے دوست یہ کہتے ہیں کہ یار کچھ تو کرنا چاہیے نا، آخر کوئی لچک تو پیدا کریں۔ ایک دفعہ لندن میں ایک مذاکرہ تھا، مکالمہ تھا، تو ہمارے ایک آزاد خیال دوست تھے، جیسے ہوتے ہیں، میں ان سے گپ شپ رکھتا ہوں، کہا کہ مولوی صاحب کچھ تو کرنا پڑے گا۔ بین الاقوامی برادری میں بیٹھنا ہے۔ میں نے کہا، ٹھیک ہے یار۔ میرا انداز ذرا الگ ہوتا ہے بات کرنے کا۔ میں نے کہا، ٹھیک ہے، میں بھی آپ کے ساتھ ہوں۔ ایسا کرتے ہیں، فہرست بناتے ہیں پہلے۔ بین الاقوامی قوانین کا، اقوام متحدہ کا، یورپی یونین کا، آج کی عالمی برادری کا ہم سے کن کن باتوں میں تبدیلی کا مطالبہ ہے، فہرست تو بنائیں نا پہلے۔ پانچ ہیں، چھ ہیں، سات ہیں، آٹھ ہیں، پہلے مل کے فہرست بنائیں۔ میں آپ کے ساتھ مل کر بناؤں گا، مجھے پتہ ہے کیا کرنا ہے، آپ سے اچھی فہرست بناؤں گا میں، کہ ہمیں آج کی برادری سے مصالحت کے لیے کہاں کیا کیا ردوبدل کرنا ہو گا۔ بیٹھ کر ایک ایجنڈا بناتے ہیں کہ یہ بدلنا ہے، یہ بدلنا ہے۔ مثلاً عورت کو طلاق کا حق دینا ہے، ہاتھ کاٹنے والی بات ختم کرنی ہے، سنگسار کرنے والی بات ختم کرنی ہے، یہ کوڑے مارنے والی بات ختم کرنی ہے، یہ جو مذہب کے لیے ہتھیار اٹھانا ہے، اس کو ختم کرنا ہے۔ یہ پانچ سات دس باتوں کی فہرست بنا لیتے ہیں۔ اسمبلی میں پیش کرنے کے لیے بل اتنا اچھا تم نہیں بناؤ گے جتنا اچھا میں بناؤں گا۔ اتھارٹی تم بتا دو کہ تبدیلی کرے گا کون؟ قرآن پاک میں ردوبدل قومی اسمبلی کرے گی یا صوبائی اسمبلی کرے گی؟ سپریم کورٹ کرے گا؟ ہائی کورٹ؟ یا جنرل اسمبلی کرے گی؟ کون کرے گا؟ مسودہ میں بنا دیتا ہوں، اتھارٹی تم بتا دو۔
کیوں جی، میرا سوال ٹھیک ہے یا نہیں؟ میں نے کہا، بہت اچھا بل بناؤں گا، میں اس کام کا ماہر ہوں، کہ یہ بدلنا ہے، یہ بدلنا ہے، تب صلح ہو گی ہماری ان کے ساتھ۔ میں نے کہا، اتھارٹی تو بتاؤ، کرنا کس نے ہے؟ میں نے تبدیل کرنا ہے، تم نے کرنا ہے، قومی اسمبلی نے کرنا ہے، سینٹ نے کرنا ہے، ہائی کورٹ نے کرنا ہے، سپریم کورٹ نے کرنا ہے، قرآن پاک میں ترمیم کی اتھارٹی کون ہے؟ کیوں جی، کون ہے؟ ریفرنڈم کروائیں گے پاکستان میں کہ زیادہ لوگ کیا کہتے ہیں، کرنی چاہیے یا نہیں کرنی چاہیے؟ الیکشن کروائیں گے؟ علماء کی کانفرنس کریں گے؟ کیا کریں گے؟ قرآن پاک میں ردوبدل کی کوئی اتھارٹی ہے؟ اِس دنیا میں تو کوئی نہیں ہے۔
میں نے کہا اس تاریخی تسلسل پہ غور کرو ذرا۔ ردوبدل ہوتا آیا ہے۔ توراۃ میں ردوبدل ہوا، زبور آ گئی۔ زبور میں ردوبدل ہوا، انجیل آ گئی۔ انجیل میں ردوبدل ہوا، قرآن آ گیا۔ اب ہماری باری تو اللہ پاک نے کھڑکی ہی بند کر دی، وہ قیامت تک بند رہے گی، اس سے پہلے بات ہی نہیں ہو گی، اس سے پہلے تو یہی چلے گا۔
جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہ تقاضہ ہوا، قرآن پاک کہتا ہے ’’اذا تتلیٰ علیھم ایاتنا بینات‘‘ جب ان پر ہماری آیات کھلی کھلی پڑھ کر سنائی جاتی ہیں، ’’قال الذین لا یرجون لقآءنا‘‘ جو لوگ ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے۔ اس کا محاورے کا کیا معنی ہے؟ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے، اور آج کی اصطلاح میں non-believers ہیں۔ اللہ اور آخرت پہ believe کرنے والے، اللہ اور آخرت پہ believe نہ کرنے والے۔ non-believers یہ کہتے ہیں ’’ائت بقراٰن غیر ھذا او بدلہ‘‘ جناب، یا قرآن سارا ہی بدل دو، یا کہیں کہیں تو بدلو، کوئی ترمیمات تو کرو۔ یہ ان کا سوال ہے۔ اللہ پاک نے جواب دلوایا جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ’’قل‘‘۔ میں کہا کرتا ہوں اللہ پاک نے جواب دلوا دیا کہ قیامت تک ہمیں کوئی آئندہ پیشکش ہو تو کانفرنس بلانے کی ضرورت نہیں ہے، جواب موجود ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ رب العزت نے اس سوال اور پیشکش کا جواب دلوایا۔ تین جواب ہیں:
- پہلی بات، ’’ما یکون لی ان ابدلہ من تلقآء نفسی‘‘۔ اللہ اکبر۔ مجھے سرے سے کوئی اختیار نہیں ہے کہ میں اپنی طرف سے قرآن پاک میں کوئی ردوبدل کر سکوں۔ اوپر سے وحی آجائے تو الگ بات ہے، اپنی طرف سے قرآن پاک کے کسی لفظ میں، کسی حکم میں ردوبدل کا مجھے اختیار نہیں ہے، میں اتھارٹی نہیں ہوں۔ یہ کس سے کہلوایا جا رہا ہے؟ اور کون کہلوا رہا ہے؟ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر قرآن پاک کے کسی حکم میں کسی لفظ میں ردوبدل کی اتھارٹی نہیں ہیں، تو اور کون ہے؟ کوئی ہے؟ ایک جواب تو یہ ہے۔
- دوسرا، ’’ان اتبع الا ما یوحیٰ الی‘‘۔ اللہ اکبر۔ میں صرف وحی کا پابند ہوں، بس، میں اور کچھ نہیں جانتا۔ محاورے کا ترجمہ سمجھ میں آیا۔ یہ جواب بھی کس سے دلوایا؟ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہہ دیا، وحی کے سوا میں کچھ نہیں جانتا۔ جو حکم ہو گا وہ کروں گا۔ مجھے نہیں پتہ تم کیا چاہتے ہو، یہ کیا چاہتے ہیں۔
- تیسرا، ترجمہ کرتے ہوئے ڈر لگتا ہے، واحد متکلم کے صیغے سے ہے ’’انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم‘‘ مجھے ڈر لگتا ہے کہ اگر یہ غلطی میں نے کر دی تو میں بھی خدا کے عذاب کا شکار ہو جاؤں گا۔ کون کہہ رہا ہے؟ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، کہ اگر میں نے اپنے رب کے حکم کی خلاف ورزی کر دی تو قیامت کے دن میں عذاب میں پھنس جاؤں گا۔
میں نے عرض کیا تھا کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت، آپ کو اذیتیں اور تکلیفیں، آپ کے راستے میں مشکلات، یہ بڑے مرحلے ہیں، میں تھوڑا تھوڑا کر کے ذکر کروں گا، لیکن ایک یہ کہ مصالحت کی پیشکشیں بھی ہوئی ہیں اور باقاعدہ ہوئی ہیں کہ جناب یہ کر لیں، یہ کر لیں۔ ایک پیشکش کا میں نے ذکر کیا ہے۔ وہ کیا تھی؟ قرآن پاک میں ردوبدل ان کی مرضی کے مطابق۔ اللہ پاک نے پنجابی میں کیا کہتے ہیں کہ ’’دھوتا داتا‘‘ (صاف) جواب دے دیا کہ نہیں، یہ نہیں ہو گا۔
آج بھی چونکہ یہی پیشکش ہے، ہمارے ساتھ یہی مذاکرات ہو رہے ہیں۔ باہر دنیا میں بھی، اور یہاں ہمارے اپنے دوست بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ یار کچھ تو کرو۔ اس لیے میں نے یہ عرض کیا ہے، باقی باتیں ان شاء اللہ آہستہ آہستہ ہوتی رہیں گی۔

