قومی معیشت کی تشکیلِ نو، وقت کی اہم ضرورت

   
تاریخ اشاعت: 
اکتوبر ۲۰۲۳ء

روزنامہ اسلام لاہور ۱۶ ستمبر ۲۰۲۳ء میں شائع شدہ ایک سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کے موجودہ معاشی بحران میں ۹۵ فیصد پاکستانی بے روزگاری کے خوف میں مبتلا ہیں اور صرف ۵ فیصد کو روزگار کا تحفظ میسر ہے۔ ۶۳ فیصد نے نوکری ختم ہونے کے خدشہ کا اظہار کیا ہے اور ۹۶ فیصد ملک کے مستقبل کے حوالہ سے پریشان ہیں۔

یہ ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کی ایک ہلکی سی جھلک ہے جس سے قوم دوچار ہے اور اس کی سنگینی میں مسلسل اضافہ دکھائی دے رہا ہے۔ یہ سب کچھ ہماری ان قومی پالیسیوں کا منطقی نتیجہ ہے جو گزشتہ پون صدی سے جاری ہیں، جن کی بنیاد بیرونی اداروں کی مشاورت بلکہ بڑھتی ہوئی مداخلت پر ہے، اور ہم اپنے مسائل کا حل بھی انہی کے زیرسایہ تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔

قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے واضح طور پر فرمایا ہے ’’من اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا‘‘ (طہ ۱۲۴) جس نے میرے ذکر اور نصیحت سے اعراض کیا اس کا نتیجہ معیشت کی تنگی ہو گا۔ ہم نے قیامِ پاکستان کے وقت ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ کا نعرہ لگایا تھا جسے عملی اور قومی زندگی میں بھلا دینے کا ہم نے فطری نتیجہ بھگتا ہے۔ اور ارشاد ربانی کی طرف رجوع کا اب بھی قومی پالیسیوں میں کوئی رجحان دکھائی نہیں دیتا۔ بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاح کے موقع پر ملک کی معیشت کی بنیاد اسلامی تعلیمات کو قرار دیا تھا مگر ہم نے سرے سے اپنا اسٹیٹ بینک ہی غیر ملکی اداروں اور سودی نظام کے اجارہ داروں کی نگرانی میں دے دیا ہے۔ جبکہ قرآن و سنت کی تعلیمات کے ساتھ ساتھ آج کے زمینی حقائق اور ماہرانہ تجزیے بھی صاف کہہ رہے ہیں کہ ہماری معاشی بدحالی کا سب سے بڑا سبب بیرونی قرضے اور سودی نظام ہیں جن سے نجات حاصل کیے بغیر معاشی صورتحال میں بہتری کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس صورتحال میں ہمیں وقتی اور عارضی اقدامات کی بجائے پورے معاشی ڈھانچے اور قومی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لے کر ان کی تشکیلِ نو کرنا ہو گی۔

بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اشعری قبیلہ کا یہ معمول جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں آیا کہ وہ جب معاشی ناہمواری کا شکار ہوتے تو اپنے اثاثے جمع کر کے انہیں آپس میں برابری کی بنیاد پر تقسیم کر لیتے تھے۔ روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشعری قبیلہ کے اس طریق کار کی تحسین فرمائی اور اسے بہتر قرار دیا۔ ہمیں بھی اپنے ماحول کے مطابق اس پر غور کرنا چاہیے اور ایڈہاک ازم کے دائرہ سے نکل کر قومی معیشت کے پورے ڈھانچے کا ازسرنو جائزہ لے کر خلافت راشدہ کے اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے مجموعی معاشی نظامِ معیشت کی تشکیلِ نو کی صورت نکالنی چاہیے۔ خدا کرے کہ ہمارے پالیسی ساز اداروں اور حکمرانوں کو یہ بات سمجھ میں آجائے، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter