امریکہ، روس اور چین میں سے پاکستان کا سچا دوست کون سا ہے؟

   
فروری ۱۹۷۶ء

(سیارہ ڈائجسٹ، لاہور کے سلسلہ ’’عوامی فیچر‘‘ کے تحت شائع ہونے والی مختلف قلم نگاروں کی آراء میں سے ایک رائے)

جہاں تک سچی دوستی کا تعلق ہے، کوئی کافر کسی مسلمان کا سچا دوست نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اسلام کا مقصد دنیا میں کفر و ظلم کا خاتمہ اور عدل و انصاف کے خدائی نظام کا قیام ہے، اور کفر دنیا میں کسی نوعیت کا بھی ہو، اسلام اس کا حریف ہے۔ اس لیے اگر واقعی پاکستان کے قیام کا مقصد اسلام کے عدل و انصاف کا نفاذ و اجرا ہے تو وہ کفر انتہائی احمق ہو گا جو پاکستان سے سچی دوستی کی حامی بھرے گا۔

یہی وجہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن پاک میں کفار کے ساتھ سچی دوستی (موالات) سے منع فرمایا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’الکفر ملۃ واحدۃ‘‘ کافر سب (اسلام کے مقابلہ میں) ایک ہیں۔ البتہ باہمی مفادات کے اشتراک کی بنیاد پر دوستی (موالات) دنیا میں ہر کافر کے ساتھ ممکن ہے۔ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکینِ مکہ، یہودِ مدینہ اور دیگر اقوام و قبائل کے ساتھ معاہدے کیے تھے اور انہیں اپنی طرف سے خوب خوب نبھایا تھا۔

اس بنیاد پر ہمیں سوچنا ہو گا کہ:

  1. ان تینوں ممالک میں سے کس ملک کے ساتھ ہمارے مفادات زیادہ مشترک ہیں؟
  2. ہمارے ساتھ یا کسی بھی دوسرے مسلمان ملک کے ساتھ ان ممالک کی دوستی و معاہدات کا اس سے قبل کیا نتیجہ برآمد ہوا ہے؟
  3. ان میں سے کونسا ملک نسبتاً‌ زیادہ وفا شعاری کا مظاہرہ کر سکتا ہے؟

ہم نے اب سے کچھ عرصہ قبل تک انڈیا کی جارحیت کو فوجی اور سفارتی محاذ پر روکنے اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے امریکہ اور اس کے بلاک پر تکیہ کر کے اپنے آپ کو اس کے ساتھ وابستہ کر رکھا تھا۔ لیکن تجربہ شاہد ہے کہ امریکہ کی یہ دوستی فوجی یا سفارتی کسی محاذ پر بھی وفا کی کسوٹی پر پوری نہیں اتر سکی۔ جس کا نتیجہ سامنے ہے کہ امریکہ کے ساتھ فوجی معاہدوں کے باوجود پاکستان کے حصے بخرے ہو گئے اور مسئلہ کشمیر آج تک نہیں سلجھ سکا۔

دوسری طرف ہم نے امریکہ کی دوستی کی خاطر روس کو ابتدا ہی سے ناراض رکھا اور اسی ناراضگی کا صلہ ’’بنگلہ دیش‘‘ کی صورت میں ہمارے سامنے آیا۔ لیکن اگر ہم روس کو ناراض نہ کرتے اور اس کے ساتھ دوستی اور معاہدات کی حد تک بھی آگے نکل جاتے، تو عربوں کے ساتھ روس کے سلوک کے پیش نظر، ہم اس کی دوستی سے بھی کچھ زیادہ فائدہ شاید نہ حاصل کر سکتے۔

اصل بات یہ ہے کہ ہم نے اور دوسرے ممالک نے بھی اپنے آپ کو بڑی دو طاقتوں کے ساتھ وابستہ کر کے بنیادی غلطی کی ہے۔ اس لیے کہ بڑی طاقتوں کے مفادات وسیع تر اور ہمارے مفادات محدود ہیں۔ جہاں بڑی طاقت کے مفادات اور اس کے حلیف کسی چھوٹے ملک کے مفادات میں ٹکراؤ پیدا ہو جائے وہاں ظاہر بات ہے بڑی طاقت اپنے مفادات سے دستبردار نہیں ہو سکتی۔ پاکستان اور ترکی کے ساتھ امریکہ کی بے وفائی اور عربوں کے ساتھ روس کی بے اعتنائی کے پس منظر میں یہی حقیقت کارفرما ہے۔

اب دیکھیے، ہمارے مفادات کیا ہیں؟ یہی کہ ہمیں اپنے حریفوں مثلاً‌ انڈیا، یونان اور اسرائیل کے مقابلہ میں فوجی اور سفارتی امداد ملتی رہے۔ اور اندرون ملک ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی و تکنیکی تعاون میسر ہو۔ اس کے برعکس بڑی طاقتوں کے مفادات اس سے کہیں زیادہ وسیع تر ہیں۔ اور منطقی بات ہے کہ جب تک دونوں فریقوں میں مفادات کا اشتراک ایک ہی سطح پر نہ ہو، برابر کی دوستی مشکل بلکہ بسا اوقات ناممکن ہو جاتی ہے۔ اس لیے ہمیں، بلکہ کسی بھی مسلم ملک کو امریکہ یا روس میں سے کسی سے مخلصانہ دوستی کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔

باقی رہا چین کا مسئلہ تو اس کا سوال قدرے دوسروں سے مختلف ہے۔ اس لیے کہ خود چین کے ایسے مفادات ہمارے ساتھ وابستہ ہیں جن سے وہ دستبردار نہیں ہو سکتا۔ مثلاً‌ بڑی دو طاقتوں کی دستبرد اور اثر و رسوخ سے آزاد تیسری دنیا کو منظم کرنے کے سلسلہ میں پورے عالمِ اسلام کا مفاد چین کے ساتھ مشترک ہے۔ اور برصغیر میں روسی اور بھارتی جارحیت کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنا چین اور پاکستان کا مشترکہ مفاد ہے۔ اس لیے چین کی دوستی دوسروں کی بہ نسبت ہمارے لیے زیادہ پائیدار ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن ایک بات ہمیں سابقہ تجربات کی بنیاد پر یاد رکھنی چاہیے کہ کسی بھی طاقت پر کُلی بھروسہ ہمارے لیے قطعاً‌ سود مند نہیں ہو سکتا۔ خصوصاً‌ چین، کہ وہ تیسری دنیا میں امریکہ اور روس کے خلا کو پورا نہیں کر سکتا۔ اس کی ترقی اور قوت خود اسے تو شاید کفایت کر سکے لیکن دوسروں کے لیے وہ عملاً‌ کارآمد نہیں ہو سکتی۔

اس لیے کیوں نہ ہم دوسروں پر بھروسہ کرنے کی بجائے خود عالمِ اسلام کو منظم کرنے اور اس کے وسائل کو مجتمع کرنے کا راستہ اپنائیں۔ ہمارے پاس وسائل کی کونسی کمی ہے؟ اگر ہم اپنے وسائل کو عسکری و صنعتی ترقی کے لیے وقف کر دیں تو کیا ہمیں کسی سپر طاقت کے سہارے کی ضرورت باقی رہ جائے گی؟

ہمارے لیے وقار و عزت اور ترقی و سربلندی کا صحیح راستہ یہی ہے کہ ہم بڑی طاقتوں پر تکیہ کرنے کی روش یکسر ترک کر دیں، اپنے وسائل کو مجتمع کریں، عالمِ اسلام کو منظم کریں، اور چین کی تکنیکی قوت سے استفادہ کرتے ہوئے خود ملتِ اسلامیہ کو سپر طاقتوں کی صفِ اول میں لانے کو اپنی اصل منزل قرار دیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سوچ اور فیصلہ کی توفیق مرحمت فرمائے۔

   
2016ء سے
Flag Counter