بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حافظ محمد ثاقب صاحب رحمۃ اللہ علیہ گوجرانوالہ کے دینی و علمی حلقوں کی ایک معروف شخصیت تھے، جن کی ساری زندگی تحریکِ ختمِ نبوت میں جدوجہد کرتے ہوئے گزری اور سیالکوٹی دروازہ کے دفتر ختمِ نبوت میں عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کی سرگرمیوں میں ان کی زندگی کا خاصا حصہ بسر ہوا۔ ان کا تعلق ایک لدھیانوی خاندان سے تھا جو پاکستان کے قیام کے وقت ہجرت کر کے گوجرانوالہ میں آباد ہوا اور پورا خاندان اب تک دینی جدوجہد بالخصوص تحریکِ ختمِ نبوت میں سرگرمی کے ساتھ مصروفِ عمل ہے۔
روحانی طور پر ان کا تعلق حضرت مولانا محمد انوری رحمۃ اللہ علیہ سے تھا جبکہ تعلیمی اور مسلکی حوالہ سے جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ اور والد گرامی حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمۃ اللہ علیہ کے حلقہ میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے خاندان کے مختلف حضرات دین کے مختلف شعبوں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں، جبکہ ان کے ایک پوتے مولانا حافظ عبد اللہ انیس سلّمہ دارالعلوم مکیہ ایمن آباد میں مدرس ہیں، گزشتہ روز مجھے یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ وہ لکھنے پڑھنے کا شوق بھی رکھتے ہیں اور خاص طور پر والد گرامی حضرت امام اہلِ سنت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی تصانیف کے مطالعہ اور ان میں سے انتخاب میں انہیں دلچسپی ہے۔ اسی سلسلہ میں انہوں نے مجھے ایک مسودہ دکھایا جس میں عقیدۂ ختمِ نبوت اور تحریکِ ختمِ نبوت کے بارے میں حضرت والد گرامی کے مختلف اور متنوع تحریروں کا گلدستہ سجایا گیا ہے۔
قادیانیت کے تعاقب اور عقیدۂ ختمِ نبوت کی وضاحت میں والد گرامی نے مختلف مواقع پر تفصیل کے ساتھ لکھا بھی ہے اور تحریک ختمِ نبوت کے مختلف مراحل میں حصہ بھی لیا ہے۔ بلکہ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختمِ نبوت میں کم و بیش دس ماہ تک جیل میں بھی رہے ہیں، مجھے ان کی گرفتاری اور رہائی کا منظر بحمد اللہ تعالیٰ اب تک یاد ہے۔ حالانکہ اس وقت میری عمر صرف پانچ چھ برس تھی مگر یہ مناظر آج تک نگاہوں کے سامنے گھوم رہے ہیں جیسے کل کی بات ہے۔
مولانا عبد اللہ انیس عمومی طور پر تو اس خدمت پر سب کے شکریہ کے مستحق ہیں جبکہ ہم خاندانی طور پر بھی اُن کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے ہمارے والد گرامی رحمۃ اللہ علیہ کے تحریری کاموں کو اپنی گفتگو کا موضوع بنایا اور اب وہ دیگر حوالوں سے بھی اس خدمت کو جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی اِس کاوش اور محنت کو قبولیت سے نوازیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے نافع بنائیں۔ آمین یا رب العالمین۔

