(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)
گزشتہ دنوں کویت میں، جو ہمارا مسلمان بھائی ملک ہے، وہاں انکارِ حدیث کے حلقے اس بنیاد پر سامنے آئے ہیں کہ صرف قرآن کریم ہی کافی ہے، حدیث و سنت کی ضرورت نہیں ہے، حدیث اختلاف اور جھگڑے پیدا کرتی ہے اس لیے اسے چھوڑ کر صرف قرآن کریم پر ایمان لائیں۔ قرآن اور عقل، بس یہی دو باتیں ہماری ضرورت ہیں۔ یعنی قرآن کریم کا جو معنی ٰ ہماری سمجھ میں آجائے ٹھیک ہے۔
اس پر وہاں کے علماء نے کوشش کی اور حکومتِ کویت سے کہا کہ یہ انکارِ سنت گمراہی ہے، فتنہ ہے اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی توہین ہے۔ پوری دنیا سے علماء اکٹھے ہوئے، سعودیہ سے بھی، انڈیا سے بھی، پاکستان سے بھی کہ حدیثِ رسول کا انکار کرنے والا گروہ مسلمان گروہ نہیں ہے۔ جس طرح ختم نبوت کا انکار کرنے والا مسلمان نہیں ہے، اسی طرح حدیثِ رسول کے حجت ہونے کا انکار کرنے والا بھی مسلمان نہیں ہے۔ چنانچہ کویت کی حکومت نے انکارِ حدیث کے ان حلقوں پر پابندی لگا دی جس کے خلاف کویت کی عدالت میں دعویٰ دائر ہوا۔ عدالت نے بھی مقدمہ سن کر حکومت کے اس فیصلے کی توثیق کر دی کہ واقعی جو حدیث کو نہیں مانتا، سنت کو نہیں مانتا، وہ مسلمان نہیں ہے۔
اس پر کویت کی حکومت کو ہمارے ملک کی ایک محترم شخصیت نے خط لکھا۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ایک اسلامی یونیورسٹی ہے جہاں اسلام پڑھایا جاتا ہے اور یہ پاکستان کے مرکز اسلام آباد میں ہے، اور اس کے سربراہ ہمارے ملک کے معروف سیاستدان اور دانشور ملک معراج خالد ہیں۔ انہوں نے کویت کی حکومت کو یونیورسٹی کے سربراہ کی حیثیت سے خط لکھا کہ آپ کا یہ فیصلہ درست نہیں ہے کہ منکرینِ حدیث مسلمان نہیں ہیں۔ یہ خط اخبارات میں چھپا، اس پر ایک اخبار نے ملک معراج خالد صاحب سے انٹرویو لیا۔ ملک صاحب اس انٹرویو میں فرماتے ہیں کہ میں تو اقبال کا پیروکار ہوں۔ اور علامہ اقبال کا فلسفہ یہ تھا کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ ہی سارے دین کی بنیاد ہے۔ ہمارے عقیدہ کی بنیاد بھی اسوۂ رسول ہے اور عمل کی بنیاد بھی اسوۂ رسول ہے۔ ملک صاحب نے علامہ اقبال کے فکر کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ درمیان سے ہٹا دیا جائے تو پھر یہ اسلام نہیں ابولہبی ہے … پھر ملک صاحب کہتے ہیں کہ غلام پرویز صاحب اس طرح حدیثِ رسول کو نہیں مانتے جس طرح اس پر ایمان لانا ضروری ہے۔
ملک معراج خالد صاحب کی اتنی بات سے تو ہمیں بھی اختلاف نہیں کہ ہمارا عقیدہ بھی یہی ہے۔ لیکن ملک صاحب اس کے ساتھ کیا فرماتے ہیں؟ کہتے ہیں کہ اس کے باوجود میری یہ سفارش درست ہے کہ غلام احمد پرویز کو اسلام سے خارج قرار نہ دیا جائے۔
کیا آپ یہ فکری تضاد سمجھے ہیں؟ ملک صاحب کہہ رہے ہیں کہ یہ بھی درست ہے اور وہ بھی درست ہے۔ آج ہم اسلام اور کفر کو اکٹھا ماننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حدیثِ رسول کا حجت ہونا بھی درست ہے اور حدیثِ رسول کا انکار بھی درست ہے۔ ہماری آج کی دانش کا معیار یہ ہے کہ ملک کا ایک سنجیدہ اور شریف دانشور، یہاں کسی عام اور جاہل آدمی کی بات نہیں ہو رہی، ایک پڑھا لکھا دانشور بڑے شعور کے ساتھ یہ کہتا ہے کہ حدیثِ رسول پر ایمان لانا بھی ضروری ہے اور حدیثِ رسول سے انکار بھی درست ہے۔
قرآن کریم نے بنی اسرائیل کے ملعون ہونے کے جو سبب بیان فرمائے، ان میں ایک سبب یہی بیان فرمایا کہ وہ عقیدے اور فکر کے تضاد کا شکار تھے۔ وہ اسلام اور کفر پر بیک وقت ایمان رکھنے کی کوشش کرتے تھے کہ کتاب اللہ بھی ہاتھ میں اور شیطانی خیالات بھی ذہن میں۔ آسمانی تعلیمات پر ایمان کا دعویٰ بھی ہے، اور جو شیطان اور طاغوت کے افکار ہیں ان کی پیروکاری بھی ہے۔
- یہ بھی مانتے ہیں کہ حدیثِ رسول پر ایمان نہیں لائیں گے تو ابولہب بن جائیں گے،
- اور یہ بھی ساتھ کہتے ہیں کہ جو آدمی حدیثِ رسول کو نہیں مانتا اسے گمراہ مت کہو، وہ تو اسلام کا خدمت گزار ہے۔
اسی کو زندقہ کہتے ہیں، اسی کو الحاد کہتے ہیں، اسی کو فکری تضاد کہتے ہیں اور یہی بات اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن کریم میں بنی اسرائیل کی بربادی اور ان کے ملعون ہونے کے اسباب میں بیان فرمائی ہے۔

