بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کی یہ نشست ایک ایسی عظیم شخصیت کے حوالے سے ہے جن کا نام ہم بچپن سے سنتے آ رہے ہیں۔ ان کی زیارت تو نہیں ہوئی لیکن ان سے استفادہ کرتے آ رہے ہیں۔ اور اگر میں یہ کہوں تو مبالغہ نہیں ہوگا کہ ان چند بزرگوں میں سے ہے جن کا نام لے کر ہم جیتے ہیں، جن کا نام لے کر ہم اپنا تعارف کرواتے ہیں، جن کا نام لے کر ہمیں اطمینان ہوتا ہے کہ ہم صحیح راستے پر ہیں اور ان شاء اللہ قیامت کے دن اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں انہی کے ساتھ شمار فرمائیں گے۔ چند باتیں عرض کروں گا، یہ بڑا لمبا موضوع ہے جو کئی نشستوں میں بھی نہیں سمٹ سکتا، تین چار باتیں ذاتی تاثرات کے حوالے سے عرض کروں گا۔
شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی قدس اللہ سرہ العزیز کا نامِ نامی اسمِ گرامی میں نے سب سے پہلے ان کی وفات کے بعد سنا، بلکہ پڑھا، میں اس وقت دس گیارہ سال کا تھا، زیادہ عمر نہیں تھی لیکن کچھ نہ کچھ اخبار پر نظر ڈال لیتا تھا۔ گکھڑ میں ایک دکان پر سودا لینے کے لیے گیا تو وہاں روزنامہ نوائے وقت پڑا ہوا تھا،جو مشہور اخبار ہے، میں نے اٹھا کے دیکھنا شروع کیا تو ایک کونے میں چھوٹی سی خبر تھی:
’’دیوبند والے مولانا حسین احمد فوت ہو گئے۔‘‘
میں گھر گیا اور والدِ محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ سے پوچھا کہ یہ دیوبند والے مولانا حسین احمد کون ہیں؟ پوچھا: کیا ہوا؟ میں نے کہا: فوت ہو گئے ہیں۔ فورًا انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا۔ پوچھا: تمہیں کس نے بتایا؟ اس زمانے میں موبائل اور ٹیلی فون وغیرہ تو نہیں ہوتے تھے، تو والد صاحب نے پوچھا: تمہیں کس نے بتایا؟ میں نے کہا: اخبار کی خبر ہے۔ فرمایا: کہاں ہے اخبار، جاؤ لے کر آؤ۔ میں دکاندار کے پاس گیا، وہ ہمیں جانتا تھا، میں نے کہا کہ ابا جی اخبار مانگ رہے ہیں۔ اخبار لے کر آیا۔ چار پانچ سطروں کی خبر تھی، لیکن جو کیفیت حضرت والد صاحب پر طاری ہوئی، اب تک مجھے یاد ہے۔ بے چینی سے ٹہل رہے ہیں اور انا للہ پڑھ رہے ہیں۔ میں حیران ہو گیا کہ ایسا کبھی دیکھا نہیں ہے، آج ابا جی کو کیا ہو گیا ہے؟ تھوڑی دیر کے بعد جب تھوڑا سکون ہوا تو فرمایا کہ وہ ہمارے استاذ جی ہیں، ہمارے سب سے بڑے استاذ ہیں، ہم نے ان سے بہت کچھ پڑھا ہے، اور دیوبند کے بڑے وہی ہیں، شیخ الحدیث اور صدر مدرس تھے۔
یہ میرا ابتدائی تعارف تھا شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی قدس اللہ سرہ العزیز سے، اور وہ کیفیات اب تک میرے ذہن کی اسکرین میں گھوم رہی ہیں۔
پھر طالب علمی کا زمانہ گزرا۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمۃ اللہ علیہ حضرت شیخؒ کے شاگرد تھے، اور چچا محترم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی رحمۃ اللہ علیہ حضرت شیخؒ کے شاگرد بھی تھے اور مرید بھی تھے کہ ان کی بیعت بھی حضرت شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ سے تھی۔ دونوں بزرگوں کی زبان سے ہم ان کا تذکرہ سنتے رہے، سبق میں بھی، غیر سبق میں بھی۔ میں نے سب سے زیادہ تذکرہ ان دونوں بزرگوں کی زبان سے انہی کا سنا، وہ ہمارے دادا استاذ تھے۔ استاذ العلماء حضرت مولانا عبد القیوم ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ بھی ہمارے استاذ تھے، ہم نے اپنے اساتذہ سے جن دو تین بزرگوں کا نام بار بار سنا، ان میں سرفہرست شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی قدس اللہ سرہ العزیز کا نام تھا۔
پھر طالب علمی کے زمانے میں تحریکی، جماعتی اور تنظیمی سرگرمیاں شروع ہوئیں۔ مطالعے کا ذوق بھی تھا، تو غالباً میں متوسط درجے کا طالب علم تھا جب میں نے حضرت مدنیؒ کی خود نوِشت سوانح ’’نقشِ حیات‘‘ پڑھی۔ حضرت مدنیؒ کے ساتھ عقیدت اور محبت تو ایک بزرگوار کی حیثیت سے موجود تھی کہ ہمارے وہ دادا استاذ ہیں، لیکن جوں جوں مطالعہ کرتا گیا، عقیدت اور محبت بڑھتی گئی۔ حضرتؒ کے ارشادات اور مکتوبات دیکھے اور پڑھے، اور نقشِ حیات بھی پڑھی۔ یہ ۱۹۶۰ء سے ۱۹۷۰ء کے درمیان کا ماحول تھا، طالب علمی کا زمانہ تھا۔
پھر جب آگے بڑھے تو استفادے کا ماحول بھی شروع ہو گیا۔ میں بلا مبالغہ یہ عرض کرتا ہوں کہ زیارت کیے بغیر جن شخصیات سے میں نے سب سے زیادہ استفادہ کیا ہے، ان میں صفِ اول میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ ان کا مدینہ منورہ کا قیام، مالٹا کی اسارت، جمعیت علماء ہند کی قیادت، پھر آزادی کی جدوجہد، میرے سامنے تقریباً یہ سارے مراحل ہیں۔ دو تین باتوں کا ذکر کروں گا۔
مالٹا کی اسارت میں اپنے استاذ محترم شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن قدس اللہ سرہ العزیز کے ساتھ ان کا جو وقت گزرا ہے، میں اس تاثر کو نہیں بھول سکتا کہ ایثار اور قربانی کی دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ حضرت مدنیؒ اس تحریک سے براہِ راست وابستہ نہیں تھے جس میں گرفتار ہوئے۔ وہ سالہا سال سے مدینہ منورہ میں تھے، اپنا کام کر رہے تھے، پڑھا رہے تھے اور مدینہ منورہ کے ہو کر رہ گئے تھے۔ جس تحریک سے ان کا براہِ راست تعلق نہیں تھا — صرف استاد شاگرد کے حوالے سے تھا — اس میں استاذ محترم کے ساتھ گرفتار ہونا اور تین ساڑھے تین سال مالٹا کی قید میں گزارنا، میں نہیں سمجھتا کہ قربانی اور ایثار کے دائرے میں اس کی کوئی اور مثال ملتی ہو، اس واقعے نے مجھے بہت متاثر کیا۔
پھر ان کے قیامِ مدینہ منورہ کے دوران کی ایک بات میں نے پڑھی بھی، اور مخدومِ محترم حضرت مولانا سید اسعد مدنی قدس اللہ سرہ العزیز سے سنی بھی۔ وہ مدینہ منورہ میں حدیث شریف پڑھاتے تھے، حدیث ان کا ذوق تھا، ان کے شاگردوں میں ایک نام آتا ہے: الجزائر کی تحریکِ آزادی کے قائد الشیخ عبدالحمید بن بادیس رحمہ اللہ تعالیٰ، اور ان کے ساتھ شیخ ابراہیمی رحمہ اللہ تعالیٰ۔ شیخ ابراہیمیؒ کی تو میں نے لاہور میں زیارت بھی کی، شیخ بن بادیسؒ کی زیارت نہ کر سکا، لیکن وہ الجزائر کی تحریکِ آزادی کے قائدین میں سے تھے۔ ان کے بارے میں پڑھا بھی اور سنا بھی کہ جب وہ حضرت شیخؒ سے تعلیم حاصل کر کے فارغ ہوئے تو شیخؒ سے اجازت مانگی کہ حضرت! میں بھی کہیں بیٹھ کر پڑھاتا ہوں۔ شیخ نے فرمایا: نہیں بھائی! تمہارا ملک غلام ہے، اپنے ملک واپس جاؤ، علماء کو منظم کرو، آزادی کی جنگ میں حصہ لو۔ میری معلومات کے مطابق جمعیت علماء الجزائر، جو شیخ بن بادیسؒ اور شیخ بشیر ابراہیمیؒ نے بنائی، اس کے پیچھے شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی قدس اللہ سرہ العزیز کھڑے ہیں۔ میں جب تاریخ کے جھروکے میں دیکھتا ہوں، تو الجزائر کی تحریکِ آزادی کے پیچھے مجھے شیخ الاسلامؒ کھڑے نظر آتے ہیں۔
پھر بات آگے بڑھی، ساری باتیں تو ذکر نہیں کر سکوں گا، لیکن تحریکِ پاکستان کی مخالفت اور حمایت پر، کہ سیاسی رائے ہو جاتی ہے، حضرت مدنیؒ اور بہت سے بزرگوں کی رائے مختلف تھی۔ پاکستان بننے کے بعد کی یہ بات میں کبھی نہیں بھولوں گا کہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ تحریکِ پاکستان کے مخالفین میں سے تھے، لیکن ان کے عقیدت مند بڑی تعداد میں پاکستان میں آ گئے تھے اور ان کے لیے مسئلہ بن گیا تھا۔ لیکن شیخ الاسلام رحمہ اللہ تعالیٰ نے جس خوبصورتی کے ساتھ اپنے یہاں کے لوگوں، شاگردوں اور مریدوں کی رہنمائی فرمائی اور اپنے ملک پاکستان کے ساتھ وفاداری کی تلقین کی، ان کی مثال یوں بیان کی جاتی ہے کہ انہوں نے اپنے معتقدین کو سمجھایا کہ بھئی! مسجد کی تعمیر کے وقت اختلاف ہو جاتا ہے کہ یہاں بنانی ہے یا وہاں بنانی ہے، اس سائز پر بنانی ہے یا اس سائز پر، اِس نقشے پر بنانی ہے یا اُس نقشے پر، اختلاف ہو جاتا ہے اور جھگڑا بھی ہو جاتا ہے، لیکن جب مسجد بن جائے، تو پھر وہ مسجد ہوتی ہے۔
قیامِ پاکستان کے بعد یہاں پاکستان میں کے مقاصد کی جدوجہد کو جن لوگوں نے سنبھالا — میں باقی بزرگوں کی نفی نہیں کرتا — لیکن اس جدوجہد کو عملاً جن لوگوں نے سنبھالا، وہ شیخ مدنیؒ کے شاگرد تھے۔ اور اس کی ایک پوری تاریخ اور تناظر ہے۔
پھر مجھے دارالعلوم دیوبند کے صد سالہ اجلاس کے موقع پر والدِ محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور عمِ مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی رحمہم اللہ کی رہنمائی و رفاقت، اور حضرت مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں وہاں جانے کا اتفاق ہوا۔ میں وہ دن نہیں بھولوں گا کہ جب مہمان تو ہم حضرت مولانا محمد سالم قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کے تھے اور ان کے گھر ٹھہرے ہوئے تھے، ہم تینوں اور دیگر ساتھی بھی تھے، ایک دن دونوں بزرگوں نے آپس میں مشورہ کیا — میں چونکہ انڈیا پہلی دفعہ گیا تھا، دیوبند کے ساتھ عقیدت و محبت تو ہم بیان بھی نہیں کر سکتے، لیکن وہاں پہلی دفعہ گیا تھا — تو دونوں بھائیوں (والد اور چچا) نے آپس میں مشورہ کیا کہ زاہد پہلی دفعہ آیا ہے، اس کو دیوبند دکھانا چاہیے۔ ایک پورا دن ان دونوں بزرگوں نے مجھے دیوبند دکھایا۔ حضرت علامہ انور شاہ کاشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے گھر لے گئے۔ حضرت مولانا سید احمد رضا بجنوری وہاں تشریف فرما تھے، ان سے ملاقات و زیارت ہوئی۔ حضرت مولانا سید ازہر شاہ قیصرؒ سے ملاقات ہوئی،’’مدنیؒ منزل‘‘ لے گئے، حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کے گھر میں۔ اور سب سے عجیب منظر کہ قبرستان جب گئے، آج تک میں وہ منظر نہیں بھول سکتا، استاد اور شاگرد کی قبریں اکٹھی دیکھ کر میرے دل کی کیفیت بدل گئی۔ واقعتاً زندگی میں دو چار موقعے ایسے آئے ہیں جب قلبی کیفیات محسوس ہوئیں۔ استاد اور شاگرد کون؟ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ، دونوں قبریں دیکھ کے میں تو سناٹے میں آ گیا اور میرے دل کی کیفیت یہ تھی کہ میں یہیں اب کھڑا ہی رہوں۔ وہ سکون، وہ برکات اور دل کی وہ کیفیت آج تک مجھے محسوس ہوتی ہے۔ پھر ان بزرگوں نے دعا کی، حضرت صوفی صاحبؒ مراقبے میں بیٹھ گئے، وہ لمبا قصہ ہے، میں وہ سارا قصہ بیان نہیں کرتا، لیکن دعا کی اور وہاں بیٹھے رہے۔ آج تک میں اس اپنی قلبی کیفیت کو محسوس کرتا ہوں۔ استاد استاد ہے، شاگرد شاگرد ہے، کمال کی بات ہے!
پھر میں اس محفل میں بھی شریک ہوا جو مدنیؒ منزل میں، حضرت مولانا سید اسعد مدنی قدس اللہ سرہ العزیز کے گھر میں، علماء کی مجلس تھی، اور دیوبند کے فضلاء کی ایک تنظیم قائم ہوئی تھی، حضرت مولانا حبیب الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ کو سربراہ منتخب کیا گیا تھا اور حضرت مولانا سید اسعد مدنی رحمہ اللہ سیکرٹری جنرل تھے۔ میں بھی اس مجلس کے شرکاء میں تھا، میرے سامنے سب کچھ ہوا، اور وہیں میں نے حضرت مولانا حبیب الرحمٰن اعظمیؒ کی زیارت کی۔ مولانا سید اسعد مدنیؒ سے تو میری ملاقات پہلے بھی ہو چکی تھی، لیکن مولانا حبیب الرحمٰن اعظمیؒ ہمارے اکابر میں سے تھے، ان کی زیارت مجھے وہاں ہوئی، الحمد للہ یہ منظر بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے۔
تاریخ کے مراحل تو بہت ہیں، لیکن ایک دو باتیں اور ذکر کروں گا۔ میں طالب علم ہوں، طالب علمانہ باتیں تلاش بھی کرتا ہوں اور کرتا بھی ہوں۔ میں اس کو بھی اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں جب ریاستی سطح پر تاریخ مرتب کرنے کا کام ہوا، تو جمعیت علماء ہند کے بارے میں کام کرنے والی ایک خاتون محترمہ پروین روزینہ صاحبہ تھیں — اگر حیات ہوں تو اللہ پاک صحت عطا فرمائے — ان کے ذمے لگا کہ وہ جمعیت علماء ہند کی دستاویزات اور تاریخ جمع کریں۔ وہ حضرت مولانا سید حامد میاں قدس اللہ سرہ العزیز سے ملیں، تو حضرت مولانا حامد میاںؒ میرے ذوق کو جانتے تھے، انہوں نے ان کو میرے پاس بھیج دیا کہ اس کے پاس جاؤ، یہ تمہیں مواد بھی دے گا اور بریفنگ بھی دے گا۔ تو میں اسے اپنے لیے باعثِ نجات کاموں میں سمجھتا ہوں کہ پروین روزینہ محترمہ میرے پاس تشریف لائیں اور میرے ساتھ مسلسل رابطہ رہا، تو جمعیت علماء ہند پر جو انہوں نے دستاویزات مرتب کیں، اس میں مواد مہیا کرنے میں میری بھی معاونت رہی، جس کا انہوں نے اس کتاب میں ذکر بھی کیا ہے۔
طالب علمی کے دور میں اشکالات بھی ہوتے ہیں اور استفادہ بھی ہوتا ہے۔ مجھے بھی یہ اشکال تھا کہ خلافتِ عثمانیہ صحیح خلافت کیسے ہے؟ خلافت کے لیے تو قریشی ہونا شرط ہے، جمہور کا اجماع صدیوں سے چلا آ رہا تھا، تو میرا رجحان بھی یہی تھا کہ یہ ترکی ہیں، تاتاری ہیں، ہلاکو خان کی اولاد ہیں، یہ خلیفہ کیسے بن گئے؟ مجھے اطمینان نہیں ہو رہا تھا، بڑی بحثیں پڑھیں میں نے، میں جب کسی سوال کے پیچھے پڑتا ہوں تو بحثیں پڑھتا بھی ہوں اور کرتا بھی ہوں، تو بہت کچھ پڑھا لیکن مجھے تسلی نہیں ہو رہی تھی کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’الائمۃ من قریش‘‘ اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی بنیاد ہی یہ تھی، تو یہ ہلاکو خان کی اولاد کہاں سے خلیفہ بن گئی؟
شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کا ایک خطبۂ صدارت اس موضوع پر پڑھا تو میرے دل کے سارے اشکالات دور ہو گئے، اس سے پہلے میں بھی تردد میں تھا، لیکن حضرت مدنیؒ نے اس خطبۂ صدارت میں اس پر بحث کی ہے، میں بحث میں نہیں جاتا، لیکن اس میں انہوں نے جو وضاحت کی، اس سے میرا دل مطمئن ہو گیا اور میں نے اپنا موقف بدل لیا، یا پہلے بھی میں اس کیمپ میں تھا لیکن اب پکا ہو گیا۔
پھر ایک اور بات شامل کرنا چاہوں گا، اور وہ بھی میں نہیں بھولتا، بنگلہ دیش میں میرا کئی دفعہ جانا ہوا۔ مشرقی پاکستان کے دور میں تو نہیں البتہ بنگلہ دیش کے دور میں بہت دفعہ گیا ہوں۔ میرے ذہن میں تھا کہ سلہٹ میں حضرت مدنی رحمہ اللہ کا قیام ہوتا تھا، رمضان المبارک میں جاتے تھے اور اعتکاف بیٹھتے تھے، وہاں ان کا مرکز تھا۔ مالٹا کی قید سے واپس آ کر وہیں بیٹھے تھے، وہیں رہنا چاہتے تھے اور اپنا مرکز بنانا چاہتے تھے۔ انہوں نے پروگرام بنایا تھا، پلاننگ کی تھی اور جگہ وغیرہ کا بندوبست کیا تھا، لیکن دارالعلوم دیوبند کے حالات کی وجہ سے ان کو وہاں آنا پڑا، اور آنا ہی چاہیے تھا، اس کی اپنی حکمتیں اور اپنے مصالح ہیں۔
تو میں سلہٹ جب گیا، تو مجھے تلاش تھی کہ حضرت مدنیؒ جس مسجد میں اعتکاف بیٹھا کرتے تھے، وہاں مجھے جانا ہے، میں وہاں کئی دفعہ گیا۔ اس سے ہٹ کر وہاں دارالعلوم حسینیہ ہے جو غالباً حضرتؒ ہی کے نام پر ہے۔ میری عادت ہے کہ جہاں کوئی لائبریری ہو تو ایک نظر ضرور ڈالتا ہوں کہ وہاں کون سی کتاب ہے اور کون سی نہیں۔ جب تک میری یادداشت بالکل صحیح تھی — اب تو کچھ متاثر ہو گئی ہے — تب تک میرا حال یہ تھا کہ مجھ سے کوئی پوچھتا کہ فلاں کتاب کہاں ملے گی، تو میں بتاتا تھا کہ فلاں مدرسے کے کتب خانے کی فلاں الماری میں ہے۔ اب بھی مجھے اندازہ رہتا ہے کہ کون سی کتاب کہاں ہو گی، کوئی نئی کتاب سامنے آئے تو ایک دفعہ اسے ذہن کی اسکرین پر محفوظ بھی کرتا ہوں۔
سلہٹ میں مدرسہ حسینیہ کی الماری دیکھ رہا تھا تو ایک چھوٹا سا کتابچہ میرے ہاتھ میں آیا: شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی قدس اللہ سرہ العزیز کا مرتب کردہ نصابِ تعلیم۔ وہ ہاتھ میں لے کر میں کافی دیر بالکل گم صم کھڑا رہا کہ یہ باتیں جو حضرتؒ نے سو سال پہلے لکھی ہیں، وہ ہم اب کر رہے ہیں۔ میرے اندر جیسے دوبارہ روح آ گئی ہو، یہ باتیں ہم یہاں کر رہے تھے۔ ہم نے گوجرانوالہ میں شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کا پروگرام اسی دائرے میں ترتیب دیا تھا جس میں ہمیں مخالفت اور پروپیگنڈے کا سامنا بھی تھا کہ یہ کیا کر رہے ہیں؟ میں اس مہم میں تیس سال سے ہوں کہ یہ ہونا چاہیے، ہم نے محنت بھی کی اور لکھا بھی بہت ہے۔ یہ ادارہ اب جامعۃ الرشید کراچی کے گوجرانوالہ کیمپس کے نام سے کام کر رہا ہے۔ لیکن جب حضرت شیخؒ کا نصابِ تعلیم کا وہ رسالہ میں نے دیکھا تو میرے اندر جیسے دوبارہ روح آ گئی کہ یہ باتیں جو ہم اب کر رہے ہیں، حضرت شیخؒ نے تو سو سال پہلے ساری باتیں واضح کر کے لکھ دی تھیں۔
میں نے مہتمم صاحب سے رسالہ مانگا تو وہ کہنے لگے کہ رسالہ تو نہیں دوں گا۔ اس زمانے میں فوٹو کاپی کا نظام بھی اتنا زیادہ نہیں تھا۔ میں نے کہا، مجھے اس کی صاف سی فوٹو کاپی کروا دیں۔ انہوں نے کہا، میں بھیج دوں گا۔ میں نے کہا، نہیں یہ تو میں لے کر جاؤں گا۔ انہوں نے کہیں سے فوٹو کاپی کروائی، وہ اب بھی میرے پاس محفوظ ہے۔ وہاں سے آ کر میں نے اس پر کام کیا۔ ملی مجلس شرعی تمام مکاتب فکر کا فورم ہے، میں اس کا صدر ہوں اور ڈاکٹر محمد امین صاحب اس کے سیکرٹری ہیں، انہوں نے پھر اس پر کتاب لکھی: ’’مدنی نصابِ تعلیم‘‘، جو شائع ہو چکی ہے۔
میرے لیے استفادے کی سب سے بڑی چیز اپنے مشن، پروگرام اور جدوجہد کے حوالے سے حضرت شیخؒ کا یہ نصاب تھا، میرے لیے یوں سمجھیے کہ جیسے آسمان سے نازل ہوا ہو، سچی بات ہے، یہ میرے لیے ایسا ہی تھا جیسے اللہ پاک نے میرے لیے خاص طور پر بھیجا ہے۔ اس کے بعد پورے اطمینان، شرحِ صدر اور ہمت کے ساتھ ہم نے اس مہم کو آگے بڑھایا، اور الحمد للہ اب وہ پورے ملک کی مہم اور ضرورت بن چکی ہے۔
شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کے حوالے سے یہ چند ذاتی تاثرات تھے جو میں نے عرض کیے ہیں۔ مجھے دارالعلوم کے صد سالہ اجلاس میں دیوبند جانے کا اتفاق ہوا، میں گھومنے پھرنے والا آدمی ہوں، اس دور میں بھی بہت گھوما پھرا، میں ان معاملوں میں رسک لے لیا کرتا تھا کہ اصل میں تو دیوبند گیا تھا لیکن سہارنپور بھی دیکھا، لودھیانہ دیکھا، امرتسر دیکھا، کپورتھلہ دیکھا، گھومتا پھرتا رہا، اُس زمانے میں اتنی سختی بھی نہیں تھی۔
پھر شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے حوالہ سے سیمینار کے موقع پر حضرت مولانا سید محمود میاں دامت برکاتہم نے جب بلایا تو ماحول ذرا مختلف تھا۔ میں اور حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب، دونوں اس مزاج کے آدمی ہیں، ہم نے درمیان میں داؤ لگا لیا اور گھومے پھرے، تھانہ بھون گئے، کاندھلہ گئے۔ مولانا محمود مدنیؒ ہم سے ناراض تو ہوئے لیکن پھر کوئی اور موقع ملنا نہیں تھا۔ تو بہرحال یہ سفر ہم نے کیا۔
ایک لطیفہ سنا دیتا ہوں، بس اس پر بات ختم کروں گا۔ میرے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ پر میرا اصل نام درج ہے: محمد عبد المتین خان زاہد۔ عام طور پر مجھے زاہد الراشدی کہتے ہیں، عبدالمتین کا کسی کو پتہ نہیں ہوتا۔ سفر تو میں نے عبد المتین کے نام سے کرنا ہے۔ ہم جب دیوبند پہنچے تو وہاں کے میزبان مولانا زاہد الراشدی کو تلاش کر رہے تھے لیکن لسٹ میں نام نہیں تھا۔ دارالعلوم کے مہتمم حضرت مولانا ابوالقاسم نعمانی دامت برکاتہم نے مولانا فضل الرحمٰن صاحب سے پوچھا کہ مولانا زاہد الراشدی صاحب نہیں آئے؟ مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے کہا، یہ آپ کے سامنے کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عبدالمتین صاحب ہیں۔ میں نے کہا حضرت! میں ہی گناہگار ہوں۔ پھر میں نے ان کو اپنا شناختی کارڈ دکھایا کہ میرا باضابطہ نام یہ ہے۔
بہرحال حضرت مدنیؒ کے ساتھ محبت و عقیدت کا تو میں کوئی اندازہ نہیں بتا سکتا، کوئی ہمارے پاس پیمانہ نہیں ہے کہ شیخ مدنیؒ کے ساتھ ہماری محبت اور عقیدت کا معیار کیا ہے۔ بس محبت ہے، عقیدت ہے، اِس زندگی میں عقیدت ہے اور اگلی زندگی میں سہارا ہے۔ یہ دو چار بزرگ ہیں جن کی چھتری کے نیچے، جن کی چادر کے نیچے سر چھپا کر شاید ہم نکل جائیں، ورنہ ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے، اللہ پاک ہمیں معاف فرمائے۔ ان بزرگوں کی نسبت اور برکات اس دنیا میں تو ہم اٹھا ہی رہے ہیں، اللہ پاک آخرت میں بھی ان بزرگوں کی برکات سے ہمیں بہرہ ور فرمائے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

