ایرانی قیادت سے مخلصانہ گزارش

   
روزنامہ اسلام، لاہور
۲۶ ستمبر ۲۰۲۶ء

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان کے وزیر اعظم میاں شہباز شریف اور ان کی ٹیم کے دیگر ارکان کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور دوسرے راہنماؤں سے ملاقاتوں کی خبریں بین الاقوامی ماحول میں زیربحث ہیں جو مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورت حال میں بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہیں اور دور رس نتائج کی حامل ہو سکتی ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں اس وقت چوطرفہ جنگ نہیں بلکہ ظاہری طور پر اور پس منظر میں سرگرم قوتوں اور لابیوں کے تناظر میں اسے ہشت پہلو عالمی دنگل سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے جو ایک نئی عالمی جنگ کا پیش خیمہ نظر آتی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں عالمی قوتوں امریکہ، یورپ، روس اور چین کی دل چسپیاں اپنی جگہ ہیں جبکہ علاقائی طور پر بھی اس جنگ میں چار فریق دکھائی دے رہے ہیں:

  1. اسرائیل جو گریٹر اسرائیل کے لیے پون صدی سے برسر پیکار ہے اور اس کی موجودہ تگ و تاز اسے فائنل راؤنڈ کی طرف لے جانے کی نظر آتی ہے جس میں کوئی موقع وہ ضائع نہیں ہونے دے رہا ہے۔
  2. ایران اپنے مذہبی انقلاب کے بعد سے مسلسل اسے خطہ میں سنی شیعہ کی بنیاد پر توسیع پسندانہ عزائم کو آگے بڑھانے میں مصروف ہے اور اس کی طرف سے اس حوالہ سے اب تک ہونے والی پیش رفت کو کسی طرح بھی سست قرار نہیں دیا جا سکتا۔
  3. عرب ممالک خود میدانِ جنگ ہونے کے باوجود  نہ صرف باہمی وحدت و مفاہمت سے محروم ہیں بلکہ ان کا کوئی مشترکہ ایجنڈا، اس کے لیے تیاری اور کسی سطح کی سرگرمیاں بھی دکھائی نہیں دے رہیں۔
  4. ترکیہ بھی اس کشمکش سے باہر نہیں ہے جبکہ اسرائیل کے ساتھ اس کے حالیہ تنازعات مستقبل کے حالات کا بھی کچھ نہ کچھ اشارہ دے رہے ہیں۔

مجھے گزشتہ نصف صدی کے دوران ایران، سعودی عرب، ترکیہ، مصر  اور متحدہ عرب امارات جانے کا موقع ملتا رہا ہے اور ایک صحافی کے طور پر حالات کا جائزہ لینے اور کچھ نہ کچھ لکھتے رہنے کا ذوق بھی پورا کرتا رہا ہوں، اس سلسلہ میں میرے بیسیوں مضامین اور رپورٹیں اخبارات میں شائع ہوئی ہیں جنہیں میری ویب سائیٹ   zahidrashdi.org    پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے، جبکہ ان کا ایک مجموعہ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ نے ساڑھے چار سو سے زائد صفحات پر مشتمل کتاب ’’سنی شیعہ کشمکش‘‘ کے نام سے شائع کیا ہے جو    alsharia.org/contact    پر رابطہ کر کے حاصل کی جا سکتی ہے۔

بہرحال موجودہ صورتحال اور مستقبل کے امکانات کو سامنے رکھتے ہوئے ایرانی قیادت سے انتہائی خلوص کے ساتھ دو تین گزارشات کرنے کو جی چاہ رہا ہے ؏ ’’شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات‘‘:

  1. مشرقِ وسطیٰ میں جاری پراکسی وار کے بارے میں ایرانی قیادت کو یہ بات واضح کرنی چاہیے کہ اسے ایران سے باہر کے معاملات سے توسیع پسندی طرز کی دلچسپی نہیں ہے اور وہ پڑوسی ممالک کی داخلی خودمختاری اور وحدت کا احترام کرتا ہے۔
  2. عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب کی ریاستی حدود اس کے نزدیک قابلِ احترام ہیں اور حرمین شریفین کے حوالہ سے جو عزائم ایرانی قیادت کی طرف منسوب کیے جا رہے ہیں وہ درست نہیں ہیں۔
  3. وہ اسرائیل کے خلاف جنگ میں عالمِ اسلام کی سطح پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور علاقائی سطح پر عرب حکمرانوں کے ساتھ باہمی ہم آہنگی کی فضا قائم کرنے کے لیے سنجیدہ گفتگو کرنے کو تیار ہے اور باہمی اعتماد کی فضا کو علاقائی ضرورت کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔
  4. جبکہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کی جنگ اور اس دوران سمندری گزرگاہوں کی ناکہ بندی کے نتیجے میں جہاں دنیا بھر کی معیشت متاثر ہوئی ہے وہاں پاکستان بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہا اور اس کی خستہ قومی معیشت کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اس صورت حال میں ایک پڑوسی ہونے کے ناطے سے جو گنجائش پیدا کی جا سکتی ہو اس کی طرف ضرور توجہ کی جائے گی۔

ہمیں امید ہے کہ نیویارک میں پاکستانی قیادت اور ایرانی قیادت کی ملاقاتوں میں یہ امور ضرور زیربحث آئے ہوں گے مگر ان کے لیے کوئی سنجیدہ پیش رفت مسلم دنیا کی رائے عامہ بالخصوص پاکستانی عوام کو بھی نظر آنی چاہیے کیونکہ اس کشمکش کے نتائج سے ہم بھی یقیناً‌ متاثر ہو رہے ہیں اور مستقبل کے امکانات سے واقف ہونا اور اس کے لیے تیار رہنا ہمارا حق بنتا ہے۔ 

   
2016ء سے
Flag Counter