مذہبی و جہادی جماعتوں پر پابندی

   
تاریخ اشاعت: 
فروری ۲۰۰۲ء

صدر جنرل پرویز مشرف نے لشکر طیبہ، جیش محمدؐ اور سپاہ صحابہؓ سمیت متعدد مذہبی و جہادی تنظیموں کو خلافِ قانون قرار دے دیا ہے جس کے تحت ان تنظیموں کے ہزاروں افراد کی مسلسل گرفتاریوں کے علاوہ ان کے سینکڑوں دفاتر بند کر دیے گئے ہیں اور اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ہیں۔ صدر پرویز مشرف نے پابندی کی وجوہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تنظیمیں دہشت گردی میں ملوث ہیں اس لیے ان پر پابندی لگانا ضروری ہو گیا تھا۔

ہمارے خیال میں صدر محترم کا صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے بلکہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان تنظیموں کے خلاف سپریم کورٹ میں باقاعدہ ریفرنس پیش کیا جائے اور ان کے خلاف الزامات باضابطہ طور پر سامنے لا کر انہیں عدالتی سطح پر صفائی کا موقع دیا جائے۔ اس کے بغیر ان جماعتوں پر پابندی اور ہزاروں علماء و کارکنوں کی گرفتاری کو بہرحال بے انصافی اور بلاجواز ہی تصور کیا جائے گا۔ اس لیے ہماری گزارش ہے کہ حکومت یا تو یہ کیس باقاعدہ طور پر سپریم کورٹ میں پیش کرے اور یا پھر پابندی واپس لے کر انہیں حسبِ سابق سرگرمیاں جاری رکھنے کا موقع دیں، کیونکہ انصاف اور عدل کا تقاضا بہرحال یہی ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter