ہمارا طرزِ افتاء اور خاموش ذہنی ارتداد

   
۱۰ اپریل ۱۹۹۹ء

حضرت مولانا قاضی عبد الکریم (کلاچی، ضلع ڈیرہ اسماعیل خان) ہمارے ملک کے اکابر اور سنجیدہ علماء کرام میں سے ہیں۔ وہ صاحب مطالعہ، صاحب بصیرت اور صاحب درد عالم دین ہیں۔ ملک کے حالات پر نظر رکھتے ہیں اور جہاں دینی نقطۂ نظر سے کوئی خرابی دکھائی دیتی ہے اس کی نشاندہی اور متعلقہ حضرات کو اس سے باخبر کرنے کی ہر ممکن سعی کرتے ہیں۔ گزشتہ دنوں مجھے ان کا ایک گرامی نامہ بذریعہ فیکس موصول ہوا جس میں انہوں نے میرے ایک کالم پر گرفت فرمائی ہے۔ چنانچہ میں ضروری سمجھتا ہوں کہ اپنے قارئین کو بھی اس مسئلے سے آگاہ کروں۔

میں نے ایک کالم میں ’’قسم‘‘ کے کفارے کے بارے میں حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کے حوالہ سے ایک واقعہ نقل کیا تھا کہ انہوں نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا کہ قسم کے کفارہ میں امیر شخص کو روزے جبکہ غریب شخص کو دس مسکینوں کا کھانا بتانا چاہیے۔ تاکہ انہیں کفارہ بطور سزا عملاً محسوس ہو اور اللہ تعالیٰ کا نام لے کر پھر اس کی حرمت کو ملحوظ رکھنے کی اہمیت کا بھی احساس ہو۔ حالانکہ قرآن کریم نے روزوں والا کفارہ اس شخص کے لیے بیان کیا ہے جو غلام آزاد نہ کر سکتا ہو، دس مسکینوں کو کھانا نہ کھلا سکتا ہو، یا دس فقراء کو لباس نہ دے سکتا ہو۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے محترم قاضی صاحب نے اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ

’’حضرت مولانا عبد الواحدؒ کے حوالہ سے ایک عام روزنامہ میں جس بات کی اشاعت کی گئی ہے اور جس کے ناظرین کی غالب اکثریت دین سے بالکل ناواقف تعلیم یافتہ حضرات کا ہونا یقینی ہے، کیا وہ اس سے یہ نہ سمجھیں گے کہ دین کے احکام کا دارومدار حکم و مصالح پر ہے۔ اور وہی مصلحتیں اور حکمتیں اگر منصوص صورتوں کے بغیر حاصل ہوں تو نصوص صریحہ کے باوجود اس میں تغیر و تبدل کر کے بھی ہم نہ صرف صحیح مسلمان رہ سکتے ہیں بلکہ نفاذ اسلام کا سہرا باندھنے کے ہم ہی مستحق ہوں گے۔‘‘

اس کے ساتھ ہی قاضی صاحب محترم نے حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ کا یہ ارشاد گرامی بھی معارف القرآن جلد ۳ صفحہ ۲۲۴ کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ:

’’روزہ رکھنا صرف اس صورت میں کافی ہو سکتا ہے جبکہ ان تینوں میں سے کسی پر قدرت نہ ہو۔‘‘

مجھے حضرت مولانا قاضی عبد الکریم صاحب کے دونوں ارشادات سے اتفاق ہے اور میں نے ان کے نام عریضہ میں یہی گزارش کی ہے کہ جہاں تک فتویٰ کا تعلق ہے، فتویٰ وہی ہے جو حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ نے ارشاد فرمایا ہے۔ اور حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کے واقعہ کو نقل کرنے سے قارئین جس غلط فہمی کا شکار ہو سکتے ہیں اس کے خدشہ سے بھی مجھے انکار نہیں ہے۔ چنانچہ اسی کے ازالہ کے لیے میں نے یہ سب باتیں نقل کر دی ہیں۔ مگر ایک بات کی وضاحت اس کے ساتھ ضروری سمجھتا ہوں جس کا میں نے قاضی صاحب محترم کے نام عریضہ میں بھی ذکر کر دیا ہے۔

بات یہ ہے کہ میرا کالم افتاء کا نہیں ہے اور نہ ہی میں مفتی و محقق ہوں۔ میرا ذوق تو صرف یہ ہے کہ احکام و مسائل کے اسباب و علل اور نتائج و عواقب پر بحث کر کے اس حوالہ سے دینی مسائل کے مطالعہ کا شعور بیدار کیا جائے۔ ایسا کرنا میں آج کے دور میں ان دین سے بالکل ناواقف پڑھے لکھے حضرات کے لیے ضروری سمجھتا ہوں جن کے سامنے اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ایک طرف کفر اپنے فلسفہ و منطق اور تجزیہ و استدلال کے تمام ہتھیاروں سے لیس ہو کر کھڑا ہے اور لوگوں کے اذہان و قلوب تک رسائی کے لیے ابلاغ کے تمام تر ذرائع اس کی دسترس میں ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ہم علماء کرام انہیں دین کے مسائل صرف فتویٰ اور حکم کی زبان میں سمجھانے کے درپے ہیں، اور اس کے ساتھ یہ ہدایات بھی ہیں کہ اگر انہوں نے کسی مسئلہ کی حکمت اور اس کے پس منظر پر غور کر لیا تو وہ کسی صورت میں بھی گمراہی سے نہیں بچ سکیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دین سے بالکل ناواقف پڑھے لکھے حضرات میں سے اکثر کی خاموش اور بند زبانوں کے پیچھے ان کے ذہنوں میں بے شمار سوالات اور شبہات قطار باندھے کھڑے ہیں۔ اور مجھے یہ کہنے میں بھی کوئی باک نہیں کہ ایک محدود تعداد کے سوا کہ جن حضرات کو شخصی طور پر کسی نیک اور صالح بزرگ سے تعلق نصیب ہوگیا ہے، یا کسی پختہ کار اور صاحب دل عالم دین کی مجلس میں بیٹھنے کی سعادت مل رہی ہے، ان کے علاوہ باقی لوگوں کی غالب اکثریت ’’خاموش ذہنی ارتداد‘‘ یا کم از کم دین کے حوالہ سے ’’عدم اطمینان‘‘ کا شکار ہو چکی ہے۔

مجھے ’’فتویٰ‘‘ کی ضرورت و اہمیت سے انکار نہیں ہے اور نہ ہی نعوذ باللہ اس کی افادیت کو کم بتانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ میں خود بھی مسائل میں ضرورت پڑنے پر ذمہ دار مفتیان کرام سے رجوع کرتا ہوں اور ان کے فتویٰ پر عمل کرتا ہوں۔ بلکہ جو شخص مجھ سے کوئی مسئلہ پوچھتا ہے تو اسے کسی ذمہ دار مفتی کی طرف رجوع کی تلقین کرتا ہوں۔ مگر مجھے فتویٰ کے اسلوب اور طرز کے حوالہ سے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا طرز افتاء سب سے بہتر اور آج کے تقاضوں کے مطابق زیادہ موزوں محسوس ہوتا ہے۔ وہ مسئلہ بیان کرنے کے ساتھ اس کا پس منظر اور حکمت بھی بیان فرما دیتی تھیں تاکہ مسئلہ پوچھنے والا شخص مسئلہ کے حکم سے واقف ہونے کے ساتھ ساتھ ذہنی طور پر اس سے مطمئن بھی ہو اور پورے شرح صدر کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہو۔

پھر فتویٰ کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا یہ انداز بھی مجھے بہت اچھا لگتا ہے کہ وہ مسئلہ بتاتے ہوئے مسئلہ پوچھنے والے کے احوال و ظروف کا بھی لحاظ رکھتے تھے۔ اور قرائن سے اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتے تھے کہ یہ شخص کس غرض کے لیے مسئلہ پوچھ رہا ہے؟ جیسا کہ تفسیر قرطبی میں یہ واقعہ درج ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ اپنے شاگردوں کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک شخص آیا اور مسئلہ پوچھا کہ کیا قاتل کی توبہ قبول ہوتی ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ نہیں۔ وہ شخص چلا گیا۔ شاگردوں نے پوچھا کہ حضرت! ہمیں تو آپ نے بتایا تھا کہ قاتل اگر صدق دل سے توبہ کرے (اور اس کے دیگر تقاضے پورے کر دے) تو اس کی توبہ قبول ہو جاتی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ مجھے اس شخص کے چہرے سے اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ کسی کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اسی وجہ سے اس نے یہ مسئلہ پوچھا ہے۔ چنانچہ میں نے اسے یہ جواب دیا ہے تاکہ وہ قتل سے باز رہے۔ تفسیر قرطبی کی اس روایت کے مطابق حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے شاگردوں نے اس شخص کا پیچھا کر کے بات کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ حضرت ابن عباسؓ کا اندازہ بالکل درست تھا۔

اس لیے اگر مفتی مسئلہ بیان کرتے ہوئے مستفتی کو اس کی حکمت اور پس منظر سے آگاہ کر دے اور اس کے احوال و ظروف کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی غرض و ارادہ کا اندازہ کر کے جواب میں معروف حکم سے کوئی مختلف صورت اختیار کر لے تو میرے خیال میں اس سے کسی دینی اصول کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ اور یہ کوئی نیا انداز بھی نہیں ہے بلکہ ام المومنین حضرت عائشہؓ اور ترجمان القرآن حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے طرز افتاء کی پیروی ہے۔ اور حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فلسفہ و حکمت کی سب سے بڑی بنیاد بھی یہی ہے۔ مگر یہ حق صرف ایک مفتی کا ہے۔ اور مفتی سے مراد بھی وہ صاحب نہیں جن کے دروازے یا لیٹرپیڈ پر ان کے نام کے ساتھ ’’مفتی‘‘ لکھا ہوا ہے۔ بلکہ جن اصحاب علم نے برس ہا برس علوم اسلامیہ کی تدریس کی ہے اور فتویٰ نویسی میں ایک مدت گزار دی ہے انہی کہنہ مشق ارباب علم کو یہ استحقاق حاصل ہے اور ان کے سوا کسی اور کو یہ منصب نہیں دیا جا سکتا۔

باقی رہی بات میرے جیسے طالب علموں کے بحث و مباحثہ کی تو اس کی حیثیت کسی صورت میں فتویٰ کی نہیں ہے۔ یہ صرف بحث و تمحیص ہے تاکہ معاملات زیادہ نکھر کر سامنے آئیں، ان کے زیادہ سے زیادہ پہلو نمایاں ہوں، اور ارباب علم و دانش کو رائے قائم کرنے میں آسانی ہو۔ بالکل ایسے ہی جیسے عدالت میں وکلاء دلائل دیتے ہیں، بال کی کھال اتارتے ہیں، متعلقہ و غیر متعلقہ سوالات اٹھاتے ہیں، اور عدالت خود بھی معاملہ کو زیادہ واضح کرنے کے لیے دوران بحث ریمارکس دیتی ہے اور نکات اٹھاتی ہے۔ مگر ان میں سے کسی کو بھی فیصلے کی حیثیت حاصل نہیں ہوتی اور فیصلہ وہی ہوتا ہے جو اس ساری بحث و تمحیص اور تجزیہ و تحقیق کے بعد جج صادر کرتا ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter