حدیث نبوی ؐ کی تین نمایاں حیثیتیں

   
تاریخ بیان: 
۱۷ فروری ۲۰۱۰ء

(مسجد اقدس، مسلم روڈ، گوجرانوالہ میں نماز عشاء کے بعد درس حدیث)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج مجھے حدیث نبویؐ کے بارے میں کچھ گزارشات پیش کرنی ہیں۔ حدیث لغوی طور پر گفتگو اور بات چیت کو کہتے ہیں مگر شریعت میں اسے جناب نبی اکرمؐ کے حوالہ سے گفتگو کے لیے مخصوص کر دیا گیا ہے، اور حدیث نبویؐ میں جناب نبی اکرمؐ کے ارشادات اور افعال و اعمال کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے ایسے اقوال و اعمال کو بھی شمار کیا جاتا ہے جو نبی اکرمؐ کے علم و مشاہدہ میں آئے اور آپؐ نے ان پر خاموشی اختیار کر کے ان کی تصویب و توثیق فرما دی۔ صحابہ کرامؓ نے بڑے ذوق و شوق کے ساتھ ان احادیث کو یاد رکھا اور روایت کر کے امت کی اگلی نسل تک پہنچایا، اور پھر محدثینؒ نے بڑی محنت اور اہتمام کے ساتھ ان احادیث کو جمع و ترتیب اور چھان پھٹک کے ساتھ سینکڑوں کتابوں اور مجموعوں میں محفوظ کر دیا۔ حدیث نبویؐ کی مختلف حیثیتیں ہیں اور اس بحر ذخار کے مختلف پہلوؤں سے مسلسل استفادہ کیا جا رہا ہے جن میں سے دو تین کا آج کی مختصر گفتگو میں ذکر کرنا چاہوں گا۔

  1. حدیث نبویؐ کی سب سے بڑی حیثیت یہ ہے کہ یہ تمام علم دینیہ کا مأخذ اور سر چشمہ ہے، دین کے حوالہ سے ہمیں جو چیز بھی حاصل کرنی ہے اس کا ذریعہ حدیث نبویؐ ہے۔ قرآن کریم بھی اسی کے ذریعے ملا ہے، سنت کا تعین بھی اسی کی بنیاد پر ہوتا ہے، فقہ و احکام کی ترتیب میں بھی یہی اساس ہے، اور جناب نبی اکرمؐ کی سیرت و سوانح بھی اسی کے واسطے سے حاصل ہوتی ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اپنی معرکۃ الاراء کتاب ”حجۃ اللہ البالغۃ“ کا آغاز اس جملہ سے کیا ہے کہ ‘’ان عمدۃ العلوم الیقینیۃ ورأسہا ومبنی الفنون الدینیۃ وأساسہا ھو علم الحدیث النبوی الشریف‘‘۔ علوم یقینیہ (یعنی وحی سے متعلقہ علوم) کی بنیاد اور فنون دینیہ کی اساس علم حدیث نبویؐ ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ وحی اور دین سے متعلقہ تمام علوم و فنون کے لیے حدیث نبویؐ بنیادی ذریعہ کی حیثیت رکھتی ہے اور علم و فن کی ہر بات ہمیں اسی کے ذریعہ سے حاصل ہوتی ہے۔

    حدیث نبویؐ قرآن کریم کا مأخذ بھی ہے کہ قرآن کریم کی کسی سورۃ اور آیت کے بارے میں یہ معلوم کرنے کے لیے کہ یہ قرآن کریم ہی کی سورۃ اور آیت ہے ہمارے پاس حدیث نبویؐ کے سوا اور کوئی ذریعہ اور واسطہ موجود نہیں ہے۔ قرآن کریم کو صحابہ کرامؓ نے اسی طرح یاد کیا ہے کہ جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ یہ آیت نازل ہوئی ہے، یہ فلاں سورۃ کا حصہ ہے اور اسے وہاں فلاں آیت کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔ یہی قرآن کریم کے حفظ و ترتیب کی سب سے پہلی بنیاد ہے اور اس میں ہمیں سب سے پہلے ’’جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا ہے‘‘ پر ایمان لانا ہوتا ہے اس کے بعد اس آیت یا سورۃ پر ہم ایمان لا سکیں گے۔ اگر ’’جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا ہے‘‘ پر ایمان نہیں ہے تو قرآن کریم کی کسی سورۃ اور کسی آیت پر ایمان ممکن ہی نہیں ہے۔ اس لیے میں اکثر یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ دلائل کی ترتیب میں قرآن کریم مقدم ہے اور حدیث نبویؐ کا نمبر دوسرا ہے، لیکن ایمان کی ترتیب میں حدیث نبویؐ مقدم ہے اور قرآن کریم پر ایمان حدیث نبویؐ پر ایمان پر موقوف ہے۔

    مثال کے طور پر یہ دیکھ لیجئے کہ سورۃ الکوثر قرآن کریم کی سورۃ ہے اور ہمارا اس پر ایمان ہے، مگر اس کی ترتیب یہ ہے کہ جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ یہ حضرت جبریلؑ لے کر آئے ہیں اور یہ قرآن کریم کی سورۃ ہے۔ اب یہاں ’’جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا ہے‘‘ پر ہم پہلے ایمان لائے ہیں اور ’’سورۃ الکوثر قرآن کریم کی سورۃ ہے‘‘ پر ہم بعد میں ایمان لاتے ہیں۔ اس ترتیب کے بغیر قرآن کریم کے کسی لفظ اور جملے پر ایمان نہیں لایا جا سکتا، اس لیے حدیث نبویؐ نہ صرف تمام علوم دینیہ کا مأخذ اور سر چشمہ ہے بلکہ قرآن کریم تک رسائی کا ذریعہ بھی یہی ہے اور اس پر قرآن کریم کی طرح بلکہ اس سے پہلے ایمان لانا ضروری ہے۔

  2. حدیث نبویؐ کی دوسری بڑی حیثیت یہ ہے کہ وہ قرآن کریم کی تشریح ہے اور قرآن کریم کے کسی جملہ اور لفظ کا مفہوم طے کرنے کے لیے سب سے بڑی اتھارٹی ہے۔ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور کسی بھی کلام میں اس کے کسی جملے اور محاورے یا ضرب المثل کا مفہوم و مصداق طے کرنے کا سب سے پہلا حق متکلم کا ہوتا ہے۔ اگر متکلم خود اپنے کسی جملے اور قول کا مفہوم و مصداق متعین کر دے تو پھر کسی اور کا یہ حق باقی نہیں رہ جاتا کہ وہ اس کا کوئی اور مفہوم اپنی طرف سے طے کرے۔ مثال کے طور پر میں آپ حضرات سے گفتگو کر رہا ہوں، میری کسی بات میں ابہام ہے یا کسی صاحب کو میری کوئی بات سمجھ نہیں آئی، یا میری کسی بات کا کوئی صاحب غلط مطلب سمجھے ہیں، تو مجھ سے پوچھا جائے گا کہ تمہاری اس بات کا مطلب کیا ہے؟ اور اگر میں یہ کہہ دوں گا کہ میری اس بات کا یہ مطلب ہے اور اس سے میری مراد یہ ہے تو پھر اس کا وہی مطلب ہو گا اور کسی دوسرے شخص کا یہ حق باقی نہیں رہ جائے گا کہ وہ اس کا کوئی الگ مفہوم قرار دے۔

    قرآن کریم میں متکلم اللہ تعالیٰ ہیں اور یہ ان کا کلام ہے۔ ظاہر ہے کہ قرآن کریم کی کسی آیت کا مفہوم طے کرنے یا کسی الجھن اور اشکال کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے ساتھ براہ راست بات تو نہیں ہو سکتی اور نہ ہی کسی کا اللہ تعالیٰ سے کوئی براہ راست رابطہ ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے نمائندے کے ساتھ رابطہ نہ صرف ممکن ہے بلکہ موجود ہے۔ رسول اللہ کا مطلب یہی ہے کہ آپؐ اللہ تعالیٰ کے نمائندے ہیں، اور نمائندہ جب کوئی بات کرتا ہے تو وہ بات اس کی نہیں ہوتی بلکہ جس کا نمائندہ ہوتا ہے اس کی بات شمار کی جاتی ہے۔

    مثال کے طور پر عرض کرتا ہوں کہ آپ اپنے کاروبار کے دفتر میں بیٹھے ہیں اور کسی فرم کا کوئی نمائندہ آپ کے پاس کاروباری معاملات طے کرنے کے لیے آیا ہے، آپ کا یہ حق ہے کہ اس کے نمائندہ ہونے کے بارے میں تسلی کریں، اس سے انٹرویو کریں، کاغذات چیک کریں، فون کر کے معلومات حاصل کریں اور پورا اطمینان حاصل کریں کہ یہ صاحب اس کے نمائندہ ہیں یا نہیں، اس کے بعد آپ کا یہ بھی حق ہے کہ آپ ان کو نمائندہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیں۔ لیکن جب آپ نے ان صاحب کو اس فرم کا نمائندہ تسلیم کر لیا اور اس حیثیت سے ان کے ساتھ گفتگو شروع کر دی تو پھر آپ کو ان سے کسی بات پر یہ پوچھنے کا حق نہیں ہے کہ یہ بات آپ اپنی طرف سے کہہ رہے ہیں یا فرم کی طرف سے؟ یا کیا یہ بات آپ اپنی فرم سے پوچھ کر کہہ رہے ہیں؟ کیونکہ یہ درد سر آپ کا نہیں ہے کہ وہ کوئی بات فرم سے پوچھ کر کہہ رہے ہیں یا بغیر پوچھے، وہ جو بات بھی کہہ رہے ہیں فرم کی نمائندہ کے طور پر کہہ رہے ہیں، پوچھ کر کہیں تو بھی فرم کی بات ہے اور بغیر پوچھے کہیں تو بھی وہ فرم کی بات ہے۔

    اس لیے قرآن کریم کی کسی بات پر کوئی اشکال ہو گا یا الجھن ہو گی تو متکلم کے نمائندے سے یعنی رسول اللہؐ سے رجوع کیا جائے گا اور وہ جو تشریح و تعبیر فرما دیں گے وہ متکلم کی طرف سے سمجھی جائے گی۔ اور اگر قرآن کریم کی کسی آیت یا جملہ کی تشریح میں جناب نبی اکرمؐ سے صحیح روایت کے ساتھ کوئی بات ثابت ہو جائے گی تو وہی حتمی تعبیر ہو گی۔ اور اس کے بعد کسی صاحب کا یہ حق باقی نہیں رہ جائے گا کہ وہ یہ کہے کہ ٹھیک ہے اس آیت کا مطلب جناب نبی اکرمؐ یہ سمجھے ہوں گے لیکن میری سمجھ میں تو اس کا یہ مطلب آرہا ہے۔ اس لیے کہ رسول اکرمؐ سے کسی تشریح کے ثابت ہو جانے کے بعد ’’میں یہ سمجھا ہوں‘‘ کا حق ختم ہو جاتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں بڑے بڑے حضرات کو ٹھوکر لگ جاتی ہے۔

    صحابہ کرامؓ کا معمول یہی تھا کہ قرآن کریم کی کسی آیت کے سمجھنے میں دقت پیش آتی تھی تو جناب نبی اکرمؐ سے رجوع کرتے تھے اور نبی اکرمؐ اس کا جو مفہوم بیان کر دیتے وہی حتمی سمجھا جاتا تھا، اس پر احادیث نبویہؐ کے ذخیرے سے بیسیوں شواہد پیش کیے جا سکتے ہیں، جن میں مثال کے طور پر ایک کا ذکر کروں گا۔

    قرآن کریم کی آیت کریمہ ہے ‘‘یا ایھا الذین امنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم‘‘ (المائدہ ۱۰۵) اے ایمان والو! تم پر لازم ہے کہ اپنی فکر کرو اگر کوئی اور شخص گمراہ ہوتا ہے تو تمہیں اس کا کوئی نقصان نہیں ہے اگر تم ہدایت پر ہو۔ اس آیت کا ظاہری مفہوم یہ بنتا ہے کہ ہر مسلمان کو صرف اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے اور کسی دوسرے شخص کے ہدایت پر آنے یا گمراہ ہونے کی فکر نہیں کرنی چاہیے۔ اگر اس آیت کریمہ کو اس ظاہری مفہوم پر رکھا جائے تو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی وہ اہمیت باقی نہیں رہ جاتی جو اسے دین میں حاصل ہے۔ بلکہ اس آیت کریمہ نے تو حضرت صدیق اکبرؓ کے اس جہاد کے بارے میں بھی اشکال کھڑا کر دیا تھا جو انہوں نے مرتدین کے خلاف اور منکرین زکوٰۃ اور منکرین ختم نبوت کے خلاف کیا تھا، حتٰی کہ بخاری شریف کی روایت کے مطابق حضرت صدیق اکبرؓ کو خطبہ میں اس کی باقاعدہ وضاحت کرنا پڑی تھی۔ لیکن میں یہاں ترمذی شریف کی ایک روایت کا حوالہ دینا چاہوں گا کہ ایک صاحب نے حضرت ابو ثعلبہ خشنیؓ سے اس آیت کا مطلب پوچھا اور اس سلسلہ میں اسی اشکال کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے اس آیت کریمہ کے بارے میں جناب نبی اکرمؐ سے پوچھ لیا تھا اور آنحضرتؐ نے فرمایا تھا کہ ’’بل ائتمروا بالمعروف وتناھوا عن المنکر حتٰی اذا رایت شحًا مطاعًا وھوی متبعًا ودینا مؤثرۃ واعجاب کل ذی رأی برأیہ فعلیک بخاصۃ نفسک ودع العوام فان من ورائکم ایاما الصبر فیھن مثل القبض علی الجمر ۔۔ الخ‘‘ بلکہ تم امر بالمعروف کرتے رہو اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دیتے رہو حتیٰ کہ جب وہ دور آئے گا جب بخل انسانوں پر حکمرانی کرنے لگے گا، خواہشات کی پیروی عام ہو جائے گی، دین کو ثانوی درجہ دے دیا جائے گا اور ہر شخص اپنی ہی رائے پر خوش ہونے لگے گا، تو پھر تم صرف اپنی فکر کرنا اور عام لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دینا، اس لیے کہ اس کے بعد وہ زمانہ ہو گا جس میں دین پر صبر کرنا انگارے ہاتھ میں لینے کے مترادف ہو گا۔

    گویا جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ یہ آیت اپنے ظاہری مفہوم پر نہیں ہے بلکہ اس کا خاص مفہوم ہے اور خاص حالات میں اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس لیے حدیث نبویؐ کی دوسری حیثیت یہ ہے کہ یہ قرآن کریم کی شرح ہے اور قرآن کریم کی کسی آیت یا جملے کا مفہوم متعین کرنے میں فائنل اتھارٹی کا درجہ رکھتی ہے۔

  3. حدیث نبویؐ کی تیسری حیثیت یہ ہے کہ جناب نبی اکرمؐ کی سیرۃ و اسوۃ اور حالات و واقعات کا مأخذ اور سر چشمہ ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے امت کے لیے مطاع قرار دیا ہے اور قرآن کریم کے ساتھ سنت نبویؐ کی پیروی کا بھی حکم دیا ہے۔ بلکہ یہ فرمایا ہے کہ ’’من یطع الرسول فقد اطاع اللّٰہ‘‘ (النساء ۸۰) جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ گویا اللہ تعالیٰ کی اطاعت موقوف ہے جناب نبی اکرمؐ کی اطاعت پر، اور رسول اکرمؐ کی اطاعت کے بغیر اللہ تعالیٰ کی اطاعت ممکن ہی نہیں ہے۔ اس طرح جناب نبی کریمؐ کو اللہ تعالیٰ نے مطاع اور اسوہ حسنہ قرار دیا ہے۔ یہاں یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم نازل فرما کر ہمارے لیے یہ راستہ کھلا نہیں چھوڑ دیا کہ ہم قرآن کریم کو پڑھیں اور جیسے ہماری سمجھ میں آئے اس کے مطابق عمل کریں، قرآن کریم پر عمل کا حکم دیا گیا ہے لیکن اس کے لیے آئیڈیل اور معیار جناب نبی اکرمؐ کو بنایا گیا ہے کہ قرآن کریم کے کسی حکم پر عمل اگر جناب نبی اکرمؐ کی سنت اور اسوہ کے مطابق ہو گا تو وہ قرآن کریم کی پیروی شمار ہو گا، ہمیں حکم یہ ہے کہ عمل قرآن کریم پر کرو لیکن اس کے لیے فالو جناب نبی اکرمؐ کو کرو۔ اس طرح قرآن کریم کے ساتھ ساتھ جناب نبی اکرمؐ کی سنت کو بھی واجب الاتباع اور مطاع کا درجہ حاصل ہے اور جناب نبی اکرمؐ کی سیرت و سنت کا اصل ماخذ احادیث نبویہ ہی ہیں۔

    حضورؐ کے ارشادات و اقوال، اعمال و احوال اور واقعات کی تفصیل میں احادیث کے ذخیرہ میں ملتی ہے اور اس طرح سنت رسولؐ کا ماخذ بھی حدیث نبویؐ ہے۔ یہ جناب نبی اکرمؐ کا اعزاز و اعجاز ہے کہ آپ کی سیرت طیبہ، احوال و واقعات اور ارشادات و اقوال جس تفصیل کے ساتھ حدیث و تاریخ کے ریکارڈ میں موجود و محفوظ ہیں، نسل انسانی کی کسی اور شخصیت کو یہ مقام حاصل نہیں ہوا۔ ہم آنحضرتؐ کی حیات مبارکہ کے جس حصے کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہیں کر سکتے ہیں اور زندگی کے جس مسئلہ کے بارے میں جناب نبی اکرمؐ کی سنت و سیرت سے راہنمائی حاصل کرنا چاہیں ہمیں مل جاتی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا امت مسلمہ پر احسان ہے، جناب نبی اکرمؐ کا معجزہ اور قیامت تک اسلام کی صداقت اور تسلسل کا اظہار ہے۔

اس لیے حدیث نبویؐ کو دین میں بنیادی اور اساسی حیثیت حاصل ہے، جو نہ صرف قرآن و سنت کا ماخذ ہے بلکہ جناب نبی اکرمؐ کی سیرت و اسوہ کا بھی سر چشمہ ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو حدیث نبویؐ پر ایمان میں استقامت سے نوازیں اور قرآن و سنت کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔