مسلم ممالک میں ریاستی جبر کا شکار دینی تحریکات

   
نومبر ۱۹۹۴ء

روزنامہ جنگ لاہور ۲۲ اکتوبر ۱۹۹۴ء کی ایک خبر کے مطابق مراکش کے دارالحکومت رباط میں ۴۱ مسلم ممالک کے وزرائے مذہبی امو رکی دو روزہ کانفرنس کے شرکاء نے ایک قرارداد کے ذریعہ مذہبی جنونیت اور کٹرپن کی مخالفت کی ہے اور اسلامی ممالک پر زور دیا ہے کہ اسلامی ثقافت کو فروغ دیں اور اسلام کی حقیقی تعلیمات کو پھیلائیں۔

مذہبی جنونیت اور کٹرپن کے خلاف کافی عرصہ سے منظم مہم چلائی جا رہی ہے جس میں مغربی ممالک کی حکومتیں، لابیاں اور ذرائع ابلاغ پیش پیش ہیں اور بنیاد پرستی کی مخالفت کے نام پر مسلم ممالک میں دینی بیداری اور اسلامی نظام کے نفاذ کی تحریکات کو ہدف تنقید بنا رہی ہیں، جبکہ مسلم ممالک کی حکومتیں اور سیکولر لابیاں بھی اس مہم میں ان کے ساتھ شریک ہیں۔ اس طرح عالمی سطح پر کمیونزم اور مغربی جمہوریت کی سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد ایک نئی سرد جنگ کا آغاز ہوگیا ہے جس میں ایک طرف عالم اسلام کی دینی تحریکات ہیں جو مسلم معاشرہ میں قرآن و سنت کے احکام و قوانین کی مکمل عملداری کے لیے سرگرم عمل ہیں اور دوسری طرف دنیا بھر کی غیر مسلم اور مسلم حکومتیں اور لابیاں ہیں جو اسلامی بیداری کی تحریکات کو بنیاد پرست، جنونی اور کٹرپن کی حامل قرار دے کر ان کی مخالفت اور کردار کشی کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔

عالم اسلام کی صورتحال یہ ہے کہ بیشتر مسلم ممالک میں دینی جماعتیں اور عوام اسلامی نظام کے نفاذ کی جدوجہد میں مصروف ہیں جنہیں سب سے زیادہ اپنے ملک کے مسلم حکمرانوں کی مخالفت کا سامنا ہے۔ اور بعض ممالک میں دینی تحریکات ریاستی جبر اور تشدد کا مسلسل نشانہ بنی ہوئی ہیں جن میں مصر، شام، تیونس اور الجزائر بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ اور اب سعودی عرب میں سرکردہ علماء کرام اور ان کے رفقاء کی گرفتاریوں نے اس صورتحال کو اور زیادہ افسوسناک بنا دیا ہے۔ اس وقت تک حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق سعودی عرب میں الشیخ سلمان العودہ اور الشیخ سفر الحوالی جیسے سرکردہ علماء کرام صرف اس جرم میں پابند سلاسل ہیں کہ وہ عالم اسلام بالخصوص عرب ممالک پر امریکہ کی بالادستی کی مخالفت کر رہے ہیں اور بادشاہت کی بجائے قرآن و سنت کے مطابق شرعی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جبکہ شام میں علماء کی ایک بڑی تعداد جیلوں میں بند ہے اور بہت سے سرکردہ علماء کرام جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اسی طرح مصر میں علماء اور دینی کارکنوں پر زندگی تنگ کر دی گئی ہے۔ اور الجزائر کی صورتحال تو عالمی ضمیر کے لیے چیلنج کی حیثیت اختیار کر گئی ہے جہاں اسلامی قوتوں نے تشدد اور طاقت کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے الیکشن اور ووٹ کا راستہ اپنایا اور انتخابات میں اکثریت حاصل کر لی مگر ووٹ کے اس فیصلہ کو گولی کی قوت کے ذریعہ مسترد کر دیا گیا۔ جمہوریت اور انسانی حقوق کا شب و روز ڈھنڈورا پیٹنے والی مغربی حکومتیں اور لابیاں الجزائر کے عوام کے جمہوری فیصلہ اور انسانی حقوق کے کھلم کھلا پامالی پر نہ صرف خاموش تماشائی ہیں بلکہ اپنا وزن گولی اور طاقت کے پلڑے میں ڈالے ہوئے ہیں ۔

اس پس منظر میں جب ہم مسلم ممالک کے وزرائے مذہبی امور کو مذہبی جنونیت اور کٹرپن کی مخالفت میں متفق دیکھتے ہیں تو ہمیں وہ اسلام اور عالم اسلام کی تحریکات کے خلاف مغربی ممالک کی وکالت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ہم بذات خود نفاذ اسلام کی جدوجہد کو تشدد اور طاقت کے ذریعہ آگے بڑھانے کے حق میں نہیں ہیں اور منطق و استدلال اور رائے عامہ کی قوت کے صحیح استعمال کو ہی غلبۂ اسلام کے لیے صحیح اور محفوظ ذریعہ خیال کرتے ہیں۔ لیکن ہم رباط میں جمع ہونے والے وزرائے مذہبی امور سے یہ ضرور پوچھنا چاہتے ہیں کہ جب اسلام کے غلبہ و نفاذ کی پر امن تحریکات کا حشر الجزائر کی طرح ہوگا اور مسلم عوام کے اکثریتی فیصلہ کو گولی کی طاقت سے مسترد کر کے انہیں غیر اسلامی نظام کے تحت زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا جائے گا تو اس ریاستی جبر کے ردعمل کو آخر کس طرح پر امن رکھا جا سکے گا؟ ہم دیانتداری کے ساتھ یہ سمجھتے ہیں کہ بعض مسلم ممالک کی دینی تحریکات میں اگر تشدد کا عنصر داخل ہوگیا ہے تو یہ ان ممالک کی حکومتوں کے ناروا طرز عمل اور ریاستی جبر کا فطری ردعمل ہے جس پر دینی تحریکات کو کوسنے کی بجائے ان مسلم ممالک کی حکومتوں کو اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

مسلم ممالک کے حکمران نوشتۂ دیوار پڑھیں اور مغربی استعمار کی وکالت کرنے کی بجائے مسلم عوام کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے مغرب کے نوآبادیاتی استعماری نظام سے نجات اور قرآن و سنت کے نظام کے نفاذ کا اہتمام کریں، اور اپنے مغربی آقاؤں کی اس تاریخ کو یاد رکھیں کہ وقت آنے پر یہ ایران کے رضا شاہ پہلوی اور فلپائن کے مارکوس جیسے وفاداروں کی آہوں اور سسکیوں پر توجہ دینے کا تکلف بھی نہیں کیا کرتے۔

   
2016ء سے
Flag Counter