قومی نصابِ تعلیم میں نا قابلِ قبول تبدیلیاں
قومی نظام تعلیم میں ایک طرف دینی و عصری تعلیمی نظاموں کو ’’یکساں نصاب تعلیم‘‘ کے عنوان سے کانٹ چھانٹ کے وسیع تر عمل سے گزارا جا رہا ہے، دوسری طرف اوقاف کے نئے قوانین کے ذریعہ مسجد و مدرسہ کی آزادی کو محدود تر کرنے کا عمل جاری ہے، جبکہ تیسری طرف اس وقت ملک کے رائج ریاستی نظام تعلیم کے نظریاتی پہلو کو کمزور کرنے اور نصابِ تعلیم سے اسلامی مواد کو کم سے کم کرنے کے اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امریکہ کی عالمی چودھراہٹ کا نیا راؤنڈ
اخباری اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے صدارتی دفتر کے سو دن مکمل ہونے پر کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ دنیا کی قیادت سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ افغانستان سے فوجیں واپس بلانے کا یہی وقت ہے، ہمیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد بحال کرنا ہے، ہم چین کے ساتھ تصادم اور روس کے ساتھ کشیدگی نہیں بڑھانا چاہتے وغیرہ وغیرہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تعلیمی نظام میں تبدیلیوں پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت
ابھی نئے متنازعہ اوقاف قوانین کا سلسلہ چل رہا ہے کہ پنجاب حکومت نے تعلیمی نصاب سے اسلامی مواد کم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر کے ایک نیا مسئلہ کھڑا کر دیا جس سے ملک میں بے چینی کی نئی لہر دوڑ گئی۔ سپریم کورٹ میں اقلیتوں کے مطالبہ پر تعلیمی نصاب کے حوالہ سے جناب شعیب سڈل پر مشتمل یک رکنی کمیشن قائم کر کے رپورٹ اور تجاویز طلب کی گئیں تو انہوں نے اپنی رپورٹ میں تجویز کر دیا کہ نصاب تعلیم میں اسلامیات سے متعلقہ مواد صرف اسلامک اسٹڈی کے دائرہ میں محدود کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کرونا کی تیسری لہر
کرونا کی تیسری لہر کی تباہ کاریاں بڑھتی جا رہی ہیں اور دنیا کے بہت سے ممالک اس کی لپیٹ میں ہیں، بھارت سب سے زیادہ متاثر بتایا جاتا ہے اور پاکستان میں بھی اس کے دائرہ اثر میں روز افزوں وسعت پریشان کن ہے۔ یہ وائرس قدرتی ہے یا مصنوعی، اس پر بحث جاری ہے مگر بہرحال موجود ہے اور اپنا کام کر رہا ہے۔ ایک مجلس میں اس پہلو پر گفتگو چل نکلی تو میں نے عرض کیا کہ اگر واٹر سپلائی کی ٹینکی میں کوئی بدبخت زہر گھول دے تو اس کی تلاش ضرور کرنی چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحریک لبیک پاکستان کا مطالبہ اور سرکاری رویہ
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں پر پرسوں لاہور میں ہونے والے تشدد پر ملک بھر میں جو اجتماعی ردعمل کا اظہار ہوا ہے وہ اطمینان بخش ہے، اور اس بات کی علامت ہے کہ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا مسئلہ اور دینی شعائر کا تحفظ ملک بھر کے تمام مکاتب فکر اور تمام طبقات کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ سب نے اس درد کو محسوس کیا ہے اور سب نے اس پر اپنے جذبات، ردعمل اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے حوالے سے، ختم نبوت کے حوالے سے بات ہو یا ناموس رسالت کے حوالے سے بات ہو، ہمیشہ امت نے اور پاکستانی قوم نے یکجہتی کا اظہار کیا ہے، اس یکجہتی کا ایک بار پھر ر مکمل تحریر
معاہدات – ذمہ داری یا ہتھیار؟
امریکہ کے صدر مسٹر جوبائیڈن نے افغانستان سے فوجوں کے انخلا میں یکطرفہ طور پر چار ماہ کی توسیع کا اعلان کر دیا ہے اور کہا ہے کہ معاہدہ کی مدت کے دوران انخلا مشکل ہے اس لیے اب افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا مئی کی بجائے ستمبر کے دوران مکمل ہو گا اور وہ بھی چند شرائط کے ساتھ مشروط ہو گا۔ اس کے ساتھ جرمنی کے وزیردفاع نے بھی کہا ہے کہ افغانستان سے نیٹو افواج کا انخلا ستمبر میں ہو گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نئے اوقاف قوانین ۔ تمام مکاتب فکر کے راہنماؤں کا مشترکہ اعلامیہ
دس اپریل کو منصورہ لاہور میں ’’ملی مجلس شرعی پاکستان ‘‘کے زیر اہتمام ’’کل جماعتی تحفظ مساجد و مدارس کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی جس میں وفاقی دارالحکومت سمیت تمام صوبوں میں نافذ ہونے والے اوقاف کے نئے قوانین کا جائزہ لیا گیا اور ان قوانین کو شرعی احکام، دستوری دفعات، قومی خودمختاری اور مسلمہ شہری حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کرنے اور اس سلسلہ میں عوامی آگاہی و بیداری کی ملک گیر مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ڈیرہ اسماعیل خان میں دو روز
تین اپریل کو دو روز کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان جانے کا اتفاق ہوا۔ اہل حدیث دوستوں نے مسجد قاضیاں ڈیرہ شہر میں عصر کے بعد مختلف مکاتب فکر اور طبقات کے سرکردہ حضرات کے اجتماع کا اہتمام کر رکھا تھا جس میں ممتاز اہل حدیث راہنما مولانا محمد یوسف طیبی اور راقم الحروف نے خطاب کیا۔ اس موقع پر جو گزارشات پیش کیں ان کا اہم نکتہ یہ تھا کہ ہماری نئی نسل کا میٹرک سے پہلے کا دائرہ دینی تعلیمات سے بے خبری کا شکار ہے جبکہ کالج اور یونیورسٹی کا دائرہ شکوک و شبہات اور تذبذب کے حصار میں دکھائی دیتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسٹیٹ بینک کے بارے میں مجوزہ قانونی ترامیم کا جائزہ
آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کے تحت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حوالہ سے ملکی قوانین میں مجوزہ ترامیم ان دنوں قومی حلقوں میں زیربحث ہیں اور انہیں قومی خودمختاری کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ریٹائرڈ سیشن جج چودھری خالد محمود نے ان کا جائزہ لیا ہے جو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مکمل تحریر
وقف املاک کے نئے قوانین اور ہماری ذمہ داری
ملک بھر میں نافذ کیے جانے والے وقف املاک کے نئے قوانین کے بارے میں دینی حلقوں میں آگاہی اور بیداری کا ماحول بحمد اللہ تعالیٰ بنتا جا رہا ہے اور مختلف شہروں میں اس سلسلہ میں اجتماعات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ یہ قوانین جس عجلت میں منظور کرائے گئے ہیں اور جس طرح خاموشی کے ساتھ ان پر عملداری کی راہ ہموار کی جا رہی ہے وہ بجائے خود محل نظر ہے اور پس پردہ عزائم کی غمازی کر رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 135
- 136
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »