(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)
مسلم شریف کی روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ حق کی علامات بیان فرمائی ہیں، جن میں سے ایک علامت یہ ذکر فرمائی ہے کہ قیامت تک کچھ لوگ دین پر قائم رہیں گے، حق پر قائم رہیں گے ’’لا یخافون لومۃ لآئم‘‘ کہ وہ اللہ کے دین کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی کوئی پروا نہیں کریں گے۔ آج پوری دنیا پر نظر ڈال لیجیے کہ اس علامت کا سب سے بڑا مصداق کون ہے؟
آج حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنتِ بت شکنی کو دنیا بھر کی ملامت کی پروا کیے بغیر طالبان اور ان کے امیر ملا عمر زندہ کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی زندگیوں میں اور ان کے عزائم میں برکت عطا فرمائے، اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات دور فرمائے، ان کو استقامت نصیب فرمائے، اللہ تعالیٰ انہیں کامیابی نصیب فرمائے، اور اللہ تعالیٰ ان کے حوالے سے ہمیں بھی کچھ غیرت نصیب فرمائے۔ آج پوری دنیا میں شور مچا ہوا ہے، کافر بھی شور مچا رہے ہیں اور ان کے حمایتی مسلمان بھی۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس کے جواب میں ملا عمر نے بہت بروقت بات کی ہے۔ ملا عمر نے دنیا کو یہ بتایا ہے کہ بے جان مجسموں کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے پر تو تمہارا دل کڑھتا ہے، لیکن جاندار انسانوں کی بھوک اور موت پر بھی تمہیں کچھ ہوتا ہے یا نہیں؟ جن جاندار انسانوں کو اپنے اقدامات سے بھوک سے مار رہے ہو اُن پر تمہارا دل نہیں پسیجتا، تمہارا ضمیر کہیں حرکت نہیں کرتا، تمہاری انسانیت نہیں جاگتی؟ ملا عمر نے دنیا کے سامنے نقشہ پیش کر دیا کہ زندہ انسانوں کو کون مار رہا ہے اور مردہ مجسموں کو کون مار رہا ہے، دونوں تہذیبوں کا فرق بتا دیا۔
یہ لوگ جو عراقیوں کی موت پر قہقہے لگاتے تھے، جنہوں نے افریقہ میں قحط اور خانہ جنگی سے مرنے والے سوڈانیوں کی موت پر جشن منائے، یہ بے جان مورتیوں کے ٹکڑے ہونے پر ماتم کر رہے ہیں۔ یہ لوگ کس تہذیب، کس انسانیت اور کس کلچر کی بات کرتے ہیں؟ جو کلچر زندہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار کر قہقہے لگاتا ہے؟ آج ہم کسی ملامت کی پروا کیے بغیر ملا عمر کے اس اقدام کی حمایت کرتے ہیں۔ ہمیں ان لوگوں کے کلچر سے نہیں بلکہ ابراہیمیؑ روایات سے اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے دلچسپی ہے۔ ہم ان کی حمایت بھی کرتے ہیں اور ان کی کامیابی کے لیے دعا بھی کرتے ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

