امریکہ کے بارے میں خوش فہمی یا غلط فہمی؟

   
مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ
۲۸ ستمبر ۲۰۰۱ء

(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)

آج کے حالات کے تناظر میں کچھ عرض کرنا چاہوں گا کہ امریکہ کے حادثات کے بعد صورتحال نے جو رُخ اختیار کیا ہے وہ آپ کے سامنے بھی ہے اور میرے سامنے بھی۔ ہمارے صدرِ محترم نے اُس دن ایک تقریر فرمائی ہے اور قوم کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ ہم امریکہ کو اپنے ملک میں آنے کی جو دعوت دے رہے ہیں، یا فرمائش کر رہے ہیں، یا جگہ دے رہے ہیں، یا فضا مہیا کر رہے ہیں، یا سہولتیں دے رہے ہیں، یہ دین کا تقاضا ہے، سیرت کا تقاضا ہے اور ہمارے ملک کے مفاد کا تقاضا ہے۔ ہم جو کر رہے ہیں ٹھیک کر رہے ہیں اور مخالفت کرنے والے لوگ غلط کر رہے ہیں۔ قرآن کریم بھی یہی کہتا ہے، حضورؐ کی سیرت بھی یہی ہے، ملک کی سالمیت کا تقاضا بھی یہی ہے، قوم کی ضرورت بھی یہی ہے۔

یہ باتیں آپ نے بھی سنی ہیں اور میں نے بھی۔ لیکن صدرِ مملکت نے جو دو بڑی دلیلیں دی ہیں میں اس کے حوالے سے کچھ عرض کرنا چاہوں گا۔

ایک بات تو انہوں نے فرمائی ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے صلح کی تھی اور اس صلح سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مشرکینِ مکہ سے تین جنگیں جیتی تھیں۔ بدر کی جنگ، احد کی جنگ اور خندق کی جنگ۔ پھر جناب نبی کریمؐ نے حدیبیہ میں مشرکینِ مکہ سے صلح کی، اس صلح سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خیبر میں یہودیوں کے خلاف جنگ جیتی۔ یعنی ایک دشمن سے صلح کی اور دوسرے دشمن سے جنگ کی۔ یہ حضورؐ کی حکمت اور دانشمندی تھی کہ دونوں دشمنوں سے بیک وقت نہیں لڑے۔ ایک دشمن کو خاموش کرایا اور دوسرے سے لڑ لیا، پھر دوسرے کو خاموش کرایا اور پہلے سے لڑ لیا۔ یعنی یہودیوں سے صلح کی اور کفار مکہ سے لڑے، پھر کفارِ مکہ سے صلح کی اور یہودیوں سے لڑے۔

میں صدرِ مملکت سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ صلح کس سے کر رہے ہیں اور لڑ کس سے رہے ہیں؟ آپ زمین کس کو دے رہے ہیں اور جنگ کس سے کر رہے ہیں؟ طالبان یہودی ہیں یا کفارِ مکہ ہیں؟ آپ کو یہ بات کرتے ہوئے خدا کا خوف نہیں آیا؟ وہ بات تو دو دشمنوں کی تھی کہ ایک دشمن کو ترجیح دی اور دوسرے کے ساتھ جنگ لڑی۔ طالبان تو ہمارے اور آپ کے مسلمان بھائی ہیں۔ کافر کی مدد کر کے مسلمان کو مارنا، یہ کونسی سیرت ہے؟ یہ حضورؐ کی سیرت نہیں ہے بلکہ شیطان کی سیرت ہے۔ لوگوں کو جناب نبی کریمؐ کی سیرت کے نام پر دھوکہ مت دو۔

پھر یہ بات دیکھیں کہ جب دو مسلمان آپس میں لڑ رہے ہوں تو اسوہ کیا ہے؟ کسی سرکاری مولوی نے آپ کو غلط گائیڈ کیا ہے۔ اور تاریخ یہ بتلاتی ہے کہ سرکاری مولوی ہمیشہ غلط راہنمائی کرتے ہیں۔ جب دو مسلمان آپس میں لڑ رہے ہوں اور کافر اُن دو مسلمانوں کی آپس کی لڑائی سے فائدہ اٹھانا چاہے تو اس کے لیے اسوہ کیا ہے؟ یہ بات تاریخی حقیقت ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکروں کی آپس میں جنگ ہوئی تو اس وقت کے امریکہ — قیصرِ روم، جو اس وقت کی سپر پاور تھی — اس نے حضرت معاویہؓ کو پیغام بھیجا کہ آپ کی جنگ ہے، اگر میری خدمت کی ضرورت ہو تو میں حاضر ہوں، میں بھی علیؓ کے خلاف اپنی فوجیں بھیج کر آپ کی مدد کر سکتا ہوں۔ حضرت معاویہؓ نے اس پر اُس وقت کی سپرپاور روم ایمپائر کو کیا جواب دیا، حضرت معاویہؓ نے اسے خط میں کس طرح مخاطب کیا: ’’يا کلب الرومی‘‘ اے رومی کتے! یہ ہم دو بھائیوں کی لڑائی ہے، یہ بات تمہارے ذہن میں آئی کیسے کہ تم دو بھائیوں کی لڑائی سے فائدہ اٹھاؤ؟ فرمایا: ’’والذی نفسی بیدہ‘‘ اس پروردگار کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، اگر تم نے میرے بھائی علیؓ کے خلاف فوج کشی کی تو علیؓ کے جھنڈے کے نیچے سب سے پہلے جو سپاہی لڑے گا وہ معاویہؓ ہوگا۔

یہ اُن دو مسلمان گروہوں کی بات ہے جو آپس میں لڑ رہے تھے۔ کیا تم طالبان اور امریکہ کو ترازو میں تولتے ہو؟ خدا کی قسم! یہ انتہائی بے غیرتی کی بات ہے۔ امریکہ نے گزشتہ پچاس سالوں میں ہمارے ساتھ سوائے دھوکہ اور فریب کے کیا کیا ہے؟ مجاہدینِ افغانستان نے ہماری جنگ لڑی ہے، ورنہ آج ہم روس کے شکنجے میں ہوتے اور امریکہ کو ایشیا میں کہیں پاؤں دھرنے کی جگہ نہ ملتی۔ پرویز مشرف صاحب! اگر وہ درمیان میں دیوار نہ بنتے، پندرہ لاکھ افغانی قربانی نہ دیتے تو روس آج کراچی میں، اسلام آباد میں بیٹھا ہوتا اور آپ جنرل پرویز مشرف نہیں کامریڈ مشرف کہلوا رہے ہوتے۔ آج بھی افغانستان میں طالبان وہ واحد حکومت ہیں جن کی وجہ سے پاکستان کی ہزاروں میل لمبی مغربی سرحدیں محفوظ ہیں۔ آج امریکہ کہہ رہا ہے کہ وہ افغانستان میں ظاہر شاہ کو لا کر بٹھائے گا۔ کیا پاکستان کے حکمرانوں کو یاد نہیں ہے کہ ظاہر شاہ نے پہلے ہمارے ساتھ کیا کیا تھا؟ تو میں یہ عرض کرنا چاہتا تھا کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سیرت نہیں ہے جو آپ بیان کر رہے ہیں، یہ آپ قوم کو کھلم کھلا دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دوسری بات صدرِ مملکت نے یہ فرمائی کہ ہم اپنی ایٹمی تنصیبات کا تحفظ چاہتے ہیں۔ آپ حضرات مسجد میں بیٹھے ہیں، دیانتداری کے ساتھ میرے اس سوال کا جواب دییے کہ ہمارے حساس مراکز، ہماری ایٹمی تنصیبات اور ہمارے میزائل پروگرامز، ان کا تحفظ امریکہ کے ساتھ فاصلہ رکھنے میں ہے یا امریکہ کو اپنے قریب لانے میں؟ کیا امریکہ کو پاکستان میں بٹھا کر تم ایٹمی تنصیبات کا تحفظ کرو گے؟ کس پاگل نے تمہیں یہ مشورہ دیا ہے، کیا آپ لوگوں کی عقل کام کرتی ہے؟ امریکہ پشاور میں بیٹھا ہو اور آپ قوم کو یہ تسلی دیں کہ اب ہماری ایٹمی تنصیبات محفوظ ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔

تیسری بات یہ فرمائی کہ اگر ہم امریکہ کو لاجسٹک سپورٹ دیں گے، یعنی اپنے ملک میں فوجی اڈے دیں گے، اپنے ملک کی فضا استعمال کرنے دیں گے تو ہماری معیشت سدھرے گی۔ ہمارا مسلمان بھائی سعودیہ جن کے پاس امریکہ کئی سال سے بیٹھا ہوا ہے، کیا ان کی معیشت بہتر ہو گئی ہے؟ سعودی عرب جو دنیا کو قرضے دیا کرتا تھا، آج بجٹ کا خسارہ پورا کرنے کے لیے عمرے پر ٹیکس لا رہا ہے۔ یہ جو نئی کاروباری عمرہ پالیسی ہے، یہ بجٹ کا خسارہ پورا کرنے کے لیے ہے۔ یہ سود خور امریکہ تمہیں معاشی فائدہ پہنچائے گا؟

پھر یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر ہم یہ فائدہ نہیں لیں گے تو بھارت لے لے گا۔ یعنی مقابلہ اس پر ہے کہ ہمارے مسلمان افغان بھائیوں کو مارنے کے لیے کہیں بھارت ہم پر سبقت نہ لے جائے! چلیں اس بات کو ہم حسنِ ظن کے طور پر ہی لے لیں کہ ایک کام ہونا ہی ہے تو اُس کا ہمارے دشمن کو فائدہ کیوں ہو۔ لیکن میں یہ عرض کر دوں کہ یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ اگر ہم امریکہ کو افغانستان پر حملہ کرنے میں مدد کریں گے تو وہ ہمیں بھارت پر ترجیح دے گا۔ ’’اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا‘‘۔ کیا لا علمی، کیا نا واقفیت اور کیا بے خبری ہے ہمارے حکمرانوں کی!

جب اسرائیل اور عرب آمنے سامنے تھے تو کئی عرب ممالک روس کے کیمپ میں تھے اور امریکہ کے مخالف تھے۔ لیکن وہ اس لالچ میں امریکہ کے کیمپ میں چلے گئے کہ ہم امریکہ کو روس کے خلاف مدد دیں گے تو امریکہ یہاں بیٹھے گا اور اسرائیل کے خلاف ہمیں ترجیح دے گا۔ مصر کو دیکھ لیں، شام کو دیکھ لیں۔ لیکن آج امریکہ بیٹھا کہاں ہے اور ترجیح کس کو دے رہا ہے؟ بیٹھا سعودی عرب میں ہے، بیٹھا کویت میں ہے، بیٹھا اُردن میں ہے، بیٹھا متحدہ امارات میں ہے، لیکن سپورٹ کس کی کر رہا ہے؟ ان عرب ممالک کو امریکہ کے سامنے جھک کر کیا ملا؟

جنابِ صدر! بولنے سے پہلے سوچ لیا کریں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ بات سیدھی سیدھی اور دوٹوک ہے کہ امریکہ کا یہاں آنا، خواہ کسی بھی عنوان سے ہو، یہ پاکستان کو امریکہ کی کالونی بنا دے گا، یہ پاکستان کو امریکہ کی غلامی میں دھکیل دے گا۔ لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ جہاں تک ہمارا بس چلے گا ہم اس سامراجی اقدام کی مخالفت کریں گے اور اس کے خلاف لڑیں گے۔ ہم برطانیہ کے خلاف بھی لڑے تھے، روس کے خلاف بھی لڑے تھے، اب امریکہ نے یہ کوشش کی تو امریکہ کے خلاف بھی ہم یہی کریں گے۔

اس وقت طالبان کی حکومت اسلامی کی نمائندہ ہے، اسے کمزور کرنا دراصل اسلام کو اور پاکستان کو کمزور کرنا ہے، اور پاکستان کے قومی مفادات کو تباہ کرنا ہے، ہم ایسی کسی بات کو قبول نہیں کریں گے۔ ملک کی دینی جماعتیں متحد ہیں، متفق ہیں، اور ان شاء اللہ العزیز آج سے احتجاجی تحریک کا آغاز ہو رہا ہے، جو ہمارے بس میں ہوا ہم کریں گے، لیکن نتائج ہمارے ہاتھ میں نہیں ہیں، نتائج اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ ہم اس بات کے مکلف ہیں کہ جو ہمارے بس میں ہو ہم اس سے گریز نہ کریں، ان شاء اللہ العزیز ہم اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

یہ بات سمجھ لیں کہ ہماری جدوجہد کا نتیجہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، لیکن آپ یہ دیکھ لیں کہ اپنی رائے اور اپنے جذبات آپ نے کس کیمپ میں ڈالنے ہیں۔ اپنے جذبات کا آپ صحیح اور بروقت اظہار کریں، دنیا میں ہمیں اس کا نتیجہ ملے یا نہ ملے لیکن ہم اللہ تعالیٰ کے ہاں تو سرخرو ہوں، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہم یہ کہہ سکیں کہ ہم جو کر سکتے تھے، ہم نے کیا۔ اس لیے سب حضرات ہمت کریں اور دینی قوتوں کا ساتھ دیں، یہ بہت نازک مرحلہ ہے اور پاکستان کی سالمیت کا مسئلہ ہے، پاکستان کی وحدت کا تقاضا ہے کہ امریکہ کی غلامی سے پاکستان کو بچایا جائے۔

2016ء سے
Flag Counter