(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)
جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نشانیاں بتائی تھیں وہ ایک ایک کر کے پوری ہو رہی ہیں۔ کل ہی میں نے طبرانی کی ایک روایت پڑھی ہے، فرمایا: تمہارا قتلِ عام ہوگا، نہرِ اردن کے مغربی کنارے پر ’’علی غرب نہر الاردن‘‘۔ اس زمانے میں صحابیؓ کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ پتہ نہیں تھا کہ اردن کہاں ہے اور نہرِ اردن کدھر ہے۔ نہرِ اردن کے کنارے پر تمہاری لاشیں بکھریں گی اور تمہارا قتلِ عام ہوگا۔ کیا خیال ہے جی! آج قتلِ عام ہو رہا ہے یا نہیں؟ اور کہاں ہو رہا ہے؟ یہ غزہ کیا ہے؟ یہ نہرِ اردن کا مغربی کنارہ ہے جہاں اسرائیلی درندے کتنے عرصے سے قتلِ عام کر رہے ہیں، جس طرح جنگلی درندے انسانوں کی آبادی میں گھس آتے ہیں اور لوگوں کی چیر پھاڑ کرتے ہیں۔
آج دنیا کے حالات سامنے رکھ کر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد پڑھیے: ’’یوشک الامم ان تداعی علیکم کما تداعی الاکلۃ الی قصعتہا‘‘ (سنن ابی داؤد ۴۲۹۷) کہ قومیں مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کے لیے ایک دوسرے کو یوں دعوت دیں گی جیسے تیار دستر خوان پر میزبان مہمان کو کھانے کی دعوت دیتا ہے۔ یعنی قومیں ایک دوسرے کو کہیں گی کہ وہاں تم حملہ کر دو، دوسری جگہ میں حملہ کر دیتا ہوں، فلاں کو تم مار دو، فلاں کو میں مار دیتا ہوں۔ اور مسلمان کافر کے لیے تر لقمہ ہوگا، جہاں جس کا جی چاہے گا چڑھ دوڑے گا، جہاں جس کا جی چاہے گا مسلمانوں کا قتلِ عام کر دے گا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسے حالات کے نتیجے میں ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے حالات میں ہمیں ایک بات کی تلقین فرمائی ہے کہ مسلمانو! اپنا ایمان بچانا۔ حالات تب سدھریں گے جب حضرت امام مہدیؑ کا ظہور ہوگا اور حضرت عیسٰیؑ تشریف لائیں گے، اس سے پہلے خرابیاں ہی خرابیاں ہیں، پریشانیاں ہی پریشانیاں ہیں، دن بدن مشکلات میں اضافہ ہی اضافہ ہے، اور آزمائشوں کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ ایسے حالات کے متعلق جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے پاس سب سے قیمتی چیز تمہارا ایمان ہو گی، تمہارا ایمان بچ گیا تو معاملات ٹھیک رہیں گے، ورنہ تباہی مقدر ہوگی۔ فرمایا کہ سب سے قیمتی چیز بھی ایمان ہو گی اور سب سے سستی چیز بھی ایمان ہو گی۔ جسے اپنے ایمان کی قدر معلوم ہے، اس کے نزدیک سب سے قیمتی چیز ایمان ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے ’’بادروا بالاعمال فتنا کقطع اللیل المظلم، یصبح الرجل مؤمنا، ویمسی کافرا، او یمسی مؤمنا، ویصبح کافرا، یبیع دینہ بعرض من الدنیا‘‘ (صحیح مسلم ۳۱۳) کہ ان فتنوں کے واقع ہونے سے پہلے نیک اعمال کر لو جو اندھیری رات کی طرح چھا جائیں گے، ایک شخص صبح مومن ہو گا اور شام کو کافر ہو جائے گا، یا شام کو مومن ہو گا اور صبح کافر ہو جائے گا، اور معمولی سی دنیاوی منفعت کے عوض اپنی متاع ایمان فروخت کر ڈالے گا۔

