مشی گن کی قدیم ترین مسجد

امریکی ریاست مشی گن کے سب سے بڑے شہر ڈیٹرائٹ میں چار روزہ قیام کے دوران نصف درجن کے لگ بھگ مساجد میں حاضری ہوئی، ان میں سے اکثر میں بیان بھی ہوئے۔ آج کل رمضان المبارک کے حوالے سے روزوں، قرآن کریم کی تلاوت اور رمضان المبارک سے متعلقہ دیگر اعمال خیر کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ ان بیانات میں ابتداء سے اعلان کر دیا جاتا ہے کہ بیان اردو میں ہوگا اور اردو نہ سمجھنے والوں کے لیے ایک کونے میں انگریزی میں ساتھ ساتھ ترجمے کا اہتمام بھی ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ اگست ۲۰۰۹ء

پی آئی اے کے ساتھ پرواز کے تجربات

فیصل آباد کے ہمارے ایک دوست قاری خالد رشید صاحب نے، جو اکثر بیرونی سفر کرتے رہتے ہیں، مجھ سے کئی بار کہا ہے کہ پی آئی اے کے ذریعے سفر سے پکی توبہ کر لوں مگر بار بار کے تلخ تجربے کے باوجود ابھی تک دل اس بات کو قبول نہیں کر رہا اور پی آئی اے کے ذریعے سفر اب بھی میری ترجیحات میں شامل ہے۔ اس سلسلہ میں دو دلچسپ حالیہ تجربات قارئین کے علم میں لانا مناسب معلوم ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ جولائی ۲۰۱۱ء

دو انتہاؤں پر کھڑے مذہبی طبقات

مجھے امریکہ میں آئے تقریباً ایک ماہ ہوگیا ہے، اس دوران نیویارک، واشنگٹن ڈی سی، بالٹی مور، ڈیٹرائیٹ، ہیوسٹن، ڈیلاس اور شارلٹ وغیرہ میں بہت سے احباب سے ملاقاتوں اور تبادلۂ خیالات کا موقع ملا۔ میری یہاں ہر سفر میں کوشش ہوتی ہے کہ دینی حلقوں، بالخصوص پاکستانیوں کی مذہبی سرگرمیوں سے واقفیت حاصل کروں اور انہیں بہتر بنانے کے لیے جو صورت سمجھ میں آئے اس کا دوستوں کے سامنے اظہار بھی کروں۔ میرا زیادہ تر تعلق پاکستانی حلقوں سے رہتا ہے اور دینی درسگاہیں اور مساجد میری جولانگاہ ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ ستمبر ۲۰۰۸ء

شریعہ بورڈ آف امریکہ اور اس کے فیصلے

گزشتہ ماہ میں نیویارک گیا اور کوئنز کے علاقے میں واقع دینی درسگاہ دارالعلوم نیویارک کے سالانہ امتحانات میں مصروف رہا جہاں درس نظامی کا وہی نصاب پڑھایا جاتا ہے جو ہمارے ہاں مدارس میں مروج ہے۔ برطانیہ اور امریکہ میں بیسیوں مدارس اس نصاب کے مطابق نئی نسل کی دینی تعلیم و تدریس میں سرگرم عمل ہیں۔ طلبہ کے مدارس بھی ہیں اور طالبات کے بھی۔ درس نظامی سے میری مراد یہ ہے کہ بنیادی ڈھانچہ اور اہداف وہی ہیں کہ دینی تدریس و تعلیم اور امامت و خطابت کے لیے رجال کار تیار کیے جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ ستمبر ۲۰۰۸ء

لاہور تا نیویارک سفر بذریعہ پی آئی اے

میری کوشش ہوتی ہے کہ سفر کے لیے قومی ایئرلائن پی آئی اے کو ذریعہ بناؤں مگر ہر بار کوئی نہ کوئی بار ایسی ضرور ہو جاتی ہے کہ اس کوشش پر نظر ثانی کو جی چاہنے لگتا ہے۔ اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا۔ مجھے اگست کے آغاز میں امریکہ کے لیے سفر کرنا تھا جس کے لیے میں نے ۲ اگست کو لاہور سے نیویارک تک پی آئی اے کی سیٹ بک کرالی اور ریٹرن ٹکٹ خرید لیا۔ فیصل آباد سے ہمارے ایک دوست قاری خالد رشید صاحب نے بھی جانا تھا وہ امریکہ کے گرین کارڈ ہولڈر ہیں اور وقتاً فوقتاً آتے جاتے رہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ اگست ۲۰۰۸ء

امریکہ کا نرالا الیکشن اور مسلمان

اس بار امریکہ میں زیادہ گھومنے پھرنے کا موقع نہیں ملا، صرف ورجینیا اور واشنگٹن ڈی سی کے علاقے میں تقریباً بیس دن گزار کر واپسی ہو رہی ہے۔ ۱۱ اکتوبر کو لندن سے نیویارک کے لیے سیٹ بک کرالی تھی کہ دارالہدٰی سپرنگ فیلڈ (ورجینیا، امریکہ) کے پرنسپل مولانا عبدا لحمید اصغر کا پیغام ملا کہ آپ نیویارک کی بجائے سیدھے واشنگٹن آئیں کیونکہ نیویارک سے آنے جانے میں دو تین دن نیویارک میں صرف ہو جائیں گے اور ہمارے لیے وقت کم رہے گا اس لیے کہ ۲۲ اکتوبر کو امریکہ سے میری واپسی کا پروگرام تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ اکتوبر ۲۰۰۴ء

مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ

مفتی محمد جمیل خان شہید اور مولانا نذیر احمد تونسوی شہیدؒ کے المناک قتل کی خبر مجھے لندن میں ملی۔ مفتی محمد جمیل خانؒ سے ۸ ستمبر کو جامعہ اسلامیہ راولپنڈی صدر کے سالانہ جلسہ ختم بخاری شریف میں ملاقات ہوئی تھی، ۱۳ ستمبر کو بیرونی سفر پر روانہ ہوگیا تھا اس لیے یہ آخری ملاقات ثابت ہوئی۔ پہلی ملاقات جہاں تک یاد پڑتا ہے ۱۹۷۴ء میں ہوئی تھی جب وہ مدرسہ اشرف العلوم گوجرانوالہ میں طالب علم تھے اور میں مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے خطیب حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کی نیابت کے فرائض سرانجام دے رہا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اکتوبر ۲۰۰۴ء

مسلمانوں میں فکر و شعور کی بیداری، وقت کا اہم تقاضا

حرمین شریفین کی حاضری کے بعد لندن روانگی سے قبل ایک دو روز جدہ میں قیام رہا اور ایک بزرگ محدث کی خدمت میں حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ الشیخ عبد اللہ بن احمد الناجی مدظلہ معمر علماء کرام میں سے ہیں اور حدیث نبویؐ کے ممتاز فضلاء میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ایک سو پندرہ برس ان کی عمر ہے اور اب سے پون صدی قبل کے اکابر محدثین سے تلمذ کا شرف رکھتے ہیں۔ سماعت کمزور ہو چکی ہے مگر گفتگو بے تکلفی سے کرتے ہیں۔ شافعی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اور زندگی بھر حدیث نبویؐ کی خدمت میں مصروف رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اکتوبر ۲۰۰۴ء

سعودی عرب کی عمرہ پالیسی اور پاکستانی ایجنٹ

یہ سطور مدینہ منورہ میں بیٹھا لکھ رہا ہوں۔ ۱۹۹۸ء کے بعد چھ سال کے وقفے سے یہاں حاضری ہوئی ہے۔ ۱۹۸۴ء سے معمول تھا کہ ہر دوسرے یا تیسرے سال لندن سے واپسی پر حرمین شریفین کی حاضری کی سعادت حاصل ہو جایا کرتی تھی مگر سعودی عرب کی نئی عمرہ پالیسی کی وجہ سے اب یہ آسان نہیں رہا۔ پہلے لندن میں سعودی سفارت خانہ وزٹ پر برطانیہ آنے والوں کو واپسی پر سعودی ایئرلائن کے ذریعے سفر کی صورت میں عمرے کا ویزا دے دیا کرتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ ستمبر ۲۰۰۴ء

امریکہ: لورے کیورن کی سیر

میرے سفر کے مقاصد میں گھومنا پھرنا اور تاریخی آثار کو دیکھنا بھی شامل ہوتا ہے۔ قرآن کریم نے اس کی تلقین فرمائی ہے کہ زمین میں گھومو پھرو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار کے ساتھ ساتھ قوموں کے عروج و زوال کے اسباب و عوامل اور نشانات کے بارے میں معلومات بھی حاصل کرو۔ واشنگٹن ڈی سی کے علاقے میں دو پاکستانی دوست محمد اشرف خان (آف جوہر آباد) اور جناب ناہن علی (آف سیالکوٹ) اس سلسلہ میں میری معاونت و رفاقت کرتے ہیں۔ گزشتہ سال وہ مجھے آمشوں کے علاقے میں لے گئے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ جولائی ۲۰۰۴ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter