نیویارک کے مسلمانوں کی قرآن فہمی میں دلچسپی
میں ان دنوں نیویارک میں ہوں اور کوئنز کے علاقہ جمیکا میں واقع دارالعلوم نیویارک میں قیام پذیر ہوں۔ رات کو تراویح کے بعد تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کریم کے خلاصے کے طور پر کچھ گزارشات پیش کر دیتا ہوں اور نماز فجر کے بعد ایک حدیث نبویؐ مختصر وضاحت کے ساتھ بیان کرنے کا معمول ہے۔ اس کے علاوہ باقی دن رات کا وقت تھوڑے سے دیگر معمولات کے ساتھ سوتے جاگتے گزرتا ہے اور میرے لیے یہ دن پورے سال میں سب سے زیادہ آرام کے دن ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امریکہ میں مسلمانوں کی تعلیمی اور تبلیغی سرگرمیاں
گزشتہ تین ہفتوں سے امریکہ میں ہوں اور ہفتہ عشرہ تک مزید یہاں رہ کر رمضان المبارک کے دوسرے جمعہ تک گوجرانوالہ واپس پہنچنے کا ارادہ ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اس سفر میں دو تین تبدیلیاں واضح طور پر محسوس ہو رہی ہیں۔ ایک یہ کہ ایئرپورٹس پر تلاشی اور چیکنگ میں سختی والا ماحول اب رفتہ رفتہ نرم پڑتا جا رہا ہے۔ نیویارک ایئرپورٹ پر امیگریشن چیکنگ اور تلاشی وغیرہ کا دورانیہ جو اس سے قبل تین چار گھنٹوں تک پھیل جاتا تھا اس بار چار پانچ منٹوں میں نمٹ گیا جبکہ تلاشی کی سرے سے نوبت ہی نہیں آئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
انتہا پسندی اور اس کی خودساختہ تعریف
نیویارک سے شائع ہونے والے اردو اخبار ہفت روزہ ’’پاکستان پوسٹ‘‘ کا جون کا آخری شمارہ اس وقت میرے سامنے ہے اور اس میں انتہا پسندی کے حوالے سے شائع ہونے والی دو خبریں توجہ کو اپنی طرف مبذول کیے ہوئے ہیں۔ ایک یہ کہ امریکی کانگریس کی ’’ہوم لینڈ سکیورٹی کمیٹی‘‘ نے گزشتہ دنوں اس مسئلہ پر انکوائری کا اہتمام کیا کہ امریکہ کی جیلوں میں محبوس مسلمان قیدیوں میں انتہاپسندی کے رجحانات بڑھ رہے ہیں ان پر کیسے قابو پایا جائے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مشی گن کی قدیم ترین مسجد
امریکی ریاست مشی گن کے سب سے بڑے شہر ڈیٹرائٹ میں چار روزہ قیام کے دوران نصف درجن کے لگ بھگ مساجد میں حاضری ہوئی، ان میں سے اکثر میں بیان بھی ہوئے۔ آج کل رمضان المبارک کے حوالے سے روزوں، قرآن کریم کی تلاوت اور رمضان المبارک سے متعلقہ دیگر اعمال خیر کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ ان بیانات میں ابتداء سے اعلان کر دیا جاتا ہے کہ بیان اردو میں ہوگا اور اردو نہ سمجھنے والوں کے لیے ایک کونے میں انگریزی میں ساتھ ساتھ ترجمے کا اہتمام بھی ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پی آئی اے کے ساتھ پرواز کے تجربات
فیصل آباد کے ہمارے ایک دوست قاری خالد رشید صاحب نے، جو اکثر بیرونی سفر کرتے رہتے ہیں، مجھ سے کئی بار کہا ہے کہ پی آئی اے کے ذریعے سفر سے پکی توبہ کر لوں مگر بار بار کے تلخ تجربے کے باوجود ابھی تک دل اس بات کو قبول نہیں کر رہا اور پی آئی اے کے ذریعے سفر اب بھی میری ترجیحات میں شامل ہے۔ اس سلسلہ میں دو دلچسپ حالیہ تجربات قارئین کے علم میں لانا مناسب معلوم ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دو انتہاؤں پر کھڑے مذہبی طبقات
مجھے امریکہ میں آئے تقریباً ایک ماہ ہوگیا ہے، اس دوران نیویارک، واشنگٹن ڈی سی، بالٹی مور، ڈیٹرائیٹ، ہیوسٹن، ڈیلاس اور شارلٹ وغیرہ میں بہت سے احباب سے ملاقاتوں اور تبادلۂ خیالات کا موقع ملا۔ میری یہاں ہر سفر میں کوشش ہوتی ہے کہ دینی حلقوں، بالخصوص پاکستانیوں کی مذہبی سرگرمیوں سے واقفیت حاصل کروں اور انہیں بہتر بنانے کے لیے جو صورت سمجھ میں آئے اس کا دوستوں کے سامنے اظہار بھی کروں۔ میرا زیادہ تر تعلق پاکستانی حلقوں سے رہتا ہے اور دینی درسگاہیں اور مساجد میری جولانگاہ ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شریعہ بورڈ آف امریکہ اور اس کے فیصلے
گزشتہ ماہ میں نیویارک گیا اور کوئنز کے علاقے میں واقع دینی درسگاہ دارالعلوم نیویارک کے سالانہ امتحانات میں مصروف رہا جہاں درس نظامی کا وہی نصاب پڑھایا جاتا ہے جو ہمارے ہاں مدارس میں مروج ہے۔ برطانیہ اور امریکہ میں بیسیوں مدارس اس نصاب کے مطابق نئی نسل کی دینی تعلیم و تدریس میں سرگرم عمل ہیں۔ طلبہ کے مدارس بھی ہیں اور طالبات کے بھی۔ درس نظامی سے میری مراد یہ ہے کہ بنیادی ڈھانچہ اور اہداف وہی ہیں کہ دینی تدریس و تعلیم اور امامت و خطابت کے لیے رجال کار تیار کیے جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
لاہور تا نیویارک سفر بذریعہ پی آئی اے
میری کوشش ہوتی ہے کہ سفر کے لیے قومی ایئرلائن پی آئی اے کو ذریعہ بناؤں مگر ہر بار کوئی نہ کوئی بار ایسی ضرور ہو جاتی ہے کہ اس کوشش پر نظر ثانی کو جی چاہنے لگتا ہے۔ اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا۔ مجھے اگست کے آغاز میں امریکہ کے لیے سفر کرنا تھا جس کے لیے میں نے ۲ اگست کو لاہور سے نیویارک تک پی آئی اے کی سیٹ بک کرالی اور ریٹرن ٹکٹ خرید لیا۔ فیصل آباد سے ہمارے ایک دوست قاری خالد رشید صاحب نے بھی جانا تھا وہ امریکہ کے گرین کارڈ ہولڈر ہیں اور وقتاً فوقتاً آتے جاتے رہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امریکہ کا نرالا الیکشن اور مسلمان
اس بار امریکہ میں زیادہ گھومنے پھرنے کا موقع نہیں ملا، صرف ورجینیا اور واشنگٹن ڈی سی کے علاقے میں تقریباً بیس دن گزار کر واپسی ہو رہی ہے۔ ۱۱ اکتوبر کو لندن سے نیویارک کے لیے سیٹ بک کرالی تھی کہ دارالہدٰی سپرنگ فیلڈ (ورجینیا، امریکہ) کے پرنسپل مولانا عبدا لحمید اصغر کا پیغام ملا کہ آپ نیویارک کی بجائے سیدھے واشنگٹن آئیں کیونکہ نیویارک سے آنے جانے میں دو تین دن نیویارک میں صرف ہو جائیں گے اور ہمارے لیے وقت کم رہے گا اس لیے کہ ۲۲ اکتوبر کو امریکہ سے میری واپسی کا پروگرام تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ
مفتی محمد جمیل خان شہید اور مولانا نذیر احمد تونسوی شہیدؒ کے المناک قتل کی خبر مجھے لندن میں ملی۔ مفتی محمد جمیل خانؒ سے ۸ ستمبر کو جامعہ اسلامیہ راولپنڈی صدر کے سالانہ جلسہ ختم بخاری شریف میں ملاقات ہوئی تھی، ۱۳ ستمبر کو بیرونی سفر پر روانہ ہوگیا تھا اس لیے یہ آخری ملاقات ثابت ہوئی۔ پہلی ملاقات جہاں تک یاد پڑتا ہے ۱۹۷۴ء میں ہوئی تھی جب وہ مدرسہ اشرف العلوم گوجرانوالہ میں طالب علم تھے اور میں مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے خطیب حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کی نیابت کے فرائض سرانجام دے رہا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 282
- 283
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »