کیوبا سے رہائی پانے والے ایک مجاہد کی داستان

بحمد اللہ تعالیٰ گزشتہ چونتیس برس سے گوجرانوالہ کی مرکزی جامع مسجد میں خطابت و امامت کے فرائض سرانجام دے رہا ہوں۔ جمعہ کی نماز کے بعد ایک عام سی روایت بن گئی ہے کہ کچھ دوست ملاقات کرتے ہیں اور تھوڑی دیر میرے دفتر میں بیٹھتے ہیں، کسی نے کوئی مسئلہ پوچھنا ہوتا ہے، کوئی کسی معاملہ میں مشورہ کے خواہاں ہوتے ہیں اور کوئی ویسے ہی ملاقات اور گپ شپ کے لیے بیٹھ جاتے ہیں۔ ایسا عام طور پر مساجد میں دینی جلسوں کے بعد بھی ہوتا ہے، خطاب اور دعا کے بعد کچھ حضرات کی خواہش ہوتی ہے کہ مصافحہ کریں ملاقات ہو اور تھوڑی بہت گفتگو بھی ہو جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جولائی ۲۰۰۳ء

نفاذ اسلام کی کوششیں اور قومی خودمختاری کا مسئلہ

گورنر سرحد سید افتخار حسین شاہ نے سرحد اسمبلی کے منظور کردہ ’’حسبہ ایکٹ‘‘ کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے واپس کر دیا ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ گورنر کی طرف سے حسبہ ایکٹ پر سات اعتراضات کیے گئے ہیں جن میں آئین سے تجاوز اور عدالتوں کو نظر انداز کرنے کے دو اعتراض بھی شامل ہیں۔ جبکہ صوبائی وزارت قانون نے چھ صفحات پر مشتمل جواب میں ان اعتراضات کو غلط فہمی پر مبنی قرار دیا ہے۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ حسبہ ایکٹ ممتاز آئینی اور قانونی ماہرین کی مشاورت سے بنایا گیا ہے اور اس میں جو طریق کار اختیار کیا گیا ہے اس کی آئین میں گنجائش موجود ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ جولائی ۲۰۰۳ء

فلسطینی وزیراعظم محمود عباس اور بہائی فرقہ

فلسطین کی آزادی اور فلسطینیوں کے لیے الگ ریاست کے قیام کے لیے کم و بیش پینتیس برس سے مسلسل جدوجہد کرنے والے لیڈر یاسر عرفات کو منظر سے ہٹا کر محمود عباس کو سامنے لایا گیا ہے اور اب امریکہ اور اسرائیل فلسطین کے مستقبل کے حوالہ سے کم و بیش سارے معاملات محمود عباس سے طے کر رہے ہیں۔ قارئین کو یہ بات یاد ہوگی کہ یاسر عرفات کو پس منظر میں لے جانے اور محمود عباس کو فلسطینی اتھارٹی کا وزیراعظم بنوانے میں سب سے زیادہ دلچسپی امریکہ نے لی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جولائی ۲۰۰۳ء

شیعہ سنی فسادات کون کرانا چاہتا ہے؟

جدید ڈپلومیسی کی ایک تکنیک یہ بھی ہے کہ جو غلط کام خود کرنا چاہو اسے اپنے مخالف کی طرف منسوب کر کے اس قدر پراپیگنڈا کرو کہ عوام کی نظروں میں اس کارِ بد کی ذمہ داری سے خود بچ سکو اور مخالفین کو بدنام کرنے کا ایک بڑا بہانہ ہاتھ آئے۔ حکمران گروہ دراصل اسی تکنیک کو اختیار کر کے اپوزیشن رہنماؤں کی مسلسل کردار کشی میں مصروف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ دسمبر ۱۹۷۶ء

جونیجو فضل الرحمان ملاقات ۔ قومی سیاست میں نئی صف بندی کا آغاز

۱۷ مارچ کو پاکستان کے وزیراعظم جناب محمد خاں جونیجو جلسہ عام سے خطاب کرنے کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان پہنچے تو اس موقع پر انہوں نے ایم آر ڈی کے راہنما مولانا فضل الرحمان سے بھی ان کی رہائش گاہ پر عبدل الخیل میں ملاقات کی جو تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہی۔ اس ملاقات کا پروگرام پہلے سے طے شدہ تھا جس کا اعلان قومی اخبارات میں آچکا تھا اور متعدد وفاقی وزراء اس ملاقات کا انتظام کرنے کے لیے کافی دنوں سے متحرک تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ مارچ ۱۹۸۷ء

نوابزادہ نصر اللہ خان، ایم آر ڈی اور مجلس تحفظ ختم نبوت

تحریک ختم نبوت کے ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء کے ادوار میں اس مقدس مشن کے ساتھ نوابزادہ موصوف کی پرجوش وابستگی اور خدمات کے باعث تحریک ختم نبوت کے راہنما اور کارکن ان کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ لیکن اس ضمن میں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ تحریک ختم نبوت کے ساتھ نوابزادہ نصر اللہ خان کی ذاتی وابستگی اور شخصی خدمات کے سہارے ایم آر ڈی کو مرکزی مجلس عمل کا پلیٹ فارم اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ نومبر ۱۹۸۴ء

جہاد کی فرضیت اور افرادی قوت کا تناسب

جہاد کے بارے میں سورۃ الانفال کی آیت ۶۵ و ۶۶ میں اللہ تعالیٰ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اہل ایمان کو لڑائی پر ابھاریں اور اس کے ساتھ یہ وعدہ فرمایا ہے کہ اگر دس کافروں کے مقابلہ میں ایک مسلمان ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا حکم بھی ساتھ شامل ہوگا تو دس کے مقابلہ میں ایک مسلمان کو غلبہ نصیب ہوگا۔ یہ ابتدائی حکم تھا جس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تخفیف فرما دی کہ دو کے مقابلہ میں ایک مسلمان کو غلبہ ملے گا اگر اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا حکم اور حکمت شامل ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ فروری ۲۰۰۲ء

فیصل آباد کا شہباز احمد ۔ امام مہدی ہونے کا ایک اور دعویدار

فیصل آباد میں شہباز احمد نامی ایک نئے مہدی کے ظہور نے امام مہدی کی آمد کے بارے میں بحث و گفتگو کا بازار ایک بار پھر گرم کر دیا ہے اور ملک بھر میں دینی محافل میں اس کا تذکرہ پھر سے ہونے لگا ہے۔ جہاں تک قیامت سے پہلے نسل انسانی کے آخری دور میں کسی مصلح شخصیت کے ظہور کا تعلق ہے یہ انتظار کم و بیش ہر مذہب کے پیروکاروں کو ہے البتہ اس کے عنوانات مختلف ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ جنوری ۲۰۰۶ء

جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اہم فیصلے

حضرت امیر مرکزیہ مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم، قائد جمعیۃ حضرت مولانا مفتی محمود مدظلہ، حضرت مولانا عبید اللہ انور مدظلہ، حضرت مولانا خان محمد مدظلہ آف کندیاں شریف اور حضرت مولانا سید نیاز احمد شاہ گیلانی پر مشتمل وفد بہت جلد مندرجہ ذیل شہروں کا دورہ کر کے کارکنوں کے علاقائی اجتماعات سے خطاب کرے گا۔ کراچی، حیدر آباد، سکھر، رحیم یار خان، ملتان، لاہور، گوجرانوالہ، لائل پور، سرگودھا، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ، جھنگ، سیالکوٹ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ مئی ۱۹۷۵ء

اقوام متحدہ کے منشور پر نظرثانی کی ضرورت

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی انسانی حقوق کمیٹی نے کچھ عرصہ قبل اسلامی جمہوریہ ایران کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں ایرانی حکومت سے متعدد قوانین اور پالیسیوں کی تبدیلی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ قرارداد ۵۲ کے مقابلہ میں ۷۱ ووٹوں سے منظور ہوئی ہے۔ قرارداد کے خلاف ووٹ دینے والوں میں اکثریت مسلم ممالک اور سابق کمیونسٹ ملکوں کی ہے جبکہ ۴۱ ممالک رائے شماری سے غیر حاضر رہے جن میں زیادہ افریقی ممالک ہیں۔ اخباری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنرل اسمبلی اگلے ماہ اس قرارداد کی حتمی منظوری دے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ دسمبر ۲۰۰۱ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter