دیوبندی بریلوی اتحاد کے بارے میں مولانا عبد الستار خان نیازی کے فارمولا کا خیرمقدم

گکھڑ منڈی (نامہ نگار) کالعدم جمعیۃ علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا زاہد الراشدی نے مولانا عبد الستار خان نیازی کی طرف سے بریلوی اور دیوبندی مکتبہ فکر کے مابین مفاہمت اور اتحاد کی تجاویز کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر ان تجاویز پر عمل ہو جائے تو یہ دین اور ملک کی بہت بڑی خدمت ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دیوبندی بریلوی اتحاد کے بارے میں مولانا عبد الستار خان نیازی کے فارمولا کا خیرمقدم

۱۳ دسمبر ۱۹۸۵ء

جنوبی افریقہ کی غیر مسلم عدالت کا فیصلہ

مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری اطلاعات مولانا زاہد الراشدی نے کہا ہے کہ قادیانیوں کو مسلمان قرار دینے کے بارے میں جنوبی افریقہ کی غیر مسلم عدالت کے حالیہ فیصلہ کی کوئی دینی یا اخلاقی حیثیت نہیں ہے کیونکہ کسی شخص یا گروہ کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرنا خالصتاً مسلم علماء کا کام ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جنوبی افریقہ کی غیر مسلم عدالت کا فیصلہ

۱۳ دسمبر ۱۹۸۵ء

قادیانیت اور ’’انٹرنیشنل تحفظ ختم نبوت مشن‘‘

قادیانیت کا مسئلہ بنیادی طور پر پاکستان اور ہندوستان کا مسئلہ ہے لیکن چونکہ اس فتنہ کی تخم ریزی اور آبیاری برطانوی استعمار نے اپنے دور اقتدار میں نوآبادیاتی مقاصد کے لیے کی تھی، اور دنیا میں جہاں برطانوی اقتدار اور اثرات رہے ہیں وہاں اس فتنہ کے قدم بھی پہنچے ہیں۔ بالخصوص پاکستان کے اولین وزیرخارجہ چودھری ظفر اللہ خان نے اپنے دور وزارت میں وزارت خارجہ کو قادیانیت کی تبلیغ و توسیع کے لیے پوری طرح استعمال کیا ہے۔ اس لیے دنیا کے مختلف حصوں میں قادیانیت کے اثرات اور مراکز موجود ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانیت اور ’’انٹرنیشنل تحفظ ختم نبوت مشن‘‘

۱۸ اکتوبر ۱۹۸۵ء

حضرت مولانا محمد عبد اللہ رائے پوریؒ

غالباً ستائیسواں روزہ تھا کہ معمول کے مطابق صبح نو بجے کے قریب اخبار ہاتھ میں لیا تو اس کے دوسرے صفحہ پر ایک کالمی ایک سطری سرخی کے ساتھ کسی سیاہ حاشیہ کے بغیر چند سطری خبر تھی کہ جامعہ رشیدیہ ساہیوال کے شیخ الحدیث مولانا محمد عبد اللہؒ انتقال کر گئے۔ زبان پر بے ساختہ انا للہ وانا الیہ راجعون جاری ہوا اور دل دوہرے رنج و غم میں ڈوب گیا۔ ایک صدمہ مولانا مرحوم کی وفات پر اور دوسرا قومی پریس کی بے خبری، سطحیت، ظاہر بینی یا بے حسی پر کہ ایک قومی اخبار کے نامہ نگار یا ایڈیٹر کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہو سکا کہ جس شخص کی وفات کی خبر کو وہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد عبد اللہ رائے پوریؒ

۱۴ جولائی ۱۹۸۵ء

نوابزادہ نصر اللہ خان، ایم آر ڈی اور مجلس تحفظ ختم نبوت

تحریک ختم نبوت کے ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء کے ادوار میں اس مقدس مشن کے ساتھ نوابزادہ موصوف کی پرجوش وابستگی اور خدمات کے باعث تحریک ختم نبوت کے راہنما اور کارکن ان کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ لیکن اس ضمن میں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ تحریک ختم نبوت کے ساتھ نوابزادہ نصر اللہ خان کی ذاتی وابستگی اور شخصی خدمات کے سہارے ایم آر ڈی کو مرکزی مجلس عمل کا پلیٹ فارم اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نوابزادہ نصر اللہ خان، ایم آر ڈی اور مجلس تحفظ ختم نبوت

۹ نومبر ۱۹۸۴ء

نظامِ شریعت کنونشن اور ہماری ذمہ داریاں، کارکن توجہ فرمائیں!

ملک کی موجودہ صورتحال جو منظر پیش کر رہی ہے اور ہواؤں کا رخ مستقبل کے بارے میں جن خدشات و توقعات کی نشاندہی کر رہا ہے اس کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ علماء حق سستی اور تساہل کو خیرباد کہتے ہوئے آنکھیں کھولیں، گرد و پیش کا جائزہ لیں، آنے والے وقت کی ضروریات اور تقاضوں کا احساس کریں، اپنی توانائیوں، وسائل اور صلاحیتوں کو مجتمع کریں، نئی صف بندی میں اپنے مقام کا تعین کریں اور پھر اس کے حصول کے لیے اپنی استعداد اور قوتوں کو منظم طریقہ کے ساتھ استعمال میں لائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نظامِ شریعت کنونشن اور ہماری ذمہ داریاں، کارکن توجہ فرمائیں!

۱۲ اکتوبر ۱۹۸۴ء

مولانا فضل رازقؒ

ہری پور ہزارہ کے ممتاز عالم دین اور صوبہ سرحد کی صوبائی کونسل کے رکن مولانا فضل رازق مرحوم کی اچانک موت علمی و دینی حلقوں کو ایک ایسے صدمے سے دوچار کر گئی ہے جس کی کسک حساس دلوں کو دیر تک محسوس ہوتی رہے گی۔ مولانا مرحوم نے تقریباً پینتیس برس کی مختصر عمر میں علمی و سیاسی حلقوں میں جو نمایاں مقام حاصل کر لیا تھا وہ ان کی خداداد صلاحیتوں اور مسلسل جدوجہد کا مظہر تھا اور انہیں ایک پختہ عالم، پرجوش خطیب اور زیرک سیاستدان کے ساتھ ساتھ ایک بے لوث اور انتھک سماجی کارکن کی حیثیت سے پہچانا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا فضل رازقؒ

۲۱ ستمبر ۱۹۸۴ء

مرکزی مجلس عمل کے صدر کا انتخاب کیوں نہ ہو سکا؟

۱۱ دسمبر ۱۹۸۳ء کو مدرسہ قاسم العلوم شیرانوالہ گیٹ لاہور میں منعقدہ اجلاس میں کل جماعتی مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے سربراہ کا باقاعدہ انتخاب نہیں ہو سکا تھا اور مولانا محمد شریف جالندھری کو سیکرٹری اور راقم الحروف کو رابطہ سیکرٹری منتخب کر کے باقی کام آئندہ پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ یہ ایک معمول کی کاروائی تھی جسے روزنامہ جنگ کے لاہور کے ڈائری نویس نے ۲۴ دسمبر ۱۹۸۳ء کے جنگ میں شائع ہونے والی لاہور کی ڈائری میں تجسس اور سنسنی خیزی کا رنگ دے کر شکوک و شبہات اور بے اعتمادی کی فضا قائم کرنے کی کوشش کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مرکزی مجلس عمل کے صدر کا انتخاب کیوں نہ ہو سکا؟

۱۰ فروری ۱۹۸۴ء

جمعیۃ علماء اسلام کے اتحاد کا بنیادی تقاضہ

ماہِ رواں کی چار تاریخ کو ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اخباری نمائندوں سے گفتگو کے دوران ایک اخبار نویس دوست نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے دوبارہ متحد ہونے کا کوئی امکان ہے؟ میں نے اس کے جواب میں عرض کیا کہ جمعیۃ میں تفریق ایم آر ڈی میں شرکت کے سوال پر ہوئی ہے کیونکہ اسلامی نظام اور دینی مقاصد کی بالادستی کی شرط کے بغیر کسی سیاسی اتحاد میں شمولیت ہماری روایات، دینی تشخص اور ولی اللہی مشن کے منافی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ علماء اسلام کے اتحاد کا بنیادی تقاضہ

۲۰ جنوری ۱۹۸۴ء

مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ

حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب اور شمس العلماء حضرت مولانا شمس الحق افغانی قدس اللہ سرہما کی جدائی کا غم ابھی مندمل نہیں ہو پایا تھا کہ علمی دنیا کو ایک اور محقق عالم، وسیع المطالعہ مصنف اور نکتہ رس خطیب کی مفارقت کا غم بھی اٹھانا پڑ گیا ہے۔ یہ شخصیت حضرت مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ کی ہے جن کے بارے میں گزشتہ روز اخبارات میں غیر نمایاں طور پر ایک کالمی خبر شائع ہوئی ہے کہ ان کا ملتان میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ

۲۰ جنوری ۱۹۸۴ء

Pages

نوٹ:   بعض مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین خصوصاً محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔