مولانا سید محمد شمس الدین کے ساتھ ایک نشست

برادرِ مکرم حضرت مولانا سید محمد شمس الدین صاحب امیر جمعیۃ علماء اسلام بلوچستان و ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی میرے ساتھی اور دوست ہیں۔ دورۂ حدیث میں ہم اکٹھے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں عزم و استقامت کے میدان میں جو سبقت عطا فرمائی ہے وہ موصوف کے میرے جیسے ساتھیوں کے لیے قابل فخر بھی ہے اور قابل رشک بھی۔ اللہ تعالیٰ ان کے عزم و ہمت میں برکت دیں۔ مولانا گزشتہ دنوں گوجرانوالہ تشریف لائے تو ایک مختصر محفل میں تعارف و خیالات کی رپورٹ قلمبند ہوگئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا سید محمد شمس الدین کے ساتھ ایک نشست

۱۶ نومبر ۱۹۷۳ء

مولانا مفتی محمود کے خلاف وائٹ پیپر

سرحد کے وزیراعلیٰ جناب عنایت اللہ گنڈاپور کو جب سے وزارت اعلیٰ کی کرسی پر ٹکایا گیا ہے وہ کچھ عجیب سے احساس کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان کے لیے مصیبت یہ ہے کہ جس مسند پر وہ حضرت مولانا مفتی محمود صاحب جیسی قدآور سیاسی شخصیت کو دیکھ چکے ہیں اس پر خود بیٹھتے ہوئے انہیں اردگرد خلا سا محسوس ہو رہا ہے۔ اور شاید اسی خلاء کو پر کرنے کے لیے وہ ’’مفتی صاحب کی بدعنوانیوں کے قرطاس ابیض‘‘ کا سہارا لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اس قرطاس ابیض کا ڈھنڈورا کئی ماہ سے اس انداز سے پیٹا جا رہا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا مفتی محمود کے خلاف وائٹ پیپر

۱۲ اکتوبر ۱۹۷۳ء

متحدہ جمہوری محاذ کی پیش قدمی

گورنر پنجاب نے متحدہ جمہوری محاذ کی ۲۴ روزہ کامیاب تحریک کے بعد دفعہ ۱۴۴ کے خاتمہ کا اعلان کر دیا ہے۔ اس دوران محاذ کے کارکنوں کو جن حالات میں جدوجہد جاری رکھنا پڑی ان پر ذرا سرسری نظر ڈال لیجئے: ریڈیو اور ٹی وی نے محاذ کے راہنماؤں کی کردارکشی اور کارکنوں کی تذلیل کی مہم مسلسل جاری رکھی۔ پریس ٹرسٹ کے اخبارات نے حق نمک ادا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ سرکاری پارٹی کے کارکنوں نے محاذ کے جلسوں اور جلوسوں میں دل کھول کر غنڈہ گردی کی۔ محاذ میں شامل جماعتوں کے چیدہ چیدہ راہنماؤں کو گرفتار کر کے تحریک کو روکنے کی ناکام کوشش کی گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر متحدہ جمہوری محاذ کی پیش قدمی

۲۱ ستمبر ۱۹۷۳ء

زندہ باد مولانا شمس الدین

خدا خوش رکھے جمعیۃ علماء اسلام بلوچستان کے جواں سال سربراہ برادرِ مکرم مولانا سید شمس الدین کو کہ انہوں نے اس نازک دور میں اسلاف کی عظیم روایات کی پاسداری کا مقدس فریضہ سرانجام دیا جبکہ بڑے بڑے ’’پیرانِ پارسا‘‘ اقتدار کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہو چکے ہیں، اور زر و سیم کی دلربائی اور ہوس اقتدار کی حدت کے سامنے ’’زہد و ورع‘‘ کے پرانے اور زنگ آلود قفل بھی پگھل کر رہ گئے ہیں۔ اندازہ لگائیے کہ دباؤ اور لالچ کا وہ کونسا حربہ ہے جو اس مردِ قلندر کو پھسلانے کے لیے آزمایا نہیں گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر زندہ باد مولانا شمس الدین

۳۱ اگست ۱۹۷۳ء

متحدہ جمہوری محاذ کو یک طرفہ نصیحت

متحدہ جمہوری محاذ کی طرف سے حکومت کی غیر جمہوری پالیسیوں اور غیر آئینی اقدامات کے خلاف سول نافرمانیوں کی تحریک پر ارباب اقتدار اور ان کے ہمنوا سخت جزبز ہیں اور عوام کی توجہ اپوزیشن کی تحریک سے ہٹانے کے لیے سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے یک طرفہ اور بے بنیاد پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ محاذ میں شامل جماعت اسلامی نے بھی سول نافرمانی سے پیچھا چھڑانے کے لیے اس سہارے کو غنیمت جانا ہے حالانکہ اس سارے افسانے کی حققیت مغالطہ آفرینی کے سوا کچھ نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر متحدہ جمہوری محاذ کو یک طرفہ نصیحت

۳۱ اگست ۱۹۷۳ء

جماعتی فیصلوں سے انحراف کس نے کیا؟

اے پی پی کے مطابق حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی نے ایک بیان میں یہ کہا ہے کہ انہوں نے از خود جمعیۃ علماء اسلام کا نظم و نسق سنبھال لیا ہے اور ساتھ ہی آپ نے قائد جمعیۃ علماء اسلام حضرت مولانا مفتی محمود صاحب پر یہ الزام بھی لگایا ہے کہ ’’مفتی صاحب نے جمعیۃ کے منشور اور مجلس شوریٰ کے فیصلوں سے انحراف کیا ہے اور جمعیۃ کے وقار اور اکابر کے مسلک کو نقصان پہنچایا ہے‘‘۔ مولانا ہزاروی ہمارے بزرگ ہیں اور ہمیں ان کی بزرگی اور پیرانہ سالی کا لحاظ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جماعتی فیصلوں سے انحراف کس نے کیا؟

۱۷ اگست ۱۹۷۳ء

صوبوں کو لڑانے کی سازش

اخبارات نے ایک خبر رساں ایجنسی کے حوالہ سے بلوچستان نیشنل عوامی پارٹی کے سربراہ جناب خیر بخش مری سے منسوب یہ خبر بڑے اہتمام کے ساتھ شائع کی ہے کہ انہوں نے ہفتۂ جمہوریت کے دوران بلوچستان میں مختلف اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے عوام کے خلاف سخت زبان استعمال کی ہے اور انہیں ڈاکو اور غاصب قرار دیا ہے۔ اس خبر سے ٹرسٹ کے اخبارات نے نیشنل عوامی پارٹی کے خلاف پراپیگنڈہ کے لیے خوب فائدہ اٹھایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صوبوں کو لڑانے کی سازش

۱۰ اگست ۱۹۷۳ء

جمہوری حکومت کی ’’ایک سالہ کارگزاری‘‘

یہ ہے ایک جھلک اس پارٹی کے کارناموں کی جو عوامی جمہوریت کے نام پر انتخابات لڑ کے برسرِ اقتدار آئی ہے اور جس کے منشور کے سرورق پر یہ درج ہے کہ ’’جمہوریت ہماری سیاست ہے‘‘۔ صدر مملکت نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں وفاقی حکومت کی ایک سالہ کارگزاری کی رپورٹ پیش کی ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ صدر صاحب اس میں یہ تفصیل بھی عوام کو بتاتے کہ اس سال پولیس کے تشدد سے کتنے شہری ہلاک ہوئے، کتنے سیاسی کارکنوں کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے، کتنے لیڈر گرفتار ہوئے، متحدہ جمہوری محاذ کے کتنے جلسوں کو درہم برہم کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمہوری حکومت کی ’’ایک سالہ کارگزاری‘‘

۱۰ اگست ۱۹۷۳ء

بلوچستان کی صورتحال اور قادیانیوں کی سرگرمیاں

بلوچستان اپنے جغرافیائی محل وقوع اور دیگر گوناگوں خصوصیات کے باعث کافی عرصہ سے اندرونی و بیرونی سازشوں کی مذموم مساعی کی آماجگاہ بنا ہوا ہے اور آج بھی سازشی قوتیں تمام وسائل کے ساتھ بلوچستان کے امن کو اپنے مقصد کی بھینٹ چڑھانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ۱۹۵۲ء کی بات ہے، قادیانی گروہ کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود نے بلوچستان کو قادیانی علاقہ قرار دینے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا اور ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے محرکات میں یہ منصوبہ بھی شامل تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بلوچستان کی صورتحال اور قادیانیوں کی سرگرمیاں

۲۷ جولائی ۱۹۷۳ء

پارٹی وفاداری کا مسئلہ

وفاقی وزیر سیاسی امور جناب غلام مصطفیٰ جتوئی نے ایک بیان میں ان حضرات کی صفائی پیش کرنے کی سعی فرمائی ہے جنہیں لیلائے اقتدار سے ہمکنار ہونے کی ہوس نے اپنی پارٹیوں کے دستور و منشور اور ووٹروں کی طرف سے عائد شدہ ذمہ داریوں کا پابند نہیں رہنے دیا۔ چنانچہ انہوں نے فرمایا ہے کہ ہر شخص کو پارٹی بدلنے کا حق ہے اور اگر کوئی شخص پارٹی کی پالیسی سے متفق نہ ہو اور دوسری پارٹی میں چلا جائے تو یہ کوئی معیوب بات نہیں۔ جتوئی صاحب کے اس بیان کا حاصل مغالطہ آفرینی کے سوا کچھ نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پارٹی وفاداری کا مسئلہ

۲۷ جولائی ۱۹۷۳ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔