جنید جمشیدؒ

   
۲۱ دسمبر ۲۰۱۶ء

جنید جمشیدؒ اپنے دوستوں اور ماحول سے رخصت ہو کر اللہ رب العزت کے حضور پیش ہو چکے ہیں مگر ان کی یاد اور تذکرہ کسی نہ کسی حوالہ سے مسلسل چل رہا ہے۔ طیارہ کے حادثہ میں جاں بحق ہونے والے شہداء کا غم قومی سطح پر منایا گیا ہے، وہ سب ہمارا قیمتی سرمایہ تھے اور ان سب کے لیے پوری قوم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعاگو ہے کہ اللہ رب العزت ان کے ساتھ کرم کا معاملہ فرمائیں اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

جنید جمشید مرحوم کی جدائی کا غم جس طرح ہر طبقہ اور ہر سطح پر محسوس کیا گیا ہے اس کا رنگ ہی جدا ہے۔ دراصل یہ جنید جمشید نامی ایک شخص کو خراج عقیدت نہیں ہے بلکہ اس کردار اور طرز عمل کی پذیرائی ہے جس کے باعث جنید جمشید نے لاکھوں مداحوں کے دلوں میں گھر کر لیا تھا۔ اس کردار اور طرز عمل کو مختصر الفاظ میں بیان کیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ عیش و عشرت ترک کر کے اپنے خالق و مالک کی طرف رجوع، اس رجوع کے لیے خود آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی دعوت دینے اور مخلوقِ خدا کو خدا کے دروازے پر واپس لانے کا عمل ہے۔ انسان کی فطرتِ سلیمہ یہ ہے کہ وہ دنیا کی عیش و عشرت میں جس قدر بھی آگے بڑھ جائے اس کے دل کے اندر کہیں نہ کہیں وہ تار موجود ہوتا ہے جسے اگر بروقت اور سلیقے سے چھیڑ دیا جائے تو انسان کا ضمیر بیدار ہوتا ہے اور اسے اپنے خالق و مالک کی طرف واپس لوٹنے کے لیے آمادہ کر لیتا ہے۔

جنید جمشیدؒ نے ایک مقبول گلوکار سے دین کے ایک فکرمند داعی کے مقام کی طرف جو سفر کیا اسے دیکھ کر امت کے عظیم علمی و روحانی بزرگ حضرت عبد اللہ بن مبارکؒ کی یاد تازہ ہو جاتی ہے جو اتباع تابعین کے طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ حضرت امام بخاریؒ کے استاذ گرامی اور حضرت امام ابوحنیفہؒ کے مایۂ ناز شاگرد تھے اور علمی دنیا میں انہیں ’’امیر المومنین فی الحدیث‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کے بارے میں تاریخ کے صفحات یہ بتاتے ہیں کہ نوجوانی کے دور میں وہ موسیقی اور ناچ گانے کی محفلوں کے دلدادہ تھے، ان کے شب و روز اپنے جیسے دوستوں کے ہمراہ اسی قسم کی سرگرمیوں میں گزرتے تھے، اور بے تکلف دوستوں کا یہ طائفہ اکثر اوقات ناچ گانے کے ماحول میں مگن رہتا تھا۔ عبد اللہ بن مبارکؒ بتاتے ہیں کہ ایک روز کسی باغ میں اسی طرح کی محفل بپا تھی اور وہ دوستوں کے ساتھ خاصی دیر تک ان مشاغل میں مگن رہنے کے بعد سو گئے۔ خواب میں انہوں نے دیکھا کہ باغ کے ایک درخت پر خوبصورت سی چڑیا بیٹھی ہے اور مترنم آواز میں قرآن کریم کی یہ آیت پڑھ رہی ہے الم یان للذین اٰمنوا ان تخشع قلوبھم لذکر اللە وما نزل من الحق (سورۃ الحدید ۔ آیت ۱۶) کہ کیا ابھی ایمان والوں پر وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کے نازل کردہ احکام کی طرف جھک جائیں؟ جب ان کی آنکھ کھلی تو ان کی زبان پر اس جملہ کا تکرار تھا کہ وہ وقت آگیا ہے، وہ وقت آگیا ہے۔

اس پر حضرت عبد اللہ بن مبارکؒ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر دین اور علم دین کی طرف آگئے۔ اور پھر انہوں نے علم، روحانیت اور جہاد کے محاذوں پر وہ خدمات سرانجام دیں کہ انہیں اتباع تابعین کے پورے طبقے کا امام کہا جاتا ہے اور ’’امیر المومنین فی الحدیث‘‘ کے خطاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے امام ابوحنیفہؒ ، امام مالکؒ اور امام سفیان ثوریؒ کی مجلس اختیار کی اور علم حدیث کے بڑے ائمہ میں شما رہونے لگے۔ رقص و سرود کی محفلوں کا رسیا شخص علم حدیث کے ماحول میں ایسا گم ہوا کہ ایک دن کسی دوست نے پوچھ لیا کہ آپ اس تنہائی سے بور نہیں ہوتے؟ جواب دیا کہ میں تنہا کب ہوتا ہوں، میں تو ہر وقت جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے ماحول میں ہوتا ہوں اور میری گفتگو حضرت ابوہریرہؓ، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ، حضرت عبد اللہ بن عمرؓ، حضرت انس بن مالکؓ اور حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ جیسے بزرگوں سے ہر وقت ہوتی رہتی ہے۔

حضرت عبد اللہ بن مبارکؒ کا دور تو بہت پرانا ہے ہم نے حال ہی میں حق کی طرف رجوع کرنے والی ایک اور شخصیت کو دیکھا ہے جسے دنیا ’’یوسف اسلام‘‘ کے نام سے جانتی ہے۔ وہ پاپ سنگر تھے اور موسیقی کی دنیا میں بڑا نام رکھتے تھے مگر جونہی اسلام قبول کیا ذہن و قلب کا رخ دین کی خدمت اور دعوت کے میدان کی طرف پھر گیا۔ میری ان سے پہلی ملاقات ڈیوزبری برطانیہ کے تبلیغی مرکز میں ایک بڑے تبلیغی اجتماع کے دوران ہوئی تھی۔ جبکہ بعد میں ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا مفتی محمد عیسیٰ منصوری کے ہمراہ میں نے لندن میں یوسف کے اسلامک سکول کا وزٹ بھی کیا ۔ وہ دین کی دعوت اور تعلیم دونوں میدانوں میں مسلسل سرگرم عمل رہتے ہیں اور برطانیہ میں مقیم مسلمانوں کی نئی نسل کو دین اور دینی اقدار کے ساتھ وابستہ رکھنا ان کا سب سے بڑا مشن بن گیا ہے۔

جنید جمشید اسی صف کے لوگوں میں سے تھے، جب زندگی کا رخ بدلا تو حمد و نعت کے ساتھ ساتھ دعوتِ دین کی محنت ان کا اوڑھنا بچھونا بن گئی، حتی کہ اپنے آخری سفر میں چترال کے تبلیغی مرکز میں اسی خدمت کو سرانجام دینے کے بعد وہ اس طیارے پر سوار ہوگئے جو ان کے لیے اپنے رب کی بارگاہ میں حضوری کا پروانہ ثابت ہوا۔ جنید جمشید کی جدائی پر وسیع پیمانے پر محسوس کیا جانے والا یہ غم دراصل ہمارے اس قومی اور معاشرتی جذبہ و احساس کا عکاس ہے کہ اپنے اللہ کی طرف رجوع، عیش و عشرت کے ماحول سے واپسی، اور آخرت کی تیاری کے لیے ہر مسلمان کے دل میں تڑپ کسی نہ کسی درجہ میں ضرور موجود ہے۔ اس تڑپ کو بے ثبات دنیا کی رنگا رنگ آسائشوں نے گھیر رکھا ہے، اسے صرف صحیح راہنمائی اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے، یہ کام اگر سلیقے سے کیا جا سکے تو جنید جمشید کا غم محسوس کرنے والے لاکھوں افراد خود بھی جنید جمشید بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ طیارے کے حادثہ کے تمام شہداء کو جنید جمشید سمیت جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں اور ان کے پسماندگان کو صبر و حوصلہ کے ساتھ اس صدمہ سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter