میری علمی ومطالعاتی زندگی ۔ ماہنامہ نوائے کسان کا سوالنامہ

   
اکتوبر ۲۰۱۱ء

(جناب عرفان احمد، مدیر ماہنامہ ’’نوائے کسان‘‘ لاہور کے مرتب کردہ سوالنامہ کے جوابات)

سوال نمبر ۱۔ کچھ ذاتی حالات زندگی کے بارے میں آگاہ فرمائیں۔

جواب: ہمارا تعلق ضلع مانسہرہ، ہزارہ میں آباد سواتی خاندان سے ہے جس کے آبا و اجداد کسی زمانے میں سوات سے نقل مکانی کر کے ہزارہ میں آباد ہوگئے تھے۔ ہمارے دادا نور احمد خان مرحوم شنکیاری سے آگے کڑمنگ بالا کے قریب چیڑاں ڈھکی میں رہتے تھے اور زمینداری کرتے تھے۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ کی نوعمری میں ان کے والد صاحب کا انتقال ہوگیا۔ والدہ کا بھی انتقال ہو چکا تھا۔ یہ دونوں حضرات دینی تعلیم کی طرف آگئے۔ حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کے مدرسہ میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور پھر پنجاب کے مختلف مدارس، بالخصوص مدرسہ انوار العلوم، مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں درس نظامی کا بڑا حصہ پڑھا۔ ۱۹۴۱ء ۔ ۱۹۴۲ء میں دار العلوم دیوبند سے فراغت حاصل کی۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کے ممتاز تلامذہ میں سے تھے۔ وہ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے شیخ الحدیث رہے ہیں اور کم و بیش ساٹھ سال تک تدریسی خدمات سر انجام دی ہیں۔ دیوبندی مسلک کے علمی ترجمان سمجھے جاتے تھے اور کم و بیش پچاس کے لگ بھگ کتابوں کے مصنف تھے۔

میری ولادت ۱۹۴۸ء میں ۲۸ اکتوبر کو ہوئی۔ میری والدہ محترمہ کا تعلق راجپوت خاندان سے تھا اور ہمارے نانا مرحوم مولوی محمد اکبر صاحب گوجرانوالہ میں ریلوے اسٹیشن کے قریب تالاب دیوی والا، رام بستی کی ایک مسجد کے امام تھے۔ ان کا تعلق راجپوت جنجوعہ برادری سے بتایا جاتا ہے۔ میں نے قرآن مجید گکھڑ کے مدرسہ تجوید القرآن میں مختلف اساتذہ سے حفظ کیا جس میں سب سے آخری اور بڑے استاد قاری محمد انور صاحب ہیں جو کہ آج کل مدینہ منورہ میں تحفیظ القرآن کے استاد ہیں۔ ۲۰ اکتوبر ۱۹۶۰ء کو میرا حفظ مکمل ہونے پر گکھڑ کی جامع مسجد میں جو تقریب ہوئی، اس میں حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ، حضرت مولانا قاری فضل کریمؒ اور حضرت مولانا قاری محمد حسن شاہؒ نے شرکت فرمائی تھی اور میں نے آخری سبق ان بزرگوں کو سنایا تھا۔ درسِ نظامی کے بڑے حصہ کی تعلیم میں نے مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں حاصل کی اور میرے اساتذہ میں حضرت والد محترم اور حضرت عم مکرم کے علاوہ حضرت مولانا عبد القیوم ہزاروی مدظلہ، حضرت مولانا قاضی محمد اسلم، حضرت مولانا قاضی عزیز اللہ اور حضرت مولانا جمال احمد بنوی مظاہری بطور خاص قابلِ ذکر ہیں۔ ۱۹۶۹ء میں مدرسہ نصرۃ العلوم سے میں نے فراغت حاصل کی۔

دورانِ زمانۂ طالب علمی مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کی معاونت کے لیے بطور نائب خطیب میرا تقرر ہو چکا تھا، جبکہ اس سے قبل کم و بیش دو سال تک گتہ مل راہوالی کی کالونی کی مسجد میں خطابت کے فرائض سر انجام دیتا رہا تھا۔ ۱۹۸۲ء میں مولانا مفتی عبد الواحدؒ کی وفات کے بعد مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے مستقل خطیب کی حیثیت سے میں نے ذمہ داری سنبھال لی تھی جو کہ بحمد اللہ تعالیٰ اب تک حسب استطاعت نباہ رہا ہوں۔ مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے مدرسہ انوار العلوم میں ہی ۱۹۷۰ء سے ۱۹۹۰ء تک درسِ نظامی کی تدریس کے فرائض سر انجام دیتا رہا ہوں، جبکہ گزشتہ دس گیارہ سال سے مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں تدریسی خدمات میرے سپرد ہیں اور والد محترم کے بعد صدارت تدریس اور نظامت تعلیمات کی ذمہ داری بھی میرے ناتواں کندھوں پر ہے۔

صحافتی زندگی میں طالب علمی کے دوران ۱۹۶۵ء میں روزنامہ وفاق لاہور کے نامہ نگار کی حیثیت سے داخل ہوا۔ ۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ میں گکھڑ پر بھارتی فضائیہ کی بمباری کے حوالہ سے پہلا فیچر لکھا اور شہری دفاع کے رضاکار کے طور پر خدمات بھی سر انجام دیں۔ اس کے بعد جمعیت علماء اسلام کے آرگن ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کے ساتھ تعلق رہا اور متعدد بار کئی برس تک ایڈیٹر کے طور پر فرائض سر انجام دیے۔ روزنامہ پاکستان اسلام آباد اور روزنامہ اوصاف اسلام آباد میں کئی سال مستقل کالم نگار کے طور پر وابستہ رہا اور ’’نوائے قلم‘‘ کے نام سے ہفتہ وار کالم لکھتا رہا۔ اب یہ کالم روزنامہ پاکستان لاہور میں لکھ رہا ہوں جبکہ روزنامہ اسلام میں بھی ’’نوائے حق‘‘ کے عنوان سے ہفتہ وار کالم لکھتا ہوں۔ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے ترجمان ماہنامہ نصرۃ العلوم کا اداریہ بھی کئی برسوں سے تحریر کر رہا ہوں، اور میری ادارت میں ماہنامہ الشریعہ بھی پابندی سے شائع ہو رہا ہے۔

بیرون ملک ختم نبوت کانفرنسوں اور ورلڈ اسلامک فورم کی سرگرمیوں کے علاوہ دیگر تعلیمی، دعوتی اور مطالعاتی مقاصد کے لیے کئی ممالک میں جانا ہوا جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، جنوبی افریقہ، بھارت، بنگلہ دیش، ایران، افغانستان، ازبکستان، ترکی، ہانگ کانگ، برطانیہ، امریکہ، کینیڈا اور کینیا شامل ہیں۔ مدرسہ نصرۃ العلوم کی سالانہ تعطیلات کے دوران شعبان المعظم اور اس کے ساتھ رمضان المبارک کا کچھ حصہ برطانیہ اور امریکہ میں تعلیمی سرگرمیوں میں مصروفیت رہتی ہے اور متعدد دینی اداروں سے مشاورت اور معاونت کا تعلق ہے۔

سیاسی و تحریکی ذوق طالب علمی کے دور سے چلا آرہا ہے۔ جمعیت طلباء اسلام پاکستان کو منظم کرنے میں حصہ لیا۔ گکھڑ میں انجمن نوجوانانِ اسلام کے نام سے نوجوانوں کی تنظیم بنائی اور جمعیت علماء اسلام میں بتدریج شہر، ضلع، صوبہ اور مرکز کی سطح پر سیکرٹری اطلاعات کی حیثیت سے فرائض سر انجام دینے کا موقع ملا۔ مرکزی سیکرٹری اطلاعات کی حیثیت سے میرا انتخاب حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی تجویز پر ۱۹۷۵ء میں ہوا اور پھر ان کی وفات تک ان کی معاون ٹیم کے ایک متحرک رکن کے طور پر کام کرنے کا موقع ملا۔ ۱۹۷۴ء اور ۱۹۸۴ء کی تحریکِ ختمِ نبوت میں عملی حصہ لینے کی سعادت حاصل ہوئی۔ ۱۹۸۴ء کی تحریکِ ختمِ نبوت میں مرکزی مجلسِ عمل کے سیکرٹری اطلاعات کے طور پر کام کیا۔ ۱۹۷۷ء میں پاکستان قومی اتحاد قائم ہوا تو اس کی دستور ساز اور منشور ساز کمیٹیوں اور پارلیمانی بورڈ میں جمعیت کی نمائندگی کی۔ پنجاب کا قومی اتحاد کا نائب صدر اور پھر سیکرٹری جنرل رہا۔ ۱۹۸۸ء میں اسلامی جمہوری اتحاد قائم ہوا تو اس میں بھی دستور ساز اور منشور ساز کمیٹیوں میں جمعیت علماء اسلام (درخواستی گروپ) کی نمائندگی کی اور صوبائی نائب صدر رہا۔ ۱۹۹۰ء میں جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات کے منصب سے مستعفی ہو کر عملی سیاست سے کنارہ کش ہوگیا۔

تحریکِ ختمِ نبوت، تحریکِ نظامِ مصطفٰی، گوجرانوالہ میں مسجد نور کو محکمہ اوقاف سے واگزار کرانے کی تحریک، اور دیگر متعدد تحریکات میں حصہ لینے کی سعادت حاصل ہوئی۔ بھٹو دور میں کئی بار جیل یاترا کی۔ مسجد نور کی تحریک میں کم و بیش چار ماہ اور تحریکِ نظامِ مصطفٰی میں ایک ماہ جیل کاٹی۔ اس کے علاوہ بھی متعدد بار تھوڑی تھوڑی مدت کے لیے جیل جانے کا موقع ملا۔

سیاسی طور پر جمعیت علماء اسلام پاکستان سے وابستہ رہا۔ کم و بیش پچیس برس تک صوبائی اور مرکزی سطح پر مختلف عہدوں پر متحرک کردار ادا کیا ہے۔ حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے رفیق کار اور اسسٹنٹ کے طور پر سالہاسال خدمات سر انجام دینے کا موقع ملا۔ اب ایک عام کارکن کے طور پر جمعیت علماء اسلام کے ساتھ شریک ہوں جبکہ انتخابی سیاسی سے ہٹ کر فکری اور علمی حوالہ سے اسلامائزیشن کے کام کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل کے طور پر کام کر رہا ہوں جس کے امیر مولانا فداء الرحمٰن درخواستی آف کراچی ہیں۔

گزشتہ عشرہ کے اوائل میں لندن میں مولانا محمد عیسٰی منصوری اور مفتی برکت اللہ صاحب کے ساتھ مل کر عالمی سطح پر ایک فکری اور علمی فورم ’’ورلڈ اسلامک فورم‘‘ کے نام سے قائم کیا جو کہ علمی اور فکری میدان میں عصرِ حاضر کے تقاضوں کا احساس اجاگر کرنے میں مصروف ہے اور اس کی سرگرمیوں کا دائرہ برطانیہ، بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے دیگر شرکاء و معاونین میں ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ، ڈاکٹر سلمان ندوی الحسینی اور مولانا مجاہد الاسلام قاسمیؒ شامل رہے ہیں۔

۱۹۸۹ء میں الشریعہ اکادمی قائم کی جس کا مقصد دعوتِ اسلام اور دینی تعلیم کے حوالے سے عصری تقاضوں کو اجاگر کرنا اور ان کی طرف دینی حلقوں کو توجہ دلانا تھا۔ یہاں ہم دینی تعلیم کے ساتھ عصری تقاضوں کے امتزاج کا تجربہ کر رہے ہیں اور اس ضمن میں مختلف کورسز ہر سال ہوتے ہیں۔ اکتوبر ۱۹۸۹ء سے ماہنامہ الشریعہ باقاعدگی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے جو اسلام اور ملتِ اسلامیہ کو درپیش معروضی مسائل کے حوالے سے اپنی بساط کے مطابق خدمت کر رہا ہے اور علمی حلقوں میں بحمد اللہ تعالٰی اسے توجہ کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ الشریعہ اکادمی کی باقاعدہ بلڈنگ ہاشمی کالونی، کنگنی والا، گوجرانوالہ میں تعمیر کی گئی ہے جس میں مسجد اور لائبریری بھی شامل ہے اور اس میں سال بھر فکری اور تعلیمی سرگرمیاں جاری رہتی ہے۔ دینی مدارس اور اسکول و کالج کے طلبہ کے لیے سال میں انگریزی بول چال، عربی بول چال، کمپیوٹر ٹریننگ وغیرہ کے مختصر دورانیے کے مختلف کورسز ہوتے ہیں اور علمی و فکری عنوانات پر محاضرات، سیمینارز اور ورکشاپس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

سوال نمبر ۲۔ آپ کے اندر ذوقِ مطالعہ کب نمایاں طور پر پیدا ہوا؟ آغاز کیسے ہوا؟ اس کی نشوونما کس طرح ہوئی؟ خاندانی نظامِ تربیت کا اثر کہاں تک ہوا؟

جواب: کتاب کے ساتھ میرا تعارف بحمد اللہ تعالٰی بہت پرانا ہے اور اس دور سے ہے جبکہ میں کتاب کے مفہوم اور مقصد تک سے آشنا نہیں تھا۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کا گھر میں زیادہ تر وقت لکھنے پڑھنے میں گزرتا تھا اور ان کے اردگرد الماریوں میں کتابیں ہی کتابیں ہوتی تھیں۔ اس لیے کتاب کے چہرہ سے شناسائی تو تب سے ہے جب میں نے اردگرد کی چیزوں کو دیکھنا اور ان میں الگ الگ فرق کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس کے بعد کتاب سے دوسرے مرحلے کا تعارف اس وقت ہوا جب میں نے دو چار حرف پڑھ لیے اور کم از کم کتاب کا نام پڑھ سکتا تھا۔ والد صاحب ایک چارپائی پر بیٹھ کر لکھا کرتے تھے اور حوالہ کے لیے کوئی کتاب دیکھنے کی ضرورت ہوتی تو خود اٹھ کر متعلقہ الماری سے وہ کتاب لے لیا کرتے تھے، مگر جب میں اور میری بڑی ہمشیرہ الفاظ کی شناخت کے قابل ہوگئے تو پھر اس کام میں ہماری شرکت بھی ہو گئی، اس حد تک کہ ہم میں سے کوئی موجود ہوتا تو والد صاحب کو کتاب کے لیے خود الماری تک نہیں جانا پڑتا تھا بلکہ وہ ہمیں آواز دیتے کہ فلاں کتاب کی فلاں جلد نکال لاؤ، اور ہم میں سے کوئی یہ خدمت سر انجام دے دیتا۔ ابتدا میں والد صاحب کو ہمیں یہ بتانا پڑتا تھا کہ فلاں الماری کے فلاں خانے میں اس نام کی کتاب ہے، اس کی اتنے نمبر کی جلد نکال لاؤ۔ بعد میں کتابوں سے ہمارا تعارف گہرا ہوگیا تو وہ صرف کتاب اور جلد نمبر کا کہتے اور ہم کتاب نکال لاتے اور اس کے لیے بسا اوقات ہم دونوں بہن بھائیوں میں مقابلہ بھی ہوتا کہ کون پہلے کتاب نکال کر لاتا ہے۔ اس وقت کی جن کتابوں کے نام ابھی تک ذہن کے نقشے میں محفوظ ہیں، ان میں السنن الکبریٰ، لسان المیزان، تذکرۃ الحفاظ، تہذیب التہذیب، تاریخ بغداد اور نیل الاوطار بطور خاص قابل ذکر ہیں جو علمِ حدیث اور اسماءِ رجال کی کتابیں ہیں اور یہ حضرت والد صاحب کے خصوصی ذوق کے علوم ہیں۔ ان کتابوں کے نام، ٹائٹل اور جلدیں بچپن میں ہی ذہن پر نقش ہو گئی تھیں اور یہ نقش ابھی تک اس طرح تازہ ہیں جیسے آج ہی ان کتابوں کو دیکھا ہو۔

پھر ایک قدم اور آگے بڑھا اور کتابوں کو خود پڑھنے کی منزل آگئی۔ اس کے لیے میں گکھڑ کے ایک مرحوم بزرگ ماسٹر بشیر احمد صاحب کشمیری کا ممنون احسان ہوں کہ ان کی بدولت کتاب کے مطالعہ کی حدود میں قدم رکھا۔ ماسٹر بشیر احمد کشمیریؒ پرائمری سکول کے ٹیچر تھے اور حضرت والد محترم کے قریبی دوستوں میں سے تھے۔ ان کے خاندان سے ہمارا گہرا خاندانی تعلق تھا۔ انہیں ہم چاچا جی کہا کرتے تھے اور وہ بھی ہم سے بھتیجوں جیسا تعلق رکھتے تھے۔ ان کی والدہ محترمہ کو ہم بے جی کہتے تھے اور ان کی ہمشیرگان ہماری پھوپھیاں کہلاتی تھیں۔ انہی میں سے ایک پھوپھی اب میرے چھوٹے بھائی مولانا عبد القدوس قارن کی خوشدامن ہیں۔ والد محترم کو جب کسی جلسہ یا دوسرے کام کی وجہ سے رات گھر سے باہر رہنا پڑتا تو بے جی اس روز ہمارے ہاں رات گزارتی تھیں اور ہمیں چھوٹی چھوٹی کہانیاں سنایا کرتی تھیں جس کی وجہ سے ہم بہت خوش ہوتے تھے اور ہمیں ایسی رات کا انتظار رہتا تھا۔

ماسٹر بشیر احمد صاحب امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے شیدائی اور احرار کے سرگرم کارکن تھے۔ وہ حضرت شاہ جیؒ کی گکھڑ تشریف آوری اور جلسہ سے خطاب کا واقعہ اکثر سنایا کرتے تھے اور میرے بارے میں بتایا کرتے تھے کہ میں بالکل گود کا بچہ تھا اور مجھے حضرت شاہ جیؒ نے گود میں اٹھایا تھا۔ اس لیے مجھ سے اگر کوئی دوست پوچھتا ہے کہ کیا تم نے امیر شریعتؒ کی زیارت کی ہے تو میں کہا کرتا ہوں کہ مجھے تو یاد نہیں ہے، البتہ شاہ جیؒ نے مجھے دیکھا ہے۔ ماسٹر صاحب کے ہاں ہفت روزہ خدام الدین، ترجمان اسلام، ماہنامہ تبصرہ، ہفت روزہ پیام اسلام، ہفت روزہ چٹان اور دیگر دینی جرائد آیا کرتے تھے۔ میں ان جرائد سے انہی کے ہاں متعارف ہوا اور وہیں سے رسالے پڑھنے کی عادت شروع ہوئی۔ حضرت والد صاحب کے پاس دہلی سے ماہنامہ برہان، ملتان سے ماہنامہ الصدیق، چوکیرہ (سرگودھا) سے ماہنامہ الفاروق اور فیصل آباد (تب لائل پور) سے ہفت روزہ پاکستانی آیا کرتے تھے جو میری نظر سے گزرا کرتے تھے۔ جامع مسجد بوہڑ والی گکھڑ کے حجرہ کی الماری میں ایک چھوٹی سی لائبریری تھی جس کے انچارج ماسٹر صاحب مرحوم تھے۔ اس میں زیادہ تر احرار راہنماؤں کی کتابیں تھیں۔ وہیں سے میں نے وہ کتابیں لیں جو میری زندگی میں مطالعہ کی سب سے پہلی کتابیں ہیں۔ چودھری افضل حق مرحوم کی کتاب ’’زندگی‘‘ اور ’’تاریخ احرار‘‘، مولانا مظہر علی اظہر کی ’’دنیا کی بساط سیاست‘‘ اور آغا شورش کاشمیری کی ’’خطباتِ احرار‘‘ پہلی کتابیں ہیں جن کا میں نے باقاعدہ مطالعہ کیا۔ کچھ سمجھ میں آئیں اور اکثر حصے ذہن کے اوپر سے ہی گزر گئے لیکن بہرحال میں نے اپنی مطالعاتی بلکہ فکری زندگی کا آغاز ان کتابوں سے کیا۔

ہماری والدہ مرحومہ گوجرانوالہ سے تھیں، شیرانوالہ باغ کے سامنے ریلوے پھاٹک سے دوسری طرف واقع پولیس تھانے کے عقب میں رام بستی نامی محلہ کی مسجد میں ہمارے نانا مرحوم مولوی محمد اکبر صاحب امام مسجد تھے جو راجپوت جنجوعہ برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ بڑے باذوق بزرگ تھے، قرآن کریم معروف لہجے میں اور اچھے انداز میں پڑھا کرتے تھے جو اس زمانہ میں بہت کمیاب تھے۔ زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے لیکن میں نے بہت سے معیاری علمی جرائد ان کے ہاں سے ڈاک میں باقاعدہ آتے دیکھے جن میں الفرقان، النجم، برہان، خدام الدین اور دروسِ قرآن جیسے رسالے بھی شامل تھے۔ وہ ان کا مطالعہ کرتے اور اہتمام سے ان کی جلدیں بنواتے تھے۔

اس کے بعد جب ۱۹۶۳ء میں مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں داخل ہوا اور مدرسہ کے دارالاقامہ میں ایک آزاد طالب علم کی حیثیت سے نئی زندگی کا آغاز کیا تو میں نے اس آزادی کا خوب خوب فائدہ اٹھایا۔ گھومنا، پھرنا، جلسے سننا، لائبریری تلاش کرنا، رسالے ڈھونڈنا، کتابیں مہیا کرنا اور ان کا مطالعہ کرنا میرے روز مرہ معمولات میں شامل ہوگیا تھا۔ درسی کتابوں کے ساتھ میرا تعلق اتنا ہی تھا کہ سبق میں حاضر ہوتا تھا اور واجبی سے مطالعہ و تکرار کے ساتھ سبق کو کسی حد تک قابو میں رکھنے کی کوشش بھی بسا اوقات کر لیتا تھا، لیکن اس کے علاوہ میری مصروفیات کا دائرہ پھیل چکا تھا اور اس میں شب و روز کی کوئی قید باقی نہیں رہ گئی تھی۔ اس دور میں مدرسہ نصرۃ العلوم کے کتب خانے کے علاوہ عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کی ذاتی لائبریری میری دسترس میں تھی، اور چوک نیائیں میں اہلحدیث دوستوں کا ’’اسلامی دارالمطالعہ‘‘ میری جولان گاہ میں شامل تھا جہاں میں اکثر عصر کے بعد جاتا، دینی جرائد اور رسالوں پر نظر ڈالتا اور مطالعہ کے لیے کوئی نہ کوئی کتاب وہاں سے لے آتا۔ طالب علمی کے دور میں سب سے زیادہ استفادہ میں نے ان تین لائبریریوں سے کیا ہے۔

کتاب کے ساتھ تعارف کا اس سے اگلا مرحلہ میرے طالب علمی کے آخری دور میں شروع ہوا۔ یہ ۱۹۶۵ء کی جنگ کے بعد کے دور کی بات ہے۔ گوجرانوالہ ریلوے اسٹیشن کے سامنے جہاں آج کل سفینہ مارکیٹ ہے، ان دنوں یہاں خیام ہوٹل ہوا کرتا تھا جہاں ہر اتوار کی شام کو ’’مجلسِ فکر و نظر‘‘ کے زیر اہتمام ایک ادبی نشست جمتی تھی۔ ارشد میر ایڈووکیٹ مرحوم اس مجلس کے سیکرٹری تھے۔ ان سے اسی محفل میں تعارف ہوا جو بڑھتے بڑھتے بے تکلفانہ اور برادرانہ دوستی تک جا پہنچا۔ اس ادبی محفل میں کوئی نہ کوئی مقالہ ہوتا اور ایک آدھ نظم یا غزل ہوتی جس پر تنقید کا میدان گرم ہوتا اور ارباب شعر و ادب اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرتے۔ پروفیسر اسرار احمد سہاروی، سید سبط الحسن ضیغم، ایزد مسعود ایڈووکیٹ، پروفیسر عبد اللہ جمال، پروفیسر افتخار ملک مرحوم، پروفیسر محمد صادق، پروفیسر رفیق چودھری، اثر لدھیانوی مرحوم اور ارشد میر ایڈووکیٹ مرحوم اس مجلس کے سرکردہ ارکان تھے۔ میں بھی ہفتہ وار ادبی نشست میں جاتا تھا اور ایک خاموش سامع کی حیثیت سے شریک ہوتا تھا۔ ایک روز اگلی محفل کا پروگرام طے ہو رہا تھا لیکن کوئی صاحب مقالہ کے لیے تیار نہیں ہو رہے تھے۔ میں نے جب یہ کیفیت دیکھی تو کہا کہ اگر اجازت ہو تو اگلی محفل میں مضمون میں پڑھ دوں؟ دوستوں نے میری طرف دیکھا تو میری ہیئت کذائی دیکھ کر تذبذب کا شکار ہوگئے اور ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ تھوڑی خاموشی کے بعد ارشد میر صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کس موضوع پر مضمون پڑھیں گے؟ میں نے جواب دیا کہ ’’فلپ کے ہٹی کی کتاب ’’عرب اور اسلام‘‘ پر ایک تنقیدی نظر‘‘۔ ہٹی کی اس کتاب کا ترجمہ انہی دنوں آیا تھا اور میں نے تازہ تازہ پڑھ کر اس کی بہت سی باتوں کو نشان زد کر رکھا تھا۔ اس لیے میرا خیال تھا کہ میں اگلے اتوار تک کتاب کے بارے میں اپنے تاثرات کو قلم بند کر لوں گا۔ مگر میرا یہ کہنا ایک دھماکہ ثابت ہوا، میری پہلی بات ہی بعض دوستوں کو ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ دوسری بات نے تو ان کے چہروں کی کیفیات کو یکلخت تبدیل کر دیا اور مجھے بعض چہروں پر خندۂ استہزا کی جھلک صاف دکھائی دینے لگی، مگر میں اپنے موقف پر قائم رہا جس پر ارشد میر صاحب نے اگلی محفل میں میرے مضمون کا اعلان کر دیا۔

میں نے اپنے مضمون کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ ایک حصے میں ان واقعاتی غلطیوں کی نشاندہی کی جو ہٹی سے تاریخی طور پر چند واقعات کو بیان کرنے میں ہو گئی تھی اور ان کی تعداد دس سے زیادہ تھی۔ دوسرے حصے میں اس اصولی بحث پر کچھ گزارشات پیش کیں کہ ہٹی اور دیگر مستشرقین اسلام کو ایک تحریک (Movement) کے طور پر پیش کرتے ہیں جبکہ اسلام تحریک نہیں بلکہ دین ہے، اور پھر اس کے ساتھ ہی تحریک اور دین کے فرق کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا۔ اس مضمون کا پہلا حصہ ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور میں اس دور میں شائع ہوگیا تھا مگر دوسرے حصے کے بارے میں ترجمان اسلام کے مدیر محترم ڈاکٹر احمد حسین صاحب کمال مرحوم نے مجھے بتایا کہ وہ کہیں گم ہوگیا ہے۔ بد قسمتی سے میرے پاس اس کی کاپی نہیں تھی اور مزید بدقسمتی یہ کہ اس کے بعد اس حصے کو لکھنے کی کئی بار کوشش کر چکا ہوں، مگر ابھی تک اس معیار پر نہیں لکھ پا رہا۔ کسی کتاب کے پوسٹ مارٹم اور آپریشن کے حوالے سے یہ میرا پہلا مضمون تھا جو میں نے ’’مجلس فکر و نظر‘‘ کی ہفتہ وار ادبی نشست میں پڑھا جسے بے حد پسند کیا گیا اور اس کے بعد مجلس میں میری شمولیت نے خاموش سامع کے بجائے متحرک رکن کی شکل اختیار کر لی۔ بلکہ ایک موقع پر ’’اسلام میں اجتہاد کا تصور‘‘ کے عنوان پر مجھ سے مضمون پڑھنے کی فرمائش کی گئی جس پر میں نے بڑی محنت سے ایک مقالہ مرتب کر کے پڑھا۔ یہ نشست پروفیسر اسرار احمد سہارویؒ کی صدارت میں تھی اور شیخ ایزد مسعود نے میرے مقالہ پر اپنی تنقید میں اس کی بعض خامیوں کی نشاندہی کی۔ بعد میں اسی مجلس کے ایک محترم دوست نے وہ مقالہ مجھ سے مطالعہ کے لیے لیا مگر ان کی وفات ہو گئی اور وہ مضمون پھر دستیاب نہ ہو سکا۔

سوال نمبر ۳۔کون سی شخصیتیں تھیں جنہوں نے آپ کے ذوق مطالعہ کو مہمیز کیا اور اس سفر میں آپ کی رہنمائی کی؟ آپ کے مطالعہ کے مختلف ادوار کیا رہے؟ پسندیدہ موضوعات، ذوق میں ارتقائی تبدیلیاں؟

جواب: حضرت والد محترم کے علاوہ چچا محترم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی اور ماسٹر بشیر احمد صاحب کشمیریؒ بنیادی شخصیات ہیں جنہوں نے مجھے مطالعہ کی طرف راغب کیا، مختلف موضوعات پر کتابیں مہیا کرتے رہے اور میرے مطالعہ کی حوصلہ افزائی اور نگرانی کرتے رہے۔ لکھنے پڑھنے کی عادت طالب علمی کے زمانہ میں ہی تھی۔ مضامین لکھنا، خبریں بنانا اور اخبارات میں پہنچانا اور پھر ان کی اشاعت پر خوش ہونا اسی دور سے مزاج کا حصہ بن گیا تھا۔ اس میں گوجرانوالہ کے معروف صحافی صاحبزادہ سید جمیل الحسن مظلوم مرحوم اور راشد بزمی مرحوم کی حوصلہ افزائی کا بہت دخل رہا ہے۔ اس زمانہ میں پاکستان کے قومی اخبارات میں نسیم حجازی مرحوم کا روزنامہ کوہستان خاصی اہمیت کا حامل ہوتا تھا۔ ایک بار میرا ایک مضمون روزنامہ کوہستان میں ادارتی صفحہ پر شائع ہوا جس نے میرا دماغ ’’خراب‘‘ کر دیا اور میں نے دماغ کی اس خرابی میں ایک تعلیمی سال ضائع کر دیا۔ یہ ۱۹۶۵ء کی بات ہے۔ میرے مضامین ہفت روزہ ترجمان اسلام میں شائع ہوتے تھے اور میں روزنامہ وفاق لاہور کا باقاعدہ نامہ نگار بن گیا تھا۔ ’’کوہستان‘‘ کے ادارتی صفحے پر مضمون کی اشاعت نے میرے ذہن میں یہ بات پیدا کر دی کہ میرا اصل میدان صحافت ہے، اس لیے تعلیم و تعلم میں میری توجہ کم ہوتی چلی گئی۔ حضرت والد صاحب نے یہ دیکھ کر مجھے مدرسہ سے اٹھا کر گکھڑ میں گھر لے آئے اور وہاں اپنی نگرانی میں تعلیم کا سلسلہ شروع کیا۔ اسی زمانے میں گکھڑ کے مدرسہ میں استاذ حضرت مولانا غلام علی صاحبؒ سے میں نے ’’فصول اکبری‘‘ اور ’’گلستان‘‘ کا کچھ حصہ پڑھا اور حضرت مولانا قاری عبد الحلیم سواتی مدظلہ سے قرآن کریم کے کچھ حصے کی مشق کی۔ حضرت والد صاحب کا انداز سختی کا ہوتا تھا اور سختی کے سارے حربے وہ اختیار کرتے تھے جس سے میں بے بسی کے عالم میں ایک روبوٹ کی طرح تعمیل حکم تو کر لیا کرتا تھا مگر سوچ سمجھ کے دروازے اکثر بند ہی رہتے تھے، اس لیے یہ سختی مجھ پر کچھ زیادہ اثر انداز نہ ہو سکی۔

اس دوران ایک روز گوجرانوالہ میں مدرسہ نصرۃ العلوم میں آیا تو چچا محترم حضرت صوفی عبد الحمید سواتی صاحبؒ نے پاس بٹھا کر مجھے بڑی شفقت سے سمجھایا اور ان کی یہ بات میرے دل و دماغ میں نقش ہو گئی کہ بیٹا! صحافت اور خطابت لوگوں تک کوئی بات پہنچانے کا ذریعہ ہے، یہ ضرور آدمی کے پاس ہونا چاہیے، لیکن پہنچانے کے لیے کوئی چیز بھی پاس موجود ہونی چاہیے۔ اگر اپنے پاس کچھ ہوگا تو دوسروں تک پہنچاؤ گے اور اگر اپنا سینہ علم سے خالی ہوگا تو دوسروں کو کیا دو گے؟ ٹونٹی کتنی ہی خوبصورت کیوں نہ ہو، وہی چیز باہر نکالے گی جو ٹینکی میں ہو گی اور اگر ٹینکی میں کچھ نہیں ہوگا تو ’’شاں شاں‘‘ کرے گی۔ حضرت صوفی صاحبؒ کے اس محبت بھرے لہجے اور ’’شاں شاں‘‘ کی مثال نے ایک لمحے میں دل و دماغ کا کانٹا بدل دیا اور یہ جملے اب بھی میرے کانوں میں ’’شاں شاں‘‘ کرتے رہتے ہیں۔

میرے مطالعہ کا آغاز ’’زندگی‘‘ اور ’’تاریخِ احرار‘‘ سے ہوا۔ پھر تاریخی ناولوں کی طرف ذہن مڑ گیا اور نسیم حجازی مرحوم اور محمد اسلم مرحوم کا مطالعہ کرنے لگا۔ ساتھ ساتھ ہفت روزہ خدام الدین، ہفت روزہ چٹان اور ہفت روزہ ترجمان اسلام میرے مستقل مطالعہ میں شامل ہوگئے۔ اخبارات بھی شوق سے پڑھتا تھا اور طالب علمی کے زمانے میں نوائے وقت، کوہستان اور امروز میرے روز مرہ مطالعہ کا حصہ ہوتے تھے۔ طالب علمی کے دور میں مطالعہ کے لیے مجھے جس نوعیت کی کوئی کتاب یا رسالہ میسر آجاتا، سمجھ میں آتا یا نہ آتا، میں اس پر ایک نظر ڈالنے کی کوشش ضرور کرتا۔ البتہ ترجیحات میں بالترتیب مزاحیہ تحریریں، تاریخی ناول اور جاسوسی ادب سر فہرست رہے اور اب بھی اختیاری مطالعہ میں حتی الامکان ترجیحات کی یہ ترتیب قائم رہتی ہے۔ مگر یہ بات تفریحی مطالعہ کی ہے یعنی فارغ وقت گزارنے کے لیے ذہن کو دیگر مصروفیات سے فارغ کرنے کے لیے اور تھوڑی بہت ذہنی آسودگی حاصل کرنے کے لیے۔ ورنہ عملی و فکری ضرورت کے لیے میرے مطالعہ کی ترجیحات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تبدیل ہو چکی ہیں اور اب حدیثِ نبوی اور اس سے متعلقہ علوم و فنون، تاریخ اور حقائق و واقعات کا پس منظر، اقوام و افکار کا تقابلی مطالعہ اسی ترتیب کے ساتھ میری دلچسپی کے موضوعات ہیں۔

شعر و شاعری بھی میرے مطالعہ کا اہم موضوع رہی ہے اور کسی حد تک اب بھی ہے۔ ایک دور میں دیوانِ حافظ اور دیوان غالب میرے سرہانے کے نیچے مستقل پڑے رہتے تھے۔ دیوانِ حافظ کے بہت سے اشعار سمجھ میں نہیں آتے تھے اس لیے میں نے مترجم دیوان رکھا ہوا تھا اور اس کی مدد سے ضروری باتیں سمجھ لیا کرتا تھا۔ عربی ادب میں دیوانِ حماسہ مطالعہ اور تدریس دونوں کے لیے پسندیدہ کتاب ہے اور مصر کے قومی شاعر عبد العزیز شوقی کی کوئی چیز مل جائے تو پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ شعر گوئی میں کامیابی حاصل نہیں کر سکا، البتہ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ، حضرت والد محترمؒ اور حضرت چچا محترمؒ کی وفات پر اپنے جذبات غم منظوم طور پر پیش کیے جو چھپ چکے ہیں اور دوستوں میں پسند کیے گئے ہیں۔

اردو ناول کی شاید ہی کوئی صنف میں نے چھوڑی ہو۔ جاسوسی، تاریخی اور رومانوی ہر قسم کے ناول میں نے پڑھے ہیں اور سیکڑوں ناول پڑھ ڈالے ہیں۔ نسیم حجازی سے لے کر ابن صفی تک کوئی ناول نگار میرے دائرے سے باہر نہیں رہا۔ جاسوسی ادب میں ابن صفی اور اکرم الٰہ آبادی میرے سب سے زیادہ پسندیدہ مصنف تھے اور جاسوسی کرداروں میں کرنل فریدی کو زیادہ پسند کرتا تھا۔ ادبی جرائد میں چٹان، اردو ڈائجسٹ، سیارہ ڈائجسٹ، حکایت اور قومی ڈائجسٹ اور علامت سالہاسال تک میرے مطالعہ کا حصہ رہے ہیں۔ معاشرتی، جاسوسی اور تاریخی افسانے بھی بہت پڑھے ہیں اور اب بھی میسر ہوں تو ضرور پڑھتا ہوں۔ کسی رسالہ کے مطالعہ کا آغاز عام طور پر لطائف کے صفحہ سے ہوتا ہے۔

طالب علمی کے دور میں تعلیم کچھ آگے بڑھی تو حدیثِ نبویؐ کے مطالعہ کی طرف رجحان بڑھتا گیا۔ تاریخ، سیرت اور حدیث نبوی کی کتابیں میرے مطالعہ میں اولین ترجیح تھیں اور اب بھی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ رومانوی ناول اور طنز و مزاح بھی مطالعہ میں میرے پسندیدہ موضوعات رہے۔ اخبارات کے مزاحیہ کالموں میں شوکت تھانوی، ابراہیم جلیس اور احمد ندیم قاسمی کے کالم شوق سے پڑھتا تھا۔ ان موضوعات پر سیکڑوں کتابیں نظر سے گزری ہوں گی۔ اب جس مطالعہ کا تعلق درس و تدریس اور میری عملی زندگی سے ہے، وہ تو کرنا ہی پڑتا ہے۔ اس سے ہٹ کر تاریخی موضوعات، حدیثِ نبوی اور اس سے متعلقہ مباحث اور عالمی حالات کے سیاسی تجزیے اہتمام کے ساتھ پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مگر اب وقت کم ملتا ہے اور جوں جوں ’’فرصتے و کتابے و گوشہ چمنے‘‘ کا ذوق بڑھتا جا رہا ہے اسی رفتار سے مصروفیات میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ خواہش بتدریج حسرت میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔

میرے لکھنے پڑھنے کے ذوق کو دونوں بزرگوں یعنی والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کی عملی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ طالب علمی کے زمانے میں حضرت والد صاحبؒ نے فاتحہ خلف الامام پر اپنی ضخیم کتاب ’’احسن الکلام‘‘ کی تلخیص مجھ سے اپنی نگرانی میں کرائی جو ’’اطیب الکلام‘‘ کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ اس پر دو تین صفحات کا پیش لفظ میں نے خود تحریر کیا جو کتابچہ میں موجود ہے اور مجھے یاد ہے کہ میرے لکھے ہوئے پیش لفظ میں حضرت والد صاحب نے صرف ایک جملہ کی اصلاح کی تھی۔ میں نے ایک جگہ ’’بیک بندش چشم‘‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی جسے انہوں نے ’’چشم زدن‘‘ کے محاورہ سے بدل دیا۔ اس کا علاوہ انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی جس پر مجھے بے حد خوشی ہوئی اور میری خود اعتمادی میں اضافہ ہوا۔ حضرت صوفی صاحبؒ نے اپنی تصنیف ’’فیوضات حسینی‘‘ کی تسوید و ترتیب کے کام میں مجھے شریک کیا اور اس کا بیشتر حصہ حضرت صوفی صاحبؒ کی نگرانی میں ان کی ہدایات کے مطابق میں نے مرتب کیا، جس پر مجھے انہوں نے پارکر کا ایک خوبصورت قلم انعام میں دیا۔ دونوں بزرگوں کی یہ خواہش اور کوشش رہی کہ میں ان کے تصنیف و تحقیق کے کام میں معاون اور دست راست بنوں مگر کسی شخص کے لیے اپنے ’’خون کا گروپ‘‘ خود اختیار کرنے کی سہولت اللہ تعالٰی نے نہیں رکھی اور میرے خون کے جراثیم قدرے مختلف تھے، اس لیے اس فطری تنوع نے میری تحریر و تقریر کا میدان کسی حد تک ان سے مختلف کر دیا۔ جمعیت طلباء اسلام اور جمعیت علماء اسلام کے پلیٹ فارم پر سیاسی سرگرمیوں میں متحرک ہو جانے کے بعد میرے فکر و نظر کا زاویہ قدرے مختلف ہو چکا تھا اور میرے لکھنے پڑھنے کے موضوعات میں اسلامی نظام کی اہمیت و ضرورت، مغربی فلسفہ و ثقافت کی یلغار، اسلام پر مغرب کی طرف سے کی جانب سے کیے جانے والے اعتراضات و شبہات، آج کے عالمی تناظر میں اسلامی احکام و قوانین کی تشریح، اسلامائزیشن کے علمی و فکری تقاضے، نفاذِ اسلام کے حوالے سے دینی حلقوں کی ضروریات اور ذمہ داریاں، اسلام دشمن لابیوں کی نشاندہی اور تعاقب، اور ان حوالوں سے طلبہ، دینی کارکنوں اور باشعور نوجوانوں کی راہنمائی اور تیاری کو اولین ترجیح کا درجہ حاصل ہوگیا۔ چنانچہ گزشتہ پینتالیس برس سے انہی موضوعات پر مسلسل لکھتا چلا آرہا ہوں۔ بحمد اللہ تعالٰی ہزاروں مضامین ان عنوانات پر شائع ہو چکے ہیں جن کا انتخاب الشریعہ اکادمی کی ویب سائٹ کے مقالات و مضامین کے سیکشن میں موجود ہے۔ کچھ اہم موضوعات پر چند کتابی مجموعے بھی الشریعہ اکادمی نے شائع کیے ہیں۔

سوال نمبر ۴۔ آپ اُردو کے علاوہ اور کن زبانوں میں مطالعہ کرتے ہیں؟ انگریزی، عربی، فارسی، ہندی، پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، دیگر زبانیں؟

جواب: اردو میرے مطالعہ کا اصل دائرہ ہے۔ عربی میری تدریس کا حصہ ہے، اس لیے زیادہ تر مطالعہ انہی دو زبانوں میں ہوتا ہے۔ فارسی سے معمولی شدبد ہے۔ کتابی فارسی تھوڑی بہت سمجھ لیتا ہوں، اس لیے بوقتِ ضرورت اور بقدرِ ضرورت اس کے مطالعہ کا موقع بھی مل جاتا ہے۔ پنجابی میری مادری زبان ہے مگر پڑھنے کا موقع کم ہی ملتا ہے، اگر کوئی چیز مل جائے تو شوق پورا کرنے کی کوشش ضرور کرتا ہوں۔ اس کے سوا کوئی زبان نہیں جانتا اور ضروری امور میں تراجم کے ذریعے مقصد پورا کر لیتا ہوں۔

سوال نمبر ۵۔ آپ کے پسندیدہ مصنفین؟ آپ کی پسندیدہ کتابیں؟ آپ کے پسندیدہ رسائل؟ پسندیدہ افسانہ نگار؟ کالم نگار؟ پسندیدہ مزاح نویس؟ طنز نگار؟

جواب: پسندیدہ مصنفین میں مولانا ابو الحسن علی ندویؒ، چودھری افضل حقؒ، مولانا مودودیؒ، مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ اور مولانا مناظر احسن گیلانیؒ سر فہرست ہیں۔ حدیثِ نبوی، تاریخ اور سیاسی تجزیہ کی کوئی بھی قابل فہم کتاب میرے نزدیک قابل ترجیح ہوتی ہے۔ کالم نگاروں میں ارشاد احمد حقانی مرحوم، احسان بی اے مرحوم، جاوید چودھری، منو بھائی اور حامد میر کو زیادہ پڑھا ہے اور مزاح نگاروں میں شوکت تھانویؒ، احمد ندیم قاسمیؒ اور ابراہیم جلیس کو پڑھتا رہا ہوں اور اب یونس بٹ کو پڑھ لیتا ہوں۔

سوال نمبر ۶۔ آپ اپنی دنیائے مطالعہ میں کس ایک مصنف کو بلند ترین مقام پر رکھتے ہیں جس کا آپ کی ذہنی نشوونما پر سب سے زیادہ اثر پڑا ہو؟ (خصوصاً اردو لکھنے والوں میں سے؟)

جواب: علمی و تحقیقی دنیا میں متقدمین میں امام محمدؒ، امام بخاریؒ، ابن تیمیہؒ، شاہ ولی اللہؒ، جبکہ دورِ حاضر میں والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ، عم مکرم مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ، مولانا مجاہد الاسلام قاسمیؒ اور الاستاذ وہبہ زحیلی، اور فکری دنیا میں علامہ اقبالؒ، مولانا ابو الحسن علی ندویؒ اور چودھری افضل حقؒ نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔

سوال نمبر ۷۔ کن کن اخبارات و رسائل کا روزانہ مطالعہ کرتے ہیں اور اس میں کتنا وقت صرف کرتے ہیں؟

جواب: کسی زمانے میں چار پانچ اخبارات کا روزانہ بالاستیعاب مطالعہ کیا کرتا تھا، اب وقت نہیں ملتا، اس لیے معمول یہ ہے کہ نوائے وقت، ایکسپریس، پاکستان اور اسلام پر ایک سرسری نظر ڈال کر دلچسپی کی خبر اور کالم تفصیل سے پڑھ لیتا ہوں۔ ’’الشریعہ‘‘ کے تبادلے میں درجنوں جرائد آتے ہیں، ان سب کو ایک نظر ضرور دیکھتا ہوں، فہرست پر نظر ڈال کر اگر کوئی مضمون دلچسپی یا ضرورت کا ہو تو وہ رسالہ مطالعہ کے لیے الگ کر لیتا ہوں اور اگر موقع مل جائے تو مطالعہ بھی کر لیتا ہوں، ورنہ اس طرح الگ کیے ہوئے رسالے اور کتابیں مہینوں پڑی رہتی ہیں۔

سوال نمبر ۸۔ کیا دورانِ سفر میں بھی مطالعہ کرتے ہیں؟ اور کس طرح کی کتابوں کا انتخاب کرتے ہیں؟

جواب: دورانِ سفر پہلے مطالعہ کر لیا کرتا تھا اب نہیں ہوتا۔ مگر کوئی اخبار یا کتاب ضروری پڑھنی ہو تو اپنے اوپر تھوڑا جبر کر لیا کرتا ہوں۔ کسی سیمینار یا کانفرنس میں گفتگو کے لیے کوئی عنوان میں خود طے کروں یا میرے ذمہ لگ جائے تو خواہش یہ ہوتی ہے کہ باقاعدہ تیاری کروں، مگر اکثر اس کا موقع نہیں ملتا۔ وقتی طور پر انتہائی ضروری مطالعہ پر قناعت کرنا پڑتی ہے اور عام طور پر زبانی گفتگو کے بعد اسے قلمبند کرنے کی عادت سی بن گئی ہے۔

سوال نمبر ۹۔ عام طور پر مطالعہ کے اوقات کیا ہوتے ہیں؟ پروگرام کس طرح چلتا ہے، نشست کس طرح کی پسند کرتے ہیں، رفتار مطالعہ کیا ہوتی ہے؟

جواب: اب کوئی وقت متعین نہیں ہے، مصروفیات میں جو وقت بھی نکل آئے اخبارات و جرائد پر نظر ڈال لیتا ہوں۔ تکیہ کے ساتھ فرشی نشست کو زیادہ پسند کرتا ہوں۔ عام طور پر سیدھا بیٹھ کر پڑھتا ہوں۔ تھکاوٹ ہو تو نیم دراز ہو جاتا ہوں لیکن لیٹ کر پڑھنے کی عادت نہیں ہے۔

سوال نمبر ۱۰۔ آپ کا حافظہ آپ کی وُسعتِ مطالعہ کا کہاں تک ساتھ دیتا ہے، کیا پڑھی گئی کتب کے نام، مضامین، مصنف، پوری طرح یاد رہتے ہیں؟

جواب: ضرورت اور دلچسپی کی بات اجمالاً یاد رہتی ہے اور بوقت ضرورت مراجعت میں فائدہ دیتی ہے، لیکن زیادہ تر باتیں ذہن سے عام طور پر محو ہو جاتی ہیں۔ دوبارہ کہیں دیکھنے پر یاد آتا ہے کہ پہلے بھی یہ بات کہیں پڑھی ہے۔ کسی لائبریری میں جاؤں تو ایک سرسری نظر سب کتابوں پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہوں تاکہ کوئی نئی کتاب آئی ہو تو معلوم ہو جائے، اور کبھی کسی حوالہ سے کسی کتاب کی ضرورت محسوس ہو تو ذہن میں عام طور پر یہ بات محفوظ رہتی ہے کہ یہ کتاب فلاں لائبریری میں دیکھی تھی۔

سوال نمبر ۱۱۔ تنہائی اور خاموشی آپ کے مطالعہ کے لیے ضروری ہے، یا آپ ہجوم اور شور و شغب میں بھی پڑھ لیتے ہیں؟

جواب: مطالعہ کے لیے تنہائی کی کوشش کرتا ہوں۔ بوقتِ ضرورت شور و شغب میں بھی کام چل جاتا ہے۔ ایک مرحوم دوست مولانا سعید الرحمن علوی میرے لیے ہمیشہ قابل رشک رہے ہیں جو مجلس میں بیٹھے ہوئے گپ شپ بھی کرتے تھے، مطالعہ بھی چلتا تھا اور ساتھ ساتھ لکھتے بھی رہتے تھے اور ان میں سے کوئی بات دوسری پر اثرانداز نہیں ہوتی تھی۔ ویسے گھر والے کہتے ہیں کہ آپ کے ہاتھ میں کتاب یا رسالہ ہو تو آپ کو اردگرد کا ہوش نہیں رہتا۔

سوال نمبر ۱۲۔ کیا مطالعہ کے دوران آپ کتاب پر نشان لگاتے ہیں؟ یا آپ الگ نوٹ کر لیتے ہیں؟ کبھی خلاصہ لکھنے کا شوق رہا؟

جواب: کتاب پر نشان لگانے سے گریز کرتا ہوں اور کوئی بات پسند یا ضرورت کی ہو تو نوٹ بک پر درج کر لیتا ہوں۔ کسی کتاب پر حاشیہ لکھنے کا معمول بھی نہیں ہے، البتہ ضروری حوالہ یا عبارت نوٹ بک پر محفوظ کر لیتا ہوں۔ اس قسم کے نوٹس دو تین مختصر کاپیوں میں موجود ہیں جو کبھی کبھی پھر سے دیکھتا رہتا ہوں۔

سوال نمبر ۱۳۔ آپ اپنے مطالعہ، حاصلِ مطالعہ اور ذوقِ مطالعہ میں کیا اپنے گھر کے لوگوں خصوصاً بچوں کو بھی حصہ دار بناتے ہیں؟ بچوں کی تربیت ذوق کے لیے آپ کے تجربات کیا ہیں؟

جواب: بچوں کو کتاب کی طرف متوجہ کرتا ہوں اور ان کے مطلب یا ذہنی سطح کی کوئی کتاب نظر آجائے تو مہیا کرتا ہوں اور انہیں مطالعہ کرتے دیکھ کر خوش ہوتا ہوں۔

سوال نمبر ۱۴۔ کیا آپ کی ذاتی لائبریری ہے؟ اس کا حدود اربعہ کیا ہے؟ اس میں اہم ترین کتابیں کون سی ہیں؟ کچھ خاص کتابوں کو حاصل کرنے کے لیے اگر آپ کو کوئی خاص معرکہ سر کرنا پڑا ہو تو درج فرمائیے؟ نمایاں شخصیتوں کی طرف سے ہدیہ میں آئی ہوئی کتابیں کون کون سی ہیں؟

جواب: زندگی میں اپنے جیب خرچ اور کمائی کا ایک بڑا حصہ میں نے کتاب پر صرف کیا ہے۔ ذاتی اور گھریلو اخراجات کے بعد سفر، کتاب، اسٹیشنری و ڈاک میری کمائی کے اہم ترین مصارف رہتے ہیں۔ مجھے جب بھی اپنے اخراجات میں کوئی گنجائش ملی ہے (بسا اوقات اس کے بغیر بھی) تو میری رقم کے مصارف میں یہی تین چیزیں شامل رہی ہیں اور اب بھی یہی صورتحال ہے۔ میں نے زندگی میں جتنی کتابیں خریدی ہیں اگر سب میرے پاس موجود ہوتیں تو انہیں سنبھالنے کے لیے ایک اچھی خاصی لائبریری درکار ہوتی، مگر میرے ساتھ المیہ یہ رہا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے تک کتاب خریدنے میں جس قدر ’’فضول خرچ‘‘ تھا اسی طرح کتاب دینے میں بھی فراخ دل رہا ہوں۔ مجھ سے جس دوست نے بھی کسی ضرورت کے لیے کوئی کتاب مانگی ہے میں انکار نہیں کر سکا، اور اس طرح دی ہوئی کتابوں میں شاید ہی چند کتابیں مجھے واپس ملی ہوں، ورنہ اکثر کتابیں دوستوں ہی کے کام آرہی ہیں۔ یہ ’’واردات‘‘ میرے ساتھ انفرادی کے علاوہ اجتماعی بھی ہوئی ہے اور کئی بار ہوئی ہے۔ ۱۹۶۵ء کی بات ہے کہ گکھڑ میں انجمنِ نوجوانان اسلام قائم ہوئی جس کے بانیوں میں میرا نام بھی شامل ہے۔ اس انجمن نے عوامی خدمت کے لیے دارالمطالعہ قائم کیا تو میں نے اپنی زیادہ تر کتابیں وہاں دے دیں کہ عمومی استفادہ ہوگا اور محفوظ بھی رہیں گی، مگر دو چار سال کے بعد انجمن بکھری تو کتابوں کا بھی کچھ پتہ نہ چل سکا کہ کہاں گئیں۔

اس کے بعد گوجرانوالہ میں اسلامیہ کالج روڈ پر کچھ نوجوانوں نے انصار الاسلام لائبریری کے نام سے ایک دینی دار المطالعہ قائم کیا تو اس وقت جمع ہونے والی کتابوں کا بڑا حصہ ان کی نذر کر دیا۔ یہ دارالمطالعہ آٹھ دس سال چلتا رہا اور اب اس کا بھی کوئی سراغ موجود نہیں ہے۔ اس کے کافی عرصہ بعد شاہ ولی اللہ یونیورسٹی وجود میں آئی اور اس میں لائبریری قائم کی گئی تو میں نے ایک بار پھر کتابوں کی چھانٹی کی اور اچھا خاصا ذخیرہ شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کی لائبریری میں منتقل کر دیا، مگر یونیورسٹی کا سلسلہ تعلیم چند سال بعد منقطع ہوگیا تو لائبریری بھی بند ہو گئی۔ خدا جانے کوئی کتاب اب وہاں موجود ہے یا نہیں۔ اب میری ساری توجہ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی لائبریری کی طرف مبذول ہے اور کوشش کر رہا ہوں کہ ایک اچھی سی لائبریری اصحاب ذوق کو میسر آجائے۔ اس کارِ خیر میں عزیزم محمد عمار خان ناصر سلّمہ بھی میرے ساتھ شریک ہے جو کتابی ذوق سے بخوبی بہرہ ور ہے اور لکھنے پڑھنے کے سوا اس کی کوئی اور دلچسپی نہیں ہے۔ اس کا بڑا بیٹا طلال خان بھی کتابوں اور رسالوں میں ہی غرق رہتا ہے، حتٰی کہ کھانا بھی ما شاء اللہ اس کیفیت میں کھاتا ہے کہ کتاب یا رسالہ اس کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور پاس بیٹھی ماں یا دادی اس کے منہ میں لقمے ڈالتی رہتی ہے، اللہ پاک نظر بد سے بچائیں۔ مجھے اور عمار میں سے جس کو بھی کوئی کتاب میسر آجائے اور وہ ہماری وقتی یا ذاتی ضرورت کے دائرہ کی نہ ہو تو الشریعہ اکادمی کی لائبریری کی نذر ہو جاتی ہے۔ الشریعہ اکادمی کی لائبریری کو بہت چھوٹی ہونے کے باوجود شہر کی اہم لائبریریوں میں بحمد اللہ تعالٰی شمار کیا جا سکتا ہے۔

بعض کتابوں کے حصول میں غیر معمولی صورتحال سے بھی واسطہ پڑا۔ میری طالب علمی کے زمانے میں مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے ایک شاگرد مولانا محمد صدیق ولی اللّٰہی وقتاً فوقتاً آیا کرتے تھے۔ مجذوب طرز کے بزرگ تھے، مگر کتاب کا اعلیٰ ذوق رکھتے تھے اور کوئی نہ کوئی نادر کتاب ان کے تھیلے میں موجود ہوتی تھی۔ ایک دفعہ میں نے ان کے پاس ہندوستان کی زمینوں کی شرعی حیثیت کے بارے میں مولانا محمد اعلیٰ تھانوی کا رسالہ دیکھ لیا جو ان دنوں نایاب تھا۔ مجھے اس کی تلاش تھی، میں نے ان سے درخواست کی کہ چند روز کے لیے مرحمت فرما دیں، میں نقل کر لوں گا۔ انہوں نے انکار کر دیا۔ میں نے گزارش کی کہ رات آپ نے یہیں رہنا ہے اس لیے ایک رات کے لیے دے دیں صبح واپس کر دوں گا۔ انہوں نے وہ رسالہ مجھے اس شرط پر دے دیا۔ میں نے رات بھر جاگ کر وہ رسالہ نقل کر لیا اور صبح کو انہیں واپس کر دیا۔

صدر ضیاء الحق مرحوم کے دور میں اسلامی نظریاتی کونسل نے سود کی حرمت اور اس کے متبادل شرعی نظام کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ مرتب کی تھی۔ ان دنوں اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹوں کی اشاعت پر پابندی ہوا کرتی تھی۔ مجھے اس رپورٹ کی تلاش تھی اور معمول کے ذرائع سے دستیاب نہیں ہو رہی تھی، البتہ قومی اسمبلی کے ارکان میں وہ تقسیم کی گئی تھی۔ میں ایک دن بلوچستان سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے ایک رکن سے، جو اَب مرحوم ہو چکے ہیں، ملنے کے لیے ایم این اے ہاسٹل میں ان کے کمرے میں گیا تو وہ رپورٹ ان کی میز پر پڑی دیکھی۔ میرا جی للچایا اور میں نے ان جانے سے انداز میں ان سے پوچھا کہ یہ کون سی کتاب ہے؟ انہوں نے بھی اسی انجانے سے لہجے میں کہا کہ پتہ نہیں، کوئی صاحب دے گئے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کی ضرورت کی تو نہیں، کیا میں لے لوں؟ انہوں نے اثبات میں سر ہلایا تو میں نے وہ کتاب اٹھا کر اپنے بیگ میں رکھ لی۔ اس رپورٹ کے اس طرح اچانک حصول پر مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ میں وہ کیفیت بیان نہیں کر سکتا۔ میں نے اسے محفوظ کر لیا کہ برطانیہ کے سفر کے دوران فراغت سے مطالعہ کر لوں گا، مگر ساؤتھال لندن کی ابوبکر مسجد میں ورلڈ اسلامک فورم کی ایک میٹنگ میں انڈیا کے محقق عالم دین حضرت مولانا مجاہد الاسلام قاسمیؒ ہمارے ساتھ شریک تھے۔ میں نے کسی ضرورت کے تحت اپنا بیگ ان کے سامنے کھولا تو ان کی نظر اس رپورٹ پر پڑ گئی۔ انہوں نے مجھ سے مانگ لی اور فرمایا کہ میں تو ایک عرصہ سے اس کی تلاش میں تھا۔ میں نے عرض کیا کہ میں نے بھی بڑی مشکل سے حاصل کی ہے۔ انہوں نے یہ فرما کر بے تکلفی کے ساتھ وہ رپورٹ اپنے بیگ میں رکھ لی کہ مجھے اس کی سخت ضرورت ہے، تم کوئی اور نسخہ تلاش کر لینا۔ مجھے کتاب کھو جانے کا افسوس تو ہوا، مگر اس سے کہیں زیادہ خوشی ہوئی کہ وہ رپورٹ مجھ سے زیادہ اہل اور مستحق بزرگ کے پاس پہنچ گئی۔

لندن ہی میں ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا مفتی برکت اللہ کی ذاتی لائبریری میں ایک کتاب میری نظر سے گزری جو ایک عرب محقق الاستاذ عبد الحلیم ابو شقہؒ نے ’’تحریر المراۃ فی عصر الرسالۃ‘‘ کے عنوان سے چار جلدوں میں لکھی ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں عورتوں کو حاصل ہونے والی آزادیوں کے بارے میں انتہائی مستند مواد جمع کر دیا ہے۔ انسانی حقوق اور خاص طور پر عورتوں کے حقوق میرے مطالعہ اور گفتگو کا ہمیشہ سے اہم موضوع رہے ہیں، اس لیے یہ کتاب میری دلچسپی اور ضرورت کی تھی۔ میں نے مولانا مفتی برکت اللہ کے ساتھ وہی کیا جو میرے ساتھ مولانا مجاہد الاسلام قاسمی نے کیا تھا۔ مفتی برکت اللہ صاحب کے نہ نہ کرتے بھی میں نے وہ کتاب اپنے بیگ میں رکھ لی اور ان سے کہا کہ آپ دوسرا نسخہ منگوا لیں، یہ میں لے جا رہا ہوں۔ یہ نسخہ الشریعہ اکادمی کی لائبریری میں موجود ہے۔ اس کتاب کا مکمل اردو ترجمہ اب اسلامی نظریاتی کونسل نے اسلام آباد سے شائع کر دیا ہے، جبکہ ایک جلد میں اس کی تلخیص بھی ’’عورت عہدِ رسالت میں‘‘ کے عنوان سے لاہور کے ایک اشاعتی ادارے نے شائع کی ہے۔

یہودیوں کی ایک اہم کتاب ’’تالمود‘‘ ہے جس کا وہ عام طور پر مطالعہ کرتے رہتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل مجھے اس کی تلاش تھی کہ اس کا اردو یا عربی ترجمہ مل جائے تو یہ معلوم کر لوں کہ مواد کس نوعیت کا ہے۔ مختلف دوستوں سے پوچھتا رہا مگر کچھ پتہ نہ چلا۔ برطانیہ میں ایک کتاب شناس دوست سے ذکر کیا تو انہوں نے بتایا کہ تالمود کے منتخب حصوں کا اردو ترجمہ تو آپ کے گوجرانوالہ سے شائع ہوا ہے۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ انہوں نے اپنی لائبریری سے وہ کتاب نکال کر مجھے دکھائی تو اس پر ناشر کے طور پر ’’بیت المومنین سادھوکی گوجرانوالہ‘‘ لکھا تھا۔ واپسی پر میں نے سادھوکی کے قریب جی ٹی روڈ پر واقع جامعہ اسلامیہ کے مہتمم مولانا عبد الرؤف فاروقی کو بتایا تو انہیں بھی حیرانی ہوئی۔ ہم دونوں سادھوکی کے ریلوے پھاٹک کے ساتھ واقع ادارہ ’’بیت المومنین‘‘ پہنچے تو دیکھا کہ وہ کیتھولک مسیحیوں کا ایک عالمی سطح کا معیاری اشاعتی ادارہ ہے جہاں سے ویٹی کن سٹی کی مطبوعات کے معیاری اردو تراجم شائع ہوتے ہیں۔ عجیب اتفاق کی بات یہ ہوئی کہ اس وقت جو انچارج پادری صاحب وہاں موجود تھے، ان کا تعلق بھی ہمارے آبائی شہر گکھڑ سے تھا۔ انہوں نے ہمیں پہچان لیا، خوب آؤ بھگت کی اور تالمود کے اردو ترجمے کے علاوہ کیتھولک بائبل اور چند دیگر کتابیں بھی ہمیں ہدیے کے طور پر پیش کیں۔

آج کل مطلب کی کسی کتاب کے حصول کے لیے مجھے عام طور پر تین ذرائع میسر ہیں۔ کسی صاحب علم دوست کے ہاں جاتا ہوں تو ان کی لائبریری پر ایک نظر ضرور ڈالتا ہوں۔ کوئی نئی کتاب دلچسپی کی نظر میں آئے تو اس کا نام اور مصنف و ناشر کا تعارف ذہن نشین کر لیتا ہوں اور بعد میں موقع ملے تو حاصل کرنے کی کوشش بھی کرتا ہوں۔ ہمارے دوستوں میں ایک کتاب دوست اور کتاب شناس ساتھی شبیر احمد میواتی ہیں۔ اچھی کتابوں کی تلاش، ان کا حصول اور متعلقہ دوستوں تک انہیں پہنچانا (اگرچہ بعض اوقات اس کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے) میواتی صاحب کا خصوصی مشغلہ ہے۔ ہمارے ہاں اکثر آتے رہتے ہیں اور ہر مرتبہ ان کی زنبیل میں نئی اور پرانی کتابوں کا ایک اچھا انتخاب موجود ہوتا ہے۔ ان میں سے کوئی کتاب میرے مطلب کی ہو تو وہ دے دیتے ہیں یا میں مانگ لیتا ہوں، ورنہ مطالعہ کے لیے تو رکھ ہی لیتا ہوں جو زیادہ تر واپس بھی کر دیتا ہوں۔ ہمارے ایک اور دوست محمد رفیق صاحب ہیں۔ نادر عربی کتابوں کی خرید و فروخت ان کا مشغلہ ہے۔ کبھی کبھی آتے ہیں تو ان کا تھیلا کھلوا کر دیکھتا ہوں۔ کوئی دلچسپی یا ضرورت کی کتاب جیب کی گنجائش کے دائرے میں ہو تو خرید لیتا ہوں، یا عمار سے کہتا ہوں کہ الشریعہ اکادمی کے فنڈ میں گنجائش ہو تو لائبریری کے لیے خرید لو۔ بصورت دیگر کتاب خاموشی کے ساتھ واپس کر دیتا ہوں۔

سوال نمبر ۱۵۔ کتابیں مستعار دینے اور لینے کے متعلق آپ کے تجربات کیا ہیں اور اس معاملے میں آپ کا نظریہ و مسلک کیا ہے؟ کیا کچھ واقعات ایسے ہیں کہ بعض اہم کتابوں سے آپ ہاتھ دھو بیٹھے ہوں؟

جواب: اس بارے میں بہت تلخ تجربہ رکھتا ہوں۔ بہت سی کتابیں ضائع کر چکا ہوں۔ ایک اہم کتاب جو مجھ سے کسی صاحب نے مطالعہ کے لیے لی، کئی برس بعد مجھے ایک فٹ پاتھ پر کتابیں بیچنے والے سے دوبارہ خریدنی پڑی۔ حتی کہ فلپ کی ہٹی کی جس کتاب کا میں سطور بالا میں ذکر کر چکا ہوں، اس پر میرے لکھے ہوئے نوٹس بھی موجود تھے، وہ اور قاضی عیاضؒ کی ’’الشفاء‘‘ جو ایک دوست نے مجھ سے مطالعہ کے لیے لی تھیں، یہ دونوں ذاتی کتابیں میں نے فٹ پاتھ سے دوبارہ خریدیں۔

سوال نمبر ۱۶۔ کیا مطالعہ سے عمر کے ساتھ ساتھ کوئی ذہنی، فکری تبدیلی پیدا ہوئی؟

جواب: مطالعہ کے ارتقا سے فکر و ذہن کا ارتقا ایک فطری امر ہے، میں بھی اس تجربہ سے دو چار ہوا ہوں۔ بہت سی باتیں جن پر ابتدائی دور میں لڑنے مرنے پر تیار ہو جاتے تھے، اب ہلکی پھلکی معلوم ہوتی ہیں اور مطالعہ نے رفتہ رفتہ فکر میں توسع اور تنوع پیدا کیا ہے۔ خاص طور پر یہ کہ آج کے حالات میں آزادانہ بحث و مباحثہ کے بغیر کسی بھی مسئلے میں منطقی نتیجے تک پہنچنا ممکن نہیں ہے، اور عالمی ذرائع ابلاغ اور تعلیمی مراکز نے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں مختلف اطراف سے شکوک و شبہات پیدا کرنے کی جو مہم شروع کر رکھی ہے، اس کے اثرات سے نئی نسل کو محفوظ رکھنے کے لیے ہمارا روایتی اسلوب کافی نہیں ہے۔ ماضی نے اپنا علمی خزانہ کتابوں اور سی ڈیز کی شکل میں اگل دیا ہے اور آج کوئی بھی ذی استعداد اور با صلاحیت نوجوان اپنے چودہ سو سالہ علمی ماضی کے کسی بھی حصہ کے بارے میں معلومات حاصل کر نا چاہے یا کسی بھی طبقے کا موقف اور دلائل معلوم کرنا چاہے تو اسے اس کے بھرپور مواقع اور وسائل ہر وقت میسر ہیں۔ اس ماحول میں یہ کوشش کرنا کہ نوجوان اہلِ علم صرف ہمارے مہیا کردہ علم اور معلومات پر قناعت کریں اور علم اور معلومات کے دیگر ذرائع سے آنکھیں اور کان بند کر لیں، نہ صرف یہ کہ ممکن نہیں بلکہ فطرت کے بھی منافی ہے۔ اس لیے آج کے دور میں ہماری ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے اور یہ بات ہمارے فرائض میں شامل ہو جاتی ہے کہ مطالعہ اور تحقیق کے اس سمندر سے نئی نسل کو روکنے کی بجائے خود بھی اس میں گھسیں اور ان متنوع اور مختلف الجہات ذرائع معلومات میں حق کی تلاش یا حق کے دائرے کو محفوظ رکھنے کے لیے ان کی راہنمائی کریں۔ چنانچہ علم و فکر کی دنیا میں میرا ذوق روکنے یا باز رکھنے کا نہیں بلکہ سمجھانے اور صحیح نتیجے تک پہنچنے کے لیے ہر ممکن مدد کرنے کا ہے۔ کسی دوست کو یہ طریقہ پسند ہو یا نہ ہو، لیکن میں اسی کو صحیح سمجھتا ہوں۔ اس کے لیے بحث و مباحثہ ضروری ہے، مسائل کا تجزیہ و تنقیح اور دلائل کی روشنی میں ان کا خالص علمی انداز میں تلاش کرنا ضروری ہے۔ ایک عرصہ تک میرا بھی یہ ذوق اور ذہن رہا ہے کہ تحقیق کا دائرہ صرف یہ ہوتا ہے کہ جو بات ہم اپنے ذہن میں پہلے سے طے کر چکے ہیں، اسے کسی نہ کسی طرح ثابت کر دیا جائے۔ مگر رفتہ رفتہ یہ بات ذہن میں راسخ ہوتی گئی کہ خود اپنی بات کو دلائل اور حقائق کے معیار پر پرکھنا بھی تحقیق کا اہم ہدف ہوتا ہے۔ بہت سے مسائل میں اکابر اہلِ علم کا رجوع الی الحق بالخصوص حکیم الامت حضرت تھانویؒ کی طرف سے اس کا باقاعدہ اہتمام میرے ذوق میں اس تبدیلی کا باعث بنا۔

سوال نمبر ۱۷۔ اگر آپ کسی ایسی جگہ پر ہوں جہاں آپ باقی دنیا سے کٹ گئے ہوں اور آپ کو باقی زندگی کے لیے (قرآن مجید کے علاوہ) صرف تین کتابوں کے انتخاب کا موقع دیا جائے تو کن کتابوں کا انتخاب کریں گے؟

جواب: اللہ نہ کرے ایسی کوئی صورت پیش آئے لیکن اگر خدانخواستہ کوئی ایسی صورت پیش آجائے تو قرآن کریم کے علاوہ احادیثِ نبویہ کے کسی اچھے سے مجموعہ، تاریخی واقعات کی کوئی ضخیم کتاب اور دیوان سنگھ مفتون کی ’’ناقابلِ فراموش‘‘ کا تقاضا کروں گا۔

سوال نمبر ۱۸۔ کیا کبھی کسی تحریر کے مطالعے سے منفی احساس بھی ہوا، مایوسی یا غصے کی کیفیت؟

جواب: قرآن کریم، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرات صحابہ کرامؓ و اہل بیت عظامؓ اور بڑی دینی شخصیات کا کہیں توہین و تمسخر کے انداز میں ذکر ہو تو غصہ آتا ہے اور وہیں مطالعہ چھوڑ دیتا ہوں۔ اختلافِ رائے کا حق بلا جھجھک استعمال کرتا ہوں اور بلا تأمل دوسروں کو اختلاف رائے کا حق دیتا ہوں۔ سنجیدہ علمی اختلاف کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتا ہوں، مگر توہین، استہزا اور تمسخر میرے لیے ہمیشہ ناقابل برداشت رہا ہے اور استحقار و استخفاف کا لہجہ کسی بھی شخصیت کے بارے میں اختیار کیا جائے، مجھے اچھا نہیں لگتا۔ قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تنقید و اعتراضات پر مشتمل پنڈت دیانند سرسوتی کی کتاب ’’ستیارتھ پرکاش‘‘ کے چودھویں باب کا کئی بار مطالعہ کیا ہے اور اب بھی ضرورت پڑنے پر اسے دیکھتا ہوں، مگر راج پال کی بدنام زمانہ کتاب ’’رنگیلا رسول‘‘ کو پڑھنے کا اپنے اندر کبھی حوصلہ نہیں پایا۔

سوال نمبر ۱۹۔ کچھ ایسے مصنفین جن کو ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا ہو، ملاقات میں کامیاب ہوئے، ملنے کے بعد تاثرات؟

جواب: اقبالؒ اور چودھری افضل حقؒ تو میری ولادت سے پہلے ہی فوت ہو گئے تھے، البتہ مولانا ابوالحسن علی ندویؒ اور الاستاذ وہبہ زحیلیؒ سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کی زیارت پہلی بار ۱۹۸۴ء کے دوران مکہ مکرمہ میں کی جہاں وہ مولانا محمد منظور نعمانیؒ کے ہمراہ غالباً رابطہ عالم اسلامی کے اجلاس میں شرکت کے لیے گئے تھے۔ ان دونوں بزرگوں کے ساتھ بیٹھنے اور گفتگو کی سعادت حاصل کرنے کے علاوہ حضرت مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کو اپنے بازوؤں کے حصار میں بیت اللہ شریف کا طواف کرانے کا شرف بھی حاصل کیا۔ مولانا ندویؒ سے بعد میں میرا بیعت کا تعلق قائم ہوا اور انہوں نے تحریری طور پر اپنی تمام اسناد کے ساتھ روایتِ حدیثِ نبویؐ کی اجازت کے شرف سے بھی نوازا، فالحمد للہ علیٰ ذلک۔ امریکی مصنف ’’ڈیل کارینگی‘‘ بھی میرے پسندیدہ مصنفین میں سے ہیں مگر ملاقات کا موقع نہیں مل سکا، شاید وہ بھی میری ہوش کی عمر سے پہلے ہی دنیا چھوڑ چکے ہوں۔ نسیم حجازی مرحوم سے ملاقات کر کے خوشی ہوئی۔ مولانا مودودیؒ سے ملاقات کا موقع نہیں مل سکا۔ مولانا مجاہد الاسلام قاسمیؒ کے ساتھ برطانیہ میں گزرے ہوئے چند دن میری زندگی کے یادگار ایام میں سے ہیں۔ مولانا سعید احمد اکبر آبادیؒ کے ساتھ ملاقات بھی خوشی کا باعث بنی، جبکہ ڈاکٹر حمید اللہؒ کی زیارت و ملاقات کی زندگی بھر حسرت رہی۔

   
2016ء سے
Flag Counter