چناب نگر مسجد کا تنازع: پس منظر اور حقائق

   
تاریخ : 
۴ اگست ۲۰۰۴ء

چناب نگر میں پولیس چوکی کی مسجد کا تنازع کافی دنوں سے چل رہا ہے اور اس پر عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ انتظار تھا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان یا کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا کوئی اجلاس اس حوالہ سے بلایا جائے گا اور باہمی مشورہ سے کوئی متفقہ لائحہ عمل طے کر لیا جائے گا، لیکن عالمی مجلس اور کل جماعتی مجلس عمل دونوں کے سربراہ ہمارے مخدوم و محترم بزرگ حضرت مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم ہیں جو بین الاقوامی ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لیے برمنگھم (برطانیہ) گئے ہوئے ہیں اور وہ اگلے ہفتے واپس آنے والے ہیں، اس لیے ان کی تشریف آوری کے بعد ہی اعلیٰ سطح کے کسی اجلاس کی توقع کی جا سکتی ہے، تاہم مجلس احرار اسلام نے گزشتہ روز لاہور میں اپنے مرکزی دفتر میں چند سرکردہ احباب کا ایک مشاورتی اجلاس طلب کر لیا جو ابتدائی مشاورت کے لیے ایک اچھی کوشش ہے۔ اس میں مختلف دینی جماعتوں اور مکاتب فکر کے سرکردہ حضرات نے شرکت کی اور چنیوٹ سے مولانا عبد الوارث اور مولانا محمد الیاس چنیوٹی بھی تشریف لائے، جنہوں نے شرکاء کو مذکورہ مسجد کی صورت حال اور عوامی جدوجہد کی تازہ ترین پوزیشن سے آگاہ کیا۔

اس پر باہمی مشاورت سے یہ طے ہوا کہ ملک گیر سطح کی مشاورت اور کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے اجلاس کے لیے تو حضرت مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم کی تشریف آوری کا انتظار کیا جائے، تاہم چنیوٹ اور چناب نگر کے علماء کرام اور دینی حلقے مسجد کے تحفظ کے لیے جو جدوجہد کر رہے ہیں اس کی حمایت و تعاون کا اعلان ضرور کیا جائے اور اسے آگے بڑھانے کی غرض سے فیصل آباد، جھنگ اور سرگودھا میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام اور دینی راہ نماؤں کے مشترکہ کنونشن منعقد کیے جائیں۔ جن میں پہلا کنونشن چار اگست بدھ کو آٹھ بجے دن جامعہ قاسمیہ غلام محمد آباد فیصل آباد میں طے پایا ہے اور اس کے انتظامات کے لیے حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کے جانشین مولانا زاہد محمود قاسمی، مولانا عبد الوارث اور مولانا محمد الیاس چنیوٹی کو ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس کنونشن سے مسجد کے تحفظ کے لیے عوامی جدوجہد کے رخ کا صحیح اندازہ ہو گا اور آگے بڑھنے کے لیے راہ عمل طے ہو گی، ان شاء اللہ تعالیٰ

چناب نگر کی اس مسجد کے تنازع کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ چناب نگر کی قادیانی آبادی میں پولیس کی چوکی ایک عرصہ سے چلی آ رہی ہے جس میں چوکی کے مسلمان ملازمین اور آنے جانے والے مسلمان نماز پڑھتے تھے۔ گذشتہ دنوں پولیس حکام نے چوکی کو یہاں سے تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا جس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ قادیانی جماعت اس جگہ کو اپنے تصرف میں لا کر اسے جامعہ احمدیہ میں شامل کرنا چاہتی ہے اور اس کے لیے ایک عرصے سے کوشاں ہے۔ یہ مسئلہ اب سے آٹھ برس قبل بھی اٹھا تھا جس پر آئی جی پنجاب نے جھنگ کے ایس ایس پی جناب اسلم ترین کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ اس پر رپورٹ پیش کریں۔ چنانچہ انہوں نے انکوائری کے بعد رپورٹ دی کہ پولیس چوکی کے لیے یہی جگہ موزوں ہے اور یہاں سے پولیس چوکی کو منتقل کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی فائدہ ہے۔ چنانچہ اس رپورٹ کے بعد اس جگہ کو حاصل کرنے کے لیے قادیانی جماعت کی درخواست نمٹا دی گئی، مگر اب دوبارہ یہ مسئلہ کھڑا کیا گیا ہے اور ڈی آئی جی فیصل آباد کے بقول انہوں نے چوکی کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے احکام بھی جاری کر دیے ہیں، جن کے تحت پولیس چوکی کو ایک ایسی جگہ منتقل کیا گیا ہے جو دو حوالوں سے قطعی غیر موزوں ہے:

  1. اس وجہ سے بھی کہ وہ بالکل ویران جگہ میں ہے اور عام لوگوں کا وہاں آنا جانا مشکل ہے۔
  2. اور دوسرا اس لیے کہ وہ جگہ پولیس سٹیشن چناب نگر سے چند سو میٹر کے فاصلے پر ہے جہاں اس کی سرے سے ضرورت ہی نہیں ہے۔

پولیس چوکی کی منتقلی کے اس فیصلے سے یہ مسئلہ پیدا ہو گیا کہ اس میں ایک آباد مسجد ہے جو عرصہ سے چلی آ رہی ہے اور اس میں نمازیں پڑھی جا رہی ہیں، اس کا کیا بنے گا؟ اور یہ جگہ قادیانیوں کے سپرد کرنے کے بعد اگر تو مسمار کر دی گئی تو اس کو کیسے برداشت کیا جا سکے گا؟ اس پر مولانا محمد الیاس چنیوٹی اور مولا نا عبد الوارث نے چنیوٹ اور جھنگ کے علماء کرام سے مشورہ کر کے متعلقہ حکام سے رابطہ قائم کیا اور پولیس کے ضلعی ذمہ داروں سے مل کر انہیں اپنی تشویش اور عوامی جذبات سے آگاہ کیا، تو پولیس حکام نے انہیں یقین دلایا کہ پولیس چوکی کو تبدیل کرنے کا فیصلہ ضرور ہوا ہے، لیکن یہ جگہ پولیس کے پاس رہے گی اور یہاں ملازمین کی رہائش رکھی جائے گی، اس لیے مسجد بدستور آباد رہے گی اور اس کو گرانے کا کوئی خدشہ نہیں ہے۔ لیکن چنیوٹ اور چناب نگر کے علماء کرام کے ضلعی پولیس کے ساتھ یہ مذاکرات جاری تھے کہ ایک رات اچانک قادیانیوں نے اس جگہ پر ہلہ بول دیا، مسجد کے طہارت خانے اور ٹوٹیاں گرا دیں اور اینٹوں کی چنائی سے مسجد کے دروازے پر رکاوٹ کھڑی کر دی۔ جس پر علاقہ بھر کے مسلمان سراپا احتجاج بن گئے اور مختلف عوامی مظاہروں کے علاوہ گذشتہ جمعہ کی نماز بھی چناب نگر کے تمام ائمہ و خطباء نے ریلوے سٹیشن کی مسجد میں اجتماعی طور پر ادا کی ہے، جس میں مسلمانوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی اور اعلان کیا کہ مسجد کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا، اسے گرانے یا بے آباد کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی اسے قادیانیوں کے سپرد کرنے کی کوئی حرکت برداشت کی جائے گی۔

اس سلسلہ میں قادیانی جماعت کا موقف ہے کہ یہ جگہ ان کی ملکیت ہے جہاں پولیس چوکی بنانے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن پولیس نے اجازت کے بغیر وہاں مسجد بنا لی جو غیر قانونی ہے اور اب چونکہ وہ اپنی جگہ پولیس سے واپس لے رہے ہیں، اس لیے انہیں حق حاصل ہے کہ وہ دوسری عمارت کے ساتھ اس کو بھی مسمار کر کے جگہ کو اپنے تصرف میں لائیں۔

جبکہ مسلمانوں کا موقف یہ ہے کہ یہ جگہ قادیانیوں کی نہیں ہے، بلکہ متنازعہ ہے۔ اس لیے کہ قادیانیوں نے ۱۹۵۳ء میں تقریباً اٹھاون کنال رقبہ کی یہ جگہ مسماۃ بھاگ بھری سے خریدنے کا دعویٰ کیا اور سرکاری کاغذات میں اس کا اندراج کرایا، مگر ۱۹۸۵ء میں بھاگ بھری کے دیگر رشتہ داروں شیر محمد، یارا، باقر، بشیر، نذیر، خان ولد مکھن، گاماں اور ملک نے سول عدالت میں دعویٰ دائر کیا کہ بھاگ بھری نے یہ جگہ دھوکہ سے فروخت کی ہے اور اس جگہ کے بیشتر حصے کے مالکان بھاگ بھری کی بجائے درخواست کنندگان ہیں۔ اس لیے قادیانیوں کا یہ موقف قابل قبول نہیں ہے کہ یہ جگہ ان کی خالص ملکیت ہے۔ اور اگر بالفرض ایک لمحہ کے لیے یہ تسلیم کر لیا جائے کہ یہ رقبہ ان کی ملکیت ہے تو جب مسجد بنائی گئی تھی اس وقت انہیں اعتراض کرنا چاہیے تھا جو ریکارڈ پر نہیں ہے اور جب وہ ایک جگہ کا قبضہ پولیس کو دے چکے ہیں اور اس میں مسجد کی تعمیر اور وہاں مسلمانوں کی عبادت کو وہ سالہا سال سے دیکھتے اور عملاً قبول کرتے چلے آ رہے ہیں، تو اب اتنے عرصہ کے بعد انہیں اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے، کیونکہ اب یہ شرعاً مسجد بن چکی ہے جسے نہ تو گرایا جا سکتا ہے اور نہ ہی غیر مسلموں کی تحویل میں دیا جا سکتا ہے۔

چنیوٹ اور چناب نگر کے دینی حلقے یہ بھی کہتے ہیں کہ اس طرح چناب نگر کی حدود میں دیگر سرکاری عمارتوں مثلا عدالتوں، ریلوے سٹیشن، بینکوں اور دیگر مقامات کی پوزیشن بھی خطرے میں پڑ جائے گی اور ریلوے سٹیشن کی مسجد بھی جو اس شہر میں مسلمانوں کی سب سے قدیمی مسجد ہے قادیانیوں کی اسی طرح کی کارروائی کا نشانہ بن سکتی ہے اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو چناب نگر خالصتاً قادیانی آبادی کا شہر بن جائے گا جس کی حیثیت ”ریاست“ کی ہو گی اور چونکہ قادیانی جماعت ملک کے دستور اور پارلیمنٹ کے متفقہ فیصلوں کو قبول کرنے سے کھلم کھلا انکار کر رہی ہے، اس لیے ایک شہر کا مکمل کنٹرول اس کے حوالہ کر دینے کے نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے۔

اس پس منظر میں چناب نگر اور چنیوٹ کے دینی حلقوں کا یہ بنیادی موقف اور مطالبہ ہے کہ مذکورہ پولیس چوکی کو اس کی پہلی جگہ میں واپس لے جایا جائے کیونکہ مسجد کا تحفظ بھی اس میں ہے، علاقہ کے عام لوگوں بالخصوص مسلمانوں کا مفاد بھی اس میں ہے اور چناب نگر کو ایک اندرونی ریاست بننے سے روکنے کے لیے بھی یہ ضروری ہے۔ میری طرح اس تحریک کے قائدین کا یہ مطالبہ بھی جائز ہے کہ جب ان کے پولیس کے ساتھ مذاکرات چل رہے تھے اور یہ کہا جا رہا تھا کہ متعلقہ پولیس افسر عمرہ پر گئے ہوئے ہیں، ان کی واپسی پر مسئلہ حل کر لیا جائے گا، اس دوران قادیانیوں نے پولیس چوکی کی جگہ پر قبضہ کے لیے ہلہ بول کر جان بوجھ کر اشتعال انگیزی کی ہے اور مسجد کی متعلقہ عمارت کو مسمار کر کے اور راستہ بند کر کے مسجد کی توہین کا ارتکاب کیا ہے۔ اس لیے ایسا کرنے والے افراد کے خلاف مسجد کی توہین کے جرم میں مقدمہ درج کیا جائے اور انہیں گرفتار کیا جائے۔

اس حوالہ سے ایک مزید پیشرفت یہ ہوتی ہے کہ جھنگ کی ڈسٹرکٹ اسمبلی نے جس کے ناظم دربار سلطان باہوؒ سے تعلق رکھنے والے محترم سلطان حمید صاحب ہیں، گزشتہ روز ایک متفقہ قرارداد کی صورت میں مسلمانوں کے موقف کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ مسجد قائم رہے گی اور اس کو آباد رکھنے کے لیے پولیس چوکی کو دوبارہ اسی جگہ واپس لانا ضروری ہے۔ اس طرح یہ موقف صرف چنیوٹ اور چناب نگر کے علماء کرام اور دینی حلقوں کا نہیں رہا، بلکہ ضلع جھنگ کا متفقہ موقف بن گیا ہے جس کی پاسداری صوبائی اور وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

ہماری معلومات کے مطابق چند روز قبل صوبائی وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے اس مسئلہ میں دلچسپی لی تھی اور ایک ذریعہ سے پیغام بھی بھجوایا تھا کہ وہ مسجد کی بحالی کے سلسلہ میں ایک ضروری اعلان کرنے والے ہیں، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ کسی ”دباؤ“ کی وجہ سے وہ ایسا نہ کر سکے۔ اس لیے ہم چودھری پرویز الٰہی اور ان کے ساتھ محترم چودھری شجاعت حسین سے بھی گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ اس وقت خانہ خدا کی حرمت کے تحفظ کا فیصلہ ان کے ہاتھ میں ہے۔ وہ صرف ایک بات پر غور کر لیں کہ تحریک ختم نبوت میں ان کے عظیم باپ چودھری ظہور الٰہی مرحوم کا کردار کیا تھا اور اگر آج چودھری ظہور الٰہی مرحوم زندہ ہوتے تو ان کا کیا کردار ہوتا؟ ہم نہیں سمجھتے کہ چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی کے لیے کوئی دباؤ اس قدر بھی اہمیت اختیار کر سکتا ہے جو ان کی نظروں سے تحریک ختم نبوت کے لیے چودھری ظہور الٰہی مرحوم کا کردار بھی اوجھل کر دے۔ ہمیں امید ہے کہ چودھری پرویز الٰہی اپنے خاندان کی روایت کی پاسداری کریں گے اور ہر قسم کے دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے مسجد کے تحفظ کا دو ٹوک اعلان کریں گے۔

   
2016ء سے
Flag Counter