الشیخ ابوالنصر البیانویؒ

   
۳۰ اکتوبر ۱۹۸۷ء

شام کے مجاہد عالم دین اور اسلامی محاذ شام کے سیکرٹری جنرل الشیخ محمد غیاث ابوالنصر البیانوی گزشتہ دنوں بیالیس سال کی عمر میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم کا تعلق حلب کے ایک ممتاز علمی گھرانے سے ہے، ان کے والد محترم الشیخ احمد الدین البیانویؒ اور دادا محترم الشیخ عیسیٰ البیانویؒ اپنے وقت کے ممتاز علماء اور روحانی پیشواؤں میں شمار ہوتے تھے۔ شام میں اہل تشیع کے نصیری فرقہ سے تعلق رکھنے والے سربراہ حافظ الاسد کے دورِ حکومت میں علماء اور اہلِ دین کے خلاف ظلم و تشدد کا جو بازار مسلسل گرم ہے، مرحوم اس کے خلاف علماء حق کی جدوجہد کے سرکردہ راہنما تھے اور حکومت کے ظلم و جبر کے خلاف منظم جدوجہد کرنے والے اسلامی محاذ کے سیکرٹری جنرل تھے۔

شام میں اس وقت علماء حق مسلسل مصائب اور آلام کا شکار ہیں حتیٰ کہ معروف عالم دین الشیخ عبد الفتاح ابو غدہ اور دیگر سرکردہ علماء جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہزاروں علماء اور دینی کارکن اب تک اسد حکومت کے مظالم کا شکار ہو کر شہید ہو چکے ہیں اور ہزاروں جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے پڑے ہیں۔ ایسے حالات میں الشیخ ابوالنصر البیانویؒ جیسے مجاہد عالم دین کا انتقال بلاشبہ اہلِ شام کے لیے بہت بڑا صدمہ ہے۔ ہم اس غم میں شام کے اہلِ علم اور دینی حلقوں کے ساتھ شریک ہیں اور مرحوم کے لیے مغفرت اور درجات کی بلندی کی پرخلوص دعا کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دست بدعا ہیں کہ اللہ تعالیٰ شام کے مظلوم و مقہور علماء کو ظلم اور جبر کے اس دور سے جلد نجات عطا فرمائیں اور شام میں اسلامی نظام کے مکمل نفاذ کے لیے علماء شام کی جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter