مسلم ممالک کی تجارتی منڈی، ملائیشیا کے وزیر اعظم کی تجویز

   
تاریخ اشاعت: 
نومبر ۱۹۹۷ء

ملائیشیا کے وزیر اعظم جناب مہاتیر محمد نے گزشتہ روز جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ یورپی منڈی کی طرز پر اپنی آزاد تجارتی منڈی بنائیں اور تجارت میں ایک دوسرے سے تعاون کریں۔ روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۸ اکتوبر ۱۹۹۷ء کی رپورٹ کے مطابق جناب مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ ہمیں اپنی تجارتی پالیسیاں اس طرز پر بنانی چاہئیں کہ بیرونی ممالک ہمارے معاملات میں مداخلت نہ کر سکیں اور ہم ان کے استحصال سے محفوظ رہیں۔

موجودہ مسلمان حکمرانوں میں جناب مہاتیر محمد اس لحاظ سے نمایاں لیڈر ہیں کہ عالمِ اسلام کے بارے میں اقوامِ متحدہ، مغربی ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں کے طرزِ عمل پر کھلم کھلا تنقید کر رہے ہیں۔ اور اس بات کے لیے کوشاں ہیں کہ مسلم حکومتیں اقوامِ متحدہ اور مغربی ممالک کے سامنے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے کی بجائے باوقار اور جرأت مندانہ موقف اپنائیں۔ وہ مسلم ممالک کے سامنے یہ تجویز بھی رکھ چکے ہیں کہ انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کا چارٹر پچاس سال قبل ترتیب دیا گیا تھا اور اب عالمی حالات اس وقت سے قطعی مختلف ہیں۔ اس لیے مسلم ممالک اس چارٹر پر نظرثانی کا مطالبہ کریں اور اس کے بارے میں متفقہ موقف اختیار کریں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ برادر مسلم ملک ملائیشیا کے وزیراعظم کا یہ موقف موجودہ حالات میں جرأت مندانہ ہے اور مسلم حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اس پر توجہ دیں اور مسلم ممالک میں مغربی مفادات کی چوکیداری کرنے کی بجائے ملتِ اسلامیہ کے مفادات اور جذبات کو اپنی پالیسیوں کی بنیاد بنائیں کیونکہ یہی ان کے لیے منصفانہ اور باوقار راستہ ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter