ملالہ یوسف زئی پر حملہ

   
نومبر ۲۰۱۲ء

ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملہ کی مذمت اور اس کے لیے دعائے صحت کی اپیل میں پوری قوم کے ساتھ میں بھی شریک ہوں۔ مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں نماز جمعہ کے اجتماع کے موقع پر ہم نے اس وحشیانہ حملہ کی مذمت کی اور ملالہ کے لیے اجتماعی طور پر دعائے صحت بھی کی۔ البتہ ذرائع ابلاغ میں اس واقعے پر اس قدر اچانک اور شدت کے ساتھ دھول اڑا دی گئی کہ کسی کو وقتی طور پر کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا ہوا ہے اور کیا ہونے جا رہا ہے۔ اس دوران بعض دوستوں نے مجھ سے پوچھا تو میں نے یہی عرض کیا کہ کچھ غبار بیٹھ جانے دو، پھر اندازہ ہو جائے گا کہ اس المناک واقعہ کا پس منظر، تہہ منظر اور پیش منظر کیا ہے۔

فسوف تری اذا انکشف الغبار
أفرس تحت رجلک أم حمار

ترجمہ: عنقریب جب غبار چھٹ جائے گا تو تم خود دیکھ لو گے کہ جس جانور پر تم سوار ہو وہ گھوڑا ہے یا گدھا ہے۔

ہمارا ماتھا اسی وقت ٹھنک گیا تھا جب ہم نے دیکھا کہ ملالہ جس حملے میں زخمی ہوئی ہیں، اسی حملے میں ان کے ساتھ اسی سکول کی دو اور طالبات شازیہ اور کائنات بھی زخمی ہوئی ہیں، لیکن کوریج اور پروٹوکول دونوں حوالوں سے شازیہ اور کائنات اس سلوک کی مستحق قرار نہیں پائیں جو ان کی ایک زخمی ساتھی کو ملا۔ حالانکہ وہ دونوں بھی سوات کی رہنے والی تھیں، اسی سکول کی طالبات تھیں، قوم کی بچیاں تھیں، ایک ہی حملہ میں ملالہ کے ساتھ زخمی ہوئی تھیں اور ان کے جسم سے خارج ہونے والا خون بھی سرخ رنگ کا ہی تھا۔ ڈرون حملوں میں شہید اور زخمی ہونے والے معصوم پاکستانیوں کو ایک طرف رہنے دیں تو بھی یہ بات سمجھ میں آنے والی نہیں ہے کہ ملالہ، کائنات اور شازیہ میں آخر کیا فرق ہے جس نے ان کے درمیان زمین و آسمان جیسا بعد پیدا کر دیا ہے۔

میں اس بات سے پوری طرح متفق ہوں کہ ملالہ کے طرز عمل سے اختلاف رکھنے والوں کو خواہ وہ کوئی بھی ہوں، اس کی جان لینے کا حق نہیں ہے اور نہ ہی وہ اپنے اختلافات یا نفرت کے اظہار کے لیے قانون کو ہاتھ میں لینے کا کوئی جواز رکھتے ہیں۔ اس لیے ان کی یہ حرکت انتہائی قابل مذمت ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ شازیہ اور کائنات کے ساتھ تو انہیں بظاہر کوئی اختلاف بھی نہیں تھا اور نہ ہی ان کی کوئی ایسی سرگرمیاں نظر آرہی تھیں جو حملہ آوروں کے لیے اس درجہ قابل اعتراض ہوں، وہ ان کی جان کے کیوں درپے ہوگئے؟ اس لیے میرے نزدیک ملالہ پر قاتلانہ حملہ شدید جرم ہے، لیکن شازیہ اور کائنات کی جان لینے کی کوشش اس سے بھی کہیں زیادہ سنگین جرم بنتی ہے اور بین الاقوامی لابیوں، میڈیا اور حکمران حلقوں کی طرف سے ان دو مظلوم بچیوں کو نظر انداز کر دینا اور کئی روز تک مسلسل نظر انداز کیے رکھنا جن شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے، وہ غبار چھٹنے اور دھول بیٹھ جانے کے ساتھ اب ایک ایک کر کے سامنے آرہے ہیں اور مزید کچھ دنوں تک مطلع مزید صاف ہو جائے گا۔

آج علماء کرام سے تقاضا کیا جاتا ہے کہ وہ پاکستانی طالبان کی صرف مذمت نہ کریں بلکہ عملی طور پر آگے بڑھ کر انہیں اس قسم کی کارروائیوں سے روکنے کا کردار ادا کریں، میں بھی اسی لہجے میں کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے حکمران ڈرون حملوں کی صرف مذمت نہ کریں بلکہ انہیں روکنے اور اپنے شہریوں کی جان بچانے کے لیے عملی اقدام کریں، لیکن اس مرحلہ میں ایک اور بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی رولنگ کلاس اگر اس بات کی یقین دہانی کرا دے کہ وہ نفاذ اسلام کے لیے پارلیمنٹ کی طرف سے کیے گئے جمہوری فیصلوں پر عمل در آمد میں رکاوٹ نہیں بنیں گے اور اس سلسلے میں اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کریں گے تو پاکستانی طالبان کو راہ راست پر لانے کے لیے تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء کو ایک فورم پر جمع کرنے کی ذمہ داری میں قبول کرتا ہوں، اس لیے کہ تالی ہمیشہ دو ہاتھوں سے بجتی ہے اور ایک ہاتھ سے بجنے والا صرف تھپڑ ہی کہلاتا ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter