تحفظِ ناموسِ صحابہؓ و اہلِ بیتؓ کا قانون

   
تاریخ اشاعت: 
۲۲ اگست ۲۰۲۳ء

(جامعہ فتحیہ اچھرہ لاہور میں بعد نماز عصر ہفتہ وار درس کا ایک حصہ)

ملک میں ناموس صحابہ کرامؓ و اہل بیت عظامؓ کے تحفظ کے قانون پر بحث جاری ہے جو قومی اسمبلی اور سینٹ دونوں نے پاس کر دیا ہے مگر ابھی صدر محترم کے دستخط ہونا باقی ہیں جس کے بعد یہ قانون کا درجہ حاصل کر جائے گا۔ یہ قانون ملک میں پہلے سے موجود ہے کہ صحابہ کرام اور اہل بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی بزرگ کی توہین جرم ہے جس پر تین سال قید کی سزا ایک عرصہ سے قانونی نظام کا حصہ چلی آ رہی ہے۔ نئے ترمیمی بل میں صرف سزا میں اضافہ کر کے اسے دس سال کیا گیا ہے مگر اس پر جس قدر شور و ہنگامہ بپا کیا جا رہا ہے وہ ناقابل فہم ہے۔ سزا میں یہ اضافہ کوئی زیادتی کی بات نہیں ہے بلکہ مقدس شخصیات کی تعظیم کا تقاضہ ہے۔ مثلاً‌ پاکستان میں ایک عام شہری کی توہین بھی جرم ہے اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم کی توہین بھی جرم ہے، لیکن یہ دونوں جرم برابر نہیں ہیں، عام شہری کی توہین کی سزا میں اور قائد اعظم مرحوم کی توہین کی سزا میں فرق ہے۔ اسی طرح عام شہریوں کی توہین اور حضرات انبیاء کرامؑ اور صحابہ کرامؓ و اہل بیت عظامؓ کی توہین کی سزا میں فرق بھی فطری تقاضہ ہے جس پر واویلا کرنے کا مطلب اصل سزا کو متنازعہ بنانے کی کوشش ہے جو مسلّمہ چلی آ رہی ہے مگر اب اسے مشکوک کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔

اس لیے ہم صدر محترم سے گزارش کریں گے کہ وہ اس معاملہ کو تاخیر میں نہ ڈالیں، صحابہ کرامؓ اور اہل بیت عظامؓ کی توہین پہلے سے قابلِ سزا جرم تسلیم شدہ ہے اور اس کی سزا میں اضافہ مقدس شخصیات کی تعظیم و توقیر کا تقاضہ ہے، اس لیے وہ اس بل پر فوری دستخط کر کے اسے قانونی شکل دیں۔ جبکہ ناقدین سے یہ گزارش کرنا چاہوں گا کہ وہ اس بہانے بزرگ شخصیات کی توہین و تنقیص کو جرائم کی بجائے آزادئ رائے کے نام پر حقوق میں شامل کرنے سے گریز کریں۔ یہ موقف عالمی سطح پر حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین کو آزادئ رائے کے نام پر جواز فراہم کرنے والوں کا ہے جو نہ عالمی سطح پر قبول ہے اور نہ ہی اسے کسی درجہ میں ملک کے اندر قبول کیا جا سکتا ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter