عدالت عظمیٰ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خدمت میں!

   
۹ جون ۲۰۱۸ء

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے لوکل میڈیا اور کیبل چینلز میں غیر ملکی فلموں اور پروگراموں کی یلغار کا ازخود نوٹس لیا ہے اور چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کا تین رکنی بینچ ان دنوں اس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ گزشتہ روز کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے بینچ نے لوکل میڈیا انڈسٹریز کے حوالہ سے مانیٹرنگ رپورٹ دو دن کے اند رطلب کر لی ہے اور کیبل آپریٹرز ایسوسی ایشن کو بھی اس سلسلہ میں نوٹس جاری کیا ہے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق اس کیس کی اگلی سماعت ۹ جون ہفتہ کو کراچی میں ہوگی۔

لوکل میڈیا، کیبل انڈسٹریز، سوشل میڈیا اور اس کے ساتھ ساتھ ریاستی میڈیا میں مختلف حوالوں سے اس وقت جو دھماچوکڑی مچی ہوئی ہے اس نے ہر شریف اور محب وطن شہری کو پریشان کر رکھا ہے۔ اور اس یلغار کا دائرہ فکری، سیاسی، مذہبی، اخلاقی، تہذیبی او رثقافتی تمام دائروں تک پھیلا ہوا ہے جس کا مشترکہ مقصد یہ سمجھ میں آرہا ہے کہ پاکستانی قوم کو تہذیبی خلفشار، فکری انارکی، سیاسی افراتفری اور مذہبی بے یقینی کی دلدل میں اس حد تک دھکیل دیا جائے کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بارے میں عالمی اور علاقائی بالادست قوتوں کے عزائم اور ایجنڈے کی تکمیل میں کسی مزاحمت اور رکاوٹ کے قابل نہ رہے۔ اس لیے اصل ضرورت تو وسیع پیمانے پر ملک میں جاری و ساری حکومتی اور پرائیویٹ میڈیا پالیسیوں اور سرگرمیوں کا مکمل جائزہ لینے کی ہے جو ظاہر ہے کہ قیام پاکستان کے مقاصد اور دستور پاکستان کے نظریاتی و تہذیبی اہداف سے سنجیدہ دلچسپی رکھنے والی کوئی حکومت یا ریاستی ادارہ ہی کر سکتا ہے جس کا سردست کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا۔ تاہم محدود اور جزوی دائرہ میں عدالت عظمیٰ کا یہ اقدام خوش آئند اور معاملات میں بہتری کا احساس پیدا کرنے کی ایک اچھی کوشش کے طور پر قابل تبریک و تحسین ہے اور ہم چیف جسٹس آف پاکستان کو اس سلسلہ میں مبارک باد اور ہدیہ تشکر پیش کرتے ہوئے اس سلسلہ میں کچھ گزارشات ان کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔

زیر بحث کیس کا دائرہ تہذیبی و ثقافتی ہے جس کے بارے میں چیف جسٹس آف پاکستان کے یہ ریمارکس قومی پریس میں سامنے آئے ہیں کہ:

’’انڈین، ترکش اور دیگر پروگراموں کی بھرمار سے ملک کے اسلامی اور ثقافتی کلچر کو ایک سازش کے تحت تباہ کیا جا رہا ہے۔‘‘

جبکہ چند معروف فنکاروں لیلیٰ زبیری، فریال گوہر، ایوب کھوسہ اور ثمینہ احمد کا یہ تبصرہ بھی اخبارات کی زینت بنا ہے جو انہوں نے کیس کی مذکورہ سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے کہ:

’’پاکستان کی میڈیا انڈسٹری کو بیرون ملک سے آنے والے بحران سے بچایا جائے، اس کی وجہ سے ہماری تہذیب و ثقافت تباہ ہو رہی ہے اور نوجوان نسل خراب ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیرون ملک سے آنے والے پروگراموں پر مناسب پابندی ضروری ہے۔‘‘

اس کیس میں ہماری دلچسپی اور اس میں کسی حد تک خوشی کے اظہار کا یہی پہلو ہے جس نے یہ چند سطور قلمبند کرنے پر ہمیں آمادہ کیا ہے کہ یہ بات بسا غنیمت ہے کہ عدالت عظمیٰ کو اسلامی تہذیب اور چند فنکاروں کو علاقائی تہذیب وثقافت کی تباہی اور نوجوان نسل کے خراب ہونے کا احساس تو ہے۔ اگرچہ ’’دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے‘‘ کے مصداق ماضی کے بہت سے تلخ تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے اس موقع پر بھی یہ خدشہ بار بار ہمارے ذہن میں ابھر رہا ہے کہ اس ساری کاروائی کا مقصد فی الواقع اسلامی تہذیب و ثقافت کا بچاؤ اور نئی نسل کی خرابی کا سدباب ہی ہے؟ کہیں غیر ملکی میڈیا پروگراموں کی طرف سے ملکی میڈیا کو درپیش مقابلہ کی فضا تو اس کا اصل باعث نہیں؟ اور کیا اس مقصد کے حصول کے لیے اسلام اور اسلامی تہذیب و ثقافت کو ہمیشہ کی طرح اب بھی ہمارے لیے ’’محفوظ شیلٹر‘‘ کا رول ادا کرنا ہے؟

جہاں تک اسلامی تہذیب و ثقافت کی تباہی اور نوجوان نسل کے خراب ہوجانے کی بات ہے اس حوالہ سے اس وقت جاری اور معروضی منظر میں کم از کم ہمیں تو ملکی اور غیر ملکی پالیسیوں اور سرگرمیوں میں کوئی جوہری فرق دکھائی نہیں دے رہا۔ صرف اتنی بات ہے کہ دستور و قانون میں اس سلسلہ میں کچھ تحفظات اور پابندیاں مذکور ہیں جن پر عملدرآمد میں کوئی متعلقہ ادارہ کبھی سنجیدہ نہیں رہا اور ان کا تذکرہ صرف اس وقت سامنے آتا ہے جب کسی ادارہ کے طرز عمل یا کسی پالیسی سے متاثر ہونے والا کوئی فریق اپنے بچاؤ کے لیے کسی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو قوم کو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے دستور و قانون میں یہ بات بھی لکھی ہوئی ہے اور ہمارے ہاں اسلامی تہذیب و ثقافت کا کوئی تصور قانون کی فائلوں میں موجود ہے۔

علامہ محمد اقبالؒ کے یہ ریمارکس کہیں پڑھے تھے کہ ’’ہم نے اسلام کا تحفظ کبھی نہیں کیا بلکہ اسلام ہی ہمیشہ ہمارا تحفظ کرتا ہے‘‘۔ بدقسمتی سے اقبالؒ کے تصور پر قائم ہونے والے پاکستان میں بھی تحریک پاکستان سے لے کر اب تک ہماری قومی نفسیات و رجحانات کا رخ اور سطح یہی چلی آرہی ہے۔ ہم سب کے ہاتھ میں ’’اسلام‘‘ ایک چھتری کی صورت میں ہر وقت موجود رہتا ہے، جہاں کہیں دھوپ یا بارش کی وجہ سے اس کی ضرورت پڑتی ہے ہم اسے اپنے سر پر تان لیتے ہیں اور جونہی وہ ضرورت ختم ہوجاتی ہے یا خود ہمارا موڈ اس دھوپ یا بارش کو انجوائے کرنے کا بن جاتا ہے تو وہ چھتری خودبخود سمٹ کر پھر سے ہمارے ہاتھ کی چھڑی بن کر رہ جاتی ہے۔ ہمارا ایک اور ’’طریق واردات‘‘ بھی ہے کہ اسلام اور اسلامی تہذیب کی کوئی بات ہمیں اختیار کرنا پڑ جائے تو ہم سرے سے اس کو ہی شک و نزاع کا موضوع بنا دیتے ہیں تاکہ ’’نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری‘‘۔ عدالت عظمیٰ میں زیر بحث آنے والے بہت سے معاملات میں سے دو باتوں کا حوالہ اس سلسلہ میں مناسب معلوم ہوتا ہے۔

ایک سود کی بات ہے جس کے بارے میں دستور پاکستان کی واضح ہدایت موجود ہے کہ سودی نظام کو جلد از جلد ختم کیا جائے۔ جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان اپنے ایک تفصیلی فیصلہ میں دستور و قانون میں سودی نظام سے متعلقہ دفعات کی نشاندہی کر کے انہیں ختم کرنے اور ان کی جگہ اسلامی احکام و قوانین کو قانونی نظام کا حصہ بنانے کی نہ صرف ہدایت کر چکی ہے بلکہ متبادل نظام و قانون کا مکمل ڈھانچہ بھی عدالت عظمیٰ کی طرف سے پیش کیا جا چکا ہے۔ مگر ہم اس پر عمل کرنے کی بجائے عدالتی فورم پر ہی ’’سود‘‘ کی ازسرنو تعبیر و تشریح اور اس کے من چاہے اطلاقات کی بحث میں الجھے ہوئے ہیں۔ ہمیں اس سے غرض نہیں رہی کہ امت نے شروع سے اب تک جس سود کو حرام سمجھا وہ کیا ہے اور سود کی جس تعریف و اطلاق سے امت کے جمہور اہل علم و فقہ نے ہمیشہ اتفاق کیا ہے اس کا دائرہ کیا ہے؟ ہم نے تو سرے سے سود ہی کو متنازعہ اور مشکوک بنا کر دستوری پابندی سے پیچھا چھڑانا ہے جو ہم پوری سنجیدگی کے ساتھ کر رہے ہیں اور یہی ہمارے ریاستی اداروں اور حکمران طبقات کی طے شدہ پالیسی ہے۔

دوسرا مسئلہ اسی فحاشی اور عریانی کا ہے۔ جب ہمارے ایک محترم قومی راہنما قاضی حسین احمد مرحوم نے عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹایا کہ فحاشی پر پابندی لگائی جائے تو خود ’’فحاشی‘‘ زیربحث موضوع بن گئی کہ فحاشی کہتے کس کو ہیں اور ہم نے فیتہ لے کر کرتے اور پاجامے ماپنے شروع کر دیے کہ یہ فحاشی شروع کہاں سے ہوتی ہے اور کہاں جا کر ختم ہوتی ہے۔ اس دور میں مجھ سے کسی نے سوال کیا کہ آپ بتائیں کہ فحاشی کی تعریف کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ قرآن کریم سے یہ بات پوچھ لیتے ہیں جس نے متعدد مقامات پر فحاشی کا ذکر کیا ہے، اس سے منع کیا ہے اور اسے قابل سزا جرم قرار دیا ہے۔ ان میں سے دو کو ہی دیکھ لیں۔ (۱) سورہ الاعراف کی آیت ۲۶ تا ۳۱ میں اللہ تعالیٰ نے ’’فحشاء‘‘ کا ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ لباس انسان کے لیے زینت بھی ہے اور یہ پردہ و ستر بھی ہے۔ شیطان نے تمہارے ماں باپ آدم و حوا علیہما السلام کو جنت سے نکلوانے کے لیے انہیں بے لباس کرنے کا حربہ استعمال کیا تھا اور وہ نسل انسانی کو جنت میں جانے سے روکنے کے لیے بھی لباس اتروانے کا حربہ ہی استعمال کر رہا ہے۔ یہ ’’فحشاء‘‘ ہے جس کا شیطان حکم دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے تمہیں منع کرتا ہے۔ گویا لباس کا پردہ و ستر کی ضرورت سے کم ہونا قرآن کریم کے نزدیک فحاشی کہلاتا ہے۔ (۲) سورہ النور کی آیت ۱۱ تا ۲۶ میں اللہ تعالیٰ نے ام المؤمنین حضرت عائشہؓ پر منافقین کی طرف سے لگائی گئی نعوذ باللہ بدکاری کی تہمت کا ذکر کیا ہے اور اسے ’’بہتان عظیم‘‘ قرار دے کر ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کی پاکدامنی کی گواہی دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس تہمت کی تشہیر اور اس پر طرح طرح کے تبصروں اور کمنٹس کو ’’فحشاء‘‘ قرار دیا ہے اور ایسا کرنے والوں کے لیے دنیا اور آخرت دونوں جگہ سزا بیان فرمائی ہے۔

میں نے عرض کیا کہ قرآن کریم کے ان دو مقامات کو سامنے رکھتے ہوئے ’’فحاشی‘‘ کی تعریف و اطلاق کا قانونی دائرہ آسانی کے ساتھ متعین کیا جا سکتا ہے، اس کے لیے اتنے لمبے مباحثہ کی آخر کیا ضرورت ہے؟ لیکن یہ ہمارا اجتماعی مزاج بن گیا ہے کہ قرآن و سنت کے کسی صریح حکم پر بھی عمل کرنے کی بجائے اس سے فرار کے راستے تلاش کرتے ہیں اور اس میں ہماری ’’مہارت‘‘ بلاشبہ کسی بڑے سے بڑے عالمی ایوارڈ کے معیار سے کم نہیں ہے۔ یہ ہماری چابکدستی نہیں تو اور کیا ہے کہ محبت اور عقیدت تو حضرت مجدد الف ثانیؒ سے رکھتے ہیں اور قصیدے بھی انہی کے پڑھتے ہیں لیکن راستہ ہم نے اکبر بادشاہ کے ’’دین الٰہی‘‘ کا اختیار کر رکھا ہے اور پوری قوم بلکہ امت مسلمہ کو اسی راستے پر گامزن کر دینے کے لیے ہماری ’’علم و دانش‘‘ کی صلاحیتیں مسلسل صرف ہو رہی ہیں۔

اسلامی تہذیب کے تحفظ کے جذبہ و احساس اور اس سلسلہ میں میڈیا کی سرگرمیوں کا ازخود نوٹس لینے پر ہم عدالت عظمیٰ بالخصوص چیف جسٹس جناب جسٹس نثار ثاقب کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان سے مؤدبانہ درخواست کرتے ہیں کہ اس موقع پر ملک کے ایک شہری اور مسلمان کے طور پر ہماری ان گزارشات پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے، جزاکم اللہ احسن الجزاء۔

   
2016ء سے
Flag Counter