دینی تعلیم اور عصری تقاضے ۔ تحریکِ اصلاحِ تعلیم کے زیر اہتمام سیمینار

   
۲۵ اکتوبر ۲۰۰۹ء

بلتستان کے دورے کے کچھ تاثرات ابھی باقی ہیں لیکن اس سے قبل ۱۷ اکتوبر کو لاہور کے ایک ہوٹل میں ’’دینی تعلیم اور عصری تقاضے‘‘ کے زیرعنوان منعقد ہونے والے سیمینار کے حوالے سے کچھ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اس سیمینار کا اہتمام تحریک اصلاح تعلیم اور صفا اسلامک سنٹر کے سربراہ ڈاکٹر محمد امین نے ایک قومی اخبار کے مذہبی ونگ کے تعاون سے کیا، اور اس میں ڈاکٹر صاحب موصوف کے علاوہ صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان، صوبائی وزیر جیل خانہ جات چودھری عبد الغفور، جسٹس (ر) منیر احمد مغل، معروف صحافی جناب عطاء الرحمان، ڈاکٹر محمد طاہر مصطفٰی، سید افتخار حسین شاہ اور دیگر مقررین کے علاوہ راقم الحروف نے بھی گزارشات پیش کیں۔

ڈاکٹر محمد امین پنجاب یونیورسٹی کے پرانے اساتذہ میں سے ہیں اور ایک عرصہ سے اصلاحِ تعلیم کے حوالہ سے سرگرم عمل ہیں۔ ان کی اصلاحی تحریک کا ہدف ہمارے ملک میں مروج دونوں قسم کے نظام تعلیم ہیں۔ ان کی خواہش اور کوشش یہ ہے کہ ریاستی تعلیمی اداروں اور عصری تعلیم کے نظام میں دینی تعلیم اور انسان سازی کا جو خلا ہے وہ پر کیا جائے اور دینی مدارس کے نظامِ تعلیم میں عصری تقاضوں کو شامل کر کے علماء کرام کو آج کے چیلنجوں اور تقاضوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے تیار کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے معاشرے میں دہرے نظامِ تعلیم کی وجہ سے نئی نسل کے ذہنوں میں تقسیم او رباہمی دوری بڑھ رہی ہے جسے ختم کرنا ضروری ہے۔ ان کا خیال ہے کہ دونوں قسم کے نظام تعلیم معاشرے میں اپنا کردار پوری طرح ادا نہیں کر رہے جس کی وجہ سے نہ تو صحیح معیار کے علماء کرام تیار ہو رہے ہیں اور نہ ہی جدید تعلیمی اداروں سے زمانے کی ضروریات کے مطابق مختلف شعبوں کے ماہرین صحیح طور پر پیدا ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی تجویز یہ ہے کہ دونوں نظام ہائے تعلیم کو یکجا کر کے ایک مشترکہ نصاب وضع کیا جائے اور قومی تعلیمی پالیسی میں انقلابی اصلاحات کر کے ملک بھر میں ہر سطح پر یکساں نظامِ تعلیم رائج کیا جائے جو قومی اور عصری ضروریات کو بھی پورا کرے اور ملی و دینی تقاضوں پر بھی پورا اترتا ہو۔ اس عظیم مقصد کے لیے وہ ’’تحریکِ اصلاحِ تعلیم‘‘ کے عنوان سے کم و بیش ربع صدی سے مصروفِ کار ہیں اور وقتاً فوقتاً علماء کرام اور ماہرینِ تعلیم کے مشترکہ سیمینارز کا اہتمام کرنے کے علاوہ طلبہ کے لیے تربیتی کورسز اور ورکشاپس بھی منعقد کرتے رہتے ہیں۔ ۱۷ اکتوبر کا مذکورہ سیمینار بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔

راقم الحروف نے اپنی گزارشات میں اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ دینی تعلیم کے حوالہ سے تقاضوں کا دائرہ قومی سطح پر بھی اور بین الاقوامی سطح پر بھی مسلسل پھیلتا جا رہا ہے جس کی طرف فوری اور سنجیدہ توجہ کی ضرورت ہے، مثلاً:

  • پاکستان کے چیف جسٹس محترم جناب جسٹس افتخار محمد چودھری نے گزشتہ دنوں ایک کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ ہماری قومی زندگی کے ہر شعبے میں کرپشن، نا اہلی اور بد دیانتی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں، قوم کو اس سے نجات دلانے کے لیے سب ے زیادہ گڈ گورننس کی ضرورت ہے اور اس کے لیے ہمیں حضرت عمر فاروقؓ سے رہنمائی لینا ہوگی اور انہیں آئیڈیل بنانا ہوگا۔ میں جسٹس صاحب محترم کی بات میں تھوڑا سا اضافہ کروں گا کہ حضرت عمر فاروقؓ صرف گڈ گورننس میں ہی نہیں بلکہ ’’ویلفیئر اسٹیٹ‘‘ کے حوالے سے بھی آئیڈیل ہیں جس سے یورپی اقوام مسلسل استفادہ کر رہی ہیں۔ حضرت عمر فاروقؓ سے گڈ گورننس اور ویلفیئر اسٹیٹ کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ہمیں دینی تعلیم کی طرف دیکھنا ہوگا اور اس خلا کو ظاہر ہے کہ دینی تعلیم ہی پر کر سکے گی۔
  • اسی طرح دو سال قبل لندن میں مسیحیوں کے پروٹسٹنٹ فرقہ کے عالمی سربراہ آرچ بشپ آف کنٹربری نے جب یہ کہا کہ برطانیہ میں رہنے والے دو ملین سے زیادہ مسلمانوں کو یہ حق ملنا چاہیے کہ ان کے خاندانی نظام یعنی نکاح و طلاق اور وراثت کے مسائل و تنازعات ان کے شرعی احکام کے مطابق طے کیے جائیں اور اس مقصد کے لیے برطانیہ کے جوڈیشری سسٹم کو مسلمانوں کی شرعی عدالتوں کے لیے اپنے دائرے کے اندر گنجائش پیدا کرنی چاہیے۔ اس پر اگرچہ شور مچ گیا اور مختلف حلقوں کی طرف سے آوازیں اٹھنے لگیں کہ برطانیہ میں ایسا کس طرح ہو سکتا ہے مگر میں نے لندن میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عرض کیا کہ بالآخر یہ ہونا ہی ہے، اس لیے کہ یہ مسلمانوں کا ایک جائز حق ہے جسے امریکہ نے بھی اپنے دستور میں تسلیم کر رکھا ہے اور اس کے مطابق امریکہ کے مختلف شہروں میں شرعی عدالتیں کام کر رہی ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ میرا یہ سوال ہے کہ ایسے جج اور قاضی تیار کرنا بھی اس کے ساتھ ضروری ہے جو اسلامی شریعت اور فقہ پر مکمل عبور رکھنے کے ساتھ ساتھ آج کے جوڈیشری سسٹم کو بھی اچھی طرح سمجھتے ہوں اور عصری تناظر میں شریعت کے مطابق مقدمات کے فیصلے کر سکیں۔ ظاہر ہے کہ یہ خلا بھی دینی تعلیم کے نظام کو ہی پر کرنا ہے۔
  • اس کے علاوہ ایک اور پہلو پر بھی نظر ڈال لیجئے کہ اسلامی بینکاری کا جو سسٹم دورِ حاضر میں متعارف ہو رہا ہے اور مسلم ممالک کے ساتھ مغربی ممالک کے بہت سے بینک بھی اس طرف متوجہ ہیں۔ اگرچہ اسے مکمل طور پر صحیح اسلامک بینکنگ قرار دینے میں بہت سے علماء کرام کے تحفظات ہیں لیکن اس کا دائرہ مسلسل پھیل رہا ہے اور اس وقت اس کے لیے سب سے بڑا مقابلہ لندن اور پیرس کے درمیان ہو رہا ہے۔ ابھی چند روز قبل فرانس کی کابینہ نے اسلامی بینکاری کے لیے گنجائش پیدا کرنے کی غرض سے بعض قوانین میں ترامیم کی منظوری دی ہے جس کا مقصد یہ بیان کیا جاتا ہے کہ لندن میں اسلامی بینکاری کے بڑھتے ہوئے رجحانات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اس حوالہ سے لندن اور پیرس کی کشمکش بہت دلچسپ صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ یہاں بھی یہ سوال سامنے ہے کہ اسلامک بینکنگ کے عملے کے لیے یا کم از کم مشاورت کے درجے میں ایسے افراد کی شدید ضرورت ہے جو اسلامی فقہ و شریعت میں پوری مہارت کے ساتھ ساتھ موجودہ معاشی نظام اور بینکنگ سسٹم پر بھی مکمل عبور رکھتے ہوں۔ میرے خیال میں یہ بھی دینی تعلیم کے لیے ایک اور عصری تقاضے اور چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔
  • ان سب سے بڑھ کر ہمارے معاشرے میں کرپشن، نا اہلی، بد دیانتی، جھوٹ، فراڈ، دھوکہ دہی، کام چوری اور لوٹ کھسوٹ کی جو خوفناک صورتحال ہے اس کا حل ایک معاشرتی تحریک اور انقلاب کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے۔ ہماری اصل ضرورت ایک معاشرتی انقلاب ہے جو ہمیں جھوٹ، مکاری اور کرپشن کی اس ’’آکاس بیل‘‘ سے نجات دلا دے جس نے قومی زندگی کے تمام شعبوں اور شاخوں کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ یہ معاشرتی انقلاب بھی دینی تعلیم کے ذریعے ہی ممکن ہے اور اس کے لیے ہمیں قرآن و سنت کی تعلیمات کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔

یہ چند تقاضے جن کی طرف میں نے توجہ دلائی ہے، دینی تعلیم کے دائرے میں وسعت اور سنجیدہ منصوبہ بندی کی فوری ضرورت کا احساس دلا رہے ہیں اور ان کی طرف توجہ دیے بغیر ہمارا دینی تعلیم کا نظام اپنی ملی و دینی ذمہ داریوں میں صحیح طور پر عہدہ برآ نہیں ہو سکے گا۔

سیمینار کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان تھے، انہوں نے اپنی گفتگو میں دینی مدارس کے موجودہ کردار اور ان کے بارے میں مختلف اطراف سے کیے جانے والے منفی پراپیگنڈا کا تفصیل کے ساتھ جائزہ لیا، ان کی اس فکر انگیز گفتگو کے کچھ حصے پیش کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے:

رانا صاحب نے کہا کہ دینی مدارس کے بارے میں عمومی طور پر یہ تاثر پھیلتا جا رہا ہے کہ وہ دہشت گرد تیار کر رہے ہیں اور دہشت گردی کی جو رو اس وقت موجود ہے وہ ان کی وجہ سے ہے۔

دراصل یہ بات سب سے پہلے امریکہ کی طرف سے کہی گئی تھی جسے لاشعوری طور پر ہمارے ہاں بھی قبول کر لیا گیا ہے، پھر ہمارے میڈیا اور دانش وروں نے بھی وہی کچھ کہنا شروع کر دیا ہے۔ جبکہ یہ بات غلط ہے اس لیے کہ ان دینی مدارس کی تاریخ تو صدیوں پرانی ہے جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ایک عشرے کی بات ہے۔ سوال یہ ہے کہ دہشت گردی اور اس کے خلاف جنگ کے موجودہ ماحول سے پہلے ان مدارس میں دہشت گرد کیوں پیدا نہیں ہو رہے تھے اور اس وقت ان پر یہ الزام کیوں نہیں تھا؟ اصل بات یہ ہے کہ افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ میں امریکہ کو ایسے افراد کی ضرورت تھی جو مذہبی جذبہ کے ساتھ یہ جنگ لڑ سکیں، ایسے افراد ظاہر ہے کہ دینی مدارس سے ہی مل سکتے تھے۔ جبکہ اس وقت پاکستان کے فوجی حکمران کو بھی امریکہ کے ساتھ تعاون کے لیے اس کی ضرورت تھی۔ چنانچہ دینی مدارس سے ایسے افراد کو تلاش کیا گیا اور انہیں تیار کر کے افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف صف آراء کر دیا گیا۔ ان لوگوں نے پورے خلوص اور جذبۂ جہاد کے ساتھ یہ جنگ لڑی اور سوویت یونین کو شکست دی۔ ان لوگوں کے خلوص اور جذبۂ ایمانی میں کوئی شبہ نہیں لیکن ان کے پیچھے جو ماسٹر مائنڈ تھے ان کے مقاصد کچھ اور تھے۔ انہوں نے سوویت یونین کی شکست کے بعد ان مجاہدین کو تنہا چھوڑ دیا اور کہہ دیا کہ اب تمہاری ضروری نہیں رہی، اپنی زندگی کا راستہ اور ذرائع خود تلاش کرو۔ انہیں اگر اس وقت فوج میں بھرتی کر لیا جاتا یا قومی پالیسی کے تحت کسی کام پر لگا دیا جاتا تو یہ صورتحال جو آج پیدا ہوئی ہے نہ ہوتی۔ لیکن امریکہ نے انہیں تنہا چھوڑ دیا اور جن پاکستانی اداروں نے جہاد افغانستان میں ان کی پشت پناہی کی تھی وہ پیچھے ہٹ گئے۔ ظاہر بات ہے کہ جس شخص نے جدید ترین اسلحہ کی ٹریننگ حاصل کر رکھی ہے اور سالہا سال تک اس کے استعمال کا تجربہ بھی کیا ہے، وہ زندگی گزارنے کے لیے اس کے سوا اور کون سا راستہ تلاش کرے گا؟ چنانچہ ایسا ہی ہوا، اس لیے ان مجاہدین کو دہشت گردی کی طرف لے جانے کی ذمہ داری دینی مدارس پر نہیں ہے اور نہ ہی وہ انہیں اس مقصد کے لیے تیار کرتے ہیں بلکہ اس کی ذمہ داری ان قوتوں پر ہے جنہوں نے انہیں سوویت یونین کے خلاف جہاد کے لیے استعمال کیا، پھر انہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے آزاد اور تنہا چھوڑ دیا۔

رانا ثناء اللہ خان نے دوسری بات یہ کہی کہ ہمارے ہاں عام طور پر دینی مدارس کے بارے میں جو شکایات پائی جاتی ہیں، دوسری طرف کے نظام تعلیم کے بارے میں بھی اسی طرح کی شکایات اور خدشات موجود ہیں۔ اس لیے کہ جس طرح دینی مدارس میں عصری علوم کی تعلیم نہیں دی جاتی اسی طرح ہمارے عصری تعلیمی نظام میں بھی دینی تعلیم کا ضروری عنصر موجود نہیں ہے۔ اور جس طرح کی تعلیم ہمارے سکولوں اور کالجوں میں دی جا رہی ہے اس سے پیدا ہونے والی نئی نسل آٹھ دس برس کے بعد ہمارے لیے اس سے بڑی مصیبت کھڑی کر سکتی ہے جس قسم کی مشکل سے ہمیں دینی مدارس کے حوالے سے آج واسطہ پڑ رہا ہے۔ اس لیے کہ دینی اور اخلاقی قدروں کی طرف کوئی توجہ نہیں ہے، آنکھ کی شرم اور رشتوں کا احترام ختم ہو رہا ہے اور ہماری معاشرتی اقدار سے بالکل اجنبی نسل وجود میں آرہی ہے۔ اس لیے ہماری ضرورت صرف یہ نہیں ہے کہ ہم دینی مدارس میں عصری تعلیم کا اہتمام کریں بلکہ اسی طرح ہماری یہ بھی ضرورت ہے کہ سکولوں اور کالجوں میں ضروری دینی تعلیم کو شامل کریں کیونکہ اسی طرح توازن پیدا ہوگا اور ہم اپنی ملی ضروریات کے مطابق نئی نسل کو تیار کر سکیں گے۔ ہماری حکومت اس سلسلہ میں کام کر رہی ہے اور ایک مستقل کمیٹی اس کے لیے مصروفِ عمل ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ایک خاص سطح پر تعلیمی نصاب میں عصری اور دینی ضروریات کو یکجا کیا جائے جو ہر ایک کے لیے ضروری ہو، اس میں انگریزی، ریاضی، کمپیوٹر اور دیگر ضروری فنون و علوم کی تعلیم بھی ہو اور اس درجہ کی دینی تعلیم بھی ہو کہ ایک مسلمان قرآن کریم پڑھ کر اسے سمجھ سکے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو پڑھ کر انہیں سمجھ سکے۔ یہ سب کے لیے ضروری ہے اور ملک کے تمام شہریوں کو اس کی تعلیم دینا ہم ضروری سمجھتے ہیں۔ اس ضروری تعلیم کے بعد پھر اعلیٰ تعلیم کو مختلف شعبوں تقسیم کر دیا جائے، جس نے انجینئر بننا ہے وہ انجینئر بنے، کوئی ڈاکٹر بننا چاہتا ہے وہ ڈاکٹر بنے، جس کی وکیل بننے کی خواہش ہے وہ وکیل بنے اور جو عالم دین بننا چاہتا ہے وہ عالم دین بنے۔ اس لیے کہ ہمیں جس طرح ڈاکٹروں، وکیلوں، انجینئروں، سائنس دانوں اور وکیلوں کی ضرورت ہے اسی طرح معاشرے میں علماء کرام کی بھی ضرورت ہے اور ان کے بغیر بھی ہمارا نظام صحیح انداز میں نہیں چل سکتا۔ البتہ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہمیں کتنے ڈاکٹروں کی ضرورت ہے، کتنے وکیلوں کی ضرورت ہے اور کتنے علماء ہمیں ضروری طور پر تیار کرنے ہیں۔ اس کے لیے وسیع طور پر پالیسی تیار کرنے کی ضرورت ہے اور ہم اس کے لیے کام کر رہے ہیں۔

رانا ثناء اللہ خان نے کہا کہ ہم دینی مدارس کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں، ان کی ضرورت تسلیم کرتے ہیں اور ان کے کردار کو ضروری سمجھتے ہیں۔ البتہ ہماری کوشش ہے کہ انہیں ایک مجموعی قومی پالیسی کے دائرے میں لایا جائے، اس کے لیے دینی مدارس کے وفاقوں کے ساتھ ہماری گفتگو جاری ہے اور ان کا رویہ بہت مثبت اور حوصلہ افزا ہے جس سے ہمیں یہ امید ہے کہ ہم باہمی صلاح مشورے اور بات چیت کے ساتھ کوئی ایسا راستہ تلاش کر لیں گے جس پر چل کر دینی مدارس اپنی کارکردگی کو اور زیادہ بہتر بنا سکیں گے۔

   
2016ء سے
Flag Counter