دو خبریں ۔ ایک معاملے کے دو مختلف پہلو

   
۳ اپریل ۲۰۰۶ء

دو خبریں بظاہر الگ الگ ہیں مگر خدا جانے مجھے الگ الگ کیوں نظر نہیں آرہیں۔ ایک خبر یہ ہے کہ پاکستان میں امریکہ کے سفیر ریان سی کروکر نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر عبد القدیر خان کا نیٹ ورک ختم ہو چکا ہے اور آئندہ پاکستان میں کوئی ڈاکٹر قدیر پیدا نہیں ہوگا۔ جبکہ دوسری خبر میں بتایا گیا ہے کہ معروف جہادی رہنما مولانا فضل الرحمان خلیل کو گزشتہ روز مسلح افراد نے ان کے ڈرائیور سمیت اغوا کر کے ان پر شدید تشدد کیا اور پھر رات کی تاریکی میں انہیں رسیوں سے جکڑ کر نیم مردہ حالت میں پنڈی گھیپ روڈ (راولپنڈی) پر پھینک دیا جنہیں اردگرد کے لوگوں نے سول ہسپتال پہنچایا اور وہ وہاں زیر علاج ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت کاملہ و عاجلہ سے نوازیں، آمین۔

ڈاکٹر عبد القدیر خان اور مولانا فضل الرحمان خلیل کے نیٹ ورک الگ الگ ہیں اور دونوں میں بظاہر کوئی ربط دکھائی نہیں دے رہا لیکن اپنے پس منظر کے حوالہ سے وہ ضرور مماثلت رکھتے ہیں اور یہی مماثلت میرے ذہن کو توجہ دلا رہی ہے کہ کہیں یہ دونوں خبریں کسی ایک ہی معاملہ کے دو مختلف پہلو تو نہیں ہیں؟ ڈاکٹر عبد القدیر خان کے نیٹ ورک کا پس منظر تو یہ ہے کہ وہ ایک ایٹمی سائنس دان ہیں اور پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں، اسلام سے وابستگی میں پختہ ہیں اور ملت اسلامیہ کی زبوں حالی پر ان کا دل کڑھتا ہے، انہیں بیرون ملک اپنے شعبہ میں تعلیمی اور تحقیقی پیشرفت کا موقع ملا تو ان کے دل میں خیال آیا کہ ایٹمی توانائی اور اس کی عسکری افادیت سے ان کے اپنے ملک کو محروم نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کا سوچا تو معلوم ہوا کہ ان کا ملک اور اس جیسے اور بہت سے ممالک جن کے نام کے ساتھ اسلام یا مسلمان کا کوئی سابقہ یا لاحقہ موجود ہے ان کے لیے ایٹمی توانائی اور اس کی عسکری افادیت شجر ممنوعہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ دنیا کے چند بڑوں نے اپنے سوا دوسروں کے لیے اس کے بارے میں سوچنا تک حرام قرار دے رکھا ہے اور خاص طور پر مسلمانوں کے کسی ملک کے لیے اس کا خواب دیکھنے کی بھی ممانعت ہے۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان نے دیکھا کہ یہ گھی سیدھی انگلی سے نہیں نکل سکتا تو انہوں نے انگلیوں کو تھوڑا سا ٹیڑھا کر لیا جو کہ اکثر لوگ کر لیا کرتے ہیں اور وہ اپنے ملک کے لیے تھوڑا سا گھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ انہیں اس میں اپنے ملک کے حکمرانوں ذوالفقار علی بھٹو، جنرل محمد ضیاء الحق، غلام اسحاق خان اور میاں محمد نواز شریف کی سرپرستی حاصل رہی اور ان سب کی کوششوں سے پاکستان ایٹمی تجربہ کرنے میں کامیاب ہوگیا جو ایٹمی توانائی کے اجارہ داروں کے نزدیک ایک ناقابل معافی جرم کی حیثیت رکھتا ہے اور اس پر پاکستان مسلسل سزا اور مواخذہ کے مرحلہ سے گزر رہا ہے۔

ڈاکٹر عبد القدیر خان کا یہ جرم ہی ان عالمی اجارہ داروں کے نزدیک خوفناک تھا کہ ان کے ہاتھ میں ایک اور الزام آگیا کہ ڈاکٹر عبد القدیر دنیا کے دیگر ممالک کو بھی یہ گھی حاصل کرنے کے لیے انگلیاں ٹیڑھی کرنے کا طریقہ سکھا رہے ہیں اور ایٹمی توانائی کی عسکری افادیت کا دائرہ وسیع کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ یہ الزام فی الواقع درست ہے یا نہیں، یہ ایک الگ مسئلہ ہے لیکن اس چارج شیٹ کے ساتھ ڈاکٹر عبد القدیر کو جس صورتحال سے دوچار کر دیا گیا ہے اس کی ایک جھلک امریکی سفیر کے مذکورہ بیان میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے جس کا لہجہ ان کے بیان کے بین السطور کی وضاحت کر رہا ہے کہ ان کے خیال میں ڈاکٹر عبد القدیر خان کو اس حد تک نشان عبرت بنا دیا گیا ہے کہ اب کوئی پاکستانی ڈاکٹر عبد القدیر بننے کا حوصلہ نہیں کر پائے گا۔

اب ذرا ایک نظر مولانا فضل الرحمان خلیل اور ان کے نیٹ ورک کے پس منظر پر بھی ڈال لیجئے۔ ابھی افغانستان کا جہاد شروع نہیں ہوا تھا اور اس کے آثار بھی دکھائی نہیں دے رہے تھے کہ فیصل آباد کے ایک نوجوان نے، جو بعد میں مولانا ارشاد شہیدؒ کے نام سے تاریخ کا حصہ بنے، مختلف علماء کرام سے ملاقاتوں میں انہیں اس طرف توجہ دلانا شروع کی کہ ہمارے ہاں جہاد پڑھایا تو جاتا ہے مگر اس کی عملی ٹریننگ نہیں دی جاتی جبکہ ہتھیار مسلمان کا زیور ہے، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ ہے اور جہاد کی عملی تربیت مسلمانوں کی بہت بڑی ضرورت ہے۔ وہ اس وقت مجھے بھی ملتے تھے اور بڑے درد دل کے ساتھ اس طرف توجہ دلاتے تھے کہ ہمیں اس بارے میں غفلت نہیں برتنی چاہیے اور ملی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے اس سلسلہ میں کوئی عملی راستہ ضرور نکالنا چاہیے۔ مجھے ان سے ہمدردی تھی، ان کے جذبات کی دل میں قدر تھی اور ان کے اس خیال سے اتفاق بھی تھا۔ مگر ایک تو میں خود کو اس عملی میدان کے لیے موزوں نہیں سمجھتا تھا کہ میری سرگرمیوں کا اصل میدان علمی اور فکری چلا آرہا ہے، اور دوسرا اس وقت کوئی عملی ہدف بھی سامنے نہیں تھا اس لیے فکری مشاورت سے آگے نہ بڑھ سکا اور ہر ملاقات میں ان کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ مناسب وقت اور مناسب میدان کے انتظار کا کہتا رہا۔

اس کے چند برس بعد جہاد افغانستان کا آغاز ہوا تو مولانا ارشاد احمد کو ایک موزوں میدان بھی مل گیا مگر اب ان کے ساتھ دو تین نوجوان اور بھی شریک سفر تھے۔ ان میں سے ایک مولانا فضل الرحمان خلیل، دوسرے مولانا قاری سیف اللہ اختر اور تیسرے مولانا مسعود کشمیری شہیدؒ تھے۔ ان نوجوانوں نے جہاد افغانستان کے لیے اپنے ملک کے نوجوانوں کو تیار کرنے کے لیے جس جانفشانی اور جرأت و استقلال کے ساتھ کام کیا، ہزاروں نوجوانوں کو جہاد کی ٹریننگ دلوائی اور میدان جنگ میں روسی استعمار کے خلاف لے جا کر کھڑا کر دیا۔ میں اس کو ایٹمی توانائی کے شعبہ میں ڈاکٹر عبد القدیر اور ان کے رفقاء کی جدوجہد سے کسی طرح کم نہیں سمجھتا۔ انہیں اس معاملہ میں اپنے بزرگوں کی سرپرستی حاصل تھی کہ جہاد افغانستان کی عملی سرپرستی کرنے والوں میں حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ، حضرت مولانا عبدا لحقؒ، حضرت مولانا مفتی محمودؒ اور حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ جیسے اکابر شامل تھے۔ اس دور میں میرا ان کے ساتھ رابطہ رہا اور اپنے مذکورہ بالا بزرگوں کی پیروی میں اپنے دائرۂ کار کی حدود کو ملحوظ رکھتے ہوئے فکر و مشاورت میں ان کے ساتھ اشتراک و ربط میں نے قائم رکھا مگر عملاً میں ان کا ساتھی نہ بن سکا جسے میں اس فارسی شعر کی صورت میں تعبیر کرتا ہوں:

ما و مجنوں ہم سبق بودیم در دیوان عشق
او بصحرا رفت و مادر کوچہ ہا رسوا شدیم

اس کے بعد اور بھی بہت سے باہمت نوجوان آگے بڑھے اور اس میدان میں قیادت اور پیشرفت کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا لیکن میری معلومات کی حد تک اس میدان کے ’’السابقون الاولون‘‘ یہی چار پانچ حضرات تھے اور آج پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے مختلف حصوں میں جہاد کے عنوان سے جو سرگرمیاں جاری ہیں ان کے ’’ڈاکٹر عبد القدیر‘‘ یہی لوگ ہیں۔ یہ نوجوان آج کے دور کے نوجوان تھے، ان سے یقیناً غلطیاں بھی ہوئی ہوں گی، ان کے طریق کار کے بعض پہلوؤں سے مجھ سمیت بہت سے لوگوں کو اختلاف ہوگا، ان کے طرز عمل اور دائرۂ کار کے بارے میں تحفظات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن ان کا خلوص اور اسلام اور ملت اسلامیہ کے بہتر مستقبل اور مفاد کے ساتھ ان کی وفاداری ہمیشہ شکوک و شبہات سے بالاتر رہی ہے۔ اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی دینی جدوجہد کے مجموعی پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے موجودہ عالمی صورتحال پر ایک نظر ڈالی جائے تو اپنے نتائج اور ثمرات کے حوالہ سے ڈاکٹر عبد القدیر کے نیٹ ورک اور مولانا ارشاد احمد شہید کے نیٹ ورک میں مماثلت تلاش کرنا بھی کوئی مشکل امر نہیں ہے۔

اسی لیے یہ دونوں نشانے پر ہیں اور ’’جہاد‘‘ کے لفظ سے بدکنے والوں کے نزدیک ان دونوں کو کسی نہ کسی صورت ختم کرنا ضروری ہوگیا ہے جس کے لیے مسلسل کام ہو رہا ہے۔ اس لیے چاند ماری کرنے والے تو اپنا کام جاری رکھیں گے مگر ملک بھر کے عام مسلمانوں اور دیندار عوام سے میں یہ گزارش کروں گا کہ وہ ڈاکٹر عبد القدیر خان اور مولانا فضل الرحمان خلیل کو اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیں کہ یہ بھی ایک ہتھیار ہے اور جب کوئی اور ہتھیار کارگر نہیں ہوتا تو صرف یہی ہتھیار مومن کے کام آتا ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter