قربانی کے بارے میں علماء کی تجاویز اور پنجاب حکومت کا پروگرام

   
یکم جولائی ۲۰۲۰ء

جوں جوں عید الاضحٰی قریب آ رہی ہے کرونا بحران کے تسلسل کے باعث قربانی کی سنت ادا کرنے کے حوالہ سے درپیش مسائل کے بارے میں بحث و تمحیص اور تجاویز و آرا میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ کالم میں پنجاب کے بعض سرکردہ علماء کرام کی طرف سے مجوزہ SOPs کا ایک خاکہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا تھا، اب دینی مدارس کے وفاقوں کے مشترکہ فورم اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان کے قائدین کی طرف سے ان کے موقف کے ساتھ ایس او پیز کا خاکہ پیش کیا جا رہا ہے:

’’اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان کے مرکزی قائدین مفتی محمد تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمان، مولانا قاضی نیاز حسین نقوی، مولانا عبد المالک، مولانا محمد حنیف جالندھری، مولانا یاسین ظفر، صاحبزادہ عبد المصطفٰی ہزاروی نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ قربانی ایک عبادت مقصودہ ہے، اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے: ’’پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجئے‘‘ (الکوثر ۲)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایام قربانی میں انسان کا کوئی عمل عبادت کی نیت سے جانور کا خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ہے‘‘ (سنن ترمذی ۱۴۹۳)۔ پس یہ نقطہ نظر کہ حالات کے سبب لوگ قربانی نہ کریں اور مالی صدقہ دے دیں، یہ خالص مادی فکر ہے اور قرآن و سنت کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ لہٰذا جن کو اللہ تعالٰی نے توفیق دی ہے وہ قربانی کی سنت انبیاء کو خوش دلی سے ادا کریں، البتہ احتیاطی تدابیر کو ملحوظ رکھیں۔ نیز اجتماعی قربانی کو اختیار کریں اور اجتماعی قربانی کے لیے دینی مدارس و جامعات کو ترجیح دیں اور دینی مدارس کے ذمہ علماء کرام اجتماعی قربانی کا نظم بنائیں۔

چند احتیاطی تدابیر (ایس او پیز) یہ ہیں:

  1. قربانی کے جانوروں کی منڈیاں آبادی سے باہر کھلے میدان میں لگائی جائیں یا ایسے باڑوں میں جن کی باقاعدہ چہار دیواری ہو۔
  2. جانوروں کی منڈیوں میں مستقل جراثیم کش دواؤں کا اسپرے کیا جائے۔
  3. قربانی کا جانور شرعی شرائط کے مطابق ہونا چاہیے۔ یعنی گائے، بیل اور بھینس: دو سال۔ بکرا اور دنبہ: ایک سال۔ اور اونٹ پانچ سال کا ہونا چاہیے۔
  4. حتی الامکان اجتماعی قربانی کو ترجیح دی جائے تاکہ گلی کوچوں میں آلائش کم سے کم ہو۔ (۵) مقامی حکومتیں قربانی کی آلائشوں کو فورًا اٹھا کر ٹھکانے لگانے کا اہتمام کریں۔
  5. اسی طرح قربانی کی کھالیں خریدنے والوں کو پابند کیا جائے کہ وہ جلد از جلد کھالیں اٹھا کر اپنے محفوظ مراکز تک پہنچائیں اور ٹریٹ (Treat) کریں۔
  6. قربانی کی جگہ کو جراثیم کش دوا سے دھویا جائے اور صفائی کا مسلسل اہتمام کیا جائے۔
  7. حکومت اس بات کا اہتمام کرے کہ بیمار جانور قربانی کی منڈیوں میں فروخت کے لیے نہ لائے جا سکیں۔
  8. قربانی کا جانور خریدنے کے لیے لوگ عام طور پر بچوں سمیت جمگٹھے کی صورت میں جاتے ہیں اور اس کو ایک پکنک تصور کرتے ہیں، بعض لوگ محض شوقیہ جاتے ہیں، کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے اس روش سے مکمل اجتناب کیا جائے اور صرف محدود اور سنجیدہ افراد جانور خریدنے جائیں اور بچوں کو ہرگز لے کر نہ جائیں۔
  9. گلی کوچوں میں بھی قربانی کے جانوروں کو نہ گھمایا جائے اور نہ نمائش کی جائے۔
  10. قربانی کی منڈی میں تاجر اور گاہک سب ماسک پہننے کی پابندی کریں اور حتی الامکان جسمانی فاصلہ برقرار رکھا جائے۔
  11. مقامی حکومتیں ۸ تا ۱۵ ذوالحجہ جراثیم کش دواؤں کے اسپرے کا مستقل انتظام کریں اور قربانی کے فورًا بعد چونے کے چھڑکاؤ کا انتظام کیا جائے۔‘‘

اس کے ساتھ ہی پنجاب حکومت کے مجوزہ پروگرام اور پالیسی کے بارے میں روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ میں ۲۸ جون کو شائع ہونے والی خبر ملاحظہ فرما لیں:

’’پنجاب حکومت کی سب کیبنٹ کمیٹی نے پنجاب میں مویشی منڈیاں لگانے سے متعلق فیصلوں کی منظوری دی ہے۔ وزیر قانون راجہ بشارت کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ شہری حدود میں کسی جگہ بھی سیل پوائنٹ نہیں لگائے جائیں گے۔ ہر ڈویژن کا کمشنر شہری حدود سے باہر مویشی منڈیاں لگانے کی جگہوں کی نشاندہی کرے گا۔ مدرسوں سمیت بعض اداروں میں اجتماعی قربانی کی اجازت ہو گی جس کی اجازت متعلقہ ڈپٹی کمشنر دے گا۔ اجتماعی قربانی ایس او پیز کے تحت کی جا سکے گی۔ منڈیوں میں ماسک، گلوز اور سماجی فاصلہ ضروری ہو گا۔ آن لائن اور اجتماعی قربانی کی اجازت ہو گی۔ شہری حدود کے باہر سے جانور خرید کر شہری حدود میں لائے گا تو اس کو بھی ایس او پیز پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔ قربانی کا جانور شہری حدود میں لانے والی گاڑی کو ضلعی انتظامیہ ڈس انفیکٹ (جراثیم سے پاک) کرے گی۔ مویشی منڈیوں میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اسپرے کیا جائے گا۔ کسی بچے اور بوڑھے کو منڈی میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی۔ فیملیز کو ایک فرد کے علاوہ منڈی کی حدود میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ شہر میں داخلہ پر ہر جانور کی رسید خریداری کو پولیس چیک کرے گی۔ راجہ بشارت نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ سفارشات کی منظوری کے بعد پنجاب حکومت اس کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کرے گی۔ شہری حدود میں مویشی منڈیاں لگانے پر وزیر اعلٰی پہلے ہی پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔‘‘

ہمارے خیال میں علماء کرام کے موقف اور پنجاب حکومت کے مجوزہ پروگرام میں کوئی تضاد اور کنفیوژن نہیں ہے۔ قربانی کی سنت ادا کرنے اور ضروری ایس او پیز کی پابندی، نیز اجتماعی قربانی کی حوصلہ افزائی کے حوالہ سے دونوں کی ترجیحات کم و بیش یکساں ہیں اور بات صحیح رخ پر آگے بڑھتی نظر آ رہی ہے۔ البتہ دو تین باتوں کی طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ ایک یہ کہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کی پالیسیوں میں یکسانیت نظر آنی چاہیے۔ دوسری یہ کہ دینی راہنماؤں، میڈیکل ماہرین اور سرکاری افسران کی باہمی مشاورت و تعاون حتمی ایس او پیز طے کرنے کے بعد ان پر عملدرآمد کی نگرانی میں بھی قائم رہنا چاہیے۔ اور تیسری یہ کہ حتمی ایس او پیز کا جلد از جلد اعلان ہو جانا چاہیے تاکہ قربانی ادا کرنے والے حضرات ان کے مطابق سارے مراحل طے کر سکیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter