دینی جدوجہد ۔ ضرورت اور تقاضے

   
۵ و ۶ دسمبر ۲۰۰۹ء

ہمارے محترم دوست حافظ عبد الوحید اشرفی صاحب (مدیر ماہنامہ فقاہت لاہور) نے روزنامہ اسلام میں گزشتہ دنوں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں راقم الحروف کی ان گزارشات کو موضوع بحث بنایا ہے جن میں کچھ عرصہ سے مسلسل یہ عرض کر رہا ہوں کہ قومی سیاست میں دینی نمائندگی اور ہمارے تحریکی ماضی کے تسلسل کا خلا دن بدن گھمبیر ہوتا جا رہا ہے، اس لیے اس خلا کو پر کرنے اور تحریکی تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے کسی نہ کسی کو آگے بڑھنا چاہیے اور دیوبندی مکتب فکر میں اجتماعیت کا ماحول پیدا کرنے اور اس کے بعد مختلف مکاتب فکر کے درمیان ہم آہنگی کے فروغ اور اشتراکِ عمل کے اہتمام کے لیے ہمیں وہ کردار ادا کرنا چاہیے جو ماضی میں ہمارا امتیاز رہا ہے، کیونکہ آج کے حالات اور قومی مصائب و مشکلات اس کا شدت سے تقاضا کر رہے ہیں اور اس ملی تقاضے کی تکمیل کی طرف پیشرفت کے لیے سب لوگ ہمارے منہ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

اشرفی صاحب نے میری اس گزارش بلکہ واویلے سے اتفاق کرتے ہوئے مجھ سے یہ سوال کیا ہے کہ میں خود اس کام کے لیے آگے کیوں نہیں بڑھتا اور دوسروں پر کیوں بار بار اس کے لیے زور دے رہا ہوں۔ انہوں نے اس سلسلہ میں بہت سی خوش فہمیوں اور توقعات کا بھی اظہار کیا ہے جسے میں ان کا حسنِ ظن سمجھتے ہوئے ان کا شکر گزار ہوں اور چونکہ ان کے اس مضمون نے ملک بھر میں بہت سے دوستوں کے ذہنوں میں بھی اس سوال کے لیے جگہ بنا دی ہے اور بہت سے احباب مجھ سے پوچھ رہے ہیں بلکہ میرے دو چھوٹے بھائیوں مولانا عبد الحق خان بشیر اور مولانا قاری حماد الزہراوی نے اس سلسلہ میں مجھ سے باقاعدہ گفتگو کی ہے، اس لیے مناسب سمجھتا ہوں کہ اپنے موقف اور پوزیشن کی وضاحت کے لیے کچھ معروضات قارئین کی خدمت میں پیش کروں۔

جہاں تک میری جماعتی زندگی کا تعلق ہے اس کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ ۱۹۶۵ء سے ۱۹۹۰ء تک مختلف سطحوں پر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان میں ایک متحرک کردار کے طور پر مصروفِ عمل رہا ہوں۔ ۱۹۷۵ء سے حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ کی وفات تک ان کی ٹیم کے ایک فعال رکن کے طور پر مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور مرکزی ناظم انتخابات کے طور پر خدمات سرانجام دے چکا ہوں۔ اور نو جماعتوں کے متحدہ سیاسی ملی محاذ (پاکستان قومی اتحاد) کے صوبائی سیکرٹری جنرل کے ساتھ ساتھ اس کی دستور کمیٹی، منشور کمیٹی اور پارلیمانی بورڈ میں جمعیۃ کی نمائندگی کا اعزاز مجھے حاصل رہا ہے۔ حضرت مفتی صاحب کی وفات کے بعد جمعیۃ علماء اسلام پاکستان دو دھڑوں ’’درخواستی گروپ‘‘ اور ’’فضل الرحمان گروپ‘‘ میں تقسیم ہوئی تو میں درخواستی گروپ کا متحرک بلکہ بحمد اللہ تعالیٰ متحرک ترین کردار تھا۔ دونوں گروپوں میں سب سے بڑا تنازعہ ایم آر ڈی کے نام سے بننے والے سیاسی اتحاد میں جمعیۃ علماء اسلام کی پیپلز پارٹی کے ساتھ سیاسی رفاقت کا تھا جو درخواستی گروپ کے لیے کسی صورت قابل قبول نہیں تھی۔ کم و بیش ایک عشرے کی کشمکش کے بعد ایم آر ڈی کے ختم ہوجانے پر درخواستی گروپ اور فضل الرحمان دوبارہ اکٹھے ہوئے اور حضرت مولانا عبد اللہ درخواستیؒ مرکزی امیر اور مولانا فضل الرحمان سیکرٹری جنرل بن گئے تو مجھے متحدہ جمعیۃ علماء اسلام میں مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور مرکزی ناظم انتخابات کے طور پر ذمہ داریاں سونپ دی گئیں اور میں نے کچھ عرصہ اس حیثیت سے کام بھی کیا۔ لیکن سابقہ درخواستی گروپ کے سیکرٹری جنرل مولانا سمیع الحق نے اس اتحاد کو قبول نہ کرتے ہوئے ’’سمیع الحق گروپ‘‘ کے نام سے اپنا علیحدہ تشخص برقرار رکھنا ضروری سمجھا تو میرے لیے اس صورتحال کو قبول کرنا مشکل تھا۔ چنانچہ میں نے جمعیۃ علماء اسلام کی ابتدائی رکنیت برقرار رکھتے ہوئے اس کے تمام مناصب سے استعفٰی دے دیا اور تب سے انتخابی اور عملی سیاست سے کنارہ کش رہ کر فکری اور علمی محاذ پر نفاذ شریعت کے لیے کچھ نہ کچھ کرتا رہتا ہوں جسے عبد الرحید اشرفی صاحب نے فکری اور علمی دانشگاہوں میں پناہ لینے سے تعبیر کیا ہے۔

اس دوران مجھے بہت سے اطراف سے بار بار کہا گیا ہے کہ میں عملی سیاست میں دوبارہ متحرک ہو جاؤں لیکن میں صاف انکار کرتا آرہا ہوں اور نجی محفلوں میں احباب کو ان کے استفسار پر اس کی وجوہات سے بھی آگاہ کرتا رہا ہوں لیکن اب چونکہ بات نجی محفلوں سے نکل کر اخبارات و جرائد تک جا پہنچی ہے اس لیے عملی سیاست میں اپنے دوبارہ نہ آنے کے اسباب کا اس کالم میں تذکرہ مجھے بے جا محسوس نہیں ہوتا اور کچھ گزارشات اس سلسلہ میں پیش کر رہا ہوں۔

اس کی سب سے بڑی وجہ مولانا فضل الرحمان اور مولانا سمیع الحق کے الگ الگ سیاسی راستے ہیں اور دونوں جمعیتوں کا متحد نہ ہونا ہے۔ میں بہت سے بزرگوں کے ساتھ مل کر اس کے لیے کوشش کرتا رہا ہوں اور بڑے بڑے اکابر نے اس کے لیے مسلسل محنت کی ہے مگر کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا اور اب تو اس کی کوئی توقع بھی باقی نہیں رہی۔

مولانا فضل الرحمان کا رخ نظریاتی اور تحریکی سیاست سے معروضی سیاست کی طرف مڑ گیا اور وہ اسی پر پختہ ہوتے جا رہے ہیں۔ مجھے اس سے شدید اختلاف ہے۔ ہماری اصل قوت تحریکی رہی ہے اور پارلیمنٹ میں ہماری نمائندگی اس تحریکی قوت، اسٹریٹ پاور اور رائے عامہ کی نمائندگی کی خاطر ہوتی تھی۔ مگر اصل قوت کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے اور محض پارلیمانی سیاست کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا گیا ہے جو تحریکی قوت اور اسٹریٹ پاور کے بغیر بالکل بے وزن ہے اور اس سے نفاذِ شریعت کی طرف عملی پیش قدمی کی توقع خوش فہمی بلکہ خود فریبی سے زیادہ کچھ حیثیت نہیں رکھتی۔

ہمارا اصل المیہ میرے نزدیک یہ ہے کہ نفاذ شریعت کی جدوجہد کے طریق کار کے بارے میں ہم افراط و تفریط کا شکار ہوگئے ہیں۔ ایک طرف ہتھیار اٹھانے تک نوبت جا پہنچی ہے اور دوسری طرف پر امن تحریکی قوت سے بھی کنارہ کشی کر کے صرف پارلیمانی سیاست پر قناعت کر لی گئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ ہماری اصل قوت اسٹریٹ پاور اور پر امن تحریکی قوت ہے، جب تک ہم اس کی طرف واپس نہیں پلٹیں گے، نفاذ شریعت کے مقصد میں نہ ہتھیار اٹھانے کا کوئی نتیجہ برآمد ہوگا اور نہ ہی پارلیمانی سیاست کے ذریعے ہم کچھ پیشرفت کر پائیں گے۔

دینی جدوجہد کے حوالہ سے تحریکی قوت کو منظم کرنے کے لیے کئی مراحل آئے ہیں اور اس کے لیے سنجیدہ کوششیں بھی ہوئی ہیں لیکن جمعیۃ علماء اسلام کی قیادت کا یہ خوف ہمیشہ آڑے آیا کہ ملک میں دینی میدان میں کسی بھی حوالے سے کوئی متبادل قیادت سامنے آگئی تو اس کے لیے خطرات ہو سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں بدترین مثال حدود آرڈیننس کا تیاپانچہ ہوتے وقت ’’مجلس تحفظ حدود اللہ‘‘ کے قیام کو روکنا ہے، ورنہ حدود شرعیہ کی حفاظت کے عنوان سے ایک بھرپور عوامی تحریک منظم ہو سکتی تھی لیکن متحدہ مجلس عمل نے یہ اعلان کر کے تحریک کا رخ اپنی طرف موڑ لیا کہ اگر پارلیمنٹ میں حدود شرعیہ میں ترامیم کی کوشش کی گئی تو وہ اسمبلی سے مستعفی ہو جائیں گے۔ میرے نزدیک اس کا مقصد صرف کسی متبادل دینی تحریک کے امکانات کو روکنا تھا، چنانچہ جونہی مجلس تحفظ حدود اللہ کی تشکیل کے امکانات کم ہوئے نہ کسی کو استعفیٰ دینا یاد رہا اور نہ ہی کوئی تحریک سامنے آئی اور دیکھتے ہی دیکھتے سب کے سامنے پارلیمنٹ میں حدود شرعیہ میں من مانی ترامیم کر دی گئیں۔

یہ کالم گواہ ہیں کہ میں نے تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر ’’کل جماعتی مجلس عمل‘‘ کو دوبارہ متحرک کرنے کے لیے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے بہت درخواستیں کیں اور اس کے لیے بہت واویلا کیا۔ میرا مقصد یہ تھا کہ دینی حوالہ سے کوئی پلیٹ فارم تو میدان میں موجود ہو جس پر سب مل کر اجتماعی طور پر آواز بلند کر سکیں لیکن اسے روکنے کے لیے بھی وہی خفیہ ہاتھ متحرک چلا آرہا ہے جو مجلس تحفظ حدود اللہ کی تشکیل میں رکاوٹ بنا تھا چنانچہ اس حوالہ سے بھی ہم دینی اجتماعیت کے مؤثر اظہار میں کامیاب نہیں ہو رہے۔

پاکستان شریعت کونسل کا قیام جب ہوا تو ہم نے واضح اعلان کیا تھا کہ ہمارا انتخابی سیاست کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوگا اور ہم رابطۂ عوام اور علمی و فکری محاذ پر کام کریں گے۔ ہم نے ملک بھر میں اس کی تنظیم سازی کا پروگرام بنا لیا تھا، ہر جگہ ہمیں ہمارے مزاج کے ساتھی مل گئے تھے، رکن سازی کے فارم چھپ گئے تھے، مختلف علاقوں میں اس کے ذمہ داروں کا تعین ہوگیا تھا اور کام کا آغاز بھی ہوگیا تھا۔ مگر اسے متوازی جماعت سازی تصور کیا گیا اور منفی ردعمل کا کھلم کھلا اظہار ہونے لگا جس پر ہم نے مرکزی سطح پر آپس میں مشورہ کر کے سارے کام کو روک دیا، بہت سے دوست ہم سے ناراض بھی ہوئے مگر ہم باہمی محاذ آرائی کا کوئی تصور قائم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے اور نہ ہی ایسے کسی کام پر وقت اور صلاحیتوں کو ضائع کرنا چاہتے تھے۔ پاکستان شریعت کونسل کے قیام اور تشکیل کے دوران بھی ہم سے کہا گیا کہ درخواستی گروپ کا احیا کریں اور جمعیۃ علماء اسلام کے نام سے کام کریں لیکن مولانا فداء الرحمان درخواستی اور راقم الحروف نے صاف انکار کر دیا کہ جمعیۃ کے نام پر کوئی گروپ کھڑا کر کے ہم باہمی گروپ بندی اور محاذ آرائی کی کسی بھی شکل کے لیے کسی صورت میں تیار نہیں ہیں، اس لیے ہم نے دو بنیادی اور حتمی فیصلے کر لیے۔ ایک یہ کہ جمعیۃ علماء اسلام کے نام سے کام نہیں کریں گے، اور دوسرا یہ کہ انتخابی سیاست کے لیے کام نہیں کریں گے۔ ہمارے سامنے تحریکی سیاست ہے، اس کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے اور علمی و فکری جدوجہد کریں گے۔

میں نے ایک موقع پر جمعیۃ علماء اسلام کے دونوں دھڑوں میں اتحاد کی خاطر دباؤ ڈالنے کے لیے فارورڈ بلاک قائم کرنے کا اعلان کا تھا۔ میرے ذہن میں اس کا خدشہ موجود تھا کہ یہ تیسرا گروپ بن سکتا ہے لیکن اس بات کا اطمینان تھا کہ چونکہ میں خود اس کا اعلان کر رہا ہوں تو ظاہر ہے کہ اس کی باگ ڈور میرے ہاتھ میں ہوگی اور میرے ذہن میں تیسرے گروپ کا سرے سے کوئی تصور موجود نہیں ہے اس لیے اس خطرہ کا سدباب کیا جا سکے گا۔ لیکن والد محترم امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ نے مجھے سختی سے روک دیا، وہ عام طور پر میرے جماعتی معاملات میں مداخلت نہیں کیا کرتے تھے اور پچیس سالہ متحرک جماعتی زندگی کے دوران مجھے یاد نہیں کہ ایک دو دفعہ کے علاوہ انہوں نے میرے جماعتی معاملات میں کبھی روک ٹوک کی ہو مگر اس مرحلہ میں انہوں نے انتہائی سختی سے منع کیا۔ ان کا یہ ارشاد تھا کہ پہلے دو گروپ تو موجود رہیں گے اور ان میں سے کوئی بھی دستبردار نہیں ہوگا البتہ تمہارے کہنے پر جو لوگ جمع ہوں گے وہ تیسرے دھڑے کی شکل اختیار کر لیں گے اس لیے اس کا خیال چھوڑ دو۔ ان کی یہ بات سو فیصد درست تھی اور یہ بات میں خود ایک موقع پر مولانا حق نواز جھنگوی شہید سے کہہ چکا تھا، وہ اپنی شہادت سے کچھ عرصہ قبل گوجرانوالہ تشریف لائے، وہ اس وقت جمعیۃ علماء اسلام فضل الرحمان گروپ کے صوبائی نائب امیر تھے، انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ تم اور حافظ حسین احمد میرا ساتھ دو تو ہم تینوں مل کر دونوں جمعیتوں کے اتحاد کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں اور اس مقصد کے لیے کراچی سے اکٹھے دورہ شروع کرتے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ ہمارے سکھر پہنچنے تک امید ہے کہ دونوں جمعیتیں اکٹھی ہو چکی ہوں گی۔ میں نے عرض کیا کہ مولانا! ہمارے سکھر پہنچنے تک دونوں جمعیتیں متحد ہوں گی یا نہیں لیکن جمعیۃ کا تیسرا دھڑا ضرور وجود میں آچکا ہوگا اور میں اس کام کے لیے تیار نہیں ہوں، لیکن اس کے کچھ عرصہ بعد جب میں نے خود اس کی تیاری کی تو حضرت والد محترم نے وہی بات مجھے فرما دی اس لیے میں نے اس خیال کو یکسر ترک کر دیا۔

قارئین کو یاد ہوگا کہ ایک مرحلہ میں والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی امارت میں ’’کل جماعتی مجلس عمل علماء اسلام‘‘ تشکیل پائی تھی جس میں کم و بیش سب دیوبندی جماعتیں شریک تھیں۔ اس کے لیے امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے فرزند پیر جی سید عطاء المومن شاہ بخاریؒ نے سب سے زیادہ محنت کی تھی، ان کے ساتھ مولانا عبد الرؤف فاروقی اور راقم الحروف بھی اس محنت میں ان کے شریک کار تھے۔ نیلا گنبد لاہور میں دیوبندی جماعتوں کا بہت بڑا ملک گیر کنونشن ہوا تھا اور ملک کے مختلف حصوں میں کامیاب اجتماعات کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا لیکن اچانک اس سلسلہ کو روک دیا گیا، اس لیے کہ مولانا فضل الرحمان، مولانا سمیع الحق اور مولانا اعظم طارق کو، جو تین بڑی دیوبندی جماعتوں کے سربراہ تھے، ہم نے اس محاذ کے ساتھ تعاون کے لیے تیار نہیں پایا تھا۔ برادرم مولانا سید عطاء المومن شاہ بخاری کو مجھ سے شکوہ ہے کہ تم نے اسے نہیں چلنے دیا، وہ غلط نہیں فرماتے، اسے نہ چلنے دینے میں میرا دخل بھی تھا کہ کل جماعتی مجلس عمل علماء اسلام اور مذکورہ جماعتوں کے درمیان بے اعتمادی اور کشمکش کی جو فضا مجھے مستقبل قریب میں سامنے دکھائی دے رہی تھی میں اس میں حضرت والد محترم کی شخصیت کو متنازعہ پوزیشن میں نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ مجھے اب بھی یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ دیوبندی جماعتوں اور حلقوں کا اس سے اچھا اتحاد شاید اب کبھی نہ ہو سکے اور نہ ہی شاید کوئی مولانا سید عطاء المومن شاہ بخاری کی طرح محنت کر سکے لیکن یہ اتحاد لیڈروں کے تحفظات کی بھینٹ چڑھ گیا حتٰی کہ اس اتحاد کو ’’کنفیوژ‘‘ کرنے کے لیے ایک اور اتحاد وجود میں آیا اور ہمارے عزیز بھائی مفتی محمد جمیل خان شہید نے اس کے لیے محنت کی۔ میں ہر روز نئی جماعت بنانے کے مسلسل طعنوں کے باوجود صرف اس لیے اس میں شریک ہوا کہ شاید اس راستے سے دیوبندی اجتماعیت کی کوئی صورت نکل آئے مگر اس کا بھی کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا۔

یہ سارا پس منظر تفصیل کے ساتھ میں نے اس لیے عرض کیا ہے کہ مولانا حافظ عبد الوحید اشرفی اور دیگر احباب جس پیش قدمی کے لیے مجھ سے فرما رہے ہیں اس سے میرے گریز کی وجہ ان کے سامنے آجائے۔ میں نے گزشتہ دو عشروں سے یعنی جمعیۃ علماء اسلام کے عہدوں سے مستعفی ہونے کے بعد سے پوری طرح سوچ سمجھ کر یہ پالیسی طے کر رکھی ہے کہ دینی جدوجہد کے لیے مثبت تعاون ہر ایک سے کرتا ہوں، مسائل کی طرف توجہ بھی دلاتا ہوں، بریفنگ بھی مہیا کرتا ہوں، مختلف حلقوں کو جمع کرنے کی کوشش بھی کرتا ہوں، پاکستان شریعت کونسل کے فورم سے قومی و ملی مسائل پر آواز اٹھانے اور اسے متعلقہ اداروں اور افراد تک پہنچانے کی محنت بھی کرتا ہوں اور اپنے کالموں اور مضامین کے ذریعے لوگوں کو بیدار کرنے اور جھنجھوڑنے کی خدمت بھی سرانجام دیتا ہوں۔ لیکن جونہی گروہ بندی اور باہمی محاذ آرائی کی کوئی صورت دکھائی دیتی ہے خاموشی کے ساتھ پیچھے ہٹ جاتا ہوں اور اس میں کسی طرف سے بھی کوئی رول ادا کرنے کو گناہ تصور کرتا ہوں۔ انتخابی سیاست پر قناعت اور مسلح جدوجہد کے تو میں ویسے ہی حق میں نہیں ہوں، تحریکی سیاست کا آج بھی قائل ہوں اور اسی راستے کو پاکستان میں نفاذ شریعت کی جدوجہد کے لیے صحیح سمجھتا ہوں لیکن اس کے لیے معاون، مشیر اور محرک کے درجہ میں ہی کام کر سکتا ہوں، قیادت کے رول کے لیے خود کو کسی طرح تیار نہیں پاتا جس کی وجوہات مندرجہ بالا امور کے علاوہ دو اور بھی ہیں۔

ایک یہ کہ میں نے پچیس سالہ متحرک جماعتی زندگی کے بعد اپنا ٹریک تبدیل کر کے خود کو تدریس کے راستے پر ڈالا ہے، ہلکی پھلکی تدریس اور مرضی کے دو تین اسباق پڑھانے کا کام تو بحمد اللہ تعالٰی کبھی نہیں رکا لیکن باقاعدہ تدریس کے ٹریک پر خود کو ڈالنے کے لیے مجھے محنت بھی خاصی کرنی پڑی ہے اور وقت بھی بہت لگا ہے۔ تدریس میں میرا ذوق بحمد اللہ وہی ہے جو حضرت والد محترم کا تھا کہ اشد مجبوری کے بغیر سبق کا ناغہ گناہ کبیرہ سے کم نہیں ہے۔ اس ذوق کا مدرس تحریکی کاموں کے لیے وقت نہیں نکال سکتا جبکہ عمر کے اس مرحلہ میں اپنے ٹریک کو دوبارہ تبدیل کرنے کے لیے میں تیار نہیں ہوں اور نہ ہی اس کا متحمل ہوں۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ اب جماعتی کام اور تحریکی مصروفیات جن وسائل کا ناگزیر طور پر تقاضا کرتی ہیں وہ نہ صرف یہ کہ میرے پاس موجود نہیں ہیں بلکہ جن ذرائع اور طریقوں سے یہ وسائل آج کل مہیا کیے جاتے ہیں میں ان ذرائع اور طریقوں کے قریب جانے کے لیے بھی خود کو ذہنی طور پر تیار نہیں پاتا۔ اب وہ ہمارے والا دور نہیں ہے کہ ہم تو پریس کانفرنس بھی مسجد کے حجرے میں کیا کرتے تھے، حضرت مولانا مفتی محمودؒ یا حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کے تشریف لانے پر دو چار صحافیوں کو چائے کی پیالی پر مسجد میں یا جمعیۃ کے دفتر میں بلا لیا کرتے تھے اور اچھی خاصی پریس کانفرنس ہو جایا کرتی تھی۔ مگر اب سیرت کانفرنس کے لیے بھی ہوٹل تلاش کرنا پڑتا ہے، اس کا مینیو دیکھنا پڑتا ہے اور ایک دفعہ کسی سیرت کانفرنس کے کھانے کا مینیو ڈھیلا رہ جائے تو دوسری بار سیرت کانفرنس کا انعقاد اور کامیابی مشکوک ہو جاتی ہے۔ یہ فضا میرے جیسے ان لوگوں کے لیے اجنبی ہے جو حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کے قبیلہ اور مزاج کے لوگ ہیں، ہمیں ان تکلفات و تعیشات سے وحشت ہوتی ہے۔

کارکنوں کی جو کھیپ گزشتہ دو عشروں کے دوران جوان ہوئی ہے اور انہوں نے الیکشن اور تحریکوں کے جس انداز کی فکری و عملی تربیت حاصل کر رکھی ہے ہم ان کے سامنے اس انداز کے عشرعشیر کا بھی اظہار نہیں کر سکتے، اس لیے آج کے دور اور ماحول میں جماعتی اور تحریکی کام میرے جیسے لوگوں کے بس کی بات ہی نہیں ہے۔ البتہ چونکہ گوجرانوالہ میں رہتا ہوں جو پہلوانوں کا شہر ہے بلکہ میرے دروازے کے سامنے شیرانوالہ باغ میں پہلوانوں کا اکھاڑہ موجود ہے۔ پہلوانوں میں جو لڑنے کے قابل نہیں رہتا وہ ’’خلیفہ‘‘ ہو جاتا ہے اور پہلوانوں کی اصطلاح میں خلیفہ اسے کہتے ہیں جو خود کشتی نہ لڑ سکے مگر نوجوانوں کو داؤ پیچ بتاتا رہے۔ میں نے اب خلیفوں والا کام سنبھال رکھا ہے، داؤ پیچ بتاتا رہتا ہوں اور ہلاشیری دیتا رہتا ہوں، ہو سکتا ہے نوجوانوں کی کھیپ میں سے کوئی باہمت اٹھے اور اس مہم کو سر کر لے لیکن ہے یہ مشکل کام۔ اس کے لیے صبر و حوصلہ درکار ہے، حکمت و دانش کی ضرورت ہے، قناعت و کفایت شعاری ضروری ہے اور محنت کے نتائج کے انتظار تک مسلسل محنت ناگزیر ہے۔ جبکہ ہمارا اجتماعی مزاج یہ بن گیا ہے کہ کام بعد میں شروع کرتے ہیں اور نتائج کی اسکرین کی طرف پہلے دیکھنے لگ جاتے ہیں۔

حافظ عبد الوحید اشرفی صاحب اور ان کے ہم خیال رفقاء سے گزارش ہے کہ جو کام ہم کر رہے ہیں اور جتنا کر رہے ہیں اس ماحول میں اور عمر و مصروفیت کے اس مرحلہ میں اسے غنیمت سمجھیں اور دعاؤں اور حوصلہ افزائی سے نوازتے رہیں، اللہ تعالیٰ انہیں دونوں جہانوں میں جزائے خیر عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter