رمضان اور اجتہاد

   
۵ نومبر ۲۰۰۳ء

رمضان المبارک ایک بار پھر ہماری زندگی میں آیا ہے اور خاموشی کے ساتھ گزرتا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے قرآن کریم کا مہینہ فرمایا ہے کہ اس میں لوح محفوظ سے قرآن کریم اتارا گیا اور جس رات یہ لوح محفوظ سے منتقل ہوا اس رات کو اللہ تعالیٰ نے ’’شبِ قدر‘‘ قرار دے کر ایک ہزار مہینوں پر بھاری کر دیا۔ قرآن کریم نے اس ماہ میں مسلمانوں پر روزوں کا حکم صادر فرمایا اور کہا کہ روزے رکھنے سے تقوٰی پیدا ہوتا ہے اور روزہ رکھنے والوں میں پرہیزگاری کا ذوق بیدار ہوتا ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صبر و ضبط کا مہینہ قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ اس میں دن کا روزہ اور رات کا قیام اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے اور اس مبارک مہینہ میں نیکیوں کا اجر بڑھ جاتا ہے۔

یہ چاند کا مہینہ ہے جو موسم بدلتا رہتا ہے، کبھی گرمیوں میں، کبھی بہار میں، کبھی برسات میں اور کبھی سردیوں میں آتا ہے۔ رمضان المبارک تینتیس برسوں میں ہمارے موسموں کا چکر مکمل کر لیتا ہے اور اس طرح ایک مسلمان بالغ ہونے کے بعد طبعی عمر تک سال کے ہر موسم کے روزے رکھ لیتا ہے کہ سال کا سب سے چھوٹا دن بھی اسے مل جاتا ہے اور سب سے بڑے دن کے روزے کا ثواب بھی وہ حاصل کر لیتا ہے، ہر ذوق کے لیے اس میں تسکین کا سامان فراہم ہو جاتا ہے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ارشاد گرامی ہے کہ مجھے تین چیزیں زیادہ پسند ہیں:

  1. گرمیوں میں روزے رکھنا
  2. مہمان کی خدمت کرنا
  3. تلوار لے کر دشمن کے خلاف جہاد کرنا

گرمیوں کے روزے اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کی پسند ہیں۔ ایک واقعہ پڑھا تھا کہ پرانے زمانوں میں ایک صاحب مکہ مکرمہ سے طائف کی طرف جا رہے تھے، پیدل سفر کا زمانہ تھا۔ مکہ مکرمہ گرم شہر ہے اور موسم گرما میں اس کی ریت کی تپش کا ایک عجیب رنگ ہوتا ہے جبکہ طائف اس سے زیادہ دور نہیں ہے مگر ٹھنڈا ہے اور گرمی کے موسم میں ٹھنڈک کے متلاشیوں کا مرکز بنا رہتا ہے، جیسے ہمارے ہاں راولپنڈی گرم شہر ہے مگر اس سے تھوڑے فاصلے پر مری ٹھنڈا علاقہ ہے۔ وہ صاحب مکہ مکرمہ سے طائف جا رہے تھے، راستہ میں ایک دوست ملا جو طائف سے مکہ مکرمہ کی طرف آرہا تھا، ملاقات ہوئی، ایک دوسرے کا حال پوچھا اور دریافت کیا کہ کدھر جا رہے ہیں؟ ایک نے جواب دیا کہ رمضان المبارک قریب آرہا ہے، مکہ مکرمہ گرم علاقہ ہے اس لیے طائف جا رہا ہوں کہ ٹھنڈے علاقے میں روزے آرام سے رکھ لوں گا۔ دوسرے نے کہا کہ میں بھی اسی لیے طائف سے مکہ مکرمہ جا رہا ہوں کہ طائف ٹھنڈا علاقہ ہے روزے کا مزہ نہیں آئے گا، مکہ مکرمہ چلتا ہوں جہاں خوب گرمی ہوگی، پیاس لگے گی اور روزے کا مزہ آئے گا۔

یہ اپنے اپنے ذوق کی بات ہے، انسان کو اللہ تعالیٰ نے رنگا رنگ کے ذوق اور مزاج عطا کیے ہیں۔ ہمارے ہاں پاکستان میں جب جولائی اور اگست کے روزے تھے اور گرمی، پسینے اور پیاس نے روزوں کو خوب چمکا رکھا تھا تو بعض حضرات کی طرف سے یہ تجویزیں سامنے آئیں کہ بھٹی پر کام کرنے والے مزدور اور کھیت میں محنت کرنے والے کسان کے لیے یہ روزے بہت مشکل ہیں، اس لیے علمائے کرام کو ان کے لیے کوئی آسانی پیدا کرنی چاہیے اور اجتہاد سے کام لینا چاہیے۔ یہ اجتہاد بھی ہمارے ہاتھ میں خوب ہتھیار ہے کہ جہاں کوئی مشکل محسوس ہوئی اجتہاد کے نام سے آسانیاں تلاش کرنا شروع کر دیں۔ ایک صاحب نے اس زمانے میں ایک قومی اخبار کے ذریعے تجویز دی کہ اگر علمائے کرام اجتہاد سے کام لے کر فروری کے مہینہ کو رمضان قرار دے دیں تو دو فائدے ہوں گے۔ ایک یہ کہ روزوں کا موسم ہمیشہ کے لیے مناسب ہو جائے گا اور دوسرا یہ کہ یکم مارچ کو عید قرار دینے سے ہر سال دو یا تین عیدوں کا مسئلہ بھی ختم ہو جائے گا۔ مگر علمائے کرام کے لیے ایسی تجویزوں پر کان دھرنا مشکل تھا کہ اجتہاد کی کچھ حدود ہیں، طریق کار ہے اور شرائط ہیں جو صدیوں سے طے شدہ ہیں، ان کے دائرے میں رہنے والا عمل ہی اجتہاد کہلاتا ہے ورنہ الحاد بن جاتا ہے۔ اور اگر ان حدود اور شرائط کی پابندی کیے بغیر ’’آزاد اجتہاد‘‘ کا دروازہ کھل جائے تو دین کی شکل کچھ سے کچھ ہو جائے بلکہ اب تک کچھ سے کچھ ہو چکی ہوتی۔

چند سال قبل کی بات ہے کہ برطانیہ میں ٹرین کے سفر کے دوران ایک نوجوان میرے پاس آیا اور کہا کہ مولوی صاحب! آپ اجتہاد کر سکتے ہیں؟ اس کا مطلب یہ تھا کہ کیا میرے پاس اجتہاد کی کوئی اتھارٹی ہے؟ میں نے پوچھا کہ آپ کو کیا دقت درپیش ہے؟ کہنے لگا کہ ملازم آدمی ہوں اور نماز بھی پابندی سے پڑھتا ہوں لیکن ملازمت کے دوران مجھے ظہر اور عصر کے لیے چھٹی اور موقع نہیں ملتا اس لیے میں اس بات کی اجازت چاہتا ہوں کہ ظہر کی نماز فجر کے ساتھ پیشگی پڑھ لیا کروں اور عصر کی نماز مغرب کے ساتھ لیٹ ادا کر لیا کروں۔ میں نے سوچا کہ اب اس وقت اس نوجوان کو اجتہاد کا مطلب اور اس کی حدود سمجھانا آسان بات نہیں ہے اس لیے میں نے کہا کہ بھائی! میں ففٹی ففٹی معاملہ کر سکتا ہوں آپ کا سارا کام نہیں کر سکتا۔ یعنی آپ کو یہ اجازت دے سکتا ہوں کہ اگر دفتر یا کارخانے میں واقعی نماز کی گنجائش نہیں ملتی تو مجبورًا ظہر اور عصر دونوں نمازیں شام کو مغرب کے ساتھ پڑھ لیا کریں کہ قضا تو ہوگی مگر نماز ہو جائے گی۔ لیکن ظہر کی نماز فجر کے ساتھ پیشگی پڑھنے کی اجازت نہیں دے سکتا کہ اس طرح سرے سے نماز ہوگی ہی نہیں۔ اس لیے آپ ہر ممکن کوشش کریں کہ ظہر اور عصر کو اپنے وقت میں ہی کسی طرح پڑھ لیا کریں لیکن اگر کسی صورت میں ممکن نہ ہو تو پیشگی پڑھنے کی بجائے بعد میں اگلی نماز کے ساتھ ادا کر لیں جو قضا کی صورت میں اداہو جائے گی۔

تفسیر مظہری میں حضرت مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے بعض روایات کے حوالے سے لکھا ہے کہ بنی اسرائیل میں بھی رمضان المبارک ہی کا مہینہ روزوں کے لیے مقرر تھا اور وہ بھی اسی طرح سال کے سارے موسموں میں گھومتا تھا۔ ایک دور میں انہیں بھی گرمیوں کے سخت روزوں نے تنگ کیا تو علماء سے درخواست کی گئی کہ وہ لچک پیدا کریں اور روزوں کے لیے مناسب موسم متعین کر دیں۔ بنی اسرائیل کے علماء نے ایسا کر دیا اور موسم بہار کو روزوں کے لیے طے کر کے یہ اضافہ کیا کہ چونکہ ہم اپنی طرف سے شرعی معاملہ میں ردوبدل کر رہے ہیں اس لیے کفارے کے طور پر دس روزے زیادہ رکھا کریں گے، چنانچہ وہ اس طرح چالیس روزے رکھتے ہیں۔

رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے اور قرآن کریم کا مہینہ ہونے کی وجہ سے اس کی مناسبت آج بھی قرآن کریم کے ساتھ زیادہ ہے جس کا مظاہرہ عملی طور پر یوں ہوتا ہے کہ پورے سال کی بہ نسبت اس ماہ مبارک میں قرآن کریم کی تلاوت اور پڑھنے کا معمول ہر جگہ بڑھ جاتا ہے۔ تراویح اور قیامِ لیل میں قرآن کریم کی قراءت کے ساتھ ساتھ عام معمولات میں قرآن کریم پڑھنے اور سننے کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ گویا سال بھر غفلت میں بسر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اس ماہ میں قرآن کریم کے ساتھ مسلمانوں کا جوڑ پھر سے تازہ کر دیتے ہیں اور بیٹریاں چارج ہو جاتی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا تکوینی نظام ہے جو قرآن کریم کے ساتھ عام مسلمان کا تعلق تازہ کرنے کے علاوہ خود قرآن کریم کی مسلسل حفاظت کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے، اس لیے کہ اگر تراویح میں قرآن کریم سنانے کا معمول نہ ہو تو بہت سے حافظ حضرات قرآن کریم یاد نہ رکھ سکیں، تراویح میں قرآن کریم سنانے کی پابندی اس بات کا ذریعہ بن جاتی ہے کہ قرآن کریم کے حفاظ کی ایک بڑی تعداد قرآن کریم یاد رکھنے کا اہتمام کرتی ہے اور قرآن کریم انہیں مسلسل یاد رہتا ہے۔

ام المؤمنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رمضان المبارک میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات میں روزوں کے علاوہ دو باتوں کا مزید اضافہ ہو جاتا تھا:

  • ایک یہ کہ قرآن کریم کی تلاوت و قراءت عام دنوں میں بھی جناب نبی اکرمؐ کا روزمرہ کا معمول ہوتا تھا اور رات کی ایک تہائی وہ نوافل میں قرآن کریم پڑھتے تھے لیکن رمضان المبارک میں اس کی مقدار بڑھ جاتی تھی اور حضرت جبرائیل علیہ السلام روزانہ آکر آنحضرتؐ کے ساتھ اس وقت تک نازل شدہ قرآن کریم کا دور کیا کرتے تھے۔
  • اس کے ساتھ رمضان المبارک میں جناب نبی کریمؐ کی سخاوت بھی بڑھ جایا کرتی تھی۔ عام دنوں میں بھی معمول مبارک یہ تھا کہ کوئی سوالی آپؐ کے در سے خالی نہیں جاتا تھا مگر رمضان المبارک میں تو آپؐ کی سخاوت کا یہ عالم ہوتا تھا کہ جیسے موسم گرما میں ٹھنڈی ہوا چلا دی جائے۔
  • روزے کو جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر و ضبط کا ذریعہ بتایا ہے۔ اور یہ امر واقعہ ہے کہ روزے کی حالت میں کھانے، پینے اور دیگر خواہشات پر کنٹرول رکھنے سے انسان میں یہ ذوق بیدار ہوتا ہے کہ وہ ان چیزوں سے بھی اپنے نفس کو باز رکھے جو پورا سال اور دن رات ہر وقت کے لیے حرام ہیں۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ روزے تم پر اس لیے فرض کیے گئے ہیں تاکہ تم متقی بن جاؤ اور تمہارے اندر پرہیزگاری پیدا ہو۔

امام غزالیؒ نے روزے کے تین درجات بیان کیے ہیں، فرماتے ہیں کہ:

  1. ایک روزہ اس شخص کا ہے کہ اس نے روزے کی پابندی قبول کر کے کھانے پینے اور دیگر خواہشات پوری کرنے سے خود کو روکا ہوا ہے لیکن جسم کے باقی اعضا کا روزہ نہیں ہے۔ منہ، کان، آنکھیں، ہاتھ اور پاؤں وغیرہ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی تمیز کیے بغیر اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں، وہ ممنوعہ کاموں سے نہیں رک رہے اور ان پر روزے کا کوئی اثر نہیں ہے۔ یہ روزہ اصطلاحی (ٹیکنیکل) روزہ ہے جس سے فریضہ تو اس شخص کے ذمہ سے ساقط ہو جاتا ہے لیکن روزے کا مقصد پورا نہیں ہوتا کہ روزہ تقویٰ پیدا کرنے کے لیے فرض کیا گیا ہے۔
  2. دوسرا روزہ اس شخص کا ہے کس جس کا صرف منہ، پیٹ اور شرمگاہ کا روزہ نہیں بلکہ اس کے سارے اعضا روزہ کی حالت میں ہیں۔ اس نے اس بات کا اہتمام کر رکھا ہے کہ زبان، کان، آنکھ، ہاتھ اور پاؤں وغیرہ سے بھی گناہ کا کوئی کام سرزد نہ ہونے پائے۔ یہی روزہ شریعت کا مقصود ہے اور اسی طرح کے روزے سے قرآن کریم کی منشا کی تکمیل ہوتی ہے۔
  3. جبکہ تیسرا روزہ اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کا ہے کہ وہ دل و دماغ کا بھی روزہ رکھتے ہیں۔ یعنی اپنے دل و دماغ کو اللہ تعالیٰ کی یاد اور آخرت کی فکر میں اس قدر مصروف و مشغول رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا خیال دماغ میں نہ آنے پائے اور اس کے سوا کوئی خواہش دل تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔ یہ روزہ مقربین کا روزہ ہے جو بہت خاص لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔

رمضان المبارک گناہوں کی معافی کا مہینہ ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے رمضان المبارک کے دوران دن کے وقت ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ روزے رکھے اور راتوں کو ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ تراویح اور تہجد و نوافل کی صورت میں قیام کیا تو اس کے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ جبکہ گناہوں کی معافی اور توبہ کی قبولیت کی ایک علامت بعض بزرگوں نے یہ بیان فرمائی ہے کہ اگر توبہ سے زندگی میں عملی تبدیلی آئی ہے تو یہ قبولیت کی نشانی ہے۔ خدا کرے کہ یہ رمضان المبارک ہمارے لیے حقیقی رحمتوں اور برکتوں کا باعث ہو، توبہ و استغفار کا ذریعہ بنے، زیادہ سے زیادہ اعمال صالحہ کے مواقع ہمیں اس میں فراہم ہوں اور سب سے بڑھ کر یہ ہماری زندگیوں میں خوشگوار تبدیلی کا سبب بن جائے، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter