جہادی تربیتی کیمپ ۔ وزیر داخلہ کے نام کھلا خط

   
۱۸ اپریل ۲۰۰۰ء

بعد از سلام مسنون!

گزارش ہے کہ گزشتہ روز ایک قومی اخبار نے آنجناب کے حوالہ سے خبر شائع کی ہے کہ ’’امریکہ کی طرف سے پاکستان سے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے کے مطالبہ پر لندن میں اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیرداخلہ نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے طالبان کی حکومت پر واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود تمام تربیتی کیمپ بند کر دے جہاں پر پاکستان کے مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ مسلح تربیت حاصل کرتے ہیں‘‘۔ وزیرداخلہ معین الدین حیدر نے کہا ہے کہ ’’انہوں نے سپاہ صحابہؓ اور سپاہ محمدؐ پر بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ فرقہ وارانہ قتل و غارت گری بند کر دیں اور اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو حکومت ان کے خلاف سختی سے نمٹے گی‘‘۔

میں اس سلسلہ میں آنجناب کی توجہ چند حقائق کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں، امید ہے کہ آپ ان پر سنجیدگی کے ساتھ غور فرمائیں گے۔ افغانستان میں موجود عسکری تربیت کے کیمپوں اور طالبان کی اسلامی حکومت کے بارے میں ایک عرصہ سے عالمی سطح پر اس تاثر کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ان کیمپوں میں دہشت گردی کی تربیت دی جا رہی ہے اور طالبان حکومت اس دہشت گردی کی سرپرستی کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان میں سنی شیعہ کشمکش اور باہمی قتل و غارت کے عنصر کو شامل کر کے اس تاثر کو یہ رخ دیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ قتل و غارت کرنے والے سب لوگ انہی کیمپوں میں تربیت پاتے ہیں اس لیے پاکستان میں فرقہ وارانہ امن کے قیام کے لیے یہ ضروری ہے کہ افغانستان کے ان جہادی تربیتی مراکز کو بند کر دیا جائے۔

یہ تاثر انتہائی گمراہ کن ہے جو مغربی میڈیا اور مغرب کی سیکولر لابیاں منظم طور پر پھیلا رہی ہیں اور امریکہ اس میں قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے جس نے جنوبی ایشیا میں اپنے استحصالی اور استعمار پسندانہ عزائم کو بروئے کار لانے کے لیے یہ تکنیک اختیار کی ہے اور میں آنجناب سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ حالات کا اصل منظر یہ نہیں ہے جو ورلڈ میڈیا کے ذریعے پیش کیا جا رہا ہے۔ اور آپ جیسے سنجیدہ حضرات نے بھی اگر اس کی تائید شروع کر دی ہے، اس سے یہی سمجھا جا سکتا ہے کہ امریکہ جنوبی اور وسطی ایشیا کے حوالہ سے اپنے ایجنڈے کے لیے اس خطہ کے حکمران طبقہ کو اپنے ڈھب پر لانے میں کامیاب ہوگیا ہے اور جنوبی ایشیا کے دورہ سے صدر کلنٹن کے خالی ہاتھ واپس جانے کا تاثر امریکی ذرائع ابلاغ کی طرف سے طے شدہ پالیسی کے تحت اندرون خانہ طے ہونے والے معاملات پر پردہ ڈالنے کے لیے دیا جا رہا ہے۔

جناب والا! امریکہ اس خطہ میں جو کچھ چاہتا ہے وہ یقیناً آپ سے مخفی نہیں ہوگا، میں یاددہانی کے طور پر بعض اہم امور کا ذکر اس عریضہ میں مناسب سمجھتا ہوں:

  • امارت اسلامی افغانستان کی حکومت نے مغربی ثقافت اور اقوام متحدہ کے منشور کو نظرانداز کرتے ہوئے قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کی بنیاد پر خالص اسلامی نظام کے مکمل نفاذ کا جو عزم کر رکھا ہے وہ امریکہ کے لیے قابل قبول نہیں ہے اور امریکہ طالبان پر دباؤ ڈال کر انہیں ’’وسیع البنیاد حکومت‘‘ کے نام پر ایک ایسی مشترکہ حکومت کا حصہ بننے پر مجبور کرنا چاہتا ہے جو دنیا کی بہت سی دیگر مسلم حکومتوں کی طرح ’’اسلام اسلام‘‘ کا راگ تو الاپتی رہے مگر افغانستان میں اقوام متحدہ کے منشور کے نفاذ اور مغربی ثقافت اور کلچر کے فروغ میں رکاوٹ نہ بنے۔
  • اس خطہ کی معیشت پر پہلے سے حاصل بالادستی کو امریکہ ’’آزادانہ تجارت‘‘ اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے مکمل اجارہ داری اور کنٹرول میں تبدیل کرنا چاہتا ہے اور چین سمیت کسی بھی دوسری قوت کے اس میں در آنے کے امکانات کو مکمل طور پر ختم کر دینا چاہتا ہے۔
  • امریکہ چین کے خلاف بھارت کی سربراہی میں متحدہ محاذ کے قیام میں اسلامی جمہوریہ پاکستان اور امارت اسلامی افغانستان کو رکاوٹ سمجھتا ہے اور ان رکاوٹوں کو اس قدر کمزور کر دینا چاہتا ہے کہ وہ امریکہ یا بھارت کے کسی بھی اقدام کی راہ میں کسی درجہ میں بھی حائل نہ ہو سکیں۔
  • امریکہ اور بھارت کو مشترکہ طور پر پریشانی یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی مسلح افواج کے خلاف جو مجاہدین سالہا سال سے نبرد آزما ہیں اور جن کی جدوجہد اور قربانیوں کی وجہ سے مسئلہ کشمیر ایک بار پھر عالمی ایجنڈے میں اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے ان مجاہدین نے افغانستان کے انہی تربیتی مراکز میں ٹریننگ حاصل کی ہے اور ان تربیتی مراکز کو بند کرائے بغیر کشمیری مجاہدین کی سپلائی لائن کو کاٹا نہیں جا سکتا اور نہ ہی مسئلہ کشمیر کی اہمیت کو کم کیا جا سکتا ہے۔
  • امریکہ کو یہ بھی پریشانی ہے کہ افغانستان میں جو تربیتی مراکز خود اس کے تعاون سے قائم ہوئے تھے اور جن مراکز نے افغان قوم کو روسی افواج کے مقابلہ میں صف آرا کر کے سوویت یونین کو شکست و ریخت سے دوچار کر دیا تھا ان مراکز سے دنیا بھر کے دیگر مسلم مجاہدین نے بھی عسکری تربیت حاصل کر لی ہے اور بوسنیا، کوسوو، فلسطین، کشمیر، چیچنیا، مورو، اراکان اور صومالیہ وغیرہ میں اسلام کی سربلندی کے نام سے صف آرا ہو چکے ہیں جس سے دینی حلقے ان کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہے ہیں جس سے مسلم دنیا میں جہاد کا وہ عمل اور جذبہ ایک بار پھر عالمی سطح پر منظم ہو رہا ہے جسے ختم کرنے کے لیے مغربی طاقتیں دو صدیوں سے اپنے تمام وسائل کے ساتھ مصروف کار رہی ہیں مگر ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود فلسطین سے انڈونیشیا تک اور چیچنیا سے صومالیہ تک پوری دنیائے اسلامی میں پھر سے جہاد کے نعرے پورے جوش و خروش کے ساتھ گونج رہے ہیں۔ اور اسی وجہ سے امریکہ افغانستان کے ان تربیتی مراکز کو جلد از جلد بند کرانے کے لیے بے چین ہے۔

جناب وزیرداخلہ! جہاں تک پاکستان میں سنی شیعہ کشیدگی میں اضافہ اور فرقہ وارانہ قتل و غارت گری کا تعلق ہے یہ بلاشبہ انتہائی افسوسناک بلکہ شرمناک ہے اور اس کی روک تھام کے لیے حکومت پاکستان اور تمام تر قومی حلقوں کو سنجیدگی کے ساتھ پیش رفت کرنی چاہیے۔ لیکن اس فرقہ وارانہ قتل و غارت کا ذمہ دار افغانستان کے تربیتی کیمپوں کو ٹھہرانا اور اس کی آڑ میں طالبان حکومت سے ان مراکز کی بندش کا مطالبہ کرنا سراسر نا انصافی اور ظلم ہے۔ مجھے اس سے انکار نہیں ہے کہ ان کیمپوں سے تربیت پانے والے کچھ افراد پاکستان میں فرقہ وارانہ قتل و غارت میں ملوث ہوئے ہوں گے لیکن یہ ہر ادارے میں ہوتا ہے۔ اگر پاکستان کی جیلوں اور مقدمات کے ریکارڈ کا اس نقطۂ نظر سے جائزہ لے لیا جائے کہ ملک بھر میں قتل و غارت کرنے والے افراد نے اسلحہ چلانے کی ٹریننگ کہاں کہاں حاصل کی ہے تو ان میں یقیناً ایسے افراد نکل آئیں گے جنہوں نے اسلحہ کی تربیت پاک فوج اور پولیس کے تربیتی مراکز میں حاصل کی ہوگی۔ لیکن کوئی بھی باہوش شخص محض اس بنا پر پاک فوج اور پولیس کے تربیتی مراکز کو ملک میں بد اَمنی اور قتل کا ذمہ دار قرار نہیں دے گا اس لیے کہ چند افراد کی انفرادی کارروائیوں کو اداروں اور مراکز کے کھاتے میں نہیں ڈالا جاتا۔ اسی طرح افغانستان کے تربیتی مراکز کو بھی پاکستان میں فرقہ وارانہ قتل و غارت کا باعث اور ذمہ دار قرار دینا قرین انصاف نہیں ہے۔

پاکستان میں سنی شیعہ کشیدگی میں اضافہ اور فرقہ وارانہ قتل و غارت کے اصل عوامل اور سرچشمے کچھ اور ہیں اور اگر آپ ان اسباب و عوامل کی نشاندہی اور سدباب میں سنجیدہ ہیں تو میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن قائم کیا جائے جو آزادانہ انکوائری کے ذریعے سنی شیعہ کشیدگی میں اضافہ کے اسباب و عوامل اور فرقہ وارانہ قتل و غارت کے سرچشموں کی نشاندہی کرے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس آزادانہ اعلیٰ سطحی عدالتی انکوائری کے ذریعے پاکستان میں فرقہ وارانہ قتل و غارت کے فروغ میں افغانستان کے تربیتی مراکز کا کوئی کردار سامنے آیا تو اس کے سدباب اور روک تھام کے لیے ہر اقدام کی حمایت کی جائے گی مگر محض امریکی رپورٹوں کی بنیاد پر افغانستان کے تربیتی مراکز کو پاکستان میں فرقہ وارانہ قتل و غارت کا ذمہ دار قرار دے کر ان کی بندش کے لیے طالبان حکومت پر کسی بھی قسم کے دباؤ کی پالیسی کو ہم جہاد کے خلاف امریکی مہم کا حصہ سمجھتے ہیں اور اس کی کسی درجہ میں تائید کے لیے تیار نہیں ہیں۔

جناب معین الدین حیدر! میں آپ کو چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف کے وہ ریمارکس یاد دلانا چاہتا ہوں جو انہوں نے جنوری ۲۰۰۰ء کے وسط میں امریکی سینٹروں کے دورۂ پاکستان کے موقع پر ان سے گفتگو کے دوران دیے تھے اور جنہیں ایک قومی اخبار نے ان الفاظ میں رپورٹ کیا تھا کہ

’’چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے امریکی سینٹروں کے وفد کو دوٹوک الفاظ میں بتا دیا ہے کہ پاکستان جہادی تنظیموں پر پابندی نہیں لگا سکتا اور نہ ہی مسلمانوں کو جہاد سے روکا جا سکتا ہے جیسے روس کے خلاف جہاد کو نہیں روکا جا سکا تھا۔ اعلیٰ عسکری ذرائع کے مطابق جنرل پرویز مشرف نے امریکی سینٹروں پر یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ جہاد مسلمانوں کا مذہبی فریضہ ہے، امریکہ کو دہشت گردی اور جہاد میں بنیادی فرق کو سمجھنا ہوگا۔ ان اعلیٰ عسکری ذرائع کے بقول جنرل پرویز مشرف نے امریکی سینٹروں کو بتایا کہ پاکستان نے دہشت گردی اور ہائی جیکنگ کی ہمیشہ مذمت کی ہے اور کرتا رہے گا تاہم جہاں تک جہاد کا تعلق ہے یہ اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے۔ دنیا میں مسلمان جہاں بھی جہاد کرتے ہیں وہ دراصل اپنا مذہبی فریضہ نبھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہادی تنظیمیں صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں سرگرم عمل ہیں اور یہ تنظیمیں کشمیر ہو یا چیچنیا جہاں بھی جہاد کر رہی ہیں اسے روکا نہیں جا سکتا۔‘‘

جناب وزیرداخلہ! جہاد اور دہشت گردی کے حوالے سے ہمارا موقف بھی یہی ہے اور ہم اس پر بدستور قائم ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف آپ کے ہر منصفانہ اقدام کی حمایت کریں گے مگر دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے نام پر جہاد کے عمل، جہادی تحریکات اور جہادی تربیتی مراکز کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی پاکستان کے دینی حلقوں کے لیے قطعی طور پر قابل قبول نہیں ہوگی۔ امید ہے کہ آنجناب بھی اپنی پالیسی ترجیحات میں ’’جہاد‘‘ اور ’’دہشت گردی‘‘ کے اس بنیادی فرق کو ملحوظ رکھ کر حقیقت پسندی کا مظاہرہ کریں گے۔

   
2016ء سے
Flag Counter