سیرتِ نبوی ﷺ پر جنرل مشرف کے خیالات اور سودی نظام

   
تاریخ اشاعت: 
۱۵ جون ۲۰۰۱ء

چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف صاحب محترم نے گزشتہ روز وزارتِ مذہبی امور کے زیراہتمام منعقد ہونے والی ’’قومی سیرت کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے مختلف مسائل کے حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار فرمایا ہے اور ان کے بعض ارشادات کے حوالے سے قومی حلقوں میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ مگر اس سے قطع نظر ہم ان کے چند فرمودات کو صرف اپنے نہیں بلکہ پوری قوم کے دل کی آواز قرار دیتے ہوئے ان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ مثلاً انہوں نے فرمایا کہ

’’فخر کائناتؐ کی تشریف آوری ساری دنیا کے لیے رحمت بنی، ہادئ برحق نے بھٹکی ہوئی مخلوق کو سیدھا راستہ دکھایا، اور دنیا میں ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جو دولتِ ایمان کے ساتھ ساتھ عدل و انصاف اور اخوت و مساوات کا علمبردار بنا۔ اس میں رنگ و نسل یا قبیلہ کی بجائے تقویٰ اور پرہیزگاری کو معیارِ تکریم قرار دیا گیا۔ رسول اللہؐ نے باہمی رواداری کا درس دیا اور بہتر انسان بننے کا سلیقہ بخشا۔ انہوں نے کہا کہ آپؐ کی زندگی اور تعلیمات ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گی۔‘‘

اس موقع پر جنرل صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ

’’پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور جب اسلام پر امتحان کا وقت آئے گا تو میں سب سے آگے ہوں گا۔‘‘

جنرل صاحب نے قومی بیماریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ

’’ہمارے قول و فعل میں تضاد ہے، ہمارے دلوں میں منافقت ہے، جو بات ہم کر رہے ہوتے ہیں ہمارے دلوں میں کچھ اور ہوتا ہے اور زبانوں پر کچھ اور ہوتا ہے۔‘‘

جنرل صاحب نے فرقہ واریت، عدل، رواداری، باہمی تشدد اور دہشت گردی کے حوالے سے اور بھی بہت سی مفید باتیں کیں۔ اور اپنے خطاب میں یہ عمومی تاثر دیا کہ وہ قومی بیماریوں سے بھی آگاہ ہیں اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ اور تعلیمات کو رہنمائی کا سرچشمہ سمجھتے ہوئے ان کی روشنی میں قومی مسائل کے حل کی طرف پیشرفت میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔

ہمارے لیے یہ باتیں بہت حوصلہ افزا تھیں اور ان کے لیے ہم اس تلخ و ترش لہجے اور ڈانٹ ڈپٹ کو بھی خاموشی کے ساتھ برداشت کر جانے کے لیے تیار تھے جس کا اظہار انہوں نے اسی تقریر میں علماء کرام اور جہادی تحریکات کے بارے میں فرمایا۔ ہم ایک بار پھر اس خوش فہمی کا شکار ہونے لگے تھے کہ حاکمِ وقت نے جس عقیدت و محبت کے ساتھ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی اور ان کی سیرت و تعلیمات کا تذکرہ کیا ہے، وہ یقیناً ان کے دل کی آواز ہو گی۔ اور اب قومی زندگی کا رخ سیرتِ نبویؐ اور اسلامی تعلیمات کی طرف مڑ جانے کی کوئی نہ کوئی صورت ضرور نکل آئے گی۔

مگر اس سے اگلے روز قومی اخبارات کے صفحۂ اول پر یہ خبر ان امیدوں کو خاک میں ملانے کے لیے موجود تھی کہ یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ نے سپریم کورٹ میں سود کے خلاف عدالتِ عظمیٰ کے فیصلہ پر نظرثانی کے لیے دائر کی جانے والی رٹ کے حوالے سے ایک ضمنی درخواست دائر کر دی ہے، جس میں تقاضا کیا گیا ہے کہ سودی قوانین کو تیس جون تک بہرحال ختم کرنے کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ فوری طور پر معطل کیا جائے۔ کیونکہ درخواست گزار کے بقول سپریم کورٹ کے شریعت اپلیٹ بینچ کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ جن قوانین کو قرآن و سنت کے منافی قرار دے ان کے خاتمہ کے لیے حکومت کو پابند بھی کرے۔ اس کے ساتھ ہی وزارتِ خزانہ کے حکام کا یہ بیان بھی سامنے آ گیا ہے کہ یکم جولائی تک غیر سودی نظام ممکن نہیں ہے اور سپریم کورٹ سے اس سلسلہ میں مزید مہلت لی جائے گی۔ خبر کے مطابق غیر ملکی نیوز ایجنسی سے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وزارتِ خزانہ کے ایک افسر نے کہا کہ پاکستان میں اسلامی نظام بینکاری کے لیے تیاریاں اب تک مکمل نہیں ہیں۔

معلوم ہوتا ہے کہ تیاریاں مکمل نہ ہونے کے بہانے سپریم کورٹ کے فیصلے کو مزید مہلت کے سرد خانے کی نذر کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے، لیکن یہ تیاریاں کبھی مکمل نہیں ہوں گی۔ کیونکہ جب تیاریاں کرنے والے ہی انہیں مکمل نہ کرنا چاہیں تو اور کون انہیں مکمل کر سکتا ہے؟ ہمیں اچھی طرح یاد ہے اور قومی اخبارات کے علاوہ سرکاری ریکارڈ سے بھی ۱۹۸۴ء کے وفاقی وزیر خزانہ جناب غلام اسحاق خان کی بجٹ تقریر کو اس بات پر بطور شہادت پیش کیا جا سکتا ہے کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں غیر سودی مالیاتی نظام کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں، اور اس سلسلہ میں تمام مشکلات اور رکاوٹوں کا حل تلاش کر لیا گیا ہے۔ اس لیے وہ قوم کو یہ خوشخبری دیتے ہیں کہ اگلے سال یعنی ۱۹۸۵ء کا قومی بجٹ غیر سودی ہو گا۔ لیکن وفاقی وزیر خزانہ کی اس خوشخبری کے سترہ سال بعد وزارتِ خزانہ کے حکام اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر غیر ملکی نیوز ایجنسیوں کو بتا رہے ہیں کہ غیر سودی مالیاتی نظام کے لیے ہماری تیاریاں مکمل نہیں ہیں اور ہم سپریم کورٹ سے مزید مہلت لے رہے ہیں۔

اس موقع پر ہم جنرل پرویز مشرف صاحب کو اس سلسلہ میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ طرف توجہ دلانا چاہیں گے کہ آنحضرتؐ نے حجۃ الوداع کے موقع پر سودی نظام کے مکمل خاتمہ کا اعلان کیا تھا، اور سب سے پہلے اپنے چچا حضرت عباسؓ کے سودی کاروبار کو ختم کرتے ہوئے اعلان فرمایا تھا کہ سابقہ معاملات میں بھی جن لوگوں کے پاس حضرت عباسؓ کی رقمیں موجود ہیں وہ صرف اصل زر واپس کریں گے اور سود کی رقم ان کے ذمہ نہیں ہو گی۔

پھر فتحِ مکہ کے بعد جب طائف کے باشندوں کی طرف سے ایک وفد جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور طائف والوں نے اسلام قبول کرنے کے لیے کچھ شرائط پیش کیں، تو ان میں ایک شرط یہ تھی کہ ہم سود کا کاروبار نہیں چھوڑ سکیں گے۔ اور ان کی دلیل بھی یہی تھی جو آج ہمارے ماہرین معیشت پیش کر رہے ہیں کہ دیگر اقوام کے ساتھ ان کا کاروبار سود کی بنیاد پر چلتا ہے اور سود کا لین دین بند کر دینے سے یہ سارا کاروبار ٹھپ ہو جائے گا۔ مگر جناب نبی اکرمؐ نے ان کی یہ شرط ماننے سے انکار کر دیا اور بالآخر طائف والوں کو اپنی شرائط واپس لے کر غیر مشروط طور پر اسلام قبول کرنا پڑا۔

اس کے بعد جب نجران کے عیسائیوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معاہدہ کر کے اسلامی ریاست میں غیر مسلم اقلیت کے طور پر رہنا قبول کیا تو اس معاہدہ کی تحریری شرائط میں یہ شق شامل تھی کہ وہ اسلامی ریاست میں سودی کاروبار نہیں کریں گے، اور اگر ان میں سے کسی ذمہ دار شخص نے سود کا لین دین کیا تو یہ معاہدہ ختم ہو جائے گا۔

یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ قرآن پاک اور سنتِ رسولؐ کی واضح تعلیمات کے باوجود ہمارے حکمرانوں اور ماہرین معیشت کا ذہن صاف نہیں ہو رہا۔ اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کو مشعلِ راہ قرار دینے کے باوجود مغربی فلسفہ اور نظام کے فریب سے باہر نہیں نکل رہے۔ اور یہ اسی طرز عمل کا نتیجہ ہے کہ ملک کے دینی حلقے استدلال، منطق اور افہام و تفہیم کے حوالے سے حکمرانوں اور مغرب پرست ماہرین معیشت کے رویے سے مایوس ہو کر اب احتجاج کے کھلے میدان میں آنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ اور اس کا آغاز یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ کے بائیکاٹ کی مہم سے کیا جا رہا ہے جس کے لیے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی تنظیمِ اسلامی نے پہل کر دی ہے، اور ان کی طرف سے درج ذیل مضمون کا ایک خط عوام میں تقسیم کیا جا رہا ہے تاکہ جن لوگوں کے اکاؤنٹ یو بی ایل میں ہیں، وہ اس بینک سے اپنے اکاؤنٹ ختم کرائیں، اور سودی نظام کے بارے میں یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ کی انتظامیہ کے طرز عمل کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرا کے دینی حمیت کا مظاہرہ کریں۔ تنظیم اسلامی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جو صاحب یو بی ایل سے اپنا اکاؤنٹ ختم کرانا چاہیں وہ بینک کی متعلقہ برانچ میں مندرجہ ذیل مضمون کی درخواست دیں۔

جناب منیجر یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ

۔۔۔۔۔ برانچ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مزاج گرامی؟

انتہائی رنج اور افسوس کا مقام ہے کہ انسدادِ سود اور یکم جون ۲۰۰۱ء تک متبادل نظام رائج کرنے کے عدالتی فیصلہ کے خلاف یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی ہے، جو سماعت کے لیے منظور ہو گئی ہے۔ اور یہ انتہائی اہم مسئلہ اب پھر غیر معینہ مدت تک کے لیے معلق ہو گیا ہے، اور اس طرح مسلمانانِ پاکستان کی طرف سے اللہ تعالیٰ سے بغاوت و جنگ کی کیفیت کے ختم ہونے کی امید خاک میں ملا دی گئی ہے۔ یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ کی اس اسلام دشمن حرکت کے خلاف ہم انتہائی نفرت اور حقارت کا اظہار کرتے ہیں، اور اس بینک میں اپنا اکاؤنٹ نمبر ۔۔۔۔۔ فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ہماری رقم فوری طور پر ہمیں ادا کر دی جائے۔ اپنا نام لکھیں ۔۔۔۔۔

   
2016ء سے
Flag Counter