مولانا سلیم اللہ خانؒ اور مولانا عبد الحفیظ مکیؒ کی یاد میں تعزیتی نشستیں

   
۵ فروری ۲۰۱۷ء

شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خانؒ اور پیر طریقت حضرت مولانا عبد الحفیظ مکیؒ کی یاد میں گوجرانوالہ میں منعقد ہونے والی دو تعزیتی نشستوں میں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی۔

۳ فروری کو مغرب کے بعد محمدی ٹاؤن کی جامع مسجد عثمان غنیؓ میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے راہنما مولانا حافظ گلزار احمد آزاد نے حضرت مولانا عبد الحفیظ مکیؒ کی خدمات کے تذکرہ کے لیے نشست کا اہتمام کر رکھا تھا جس میں مولانا پیر سید کفیل شاہ بخاری مولانا شاہ نواز فاروقی، مولانا حافظ امجد محمود معاویہ اور راقم الحروف نے خطاب کیا۔

جبکہ ۴ فروری کو صبح دس بجے جامعہ قاسمیہ قاسم ٹاؤن میں مولانا قاری گلزار احمد قاسمی کی زیر نگرانی شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خانؒ کی یاد میں تعزیتی پروگرام تھا جس میں وفاق المدارس کے مرکزی راہنما مولانا قاضی عبد الرشید مہمان خصوصی تھے۔ گوجرانوالہ ڈویژن کے مختلف علاقوں سے علماء کرام اور مدارس کے ذمہ دار حضرات شریک تھے اور اس سے دیگر حضرات کے علاوہ مولانا حافظ گلزار احمد آزاد، مولانا جواد قاسمی اور راقم الحروف نے بھی خطاب کیا۔ میں نے ان دو بزرگوں کے ساتھ اپنی چند ملاقاتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کچھ تاثرات کا اظہار کیا۔

مولانا عبد الحفیظ مکیؒ کے ساتھ میری پہلی ملاقات ۱۹۸۴ء کے اواخر میں ہوئی جب میں پہلی بار عمرہ کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ حاضر ہوا تھا۔ مولانا مرحوم کے والد محترم ملک عبد الحقؒ والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے دوستوں میں سے تھے۔ جبکہ میرا قیام اپنے خالو محترم مولانا قاضی محمد رویس ایوبی کے ہاں تھا جو وہاں جامعہ ام القریٰ میں زیر تعلیم تھے۔ ملک عبد الحق صاحب کو جب معلوم ہوا تو وہ خود آکر مجھے وہاں سے اپنے گھر لے گئے اور فرمایا کہ تم میرے بھتیجے ہو اس لیے میرے گھر میں رہو گے۔ اس وقت مولانا عبد الحفیظ مکیؒ سے چند دن ملاقاتیں رہیں جو زندگی بھر کی رفاقت میں بدل گئیں۔ اور پھر سعودی عرب، برطانیہ، جنوبی افریقہ اور پاکستان میں باہمی رابطوں اور ملاقاتوں کا وسیع سلسلہ ہے جو ان کے گزشتہ دورۂ پاکستان تک جاری رہا۔

حضرت مولانا سلیم اللہ خانؒ کی خدمت میں پہلی بار حاضری اس دور میں ہوئی جب جامعہ فاروقیہ نیا نیا قائم ہوا تھا اور اس کی تعمیر کا سلسلہ جاری تھا۔ حضرت مولانا موصوفؒ کے حکم پر جامعہ فاروقیہ کے سالانہ جلسہ میں حاضر ہوا۔ جب میں جلسہ گاہ پہنچا تو شاہ بلیغ الدین مرحوم خطاب کر رہے تھے اور مولانا ضیاء الرحمان فاروقی شہیدؒ بھی اس جلسہ سے خطاب کیا۔ اس کے بعد کئی بار جامعہ فاروقیہ میں مختلف حوالوں سے جانے کا اتفاق ہوا بلکہ ایک موقع پر جب کراچی میں سواد اعظم اہل سنت کا ہر طرف غلغلہ تھا اور گلی گلی اس کے نعرے گونج رہے تھے، جمعیۃ علماء اسلام درخواستی گروپ کی طرف سے میں اور حضرت مولانا عبد الحکیم ہزارویؒ کراچی کے دورہ پر تھے۔ حضرت مولانا سلیم اللہ خانؒ سے ملاقات کے لیے جامعہ فاروقیہ گئے تو وہاں سوادِ اعظم اہل سنت کی ہائی کمان کا اجلاس ہو رہا تھا، حضرت موصوفؒ کے ارشاد پر ہم بھی اس میں شریک ہوئے اور مشاورت کا حصہ بنے۔

گوجرانوالہ کے نواحی قصبہ منڈیالہ وڑائچ میں حضرت مولانا سلیم اللہ خانؒ کے ہم زلف رہتے تھے ان سے ملاقات کے لیے کبھی کبھار حضرتؒ تشریف لایا کرتے تھے۔ ایک بار ریلوے اسٹیشن سے وہ سیدھے جامع مسجد شیرانوالہ باغ آگئے، مجھے اسی موقع پر منڈیالہ وڑائچ میں ان کی عزیزداری کا پتہ چلا اور ان کی ہلکی پھلکی میزبانی کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔

حضرت مولانا سلیم اللہ خانؒ کی علمی و دینی خدمات پر بہت کچھ کہا گیا ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ وہ ان پرانے بزرگوں کی یادگار اور نمونہ تھے جن کا تذکرہ ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں اور جن کی سادگی، قناعت، دینی صلابت اور پیہم جدوجہد کا جذبہ علماء کرام کے لیے ہمیشہ راہنما رہے گا۔ لیکن تاریخ کے ایک طالب علم کے طور پر میں ان کے اس کردار کا تذکرہ ضروری سمجھتا ہوں کہ جب جنرل پرویز مشرف کے دور میں دینی مدارس کے خلاف کارروائی کا فیصلہ ہو چکا تھا اور ہمارے حکمران اپنے حکمرانوں کی پشت پناہی کے ساتھ دینی مدارس کے خلاف عملی آپریشن کا فیصلہ کر چکے تھے، وفاق المدارس نے مولانا سلیم اللہ خانؒ کی قیادت میں دیگر مکاتب فکر کے دینی مدارس کے وفاقوں کو اپنے ساتھ کھڑا کر کے اس طوفان کا رخ موڑ دیا۔

اللہ تعالیٰ ان بزرگوں کے درجات جنت الفردوس میں بلند سے بلند تر فرمائیں اور ہم سب کو ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں شش ماہی امتحان کی تعطیلات کے چند ایام حسب سابق اس سال بھی کراچی میں گزارنے کا پروگرام ہے اور حضرت شیخؒ کی تعزیت کے لیے جامعہ فاروقیہ میں حاضری کا ارادہ ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اس کے علاوہ جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن نارتھ کراچی میں پیر سے جمعرات تک صبح ۹ بجے سے ۱۱ بجے تک ’’موجودہ عالمی، فکری و تہذیبی کشمکش اور اسلام‘‘ کے موضوع پر محاضرات ہوں گے۔ اور جامعہ اسلامیہ کلفٹن میں ۲ بجے سے ۴ بجے تک ’’نفاذ اسلام کی جدوجہد کا مرحلہ وار جائزہ‘‘ کے عنوان پر پیر سے بدھ تک روزانہ گفتگو ہوگی۔ جبکہ جامعۃ الرشید کے ۹ فروری کو شروع ہونے والے سالانہ اجتماع میں بھی تھوڑی دیر کے لیے حاضری کا ارادہ ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اس سلسلہ میں مزید معلومات جامعہ انوار القرآن کے مولانا مفتی حبیب احمد درخواستی سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter