اسرائیل کی پسپائی اور ٹونی بلیئر کی دھمکی

   
ستمبر ۲۰۰۶ء

لبنان پر فوج کشی سے اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکنے اور عالمی برادری کے دباؤ پر اسرائیل نے پسپائی اختیار کر لی ہے اور خود اسرائیل کے اندر اسے اسرائیل کی شکست قرار دیتے ہوئے اس کے اسباب پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ بظاہر اسرائیل کا مقصد اپنے دو فوجیوں کی رہائی اور جنوبی لبنان پر تسلط حاصل کرنا تھا لیکن ان میں سے کوئی مقصد بھی پورا نہیں ہوا اور اسرائیل کو اپنی سرحدوں کے اندر واپس جانا پڑا۔ حزب اللہ کی کامیاب مزاحمت نے جہاں اسرائیل کو پسپائی کے ایک نئے تجربے سے روشناس کرایا ہے وہاں مشرقی وسطیٰ کی مبینہ نئی جغرافیائی تقسیم کے اس ایجنڈے کو بھی شدید دھچکا لگا ہے جو امریکہ اور اس کے اتحادی اپنے استعماری عزائم کے تحت کرنا چاہ رہے ہیں اور جس کے لیے مسلسل کام ہو رہا ہے۔

بیسویں صدی کے آغاز میں برطانیہ نے خلافت عثمانیہ کے اضمحلال اور پھر خاتمہ کے ذریعہ مشرق وسطیٰ کے جغرافیائی نقشے کو تبدیل کر دیا تھا اور اس بندر بانٹ میں یہودی ریاست اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کی تھی۔ اور اب ایک سو سال کے بعد برطانیہ ہی کے تعاون سے امریکہ مشرق وسطیٰ کے جغرافیائی نقشہ کو مزید تبدیلیوں سے دو چار کرنے کے درپے ہے جس کا مقصد اسرائیل کے تحفظ، تیل کے چشموں پر تسلط اور عالم عرب میں اسلامی تحریکات کا راستہ روکنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ مگر لبنان میں حزب اللہ کے ہاتھوں اسرائیل کی اس ہزیمت کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو اپنے اس ایجنڈے کی ترجیحات اور صف بندی کا بہرحال از سر نو جائزہ لینا ہوگا۔

اس سلسلہ میں برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے ایک تفصیلی مضمون میں، جس کا اردو ترجمہ روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ نے ۹ اگست ۲۰۰۶ء کو شائع کیا ہے، اپنے مقاصد اور اہداف کو واضح طور پر بیان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ دراصل ان اقدار کے خلاف ہے جسے وہ انتہا پسندانہ اسلام سے تعبیر کرتے ہیں اور وہ اس جنگ کے ذریعے انتہا پسندانہ کے مقابلہ میں اعتدال پسند اسلام کو غالب کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس مضمون میں ایران اور شام کو الٹی میٹم دیا ہے کہ وہ عالمی برادری میں آجائیں ورنہ تصادم کے لیے تیار ہوجائیں۔

گویا مسٹر ٹونی بلیئر کے نزدیک آئندہ کوئی مسلمان ملک اگر امریکی حملوں سے بچنا چاہتا ہے تو اسے عالمی برادری میں شامل ہونے کے نام سے اس نظام و فلسفہ کو قبول کرنا ہوگا جس کے دنیا پر غلبے کے لیے جارج ڈبلیو بش اور ٹونی بلیئر جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ صورتحال عالم اسلام کے ان حلقوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو اب تک اس مفروضے پر دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں امریکہ کے حلیف اور حمایتی بنے ہوئے ہیں کہ یہ جنگ فی الواقع دہشت گردی کے خلاف ہے اور اس کے کوئی تہذیبی یا نظریاتی مقاصد نہیں ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ ہمارے مسلمان حکمران عالمی صورتحال کا ازسرنو جائزہ لیں، اسلام، ملت اسلامیہ اور عالم اسلام کے مفادات اور مستقبل کو سامنے رکھ کر اپنی پالیسیوں اور ترجیحات پر نظر ثانی کریں اور دوست دشمن کی پہچان کرتے ہوئے حقیقت پسندانہ بنیادوں پر مؤثر لائحہ عمل اختیار کریں۔

   
2016ء سے
Flag Counter