اسرائیل کے قیام اور بقا کی جدوجہد

   
۲۹ جولائی ۲۰۱۳ء

روزنامہ ’’پاکستان‘‘ نے ۲۶ جولائی ۲۰۱۳ء کو آن لائن کے حوالہ سے یہ خبر شائع کی ہے کہ امریکہ کی وفاقی اپیل کورٹ نے اسرائیلی مقبوضہ شہر یروشلم کی متنازعہ حیثیت تسلیم کرتے ہوئے سابق امریکی صدر بُش کے دور میں جاری ہونے والے پاسپورٹ قانون کو رد کر دیا ہے۔ وفاقی اپیل کورٹ کے فیصلے کے مطابق یروشلم میں پیدا ہونے والے امریکی شہریوں کے پاسپورٹ میں جائے پیدائش یروشلم نہیں لکھی جا سکے گی۔ العربیہ ٹی وی کے مطابق امریکی اسٹیٹ کولمبیا میں قائم وفاقی عدالت برائے اپیل کے تین ججوں پر مشتمل پینل کی طرف سے جاری کیے جانے والے متفقہ فیصلے میں اس دیرینہ امریکی خارجہ پالیسی کی ان شقوں کو برقرار رکھا گیا ہے جن کے مطابق صرف امریکی صدر کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ اس تاریخی اور مقدس شہر جس کی ملکیت کا دعویٰ فلسطین اور اسرائیل دونوں کرتے ہیں کو متنازعہ یا غیر متنازعہ قرار دے سکتا ہے۔ پینل کی جج کیون ہینڈرسن نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ امریکی حکومت میں صرف صدر کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ کسی غیر ملکی ریاست کو تسلیم کرے۔

یروشلم اس شہرِ مقدس کا عبرانی نام ہے جسے ہم ’’القدس‘‘ یا ’’بیت المقدس‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ بعض روایات کے مطابق مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ کی تعمیر کے چالیس سال بعد حضرت یعقوب علیہ السلام نے فلسطین میں بیت المقدس تعمیر کیا تھا اور تب سے وہاں آبادی کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ اس دور میں مکہ مکرمہ بنی اسماعیل کا اور بیت المقدس بنی اسرائیل کا قبلہ قرار پایا تھا اور دونوں میں روحانی برکات اور رونقوں کا سلسلہ تب سے جاری چلا آرہا ہے۔

حضرت یوسف علیہ السلام کے مصر کا حکمران بننے کے بعد حضرت یعقوب علیہ السلام اور ان کے خاندان نے مصر کو اپنا مسکن بنایا تو اس کے بعد بیت المقدس پر دوسری اقوام کا قبضہ ہوگیا۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں بنی اسرائیل کو مصر میں فرعون کی غلامی سے نجات ملی اور وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قیادت میں بحیرۂ قلزم پار کر کے وادی سینا میں پہنچے تو انہیں حکم دیا گیا کہ وہ جہاد کر کے بیت المقدس کو آزاد کرائیں اور اپنے پرانے شہر میں جا کر آباد ہوں۔ مگر بنی اسرائیل نے جہاد کرنے سے انکار کر دیا جس کی سزا انہیں قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق یہ ملی کہ چالیس سال تک ان کا داخلہ بیت المقدس میں حرام قرار دے دیا گیا۔ اسی دوران حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کا انتقال ہوگیا اور چالیس سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کی قیادت میں بنی اسرائیل نے جہاد کے ذریعہ بیت المقدس کو آزاد کرایا۔

پھر ایک عرصہ گزر جانے کے بعد بیت المقدس کا علاقہ دوسری قوموں کے قبضے میں چلا گیا تو حضرت طالوت علیہ السلام کی قیادت میں بنی اسرائیل نے جہاد کر کے وقت کے جابر حکمران جالوت کو شکست دی اور یہ علاقہ آزاد کرایا۔ ان دونوں جنگوں کا تذکرہ قرآن کریم میں موجود ہے۔

حضرت داؤد علیہ السلام نے حضرت طالوتؒ کے جانشین کی حیثیت سے اس نئی مملکت کی حکومت سنبھالی جسے اسرائیل کا نام دیا گیا اور یہ سلطنت حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور میں اپنے عروج تک پہنچی۔ آج کے یہودی حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور کی اس وسیع سلطنت کو اپنا ہدف اور حق قرار دیتے ہوئے اس کی سرحدوں تک موجود اسرائیل کو وسیع کرنے کا دعویٰ رکھتے ہیں۔

حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس شہر میں ’’ہیکل سلیمانی‘‘ تعمیر کیا جو بنی اسرائیل کا قبلہ بنا اور وہ دور اس مقدس شہر کے عروج اور کمال کا دور تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے پانچ صدیاں قبل بابل کے حکمران بخت نصر نے حملہ کر کے اس مقدس شہر کو تاراج کر دیا، ہیکل سلیمانی کو جلا کر راکھ کر دیا، لاکھوں یہودیوں کو قتل کر دیا، پورے شہر کو ملیامیٹ کر دیا اور باقی ماندہ یہودیوں کو جو لاکھوں کی تعداد میں بتائے جاتے ہیں اپنے ساتھ قیدی بنا کر بابل لے گیا۔

ایک عرصہ ویران رہنے کے بعد بیت المقدس دوبارہ آباد ہوا اور ہیکل سلیمانی کی تعمیر پھر سے کی گئی، اس کے بعد اس شہر کے ایک بزرگ خاندان ’’آل عمران‘‘ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی قدرت کاملہ سے بغیر باپ کے پیدا کیا اور ان پر انجیل اتاری۔ یہ دور حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کا دور ہے جب بیت المقدس کی تولیت ان بزرگوں کے پاس تھی مگر اس پر رومی حکمرانوں کا اقتدار قائم تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف سازش کر کے یہودیوں نے انہیں رومی حکومت کے ہاتھوں پھانسی دلوانا چاہی مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ آسمانوں پر اٹھا لیا۔ ان کے رفع آسمانی کے کچھ عرصہ بعد جب رومیوں نے عیسائیت قبول کر لی تو طیطس رومی نامی مسیحی حکمران نے بیت المقدس پر حملہ کر کے وہاں سے یہودیوں کو نکال دیا، ہیکل سلیمانی کو جلا کر راکھ کر دیا اور یہودیوں کے وہاں رہائش رکھنے پر پابندی لگا دی۔ طیطس رومی کے اس حملہ اور یروشلم سے یہودیوں کے اخراج کے بعد یہ مقدس شہر ان کے ہاتھ سے نکل کر عیسائیوں کے قبضے میں چلا گیا اور دو ہزار سال سے زائد عرصہ تک انہیں دوبارہ اس شہر میں رہنا نصیب نہیں ہوا۔

امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ’’بیت المقدس‘‘ مسلمانوں کی تحویل میں آیا اور حضرت عمرؓ نے خود وہاں تشریف لے جا کر اس کا کنٹرول سنبھالا۔ اس سے قبل جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم معراج کے سفر میں وہاں تشریف لا کر حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی امامت فرما چکے تھے اور ہجرت مدینہ کے بعد مسلمان کم و بیش سترہ ماہ بیت المقدس کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھتے رہے تھے جس کی وجہ سے بیت المقدس مسلمانوں کا قبلۂ اول کہلاتا ہے اور ان دو حیثیتوں سے مسلمانوں کی عقیدت و محبت اس شہر سے وابستہ چلی آرہی ہے۔

تاریخی روایات کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس مقام پر جو صخرہ کہلاتا ہے اور وہاں معراج کی رات جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری باندھی گئی تھی، وہاں نماز ادا کی اور مسجد بنانے کی ہدایت کی۔ اسی پر وہ تاریخی قبہ ہے جو ’’ قبۃ الصخرۃ‘‘ کے نام سے معروف ہے، خلیفہ عبد الملک بن مروانؒ کے زمانے میں وہاں مسجد تعمیر کی گئی۔

بیت المقدس پر اس وقت اپنے تاریخی پس منظر کے حوالہ سے تین قوموں کا دعویٰ ہے۔ مسلمانوں کا اس وجہ سے کہ وہ ان کا قبلۂ اول ہے، سفر معراج میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام امامت ہے اور کم و بیش بارہ سو سال ان کی تحویل اور تولیت میں رہا ہے۔ یہودیوں کا اس حوالہ سے کہ ان کے بقول وہاں ان کا وہ ہیکل سلیمانی ہے جو طیطس رومی نے ویران کر دیا تھا، وہ ان کا قبلہ ہے اور یہودی اسے دوبارہ تعمیر کرنے کا زعم رکھتے ہیں، جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے ولادت ہونے کے باعث ’’بیت اللحم‘‘ عیسائیوں کا قبلہ اور متبرک مقام ہے جو بیت المقدس سے تقریباً پانچ میل کے فاصلے پر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مرزا بہاء اللہ شیرازی کے پیروکار بہائیوں کا قبلہ بھی فلسطین میں ہے جو عُکّہ کہلاتا ہے اور فلسطین کا مشہور شہر ہے۔

چونکہ بیت المقدس کو عیسائیوں سے مسلمانوں نے حاصل کیا تھا اس لیے اس کے قبضہ و کنٹرول کے بارے میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان شدید مخاصمت رہی ہے۔ صلیبی جنگوں کے دوران یورپ کی متحدہ فوجوں نے گیارہویں صدی عیسوی کے آخر میں بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تھا جو کم و بیش نوے سال رہا اور سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے مسلسل معرکوں کے بعد اسے عیسائیوں کے قبضے سے آزاد کرایا۔ بیت المقدس فلسطین کا دارالحکومت تھا جو درمیان کے مذکورہ نوے برس کے عرصہ کے علاوہ حضرت عمرؓ کے دور سے مسلمانوں کے پاس ہی رہا ہے، حتیٰ کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد برطانیہ نے دسمبر ۱۹۱۷ء میں اس پر قبضہ کر کے اس پر اپنا اقتدار قائم کر لیا۔

اس سے قبل فلسطین خلافت عثمانیہ کا صوبہ تھا، پہلی جنگ عظیم میں خلافت عثمانیہ نے جرمنی کا ساتھ دیا تھا اس لیے جرمنی کی شکست کے ساتھ ہی خلافت عثمانیہ بھی شکست و ریخت کا شکار ہوگئی تھی اور اس بندر بانٹ میں فلسطین پر برطانیہ کا قبضہ عالمی سطح پر تسلیم کر لیا گیا۔ ’’گاڈ فرے ڈی بولون‘‘ نامی انگریز کمشنر نے ۱۰ دسمبر ۱۹۱۷ء کو فلسطین کا اقتدار سنبھالا اور ۱۵ مئی ۱۹۴۸ء تک فلسطین پر برطانیہ کا قبضہ رہا۔ خلافت عثمانیہ نے یہودیوں کو ویزے پر بیت المقدس آنے اور اپنے مقدس مقامات کی زیارت اور وہاں عبادت کی آزادی دے رکھی تھی مگر انہیں فلسطین میں زمین خریدنے، کاروبار کرنے اور رہائش اختیار کرنے کا حق قانونی طور پر حاصل نہیں تھا۔

اس دوران یہودیوں نے عالمی سطح پر ’’صہیونیت‘‘ کے عنوان سے ایک تحریک کا آغاز کیا۔ صہیون بیت المقدس کا ایک پہاڑ ہے جو یہودیوں کے ہاں بہت متبرک سمجھا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس پہاڑی پر حضرت داؤد علیہ السلام کی عبادت گاہ تھی۔ اس پہاڑ کے تقدس کو عنوان بنا کر یہودیوں نے تحریک شروع کی جس میں فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن قرار دے کر اسے واپس لینے کا عزم کیا گیا تھا۔ صہیونی تحریکوں کے لیڈروں نے اس وقت کے عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمید دوم مرحوم سے درخواست کی کہ یہودیوں کو فلسطین میں آباد ہونے کا حق دیا جائے۔ سلطان نے اس سے انکار کر دیا، انہیں بیش بہا مالی مراعات کی پیش کش کی جو انہوں نے قبول نہیں کیں۔ سلطان عبد الحمید دوم نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ انہیں معلوم تھا کہ یہودی صرف فلسطین میں آباد ہونے کا حق نہیں مانگ رہے بلکہ اس کی آڑ میں بیت المقدس پر قبضہ کرنے کا پروگرام رکھتے ہیں، اس لیے ان کی ملّی غیرت نے گوارا نہیں کیا کہ وہ یہودیوں کو اس بات کا موقع فراہم کریں۔ اس وجہ سے سلطان عبد الحمید دوم یہودیوں کے غیظ و غضب کا نشانہ بنے اور ان کے خلاف وہ تحریک چلی جس کے نتیجے میں وہ خلافت سے محروم ہو کر نظر بندی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوگئے اور اسی نظر بندی میں ان کا انتقال ہوا۔

اس موقع پر برطانیہ کے وزیر خارجہ بالفور نے اعلان کیا کہ وہ فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن تسلیم کرتے ہیں اور موقع ملنے پر انہیں وہاں آباد ہونے کی سہولت فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔ اسے اعلان بالفور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے عوض یہودیوں نے پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کے مالی نقصانات کی تلافی کرنے کا وعدہ کا تھا اور ان مالی مفادات کے باعث برطانیہ اور اس کے ساتھی ممالک نے فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

چنانچہ جب فلسطین برطانیہ کے قبضے میں گیا تو وہ قانون منسوخ کر دیا گیا جس کے تحت یہودیوں کو فلسطین میں زمین خریدنے اور سکونت اختیار کرنے سے روکا گیا تھا۔ اس کے بعد دنیا بھر سے یہودی وہاں آنا شروع ہوگئے اور فلسطین میں زمینیں اور مکانات خرید کر انہوں نے آباد ہونے کا آغاز کر دیا۔

اس موقع پر مفتی اعظم فلسطین الحاج سید امین الحسینیؒ نے فتویٰ جاری کیا کہ چونکہ یہودی بیت المقدس میں آباد ہو کر بیت المقدس پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اس لیے فلسطین کی زمین یہودیوں پر فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں۔ برصغیر کے اکابر علماء کرام نے بھی جن میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ اور مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ شامل ہیں اس فتویٰ کی تائید کی۔ مگر اس فتویٰ کے باوجود فلسطین میں یہودیوں پر زمینوں اور مکانات کی فروخت نہیں رکی۔ صرف اتنا ہوا کہ زمینوں کی قیمتیں بڑھ گئیں اور یہودیوں نے جو دنیا کے مختلف ممالک سے وہاں مسلسل آرہے تھے دُگنی چوگنی قیمتوں پر فلسطین کا ایک بڑا حصہ خرید لیا۔

۱۹۱۸ء سے ۱۹۴۸ء تک برطانیہ نے فلسطین میں یہودیوں کی آمد اور آبادی کی سرپرستی کرکے ’’اعلان بالفور‘‘ کے ذریعہ کیا گیا وعدہ پورا کیا اور جب دیکھا کہ فلسطین کا ایک بڑا حصہ یہودی خرید چکے ہیں تو ۱۵ مئی ۱۹۴۸ء کو فلسطین کا علاقہ یہودیوں اور فلسطینیوں کے درمیان تقسیم کرنے کا اعلان کر کے برطانیہ وہاں سے چلا گیا۔ اس کے بعد فلسطینیوں اور یہودیوں کے درمیان جنگوں اور جھڑپوں کا وسیع سلسلہ چل نکلا۔ یہودیوں نے اپنے لیے برطانیہ کی طرف سے مخصوص کردہ علاقے میں اسرائیل کے نام سے نئی سلطنت قائم کرنے کا اعلان کر دیا جسے امریکہ اور روس سمیت عالمی طاقتوں نے تسلیم کر لیا اور اقوام متحدہ نے بھی اسرائیل اور فلسطین کے درمیان حد بندی کر کے اسرائیل کو ایک آزاد ریاست قرار دینے کا اعلان کر دیا۔

اس کشمکش میں یہودیوں نے اچھے خاصے علاقے پر قبضہ کیا مگر بیت المقدس کا مشرقی حصہ جس میں بیت المقدس کا مقدس احاطہ ہے، اردن کے پاس رہا اور اس پر اس کا انتظامی حق تسلیم کر لیا گیا۔ ۱۹۶۷ء کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل نے (مصر، شام اور اردن کے دیگر علاقوں کے ساتھ) یروشلم کے مشرقی حصے اور مسجد اقصیٰ پر بھی قبضہ کر لیا اور اس وقت سے یہ علاقہ اسرائیل کے قبضے میں ہے۔

اس کے بعد سے فلسطین اور بیت المقدس کے بارے میں عالمی سطح پر مسلمانوں کے دو موقف پائے جاتے ہیں۔ ایک موقف پاکستان، سعودی عرب اور بعض دیگر ممالک کا ہے کہ وہ سرے سے فلسطین کی تقسیم کو ہی تسلیم نہیں کرتے اور نہ ہی اسرائیل کو ایک قانونی ریاست کا درجہ دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک فلسطین ایک اکائی ہے اور اس پر صرف فلسطینیوں کا حق ہے۔ دوسرا موقف مصر، شام اور اسرائیل کو تسلیم کر لینے والے بعض ممالک کا ہے کہ وہ اسرائیل کو اقوام متحدہ کی تقسیم اور فیصلے کے مطابق ایک آزاد ریاست تسلیم کرتے ہیں لیکن ان کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل اقوام متحدہ کے طے کردہ نقشے کے مطابق ۱۹۶۷ء کی جنگ سے پہلے کی سرحدوں کی طرف واپس جائے، بیت المقدس کا قبضہ چھوڑ دے اور فلسطینیوں کی ان کے علاقے میں آزاد ریاست کو تسلیم کرے۔

اسرائیل نے اس دوران مسلسل کوشش کی ہے کہ بیت المقدس پر اس کے قبضے کو جائز تسلیم کیا جائے اور یروشلم کو غیر متنازعہ شہر قرار دے کر اسرائیل میں شامل قرار دیا جائے لیکن عالمی رائے عامہ اس کے اس موقف کو قبول نہیں کر رہی۔ ۱۹۹۵ء میں جب اسرائیل نے یروشلم کو اپنا دارالحکومت قرار دیا تو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ۵ دسمبر ۱۹۹۵ء کو بھاری اکثریت کے ساتھ قرار داد منظور کر کے اسرائیل کے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دے دیا اور واضح طور پر کہا کہ یروشلم کی حیثیت ایک متنازعہ شہر کی ہے اور باقاعدہ فیصلہ ہونے تک یہ متنازعہ شہر ہی رہے گا۔

اسی سلسلہ میں سابق امریکی صدر بُش کے دورِ حکومت میں ایک قانون جاری کیا گیا کہ یروشلم میں پیدا ہونے والے امریکی شہری کی جائے پیدائش اس کے پاسپورٹ میں یروشلم لکھی جا سکتی ہے جس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ امریکہ کے نزدیک یروشلم متنازعہ شہر نہیں ہے۔ لیکن خود امریکہ کی وفاقی اپیل کورٹ نے اس قانون کو مسترد کر دیا ہے اور یروشلم کی متنازعہ حیثیت برقرار رکھنے کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔

اس پس منظر میں امریکہ کی وفاقی اپیل کورٹ کا یہ فیصلہ خوش آئند ہے جس کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے، لیکن صرف اتنا کافی نہیں ہے بلکہ فلسطینیوں کو جو دنیا بھر میں لاکھوں کی تعداد میں پناہ گزین ہیں اور مہاجر ہیں، ان کا وطن واپس دلانے اور بیت المقدس کو اسرائیل کے ناجائز تسلط سے آزاد کرانے کے لیے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کو سنجیدگی کے ساتھ کوئی ٹھوس لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے کہ ہمارا ملی فریضہ بہرحال یہی بنتا ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter