پاپائے روم کی ایک اچھی اپیل کی حمایت

   
دسمبر ۲۰۱۹ء

روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۲۵ نومبر ۲۰۱۹ء کو شائع ہونے والی یہ خبر ملاحظہ فرمائیے:

’’کیتھولک مسیحی برادری کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے جاپان کے شہر ناگاساکی میں خطاب کرتے ہوئے عالمی برادری سے ایٹمی ہتھیار تلف کرنے کی اپیل کی ہے۔ پوپ فرانسیس نے ایٹم بم ہائیووسنٹر پارک (وہ مقام جہاں پر ایٹم بم گرایا گیا تھا) خطاب کرتے ہوئے ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدوں کے خاتمے پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری دنیا میں ایک قابل نفرت تفریق پائی جاتی ہے جس میں خوف اور عدم اعتماد کے ذریعہ تحفظ کے جھوٹے احساس کو فروغ دے کر استحکام اور امن کو یقینی بنانے کا دفاع کیا جاتا ہے۔ پوپ نے کہا کہ باہمی تباہی یا انسانیت کے مکمل خاتمے کا خوف، امن اور بین الاقوامی استحکام آپس میں مطابقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے ایٹمی ہتھیاروں پر مکمل پابندی کے ۲۰۱۷ء کے معاہدے کے لیے اپنی حمایت کا ایک بار پھر اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایٹمی حملے کے تباہ کن انسانی اور ماحولیاتی اثرات جھیلنے والے اس شہر میں ہتھیاروں کی دوڑ کے خلاف ہم چاہے جتنا بھی بولیں وہ کم ہے، ایک ایسی دنیا جہاں کروڑوں بچے اور خاندان غیر انسانی حالات میں رہتے ہیں وہاں تباہ کن اسلحے کی تیاری، اپ گریڈ، مرمت اور فروخت پر پیسے ضائع کرنا اور اس سے دولت کمانا خدا کے غصے کو دعوت دینا ہے۔‘‘

پاپائے روم پوپ فرانسس دنیائے مسیحیت کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا ہیں، انہوں نے ایٹمی اسلحے کی تیاری اور فروخت پر مکمل پابندی کی جو اپیل کی ہے ہم اس کی حمایت کرتے ہوئے یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اس وقت انسانی معاشرہ میں تباہی، بربادی، لوٹ مار اور دہشت گردی کے جتنے اسباب و عوامل اور ساز و سامان دکھائی دے رہے ہیں وہ دراصل خدا کی تعلیمات سے روگردانی کا نتیجہ ہیں کہ انسانوں نے آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کو لپیٹ کر ایک طرف رکھ دیا ہے اور سوسائٹی کی خواہش اور سوچ کو حاکم کا درجہ دے رکھا ہے جس کا منطقی نتیجہ یہی ہونا تھا کہ حرص، لالچ، حسد، بغض، نفرت اور عداوت کے منفی جذبات و احساسات نے انسانی مزاج و نفسیات پر غلبہ حاصل کر کے اسے اپنی راہ پر لگا لیا ہے، اور خدائی احکامات کے کنٹرول سے آزاد عقل و دانش انسانی افراد و طبقات اور معاشروں کے منفی رویوں کے لیے جواز کے دلائل فراہم کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں کر پا رہی۔

جنگوں کے حوالہ سے ہی دیکھ لیجئے کہ جن جنگوں میں آسمانی تعلیمات اور حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے ارشادات کو سامنے رکھا گیا ہے، تاریخ ان کا کیا نقشہ پیش کرتی ہے اور جو جنگیں آسمانی تعلیمات سے آزاد ہو کر افراد، گروہوں اور طبقات کی طے کردہ ترجیحات کے دائرے میں لڑی گئی ہیں ان کا منظر کیا دکھائی دیتا ہے۔ جنگیں تو بوقت ضرورت حضرات انبیاء کرام علیہم السلام نے بھی لڑی ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات تاریخ کا ایک محفوظ ریکارڈ ہیں۔ رسول اکرمؐ نے جنگ کے جو اصول پیش کیے اور جنگی اخلاقیات کا جو دائرہ قائم کر کے اس پر عمل کا نمونہ دنیا کو دکھایا اس کا ایک نمونہ آپؐ کے سب سے بڑے اور فیصلہ کن معرکہ ’’فتح مکہ‘‘ کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگی اخلاقیات کے جو ضابطے بیان فرمائے ہیں وہ آج بھی نسل انسانی کے لیے سب سے بڑا معیار اور روشنی کا مینار ہیں۔

جبکہ سائنس اور ٹیکنالوجی نے ترقی کے نام پر نسل انسانی کو جن تباہ کن جنگی ہتھیاروں اور مقاصد و اسالیب سے روشناس کرایا ہے ان کے تصور سے ہی انسان کی روح کانپ جاتی ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کو ہی لے لیجئے ابھی تک ان کا صرف ایک بار دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی میں استعمال ہوا تھا اور انہی میں سے ایک شہر میں کھڑے ہو کر پاپائے روم نے ایٹمی ہتھیاروں کو تلف کر دینے کی بات کی ہے۔ دوسری دفعہ استعمال کرنے کا کسی کو حوصلہ نہیں ہو رہا مگر ایٹم بم جس مقدار میں تیار کر لیے گئے ہیں ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ موجودہ دنیا کو کئی بار مکمل طور پر تباہی سے دوچار کر دینے کے لیے وہ کافی ہیں۔ ایٹم بم کی تیاری کو ہر سطح پر نفرت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور اس کا خوف دنیا میں ہر جگہ محسوس کیا جا رہا ہے مگر ایٹم بم تیار کرنے والوں کو صرف اپنی اجارہ داری اور کمائی سے غرض ہے اور وہ اپنی اس ہوس کو پورا کرنے کے لیے تباہی کے ایسے اسباب کے جگہ جگہ ڈھیر لگا دینے کے درپے ہیں حتیٰ کہ ایٹمی پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے جو رسمی سے معاہدے دکھاوے کے لیے کئے گئے تھے ان سے پیچھا چھڑانے کا اہتمام بھی کر لیا گیا ہے۔

ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا ایک پہلو یہ ہے کہ یہ مکمل تباہی کا ہتھیار ہے جس کے استعمال سے جہاں انسانی آبادی ہمہ نوع بربادی سے دوچار ہوتی ہے وہاں انسانی اقدار و اخلاقیات کا بھی جنازہ اٹھ جاتا ہے، جبکہ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس ہتھیار کے جائز یا ناجائز ہونے سے قطع نظر چند ممالک اس کی تیاری پر اپنی اجارہ داری کو برقرار رکھنے پر مصر ہیں تاکہ پوری دنیا پر ان کی چودھراہٹ اور تسلط قائم رہے تاکہ ان کی لوٹ کھسوٹ کی راہ میں کوئی مزاحم نہ ہو سکے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پوپ فرانسس کی اس اپیل کی حمایت کی جائے اور ایٹمی ہتھیاروں کے مکمل خاتمہ کی آواز کو بلند سے بلند تر کرنے کا ماحول قائم کیا جائے۔

اس کے ساتھ ہی ہم دنیائے اسلام کے اصحاب فکر و دانش سے یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ آسمانی تعلیمات کی عملداری سے بے نیاز انسانی معاشرہ کو سیکولر دانش نے جس رُخ پر ڈال دیا تھا اس کے منفی اثرات دن بدن ظاہر ہوتے جا رہے ہیں جیسا کہ خاندانی نظام کی بربادی، سودی معیشت کی تباہ کاری اور تہذیبی و فکری انارکی کے مسلسل فروغ کے ساتھ ساتھ اب ایٹمی ٹیکنالوجی کے منفی اثرات پر بھی گفتگو چل پڑی ہے۔ اس لیے وقت آگیا ہے کہ انسانی سماج پر وحی الٰہی سے آزاد فکر و فلسفہ کے تسلط کے منفی اثرات و نتائج کا جائزہ لے کر انہیں نسلِ انسانی کے سامنے واضح کیا جائے اور نتائج و ثمرات کے حوالہ سے اس سیکولر فلسفہ و فکر کی ناکامی کی نشاندہی کرتے ہوئے ایک بار پھر وحی الٰہی کی دعوت کو پیش کیا جائے اور دلیل و منطق کے ساتھ نسل انسانی کو سمجھایا جائے کہ آج بھی انسانی معاشرہ کے لیے وہی احکام و قوانین فلاح و ترقی کا باعث بن سکتے ہیں جو انسان کو پیدا کرنے والے خدا نے اپنے رسولوں کے ذریعہ اسے بھجوائے ہیں۔

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں ارشاد فرمایا ہے کہ آج کے دور میں اسلام کے اعجاز اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نمایاں معجزہ کے اظہار کی سب سے بڑی صورت یہ ہے کہ انسانی معاشرہ کے لیے اسلامی احکام و قوانین کی افادیت و ضرورت کو واضح کیا جائے اور بتایا جائے کہ انسانوں کے بنائے ہوئے نظاموں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو انسانی سماج کی کامیابی، ترقی اور فلاح و نجات میں اسلامی احکام کی کوئی مثال پیش کر سکے۔

موجودہ فکر و فلسفہ کی ناکامیاں تو ایک ایک کر کے سامنے آرہی ہیں لیکن کیا ہم ان ناکامیوں کو سامنے لا کر اسلامی نظام کی خوبیوں کو دنیا کے علم میں لانے اور سمجھانے کے لیے کوئی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہیں؟

صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے
   
2016ء سے
Flag Counter