دینی کارکنوں کے بعض خدشات و تحفظات

   
۲ جون ۲۰۲۰ء

رمضان المبارک کے بعد ۳۰ مئی کو پہلی بار لاہور جانے کا اتفاق ہوا، جمعیۃ علماء اسلام پاکستان (س) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف فاروقی نے مجلس احرار اسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل حاجی عبد اللطیف چیمہ اور راقم الحروف کو خصوصی مشاورت کے لیے مسجد خضراء آنے کی دعوت دی اور ہم نے ملکی، قومی اور وبائی مسائل پر تفصیل کے ساتھ باہمی تبادلۂ خیالات کیا۔ ملی مجلس شرعی پاکستان کے سیکرٹری جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد امین سے بہت سے متعلقہ امور پر بات چیت ہوئی اور اس کے بعد مکی مسجد ملتان روڈ لاہور میں پاکستان شریعت کونسل کے صوبائی امیر مولانا قاری جمیل الرحمان اختر اور دیگر راہنماؤں مولانا قاری محمد رمضان، قاری محمد عثمان رمضان اور ان کے رفقاء سے تبادلہ خیالات کا موقع ملا، جبکہ جمعیۃ علماء اسلام کے راہنما جناب بلال میر بھی وہیں تشریف لے آئے اور کافی دیر گفتگو میں شریک رہے۔

ان دنوں جو مسائل دینی حلقوں میں عام طور پر زیربحث ہیں کم و بیش وہ سبھی گفتگو کا حصہ تھے، چنانچہ اس بات چیت کے نتیجے میں پیش آمدہ امور کے حوالہ سے درپیش کچھ خدشات و تحفظات کو سامنے لانا ضروری محسوس ہو رہا ہے جو ملک بھر کے دینی کارکنوں کے ذہنوں میں اس وقت موجود ہیں اور وہ ان کے بارے میں جاننے اور انہیں دور کرنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔

سب سے بڑا مسئلہ تو دینی مدارس کے تعلیمی سال کے آغاز کا ہے جو شوال میں شروع ہوتا ہے، مگر شوال کا ایک عشرہ گزر جانے کے باوجود اس کے بارے میں کوئی دوٹوک صورتحال سامنے نہیں آ رہی۔ ملک میں تعلیمی اداروں کے بارے میں سرکاری حلقوں کی طرف سے کہا جا رہا تھا کہ ۱۵ جولائی کے بعد ہی کھل سکیں گے مگر اب اگست کے آخر تک کی باتیں ہو رہی ہیں۔ جبکہ معروضی صورتحال یہ ہے کہ ریاستی تعلیمی اداروں میں تو جون جولائی ویسے ہی سالانہ تعطیلات کا عرصہ ہوتا ہے مگر چاند کے حوالہ سے یہ مہینے شوال اور ذی قعدہ کے بن رہے ہیں جو دینی مدارس کے تعلیمی سال کے آغاز کے مہینے ہوتے ہیں، اور اگست کے آخر تک کا مطلب یہ بنتا ہے کہ ذی الحجہ بھی اس کی لپیٹ میں آ رہا ہے، اس لیے تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔

دینی کارکنوں کا اب تک کے تجربہ و مشاہدہ کی بنیاد پر یہ تاثر بھی پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ کرونا کی وبا اور بحران کی سنگینی اپنی جگہ مسلّمہ ہے مگر اسے جس طرح مسجد و مدرسہ کی رونقیں کم کرنے اور مذہبی سرگرمیوں کو محدود تر کر دینے کے لیے بعض حلقوں کی طرف سے استعمال کیا جا رہا ہے، وہ بجائے خود ایک سنگین مسئلہ ہے۔ جسے کسی صورت میں نہ تو قبول کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی مذہب اور مذہبی تعلیم و عبادات کے حوالہ سے عالمی سیکولر لابیوں کے منفی ایجنڈے سے الگ کیا جا سکتا ہے۔ یہ صورتحال کسی بھی دینی کارکن کے لیے اضطراب اور بے چینی کا باعث ہے اور اس کے بارے میں ریاستی اداروں اور دینی قیادتوں کو جلد یا بدیر اسی طرح کا کوئی حل نکالنا پڑے گا جیسا کہ رمضان المبارک کے دوران مساجد کو کھلا رکھنے اور نماز و تراویح مساجد میں ادا کرنے کے بارے میں ایوان صدر کے بروقت کردار کے باعث سب کے لیے قابل قبول حل نکل آیا تھا۔ ہمارا خیال ہے کہ اب بھی کسی اسٹیک ہولڈر بالخصوص چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کو ہی یہ کردار اختیار کرنا ہوگا ورنہ دینی تعلیم کو نقصان پہنچنے کے ساتھ بلکہ اس سے بھی زیادہ باہمی بے اعتمادی میں اضافہ کو نہیں روکا جا سکے گا، جس کے قومی و معاشرتی نقصانات کا ابھی سے اندازہ کر لینا چاہیے، اس لیے کہ دین نہ صرف ریاست کی بنیاد ہے بلکہ معاشرت کی اساس بھی ہے جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

دوسرا مسئلہ ملک میں سنی شیعہ کشیدگی کے ماحول میں مسلسل اضافے کا ہے جس میں رمضان المبارک کے دوران سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے یوم شہادت کے موقع پر ایک فرقہ کے عوامی جلوسوں کے حوالہ سے سرکاری اداروں کی پالیسی میں کھلے تضاد اور جانبداری نے اضافہ کیا ہے۔ اور اب بہت سے دیگر واقعات کے علاوہ شام میں امیر المومنین عمر ثانی حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کی قبر کی بے حرمتی کے شرمناک سانحہ نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ عام دینی کارکن ایک طرف یہ دیکھ رہا ہے کہ مشرق وسطٰی کے بہت سے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی سنی شیعہ تصادم کا ماحول پیدا کرنا اور فرقہ وارانہ خانہ جنگی کی راہ ہموار کرنا اسرائیل اور اس کی سرپرست عالمی طاقتوں کا ایجنڈا ہے مگر دوسری طرف ملک میں فرقہ وارانہ معاملات میں ریاستی اداروں میں گھات لگائے ہوئے کچھ لوگوں کی منصوبہ بندی بھی اب کوئی خفیہ بات نہیں رہی۔ ان حالات میں دینی کارکن بلکہ ملک کا عام شہری اس اضطراب اور بے چینی سے نجات حاصل کرنے کے لیے دینی قیادتوں کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں کے ذمہ دار حضرات سے ہی کسی مثبت اور مؤثر کردار کی توقع کر سکتا ہے، خدا کرے کہ اس کی کوئی صورت نکل آئے۔

تیسرا مسئلہ قادیانیوں کو قومی اقلیتی کمیشن میں شامل نہ کرنے کے بارے میں وفاقی حکومت کے مستحسن فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیے جانے کا ہے، جس کی کوئی معقول وجہ کسی بھی باشعور کارکن کو سمجھ نہیں آ رہی، بلکہ اسے تلاش کرنے کے لیے بہت سے لوگ پس پردہ عوامل کی کھوج لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ البتہ اس سلسلہ میں مجلس احرار اسلام پاکستان کے اس فیصلے نے اطمینان کی ایک صورت پیدا کر دی ہے کہ وہ اس کیس میں باقاعدہ فریق بننے کی تیاری کر رہی ہے، اور ان کی طرف سے اس بروقت اعلان نے بہت سے خدشات کو بریک لگا دی ہے اور کچھ اطمینان ہونے لگا ہے کہ یہ کیس خدانخواستہ کوئی غلط رخ اختیار نہیں کر سکے گا، ان شاء اللہ تعالٰی۔

اس مشاورت اور گفتگو کے دوران حضرت مولانا سعید احمد پالنپوری، حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود، مولانا عبید الرحمان ضیاء، مولانا قاری سعید الرحمان تنویر، مولانا شاہ عبد العزیز، مولانا یحیٰی محسن ہزاروی اور دیگر سرکردہ علماء کرام رحمہم اللہ تعالٰی کی اس دوران وفات پر گہرے صدمہ کے اظہار اور ان کے سب کے لیے دعائے مغفرت کے ساتھ یہ معلوم کر کے اطمینان ہوا کہ تذکرۂ اسلاف کونسل نے ۲۱ جون اتوار کو جامعہ اسلامیہ کامونکی میں حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمودؒ کی دینی و قومی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے مولانا عبد الرؤف فاروقی کی سربراہی میں ایک سیمینار منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ حضرت علامہ صاحبؒ کا ہم پر حق ہے کہ ہم ان کی علمی و دینی جدوجہد کے نقوش کو تازہ رکھیں اور نئی نسل کو ان سے واقف کرانے کی کوشش کریں، اللہ تعالٰی سب بزرگوں کے درجات جنت میں بلند سے بلند تر فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

نوٹ: گزشتہ کالم میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں امریکی تھنک ٹینک ’’رینڈ کارپوریشن‘‘ کی رپورٹ کا ذکر کیا تھا جس پر بعض دوستوں نے اس کا حوالہ مانگا ہے، یہ رپورٹ کارپوریشن کی ویب سائیٹ پر موجود ہے جس کا لنک یہ ہے۔ میرے خیال میں دینی جدوجہد کرنے والے ہر راہنما اور کارکن بالخصوص علمی و فکری کام کرنے والے حضرات کو اس کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔

https://www.rand.org/pubs/monograph_reports/MR1716.html

   
2016ء سے
Flag Counter