سیرۃ النبیؐ اور قیدیوں کے حقوق

   
تاریخ بیان: 
فروری ۲۰۱۸ء

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ آج ہماری نشست کا موضوع ہے ’’سیرۃ النبیؐ اور قیدیوں کے حقوق‘‘ کہ حضورؐ قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا کرتے تھے۔ قیدی اس زمانے میں مختلف قسموں کے ہوتے تھے۔ ایک تو جنگی قیدی ہوتے تھے۔ جنگی قیدیوں کے بارے میں قرآن کریم نے مختلف صورتیں بیان فرمائی ہیں اور حضورؐ نے بھی ان کے بارے میں وہ صورتیں اختیار کی تھیں۔ مثلاً قرآن کریم میں جنگی قیدیوں کے بارے میں ارشاد خداوندی ہے ’’فامّا منا بعد وامّا فداءً حتٰی تضع الحرب اوزارھا‘‘ (سورہ محمد ۴)۔ جنگی قیدیوں کے بارے میں چار پانچ آپشن ہوتے تھے (۱) قتل کر دیتے تھے (۲) ویسے چھوڑ دیتے تھے (۳) فدیہ لے کر چھوڑ دیتے تھے (۴) قیدیوں کا تبادلہ کر لیتے تھے (۵) یا غلام بنا لیتے تھے۔ حالات کے تحت جو مناسب ہوتا آپؐ ان سے معاملہ فرماتے۔

سب سے پہلے یہ مسئلہ بدر کے موقع پر پیش آیا تھا، اس وقت حضورؐ نے مشورہ کیا کہ کیا کرنا چاہیے؟ آپؐ کا معمول یہ تھا کہ جس معاملے میں وحی نہیں آتی تھی آپ صحابہؓ سے مشورہ لیا کرتے تھے۔ حضرت عمرؓ کا مشورہ قتل کرنے کا تھا کہ اس دور میں جنگی قیدیوں کو قتل کرنے کا رواج بھی تھا۔ حضرت ابوبکرؓ کی رائے یہ تھی کہ انہیں قتل نہیں کرنا چاہیے بلکہ فدیہ لے کر چھوڑ دینا چاہیے، ایک تو ہمیں ان کے فدیہ سے کچھ فائدہ ہو جائے گا اور دوسرے ان پر احسان ہو جائے گا، ہو سکتا ہے بعد میں مسلمان ہو جائیں۔ چنانچہ ان میں سے اکثر مسلمان ہو گئے تھے۔ آپؐ نے حضرت صدیق کی رائے کے مطابق فدیہ لے کر چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اللہ تعالٰی نے اس فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کیا کہ ایسے کیوں کیا؟ عمرؓ کی رائے ٹھیک تھی، اب فیصلہ ہو گیا ہے تو ٹھیک ہے لیکن ایسا کرنا نہیں چاہیے تھا۔ فرمایا ’’ما کان لنبی ان یکون لہ اسرٰی حتی یثخن فی الارض تریدون عرض الدنیا واللہ یرید الاخرۃ‘‘ (سورہ الانفال ۷۵)۔ اس لہجے میں بات اللہ تعالٰی ہی کر سکتے ہیں، فرمایا کہ دنیا کے چند پیسوں کے لیے قیدی چھوڑ دیے، عمرؓ کی بات کیوں نہیں مانی؟ اللہ تعالٰی نے تنبیہ کی کہ ان کو قتل کرنا چاہیے تھا۔

حنین کے موقع پر جنگی قیدیوں کو ویسے ہی چھوڑ دیا گیا۔ حنین کی جنگ میں بنو ہوازن کو شکست ہوئی تھی، بہت سے قیدی اور مال غنیمت میں ملا۔ آپؐ نے قیدی اور مال غنیمت فورًا تقسیم نہیں کیے بلکہ انتظار کرتے رہے کہ اگر بنو ہوازن والے ایمان لے آتے ہیں تو ان کو قیدی اور مال واپس کر دیں گے۔ سترہ دن انتظار کرتے رہے، وہ نہیں آئے تو حضورؐ نے قیدی اور مال و دولت، سونا چاندی وغیرہ تقسیم کر دیا۔ تقسیم کر دینے کے اگلے دن بنو ہوازن کا وفد آیا اور کہا یارسول اللہ! ہم توبہ کرنے اور ایمان قبول کرنے آئے ہیں ۔مہربانی کر کے ہمارے قیدی اور ہمارا مال ہمیں واپس کر دیں۔ آپؐ نے فرمایا، میں نے سترہ دن تمہارا انتظار کیا تم نہیں آئے تو اب میں نے تقسیم کر دیے ہیں` تقسیم سے پہلے اختیار میرا تھا، تقسیم کے بعد جن کی ملکیت ہو چکی ہے اختیار ان کا ہے۔ اب ان سے پوچھنا پڑے گا کہ واپس کرتے ہیں یا نہیں۔ لیکن تم آئے ہو تو تمہیں خالی واپس بھی نہیں بھیجتا، میں ان سے بات کرتا ہوں۔ تم ایک چیز اختیار کر لو، یا قیدی واپس لے لو یا مال واپس لے لو، دونوں چیزیں واپس نہیں ملیں گی ۔انہوں نے کہا اگر دونوں چیزیں واپس نہیں کرتے تو پھر ایسے کریں کہ ہمیں قیدی واپس کر دیں، مال واپس نہ کریں۔ آپؐ نے فرمایا جن کی وہ ملکیت ہو چکی ہے، میں ان سے پوچھوں گا۔ چنانچہ آپؐ نے لشکر اکٹھا کر لیا، بارہ ہزار کا لشکر تھا۔ فرمایا، یہ تمہارے بھائی توبہ کر کے ایمان قبول کرنے آئے ہیں، میں ان کا انتظار کرتا رہا ہوں، یہ وقت پر نہیں آئے، اب میں نے ان سے وعدہ کر لیا ہے کہ ایک چیز واپس کروں گا، ان کا کہنا ہے کہ قیدی واپس کر دیں، لیکن قیدی اب تمہاری ملکیت ہوچکے ہیں، تم قیدی خوشی سے واپس کر دو تو تمہاری مرضی اور اگر نہیں جی چاہتا تو واپس تو کر دو، میرے ذمے قرضہ رہا، اگلی جنگوں میں پہلے تمہارے قیدی ادا کروں گا پھر تقسیم کروں گا۔ لشکر سے آواز آئی یارسول اللہ! ہم راضی ہیں، خوشی سے واپس کرتے ہیں۔ حضورؐ نے فرمایا، اس طرح تمہاری رضا، عدم رضا کا صحیح پتہ نہیں چل سکتا کہ سارے راضی ہیں یا نہیں ہیں۔ اپنے خیموں میں جاؤ، تمہارے نمائندے رات کو تم سے بات کریں گے اور مجھے صبح بتائیں گے کہ کون راضی ہے اور کون راضی نہیں ہے، تب فیصلہ کروں گا۔ ساری رات مشورے چلتے رہے۔ صبح کو سب نمائندوں (عرفاء) نے عرض کیا یارسول اللہ! سب راضی ہیں، تب حضورؐ نے فیصلہ کیا اور ان قیدیوں کو غلاموں اور لونڈیوں کو بلا کسی معاوضہ کے واپس کر دیا۔

بنو مصطلق کے قیدیوں کو بھی ویسے ہی آزاد کر دیا گیا تھا۔ غزوہ مریسیع میں جنگی قیدی آئے تو ان کی آزادی کا سبب یہ بن گیا کہ حضورؐ نے اپنے حصے میں آنی والی باندی حضرت جویریہ بنت الحارثؓ جو کہ سردار کی بیٹی تھیں، کو آزاد کر کے ان سے نکاح فرما لیا تو صحابہ کرامؓ نے کہا، اب تو یہ خاندان حضورؐ کا سسرالی خاندان بن گیا ہے، اس لیے ہم سب کو آزاد کرتے ہیں، حضورؐ کے سسرال کو گرفتار رکھنا مناسب نہیں ہے، سب نے قیدی ویسے ہی چھوڑ دیے۔

آپؐ نے جنگی قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا ہے، اس پر ایک واقعہ نقل کرتا ہوں۔ ابوداؤد میں روایت ہے کہ کسی جنگ میں ایک بڑی خوبصورت لونڈی قیدی بن کر آ گئی، عرب کی خوبصورت ترین لڑکیوں میں سے تھی جو حضرت سلمہ بن الاکوعؓ کے حصے میں آئی۔ جناب نبی کریمؐ نے ان سے کہا کہ یہ لونڈی مجھے دے دیں، میں اس کے بدلے اور دے دوں گا۔ وہ حیران کہ لونڈی میرے حصے میں آئی ہے حضورؐ فرما رہے ہیں کہ مجھے دے دو، حضورؐ یہ کیوں مانگ رہے ہیں؟ بہرحال انہوں نے دے دی۔ آپؐ نے وہ لونڈی سنبھال کر رکھی، جس قبیلے کی وہ لڑکی تھی اس قبیلے کے پاس حضورؐ کے کافی سارے آدمی قید تھے، حضورؐ نے اس لونڈی کے ساتھ اپنے قیدیوں کا تبادلہ کروایا کہ ہمارے قیدی واپس کر دو اور اپنی لڑکی واپس لے لو، اب صحابہؓ کو سمجھ آئی کہ حضورؐ نے یہ لڑکی کیوں مانگی تھی۔

جنگی قیدیوں کے بارے میں حضورؐ کا یہ معمول رہا ہے۔ غزوۂ بدر کے قیدیوں میں حضورؐ کے داماد ابوالعاص بن ربیع تھے جو حضرت خدیجہؓ کے بھانجے تھے، حضرت خدیجہؓ ان کی خالہ بھی تھیں اور ساس بھی، حضرت زینبؓ کے خاوند تھے، قید ہو کر آ گئے تھے۔ بخاری شریف میں ان کا قصہ ہے کہ جب حضرت زینبؓ کو پتہ چلا کہ میرا خاوند گرفتار ہو گیا ہے اور فدیہ کا فیصلہ ہو گیا ہے، اور اس غریب کے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں ہے، تو انہوں نے اپنا ہار خفیہ طریقے سے بھجوایا کہ ابوالعاص کو یہ دے دو کہ فدیہ دے کر آزاد ہو جائے۔ اس وقت تک مسلمان اور غیرمسلموں کے نکاح قائم تھے، اس وقت حضرت زینبؓ مدینہ میں ابا جانؐ کے گھر پر تھیں۔ ابوالعاصؓ نے جب وہ ہار حضورؐ کو دیا تو آپؐ پہچان گئے کہ زینبؓ نے اپنا ہار اپنے خاوند کو چھڑانے کے لیے بھیجا ہے۔ ہار دراصل حضرت خدیجہؓ کا تھا جو انہوں نے اپنی بیٹی کو شادی کے موقع پر تحفہ میں دیا تھا ۔حضورؐ نے جب حضرت خدیجؓہ کا ہار دیکھا تو صحابہ کرامؓ سے ارشاد فرمایا کہ یہ بیٹی کے پاس ماں کی نشانی ہے، اگر اجازت ہو تو واپس کر دوں؟ حضورؐ ویسے سوال نہیں کیا کرتے تھے لیکن یہاں یہ بات کی، صحابہ کرامؓ نے کہا جیسے آپ کی رضا۔ چنانچہ وہ ہار حضرت زینبؓ کو واپس کر دیا گیا۔

ابوالعاص بن ربیع ایک اور موقع پر بھی قیدی بن کر آئے۔ حضورؐ کا معمول یہ تھا کہ قیدیوں کو مسجد کے ستون سے باندھ دیتے تھے، کوئی قید خانہ تو تھا نہیں۔ اس سے ایک مقصد تو یہ ہوتا تھا کہ ایک دو دن یہ ہمارا ماحول دیکھ لے، ہم اسے دیکھ لیں، پھر فیصلہ کریں گے کہ کیا کرنا ہے۔ چنانچہ ابوالعاص کو مسجد کے ستون سے باندھ دیا گیا۔ حضرت زینبؓ وہیں تھیں، ان کو علم ہوا کہ میرا خاوند پھر قیدی بن کر آ گیا ہے، ستون سے بندھا ہوا ہے اور صبح نماز کے بعد اس کے بارے میں فیصلہ ہونا ہے۔ حضورؐ نے اعلان یہ فرما رکھا تھا کہ کسی کافر کو عام آدمی بھی اگر پناہ دے دے تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ حضرت زینبؓ چپکے سے فجر کی نماز کے وقت آئیں، نماز ہو رہی تھی، انتظار میں دروازے پر کھڑی ہو گئیں، حضورؐ نماز کے بعد مقتدیوں کی طرف متوجہ ہوئے تو زینبؓ نے کہا، اس قیدی کو میں نے پناہ دے دی ہے۔ حضورؐ نے فرمایا، ’’قد اجرنا من اجرت‘‘ جسے تو نے پناہ دے دی ہے اسے ہم نے بھی پناہ دی۔ اس طرح ابوالعاص کو دوبارہ چھوڑ دیا گیا۔ دلیر اور بہادر آدمی تھے۔ دلیر آدمی دلیر ہی ہوتا ہے چاہے کفر میں ہو یا اسلام میں۔ جب ان کو چھوڑ دیا گیا تو یہ چپکے سے مکہ چلے گئے، مکہ جا کر حرم میں کھڑے ہو کر مشرکین مکہ کے سامنے اعلان کیا کہ میں ابوالعاص ہوں، میں قیدی تھا، اب آزاد ہو کر واپس آگیا ہوں، میں نے مسلمانوں کے اخلاق و عادات سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرنے کا فیصلہ وہیں کر لیا تھا لیکن میں یہ الزام اپنے سر نہیں لینا چاہتا تھا کہ قیدی بن کر اسلام قبول کیا ہے، میں تمہارے سامنے کھڑے ہو کر اعلان کر رہا ہوں ’’اشھد ان لا الٰہ الا اللہ واشھد ان محمدًا رسول اللہ‘‘ اور ساتھ یہ بھی کہا کہ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اب میں مدینے واپس جا رہا ہوں، جس میں ہمت ہے مجھے روک لے۔ بہادر آدمی کی یہ بات ہوتی ہے۔

آج میں نے سیرۃ النبیؐ اور قیدیوں کے حقوق، اور آپؐ کے قیدیوں کے ساتھ مختلف رویوں کے حوالے سے بات کی ہے۔