سہارنپور، کاندھلہ اور تھانہ بھون میں

   
مجلہ: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۰ دسمبر ۲۰۱۳ء
اصل عنوان: 
دورۂ بھارت سے واپسی

بدھ کو امرتسر اور لدھیانہ سے ہوتے ہوئے ہم رات چندی گڑھ پہنچے تھے، جمعرات کو صبح وہاں سے سرہند شریف کی طرف روانہ ہوئے۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ کی قبر پر حاضری کا پروگرام تھا مگر اس سے قبل چندی گڑھ سے بیس کلو میٹر کے فاصلے پر مغلیہ دور سے چلے آنے والے ایک باغ میں جانا ہوا۔ پنجور گارڈن کے نام سے یہ باغ آج بھی اسی حالت میں موجود ہے اور دور دراز سے لوگ اسے دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ سلطان اورنگزیب عالمگیرؒ نے یہ باغ بنوایا تھا، قریب میں پنجور نامی بستی ہے جس کے حوالے سے یہ معروف تھا مگر اب اس کا نام ’’یاد وندر گارڈن‘‘ رکھ دیا گیا ہے۔ چار صدیاں گزر جانے کے باوجود وسیع باغ اور اس کی عمارتوں کی رونقیں قائم ہیں، عام طور پر کہا جاتا ہے کہ:

کھنڈر بتا رہے ہیں عمارت عجیب تھی

مگر یہ تو ابھی کھنڈر بھی نہیں ہوا اور اپنے بنانے والوں کی شان و شوکت کی گواہی دینے کے ساتھ ساتھ ’’ رہے نام اللہ کا‘‘ کی صدا بھی لگا رہا ہے۔ ہم نے کچھ دیر باغ کے مختلف حصوں میں گھومنے پھرنے کے بعد سرہند شریف کا رُخ کیا اور ظہر کی نماز وہاں پڑھی۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ اور ان کے خاندان و سلسلہ کے دیگر بزرگوں کی قبروں کے ساتھ ایک مسجد اور خانقاہ ہے، جہاں معتقدین نماز ادا کرتے ہیں اور سلسلہ نقشبندیہ کے معمولات جاری رہتے ہیں۔ قریب میں سکھ حضرات کا ایک بڑا گوردوارہ ہے جس کے بارے میں مختلف قسم کی روایات سننے میں آئیں اور اس کے اردگرد بھی خاصی رونق دکھائی دی۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ کے مزار کے منتظمین نے دوپہر کے کھانے کا اہتمام کر رکھا تھا۔ اس سے فارغ ہو کر عصر کی نماز ادا کی اور سہارنپور کی طرف روانہ ہوگئے۔ عظیم دینی، تعلیمی اور روحانی مرکز جامعہ مظاہر العلوم میں حاضری ہوئی۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی قدس اللہ سرہ العزیز کے فرزند و جانشین حضرت مولانا محمد طلحہ صاحب دامت برکاتہم کے ہاں عشائیہ تھا۔ کچھ دیر ان کے ساتھ گزارنے کا موقع ملا۔ جامعہ مظاہر العلوم میں عشاء کی نماز ادا کی اور مولانا فضل الرحمن نے اساتذہ و طلبہ کے اجتماع سے خطاب کیا۔

سہارنپور سے روانہ ہو کر نصف شب کے بعد کم و بیش ایک بجے کے لگ بھگ ہم دیوبند میں داخل ہوئے تو دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ و طلبہ کا ایک ہجوم استقبال کے لیے کھڑا تھا، پر جوش نعرے لگاتے ہوئے طلبہ کی خواہش اپنے مہمانوں سے مصافحہ کرنے کی تھی۔ ایک گاڑی میں مولانا مفتی غلام الرحمن اور راقم الحروف تھے اور جمعیۃ علماء ہند کے مرکزی راہ نما مولانا طاہر مظاہری ہمارے رہبر تھے۔ گاڑی رینگتے رینگتے مہمان خانے کی طرف بڑھ رہی تھی اور دونوں طرف سے طلبہ شیشوں کی طرف لپک رہے تھے۔ میں نے گاڑی کا شیشہ کھولنا چاہا تو مولانا طاہر مظاہری نے منع کر دیا اور کہا کہ شیشے کھول دیے تو رات مصافحوں میں ہی گزر جائے گی۔ اس لیے اندر ہی سے اشاروں کے ساتھ سلام کا جواب دیتے رہیے۔

مہمان خانے تک پہنچے تو دیگر اساتذہ کے ہمراہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا ابوالقاسم نعمانی، جمعیۃ علماء ہند کے صدر حضرت مولانا قاری محمد عثمان منصوری اور سیکرٹری جنرل مولانا سید محمود مدنی کو منتظر پایا جو رات گئے مہمانوں کو خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ حضرت مہتمم صاحب کے ساتھ چند روز قبل میری ملاقات جنوبی افریقہ میں ہو چکی تھی اس لیے وہ جس بے تکلفی سے ملے اس سے ہمارے بعض دوستوں کو تعجب سا ہوا۔ میں نے عرض کیا کہ ہماری ملاقات صرف ایک ہفتہ کے بعد دوبارہ ہو رہی ہے اس لیے اس شفقت اور محبت سے فیض یاب ہوا ہوں۔ پروگرام یہ بنا کہ نماز فجر کے بعد جمعہ کی نماز تک تمام حضرات آرام کریں گے۔ نماز جمعہ مسجد الرشید میں ادا ہوگی، اس کے بعد مولانا سید محمود اسعد مدنی کے ہاں کھانا ہوگا اور پھر کانفرنس کے پروگرام کے لیے ہال میں چلے جائیں گے۔

اس موقع پر لطیفہ یہ ہوا کہ میزبانوں نے مہمان خانے کے مختلف کمرے مہمانوں میں تقسیم کر دیے اور سب مہمان اپنے اپنے کمروں کی طرف روانہ ہوگئے مگر میں وہیں بیٹھا رہ گیا۔ مولانا فضل الرحمن نے جاتے ہوئے صورت حال کو بھانپ لیا اور میزبانوں سے کہا کہ آپ حضرات فہرست میں مولانا زاہد الراشدی کو تلاش کر رہے ہوں گے، یہ صاحب جو بیٹھے ہیں وہی ہیں مگر فہرست میں ان کا نام محمد عبد المتین خان درج ہے، اس پر مجھے بھی کمرہ الاٹ ہوگیا اور میں اپنے کمرے میں آرام سے پہنچ گیا۔ صبح نماز فجر کے لیے بیدار ہوئے تو مہمان خانے کے خادمین کی مستعدی دیکھ کر خوشی ہوئی کہ ہمارے وضو کرتے ہی چائے آگئی، میرے ساتھ کمرے میں بلوچستان کے مولانا مفتی عبد الستار صاحب تھے، ہم دونوں چائے پی کر نماز فجر کے لیے مہمان خانے کی مسجد میں حاضر ہوئے۔

ایک نوجوان مولانا صاحب نے نماز پڑھائی، مدتوں بعد جمعہ کی نماز فجر میں سورۃ السجدہ اور سورۃ الدھر سننے کی سعادت حاصل ہوئی۔ واشنگٹن ڈی سی کے ہمارے مشفق دوست مولانا عبد الحمید اصغر کا یہ ذوق ہے کہ وہ جمعہ کے روز فجر کی نماز میں سورۃ السجدہ پڑھنے کی فرمائش کیا کرتے ہیں۔ ایک بار مجھ سے فرمائش کی تو میں نے کہا کہ مجھے پوری طرح مستحضر نہیں ہے، اس لیے شاید صحیح نہ پڑھ سکوں، اس پر انہوں نے کہا کہ پھر آج کی نماز وہ قاری صاحب پڑھائیں گے جو ہمیں سورۃ السجدہ سنا سکیں۔ چنانچہ بنگلہ دیش کے ایک نوجوان قاری صاحب نے اس فرمائش کی تکمیل کے ساتھ نماز فجر پڑھائی۔ دارالعلوم دیوبند کی اس مسجد میں اس روز قاری صاحب سے نماز فجر کی پہلی رکعت میں سورۃ السجدہ سن کر برسوں پہلے کا یہ واقعہ تازہ ہوگیا۔ نماز فجر کے بعد باقی حضرات اپنے اپنے کمروں میں آرام کے لیے چلے گئے جبکہ مولانا اللہ وسایا نے چپکے سے میرے کان میں کچھ پھونکا اور ہم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر جا پہنچے جو مولانا شاہ عالم گورکھ پوری کی نگرانی میں پورے ہندوستان میں قادیانیت کے تعاقب کے لیے مسلسل سرگرم عمل ہے اور دارالعلوم دیوبند کے ایک مستقل شعبہ کے طور پر کام کر رہا ہے۔

مولانا شاہ عالم گورکھپوری کے ساتھ ہم نے چند مقامات پر حاضری کا پروگرام بنایا اور خاموشی کے ساتھ نکل پڑے۔ ہماری پہلی منزل کاندھلہ تھی، مولانا نور الحسن راشد ہمارے فاضل دوست ہیں، حضرت مولانا مفتی الٰہی بخش رحمہ اللہ تعالیٰ کی امانتوں اور روایتوں کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں اور مکتوبات و مخطوطات کا ایک عظیم الشان ذخیرہ انہوں نے نہ صرف جمع کر رکھا ہے بلکہ اسے اہل علم کے سامنے لانے کے لیے بھی سلیقہ اور ذوق کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ان سے ملاقات ہوئی، انہوں نے قلمی مخطوطات کی ایک فائل کی زیارت کرائی جو علوم و معارف اور تبرکات و آثار کا ایک عظیم خزینہ ہے۔ اس میں حضرت مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ کا وہ قلمی فتویٰ بھی شامل ہے جو انہوں نے انگریزوں کے تسلط کے بعد ہندوستان کے دارالحرب ہونے کے بارے میں صادر فرمایا تھا۔ فتویٰ تفصیلی تھا، پڑھنے کی سعادت حاصل نہ کر سکا، البتہ زیارت سے ہم ضرور شاد کام ہوئے۔

کاندھلہ سے نکل کر ہم نے تھانہ بھون کا رخ کیا اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی خانقاہ اور درسگاہ میں حاضری دی۔ جمعہ تک وہاں نہ پہنچ سکے اس لیے مسافر ہونے کی وجہ سے اس وقف باغ میں نماز ظہر ادا کی جہاں حضرت تھانویؒ اپنی علمی و تحقیقی سرگرمیوں میں مصروف رہتے تھے۔ تھانہ بھون سے چل کر ہم نے عصر کی نماز گنگوہ شریف میں پڑھی۔ قطب الارشاد حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کی مسجد و خانقاہ میں حاضری دی۔ پھر نانوتہ میں حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتویؒ کی قبر پر فاتحہ خوانی کے بعد مغرب کی نماز وہیں ایک مسجد میں ادا کی اور عشاء کی نماز سے قبل دیوبند واپس پہنچ گئے۔ ہمارا یہ سفر خاموشی سے تھا اور ایک دو بڑے میزبان بزرگوں کے سوا ہم نے کسی کو نہیں بتایا تھا اس لیے سارا دن ہماری تلاش ہوتی رہی اور بعض دوستوں کی ناراضگی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ مگر یہ سارا دن پرانے بزرگوں کے مزارات پر حاضری میں گزارا جن میں سے بہت سے بزرگوں کا میں تذکرہ نہ کر سکا۔ دیوبند پہنچتے ہی ہم سیدھے کانفرنس ہال میں حاضر ہوگئے۔

انڈیا کی سرزمین پر ایک ہفتہ گزارنے کے بعد بدھ کی شام مولانا عبد الغفور حیدری، مولانا محمد خان شیرانی اور دیگر حضرات کے ہمراہ لاہور واپس پہنچ گیا ہوں، سفر کی ضروری تفصیلات اور شیخ الہند عالمی امن کانفرنس کے احوال و تاثرات چند دن تک ان شاء اللہ تعالیٰ چلتے رہیں گے۔ نیز کل جمعہ کے روز مغرب کی نماز کے بعد گکھڑ میں حضرت والد محترم قدس اللہ سرہ العزیز کی مسجد میں اور نماز عشاء کے بعد سیالکوٹ روڈ گوجرانوالہ میں مولانا حافظ گلزار احمد آزاد کی مسجد میں تاثرات بیان کروں گا۔