عدالتی فیصلوں پر شرعی تحفظات کا اظہار

   
تاریخ : 
یکم اپریل ۲۰۲۲ء

وراثت کے بارے میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی طرف ہم نے ملک کے اصحابِ علم کو ایک مراسلہ میں توجہ دلائی تھی جس پر علماء کرام کے ایک گروپ ’’لجنۃ العلماء للافتاء‘‘ نے فتوٰی کی صورت میں اظہار خیال کیا ہے اور اس پر مولانا عبد الستار حماد، مولانا عبد الحلیمم بلال، مولانا جاوید اقبال سیالکوٹی، مولانا عبد الرحمٰن یوسف مدنی، مولانا سعید مجتبٰی سعیدی، مولانا ابو عدنان محمد منیر قمر اور مولانا عبد الرؤف بن عبد الحنان کے دستخط ہیں۔ ان دوستوں کی کاوش پر شکریہ ادا کرتے ہوئے ہم اس کی اہمیت و ضرورت کے حوالہ سے یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ بین الاقوامی مطالبات پر پاکستان میں قانون سازی اب زیادہ تر عدالتی فیصلوں کے ذریعے ہو رہی ہے اور اس سے بہت سے شرعی قوانین خاموشی کے ساتھ متاثر ہوتے جا رہے ہیں، مثلاً

  • قصاص کے قانون کو ختم کرنے کے بیرونی مطالبے پر قانون کو تبدیل کیے بغیر یہ طریق کار اختیار کر لیا گیا ہے کہ قصاص کے مقدمہ کے تمام مراحل مکمل ہو جانے حتٰی کہ رحم کی اپیل مسترد ہو جانے کے بعد بھی کسی کو پھانسی کی سزا نہیں دی جا رہی اور ایسا سالہا سال سے ہو رہا ہے۔
  • نکاح و طلاق کے باب میں خلع کو مطالبہ طلاق کی بجائے طلاق کا نوٹس قرار دے کر خلع کی درخواستوں کو مسلسل اسی دائرہ میں نمٹایا جا رہا ہے جو اب عدالتی ماحول کا حصہ بن چکا ہے۔ اس میں خاوند کو طلب کیے بغیر اور اس کا موقف سنے بغیر یکطرفہ فیصلے ہو رہے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ عدالتی فیصلوں کے ذریعے خلع کا قانون عملاً تبدیل ہو کر رہ گیا ہے۔
  • توہینِ رسالت کے قانون میں کوئی تبدیلی لائے بغیر اس کے مقدمہ کے اندراج کا پروسیجر بدل دیا گیا ہے جس سے قانون اپنے تقاضوں کے مطابق مؤثر نہیں رہا۔
  • گزشتہ دنوں ایک اعلیٰ عدالت نے اٹھارہ سال سے کم عمر کی شادی کو مطلقاً ناجائز قرار دے دیا تھا جس پر ملی مجلس شرعی پاکستان کے تحت سرکردہ علماء کرام اور وکلاء کا مشترکہ موقف اس کالم میں ہم پیش کر چکے ہیں کہ یہ شرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہے۔

اس طرح شرعی قوانین کے متن میں کوئی تبدیلی لائے بغیر عدالتی فیصلوں اور پروسیجر کی تبدیلی کے ذریعے ملک میں نافذ شدہ اسلامی قوانین میں عملی ترامیم کا سلسلہ جاری ہے جس پر ذمہ دار علماء کرام کو کم از کم اپنی رائے کا اظہار ضرور کرنا چاہیے تاکہ ان مسائل پر شرعی موقف عوام کے سامنے آتا رہے۔ ہماری گزارش ہے کہ تمام مکاتب فکر کے ذمہ دار علماء کرام کو اس صورتحال پر سنجیدہ توجہ دے کر شریعت اسلامیہ کی علمی و دینی ترجمانی کا فریضہ سرانجام دینے کا ضرور اہتمام کرنا چاہیے۔ جبکہ مشترکہ طور پر موقف کی تشکیل اور اس کے اظہار کے لیے ملی مجلس شرعی پاکستان سب کی خدمت میں حاضر ہے۔

’’سوال

حال ہی میں عدالتِ عظمٰی نے خواتین کی وراثت سے متعلق یہ فیصلہ جاری کیا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ہی وراثت سے حصہ لے لیں، بعد میں ان کی اولاد اس کا دعوٰی نہیں کر سکتی۔ اس فیصلے پر مفتیان کرام کی طرف سے شرعی تبصرہ اور بروقت اظہار رائے کرنا بہت ضروری ہے۔ (ابو عمار زاہد الراشدی)

جواب

الحمد للہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ۔

قرآن حکیم میں ہے ’’للرجال نصیب مما ترک الوالدان والاقربون وللنساء نصیب مما ترک الوالدین والاقربون مما قل منہ او کثر نصیباً مفروضاً‘‘ (النساء ۷) ’’آدمی کے لیے حصہ ہے اس جائیداد میں سے جو اس کے والدین اور قریبی رشتے دار چھوڑ جائیں۔ اسی طرح عورتوں کے لیے بھی حصہ ہے اس ترکہ سے جو والدین یا قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں۔ زیادہ ہو یا کم ہو، یہ اللہ کی طرف سے مقرر کردہ حصہ ہے۔‘‘

ہمارے ہاں معاشرتی روٹین یہ ہے کہ عورتوں کو حصہ دیا ہی نہیں جاتا، اگر دیا جاتا ہے تو پھر قطع تعلقی کر دی جاتی ہے۔ عورتیں بسا اوقات اس لیے بھی خاموش رہتی ہیں کہ اگر میں نے اپنا حصہ لے لیا تو میرے بھائی مجھ سے قطع تعلقی کر لیں گے۔ لہٰذا خاموشی کا مطلب دستبرداری سمجھنا درست نہیں بلکہ ان کا جو حق بنتا ہے وہ دینا چاہیے۔ اگر ایسی حالت میں وہ معاف بھی کر دے تو پھر بھی معاف نہیں ہوتا ہے۔ کیونکہ ابھی تک تو وہ اس کی مالک ہی نہیں بنی تو معاف کیسے کر سکتی ہے؟ پہلے اس کو مالک بنا دیا جائے، اس کو ہر قسم کے پریشر اور دباؤ سے آزاد کیا جائے، پھر وہ اپنی مرضی اور خوش دلی سے کچھ دن گزرنے کے بعد دے دیتی ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

صورتِ مسئولہ میں عدالت کا فیصلہ درست نہیں ہے کہ اگر کوئی خاتون زندگی میں اپنا حصہ وصول نہیں کر سکی تو اس کا حصہ ختم ہو جائے گا۔ جب اللہ نے اس کا حصہ مقرر کیا ہے تو کس اصول کے تحت اسے روکا جا سکتا ہے؟ لہٰذا وہ حصہ اسی کا ہے اور جس کے پاس بھی پڑا ہے اس کے پاس بطور امانت ہے، جسے ادا کرنا ضروری ہے۔ خاتون کی وفات کے بعد وہ بطور وراثت اس کی اولاد کو منتقل ہو جائے گا جس کا وہ مطالبہ کر سکتے ہیں، لہٰذا عدالتِ عظمٰی کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ واٰخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔‘‘

   
2016ء سے
Flag Counter