چیچنیا کا جہادِ آزادی اور مسلم حکومتیں

   
تاریخ اشاعت: 
مارچ ۲۰۰۰ء

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۷ فروری ۲۰۰۰ء کی ایک رپورٹ کے مطابق چیچنیا کے سابق صدر اور موجودہ چیچن صدر کے نمائندہ جناب زیلم خان نے لاہور ہائیکورٹ بار کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیچنیا کے مسلمانوں پر روسی افواج کے مظالم کے ذمہ دار مسلم ممالک ہیں، کیونکہ انہوں نے نہ صرف یہ کہ چیچنیا کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا بلکہ چیچنیا پر روسی افواج کی یلغار پر خاموشی اختیار کر کے روس کو چیچن مسلمانوں پر مظالم توڑنے کی کھلی چھٹی دے دی۔ زیلم خان نے کہا کہ ۱۹۹۱ء میں جب چیچنیا نے اپنی آزاد حکومت کا اعلان کیا تھا اگر مسلم ممالک اس وقت اسے تسلیم کر لیتے تو آج ان حالات کی نوبت نہ آتی، مگر مسلمان حکومتوں نے چیچن حکومت کو تسلیم نہ کیا جس کے نتیجے میں روس کو چیچنیا پر فوجی چڑھائی کا موقع مل گیا۔ انہوں نے کہا کہ روس نے اثر و رسوخ استعمال کر کے ترکی اور سعودی عرب سمیت بہت سے ممالک کو چیچن حکومت کو تسلیم کرنے سے روکا۔

جناب زیلم خان کا یہ شکوہ بالکل بجا ہے، انہوں نے مسلمان حکومتوں کی جس بے رخی اور سرد مہری کا ذکر کیا ہے اسے دنیا بھر کے مسلمان محسوس کر رہے ہیں۔ اور یہ مسلم حکمرانوں کی بے حسی کا نتیجہ ہے کہ روسی فوجیں چیچن دارالحکومت گروزنی پر غاصبانہ قبضہ جمائے بیٹھی ہیں اور چیچن مجاہدین پہاڑوں میں اپنا ہیڈکوارٹر منتقل کر کے آزادی کے لیے گوریلا جنگ پر مجبور ہو گئے ہیں۔ بلکہ ہمارے ہاں پاکستان میں تو مزید ظلم یہ ہوا کہ چیچن حکومت کے نمائندہ زیلم خان جب اسلام آباد پہنچے تو انہیں خفیہ اداروں کے اہل کاروں نے حراست میں لے لیا اور ان کے ساتھیوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا، جو مجاہدین کے ایک غیور نمائندہ اور چیچن حکومت کے معزز نمائندہ اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ ایک مسلم حکومت کے اہلکاروں کا شرمناک سلوک تھا اور اس کی ہر سطح پر مذمت کی گئی ہے۔

مگر اس کے باوجود چیچن مجاہدین نے جس حوصلہ اور عزم کے ساتھ جہاد جاری رکھا ہوا ہے وہ ان کی عزیمت و استقامت کا مظہر ہے۔ ہم ان مجاہدین کی کامیابی اور استقامت کے لیے دعاگو ہیں اور مسلم حکومتوں سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ چیچنیا کے مظلوم مسلمانوں کی حالتِ زار کی طرف توجہ دیں اور چیچن حکومت کو تسلیم کر کے جہادِ آزادی میں اسے اخلاقی، سفارتی اور عسکری امداد فراہم کریں۔

   
2016ء سے
Flag Counter