وزیرِ داخلہ پاکستان اور جہادی تنظیمیں

   
تاریخ اشاعت: 
مارچ ۲۰۰۱ء

ملک بھر میں ان دنوں وفاقی وزیر داخلہ جناب معین الدین حیدر کے حالیہ بیانات پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے جن میں انہوں نے جہادی تنظیموں کی سرگرمیوں کو ہدفِ تنقید بنایا ہے اور اس عندیہ کا اظہار کیا ہے کہ جہادی تنظیموں پر پابندی عائد کی جا رہی ہے تاکہ وہ جہاد کے نام کھلے بندوں چندہ نہ کریں اور اسلحہ کی برسرِ عام نمائش نہ کر سکیں۔ وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ جہادی تنظیمیں اسلحہ کی برسرِ عام نمائش کر کے امن کی صورتحال کو بگاڑنے کا باعث بن رہی ہیں اور چندہ کے نام پر لوگوں سے زبردستی بھتہ وصول کرتی ہیں۔

لیکن پنجاب کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد صفدر نے وزیر داخلہ کے ان بیانات سے اتفاق نہیں کیا اور واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ اسلحہ کی نمائش اور زبردستی بھتہ کی وصولی اگر کراچی میں ہو تو ہو سکتی ہے لیکن پنجاب میں اس قسم کی کوئی شکایت نہیں ہے اس لیے پنجاب میں جہادی تنظیموں کے چندہ جمع کرنے پر پابندی نہیں لگائی جا رہی۔

ہمارے خیال میں کراچی کے حوالے سے بھی وفاقی وزیر داخلہ کا یہ کہنا حقائق پر مبنی نہیں ہے کہ وہاں جہادی تنظیمیں جہادی چندہ کے نام پر زبردستی بھتہ وصول کر رہی ہیں اور اسلحہ کی عام نمائش ہو رہی ہے۔ کیونکہ کراچی اور حیدر آباد وغیرہ میں اسلحہ کی نمائش اور زبردستی بھتہ کی وصولی کا کام جو عناصر کر رہے ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں ہیں اور یہ کام ایک عرصہ سے ہو رہا ہے۔ جہادی تحریکیں تو بہت بعد میں کراچی میں متحرک ہوئی ہیں، ان سے بہت پہلے قوم پرست اور لسانی تحریکیں جبری بھتہ اور اسلحہ کی نمائش بلکہ خانہ جنگی کا کلچر عام کر چکی ہیں، اور حکومت تمام تر دعووں کے باوجود اب تک ان پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔

اس لیے ہم وزیر داخلہ سے گزارش کریں گے کہ وہ ان لوگوں کو ضرور قابو کریں جو خانہ جنگی کو فروغ دیتے ہیں، علاقائیت اور لسانیت کو ابھار کر قوم میں تفریق پیدا کرتے ہیں، اور گروہی عصبیت کے نام پر بے گناہ لوگوں کا خون بہاتے ہیں، لیکن ان کی کاروائیوں کو خواہ مخواہ جہادی تحریکوں کے کھاتے میں ڈال کر بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے اور ان کے سامنے نمبر بنانے کی کوشش نہ کریں۔

   
2016ء سے
Flag Counter