لیڈی ڈیانا

   
اکتوبر ۱۹۹۷ء

برطانوی شہزادی لیڈی ڈیانا کی حادثاتی موت پر دنیا بھر کے اخبارات میں مسلسل لکھا جا رہا ہے اور ہر طبقہ کے لوگ اس پر اپنے اپنے انداز سے تبصرہ کر رہے ہیں۔ ان میں سے دو تبصرے ہم قارئین کی خدمت میں پیش کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔ ایک تبصرہ تو لیڈی ڈیانا کے سابق ذاتی معالج کا ہے جو بی بی سی کے حوالہ سے روزنامہ جنگ لندن نے یکم ستمبر ۱۹۹۷ء کی اشاعت میں نقل کیا ہے، اس کے مطابق

’’ڈیانا کا شمار دنیا کی ان چند خواتین میں ہوتا تھا جو چھوٹی سی عمر میں دنیا بھر کے میڈیا کی ڈارلنگ رہی ہیں، اس کا ایک ایک سیکنڈ لاکھوں پونڈ میں فروخت ہوا، اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ہزاروں لوگوں کا مجمع لگ جاتا۔ اس کے چند لفظوں پر لوگ سماجی تنظیموں کو لاکھوں پونڈ کا چندہ دے دیتے، اس کے ایک انٹرویو پر رپورٹوں کی تنخواہوں میں اضافہ ہوتا، اس کے پاس دولت تھی، حسن تھا، کرشماتی شخصیت تھی، دنیا بھر کے دولت مند اس کی چوکھٹ پر پڑے رہتے تھے لیکن وہ تنہا، اداس اور پریشان حال تھی۔ جب سارے ہنگامے ختم ہو جاتے اور اس کے گھر میں سناٹا چھا جاتا تو وہ شب خوابی کے لباس میں رات گئے تک اپنے ڈرائنگ روم میں چہل قدمی کرتی رہتی۔ اس نے آخری عمر میں بے تحاشہ سگریٹ پینا شروع کر دیے تھے، اس کی ذات میں شک بڑھ گیا تھا اور وہ کسی شخص پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں تھی کیونکہ اس کے ہر دوست نے کچھ عرصے بعد خلوت کے راز فروخت کر کے نوٹ کھرے کر لیے تھے۔‘‘

دوسری طرف روزنامہ نوائے وقت لاہور نے ۷ ستمبر ۱۹۹۷ء کی اشاعت میں لیڈی ڈیانا کی زندگی کے سب سے آخری انٹرویو کے دو اقتباسات نقل کیے ہیں جو فرانس کے اخبار ’’لی موندے‘‘ کو دیا گیا تھا اور جس میں لیڈی ڈیانا نے کہا ہے کہ

’’وہ اسلام کی عظیم روایات سے بہت متاثر ہے اور انگلستان میں خاندان کے تباہ ہونے والے نظام کی بحالی کے لیے اسلامی روایات سے مدد لی جا سکتی ہے۔ اسلام نے عورت کو جو مقام دیا ہے اور مسلمان جس طرح عورتوں کا احترام کرتے ہیں اس کا تصور کسی غیر مسلم معاشرہ میں ناممکن ہے۔ مسلمان مرد وفادار ہوتے ہیں اور جن مغربی عورتوں نے مسلمانوں سے شادیاں کیں ان میں سے زیادہ تر شادیاں کامیاب رہیں۔ معلوم نہیں مغربی پریس میری مسلم دوستی پر کیوں سیخ پا ہے؟ یہ میرا نجی معاملہ ہے، میرے اپنے خیالات و احساسات ہیں، میں اسلام سے متاثر ہوں اور اس کا مجھے اعتراف ہے‘‘۔

لیڈی ڈیانا اور ان کے ذاتی معالج کے ان تبصروں کی روشنی میں لیڈیا ڈیانا کی حادثاتی موت پر دنیا بھر میں رونما ہونے والے ردعمل کی تہہ تک پہنچنا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے کہ لیڈی ڈیانا دراصل مغرب میں خاندانی نظام کی تباہی سے جنم لینے والی ذہنی پریشانیوں اور نفسیاتی الجھنوں کی علامت بن گئی تھی اور اس نے ذہنی سکون اور قلبی اطمینان کی منزل حاصل کرنے کے لیے شاہی اقدار اور خاندان کی روایات سے بغاوت کا راستہ اختیار کر لیا تھا۔ لیڈی ڈیانا کی اس حادثاتی موت پر عالمی سطح پر اسے ملنے والی پذیرائی اسی بغاوت کی صدائے بازگشت ہے جس سے مغربی تہذیب کی باقی ماندہ عمر کا آسانی کے ساتھ اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter