مغربی معاشرہ اور اخلاق باختگی کا سمندر

   
تاریخ : 
اگست ۱۹۹۸ء

روزنامہ جنگ لندن نے ۲۵ جون ۱۹۹۸ء کو رائٹر کے حوالے سے خبر شائع کی ہے کہ ترکی کی دستوری عدالت نے ملک میں نافذ ضابطۂ تعزیرات کی دفعہ ۲۴۰ کو ختم کر دیا ہے جس میں زنا کی مرتکب عورت کی تین سال قید کی سزا رکھی گئی تھی۔ ترکی کے قانون میں مرد کے لیے زنا کی کوئی سزا نہیں ہے جبکہ عورت کو زنا کا مرتکب قرار پانے پر تین سال قید کی سزا دی جاتی ہے۔ اس قانون کو ترکی کی دستوری عدالت میں خواتین کی بعض تنظیموں کی طرف سے چیلنج کیا گیا کہ یہ مرد و عورت کی مساوات کے ضابطے کے خلاف ہے اس لیے اسے ختم کیا جائے۔ چنانچہ گیارہ رکنی دستوری عدالت نے دو کے مقابلہ میں نو ووٹوں سے یہ درخواست منظور کر لی ہے اور مذکورہ دفعہ کو ضابطۂ تعزیرات سے خارج کر دیا ہے۔

جنگ لندن نے اسی روز ایک اور خبر میں برطانوی پارلیمنٹ میں ہونے والی ایک بحث کا بھی ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ پارلیمنٹ کے بعض ارکان نے وسطی لندن کے پبلک فون باکسز میں عصمت فروش عورتوں کی فحش تصاویر والے کارڈوں کی بھرمار پر نکتہ چینی کی ہے، اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس صورتحال کو کنٹرول کیا جائے کیونکہ اس سے لوگوں کے اخلاق بگڑ رہے ہیں۔ لندن کے وسطی علاقہ کے اکثر پبلک فون باکسز میں عصمت فروش عورتوں کے تعارفی کارڈ بیسیوں کی تعداد میں چسپاں ہوتے ہیں جن پر انتہائی عریاں فوٹو ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ فون نمبر درج ہوتے ہیں۔ ان میں سے کسی فون باکس میں مجبوراً فون کرنے کے لیے جانا پڑے تو شریف آدمی کے لیے وہاں دو منٹ کھڑے رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اور اسی برطانوی پارلیمنٹ کے بعض ارکان نے احتجاج کیا ہے جس کے جواب میں سرکاری بنچوں سے انہیں بتایا گیا ہے کہ حکومت ان فحش کارڈز کو ہٹانے کی پوری کوشش کرتی ہے لیکن اس کے باوجود ان میں کوئی کمی نہیں ہو رہی۔ ایک لیبر ممبر نے ہاؤس کو بتایا کہ گزشتہ سال کے دوران ان باکسز سے جو فحش کارڈ سرکاری طور پر ہٹائے گئے ان کی تعداد ایک ملین کے لگ بھگ ہے۔

اس کے ساتھ ہی یہ خبر بھی ملاحظہ فرما لیجئے جو جنگ لندن نے ۴ جولائی ۱۹۹۸ء کو شائع کی ہے کہ برطانیہ میں بغیر شادی کے پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے، اس لیے سرکاری طور پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ بغیر شادی کے پیدا ہونے والے بچے کا باپ اگر ماں کے ساتھ برتھ رجسٹر پر دستخط کر دے تو اسے بھی باقاعدہ باپ کے حقوق حاصل ہو جائیں گے۔ خبر کے مطابق ۱۹۹۶ء میں بغیر شادی کے رجسٹرڈ ہونے والے بچوں کا تناسب ۳۵ فیصد تھا جو اب ۱۹۹۸ء میں بڑھ کر ۷۸ فیصد ہو گیا ہے جس کی وجہ سے حکومت کو قانون میں تبدیلی کرنا پڑی ہے۔

یہ ایک ہی عمل کے مختلف تدریجی مراحل ہیں۔ جب زنا سرے سے جرم ہی تصور نہیں ہو گا تو جنسی بے راہروی اور جسم فروشی کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہو گا، عصمت فروشی اور جنسی انارکی عام ہو گی تو شادی اور خاندان کا کوئی تصور باقی نہیں رہے گا، اور پھر اس کا نتیجہ بغیر شادی کے بچوں کی صورت میں ہی سامنے آئے گا۔ مغربی ممالک اخلاق باختگی کے اس سمندر میں خود تو ڈبکیاں کھا رہے ہیں مگر مصیبت یہ ہے کہ ہمیں بھی اسی سمندر میں کودنے کی مسلسل دعوت دے رہے ہیں۔ اور ہمارے مغرب زدہ لوگ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی چھلانگ لگانے کے لیے بے چین ہیں۔ یقین نہ آتا ہو تو انسانی حقوق کی تنظیموں، این جی اوز، اور خواتین کی بعض نام نہاد انجمنوں کی سرگرمیوں اور مطالبات پر ایک نظر ڈال لیجئے کہ وہ مسلمان معاشرے کو کس راستے پر لے جانے کے لیے تگ و دو کر رہی ہیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter