شارجہ میں نبوت کا ایرانی دعویدار

   
دسمبر ۱۹۹۲ء

رابطہ عالمِ اسلامی کے ہفت روزہ مجلہ ’’العالم الاسلامی‘‘ مکہ مکرمہ نے ۳۰ اکتوبر ۱۹۹۵ء کی اشاعت میں انکشاف کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی ریاست شارجہ میں چند ماہ قبل ایک ایرانی شخص حسن غلام حسین دانا نے نبوت کا دعویٰ کر دیا، جسے وہاں کی مقامی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا تو عدالت نے اس کا دعویٰ سننے کے بعد اسے مرتد قرار دیتے ہوئے موت کی سزا کا حکم سنا دیا۔ مگر نبوت کا یہ دعویدار اس سزا کا سامنا نہ کر سکا اور اس نے عدالت کے سامنے نبوت سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے توبہ نامہ پیش کرنے میں ہی عافیت محسوس کی۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے جس دور میں یہاں نبوت کا دعویٰ کیا تھا، اس وقت عدالتی نظام انگریزوں کا تھا، ورنہ اگر مسلمان عدالتیں ہوتیں تو شاید مرزا قادیانی بھی ان کا سامنا نہ کر پاتے۔ البتہ مرزا قادیانی نے افغانستان کے فرمانروا (امیر عبد الرحمان خان یا امیر حبیب اللہ خان) کو قادیانی مذہب میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی، جس کے جواب میں امیر افغانستان نے صرف اتنا کہا تھا کہ ’’ایں جا بیا‘‘ یعنی یہاں آ کر بات کرو۔ مگر مرزا قادیانی کو بھی مذکورہ ایرانی شخص کی طرح کسی مسلمان حکمران کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہ ہوا اور انہوں نے اپنے فرنگی آقاؤں کے زیرسایہ خودساختہ نبوت کو پروان چڑھانے میں ہی خیریت سمجھی۔

   
2016ء سے
Flag Counter