مغرب اور اسلام: جرمن صدر اور امریکی سفارتکار کے خیالات

   
تاریخ اشاعت: 
دسمبر ۱۹۹۵ء

مغربی دنیا اور عالمِ اسلام کے درمیان کشمکش اور مغرب میں اسلام کو براہ راست سمجھنے کی روز افزوں خواہش کے بارے میں برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس اور ایک مقتدر برطانوی خاندان کے نومسلم نوجوان محمد یحییٰ کے حوالے سے گزشتہ شمارے میں کچھ گزارشات ہم پیش کر چکے ہیں، اس سلسلہ میں دو اور مغربی دانشوروں کے خیال حال ہی میں سامنے آئے ہیں۔ ان میں ایک جرمنی کے صدر جناب رومن ہرزوگ ہیں جنہوں نے ایک جرمن جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے

’’مغربی ممالک پر زور دیا ہے کہ اسلام مخالف طرز عمل پر قابو پایا جائے کیونکہ اس سے اسلام اور مغرب کے درمیان نہیں بلکہ اسلام اور عیسائیت کے درمیان خلیج وسیع ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ مذہب سیاست کا جزولاینفک ہے اور مغرب کی مسلمانوں سے مخالفت عیسائیت کی اسلام سے مخاصمت سمجھی جا رہی ہے۔‘‘ (روزنامہ نوائے وقت لاہور ۔ ۸ نومبر ۱۹۹۵ء)

دوسرے امریکہ کے ایک سابق سینئر سفارتکار اور امور خارجہ کے ماہر ڈاکٹر جارج کے تھانم ہیں جنہوں نے لاہور میں پریس انسٹیٹیوٹ آف پاکستان میں خصوصی لیکچر دیتے ہوئے جنوبی ایشیا کے بارے میں امریکہ کی پالیسی پر یوں تبصرہ کیا کہ

’’پاکستان کے مقابلے میں بھارت بڑا اور زیادہ اہم ملک ہے اس لیے امریکہ بھارت کو اہمیت دینے پر مجبور ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کا مسلمان ملک ہونا بھی کسی حد تک پاکستان کے حق میں نہیں جاتا، اور لاشعوری طور پر کئی ارکانِ کانگریس اور سینیٹر پاکستان کے اسلامی ہونے پر پاکستان کی حمایت نہیں کرتے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکیوں کو اسلام کے بارے میں درست طریقے سے آگاہ کرنے والا کوئی نہیں ہے اور انہیں اصل اسلام کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے۔‘‘ (روزنامہ نوائے وقت لاہور ۔ ۳۱ اکتوبر ۱۹۹۵ء)

اس سے ہمارے اس نقطۂ نظر کی تائید ہوتی ہے کہ مغرب میں مسلمانوں کے ساتھ سیاسی، معاشی اور فوجی مخاصمت میں روز افزوں اضافہ کے ساتھ ساتھ اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور اسے سمجھنے کی خواہش بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ اے کاش کہ ہمارے علمی و دینی ادارے اس صورتحال کا صحیح طور پر ادراک کرتے ہوئے اس سلسلہ میں کوئی مثبت اور ٹھوس کردار ادا کر سکیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter